دارالحرب

دارُالْحَرب :وہ دار جہاں کبھی سلطنت اسلامی نہ ہوئی یاہوئی اورپھرایسی غیرقوم کا تسلُّط ہوگیاجس نے شعائراسلام مثل جمعہ وعیدین واذان واقامت وجماعت یک لَخْت اٹھادئیے اورشعائرکُفرجاری کردئیے ،اورکوئی شخص اَمان اول پرباقی نہ رہے اوروہ جگہ چاروں طرف سے دارالاسلام میں گِھری ہوئی نہیں تووہ دارالحرب ہے۔ (ماخوذازازفتاو ی رضویہ، ج۱۶، ص۳۱۶،ج۱۷،ص۳۶۷

٭دارالاسلام کے دارالحرب ہونے کی شرائط : دارالاسلام کے دارالحرب ہونے کی تین شرطیں ہیں (۱)اھل شرک کے احکام علی الاعلان جاری ہوں اور اسلامی احکام بالکل جاری نہ ہوں (۲)دارالحرب سے اس کااِتّصال ہوجائے(۳)کوئی مسلم یاذمی امان اول پر باقی نہ ہو۔ (فتاوی امجدیہ ،حصہ۳، ص۲۳۲)

Related Entries