• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
(1) 2 »
Published by admin on 2012/2/14 (1005 )
مسئلہ ۱۹: غرہ شعبان ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ حالت ناپاکی میں مسجد میں جانا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه-جلد اول-باب الغسل-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/10/31 (921 )
کیا فر ماتے ہیں علما ئے دین جواب اس مسئلہ کا کہہ سقفِ مسجد پر بسبب گرمی کے نما ز پڑھنا جا ئز ہے یا نہیں۔ ۔ بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/10/31 (2487 )
کیا فرماتے ہیں علمائے شریعت اس صحنِ مسجد کے حکم پر مو سم گرما میں ہمیشہ نماز فرض با جماعت مغرب و عشاء و فجر اور کبھی عصر بھی ادا کی جا ئے، اور یہ مسجد چو نکہ برسرِ بازار واقع ہے اس واسطے آمد ورفت نمازیو ں کی زیادہ ہے عصر و مغرب کو کبھی جماعت ہو چکی ہو تو اکثر آدمی آکر اُس صحن پر اکیلے فرض نماز پڑھ لیتے ہیں کبھی دوچار آدمی آگئے تو وہا ں پر جماعت بھی کرلیتے ہیں اور مو سم اعتدال ربیع و خریف میں بھی کبھی معمولی جماعت صحنِ مذکو ر پر ہو جا یا کرتی ہے، اب صحنِ مذکو ر کو حکم مسجد کا دیا جائے یا نہیں؟ اس پر جنبی وغیرہ ناپاک آدمی کا بلا عذر شرعی کے جانا جا ئز ہے یا نہیں ؟ وہ شخص باہم مناظرہ کرتے ہیں ایک کے نزدیک صحن مذکور مسجد ہے اور جنبی کا اس پر جانا حرام، اور دوسرے کے نزدیک مصلی عید کے حکم میں ہے جنبی کو اس پر جانا جائز ہے ،دلیل اس کی یہ ہے کہ ہمارے شہر سُورت میں اندرون مسجد کو جماعت خانہ اور صحنِ مسجد کو خارج بولتے ہیں، دوسری دلیل یہ کہ فنا اور حریم مسجد اور صحنِ مسجد باعتبار مفہوم کے متحد ہیں فنا اور حریم مسجد پر جب جنبی کو جانا جائز ہو توصحن پر بھی جائز ہوگا کس واسطے کو فناء کو حکم مصلی عیدکا ہے اورعلماۓ سورت میں سے دو۲عالم صحن مذکورحکم مسجد کا فرماتے ہیں ان دونوں عالموں میں سے ایک عالم صاحب اس شخص کے جو صحنِ مسجد کو خارجِ مسجدکہتا ہے استاد بھی ہیں،اب ہر ایک مناظرین مرقومہ بالا میں سے ایک دوسرے کو مفسد کہتا ہے مفسد فی الدّین ہے اور مصلح عندالشرع کون ؟ اور لفظ فناء مسجد اور حریم مسجد کے معنی صحن مسجد کے سمجھنا صیحح ہیں یاغلط؟ اور دوسرے یہ کہ ساکنانِ شہر سورت کا عرف کہ اندرون مسجد جماعت خانہ اور صحنِ مسجد خارج مسجد بولنا یہ عندالشرع معتبر ہے یا نہیں؟ اور کس قدریں نمازیں ہر سال میں اُس صحن پر ادا کی جائیں کہ وہ صحن مسجد بن جائے؟ اُس صحن کی مسجد بن جانے میں سوائے نماز کے اور کوئی دوسری شرط بھی عندالشرع معتبر ہو تو تحریر فرمائیں۔ بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/1 (895 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں ایک مسجد مدت سے قائم ہے اور وہ خود متولی ہے اور جمعہ کی نماز بھی ہمیشہ پڑھی جاتی ہے ابھی متولی مسجد نے ایک شخص کو کسی وجہ سے منع کیا کہ وہ اس مسجد میں نہ آئے جب اُس کو منع کیا تو وہ شخص اور چند مصلی مجتمع ہو کر دوسری جگہ پر ایک مسجد نئی بناکر لی اس قدر فاصلہ پر ہے کہ اگر بلند آواز سے اذان کہے تو احتمال سنائی کی ہے، اس صورت میں دونو ں مسجدوں میں جمعہ کی نماز جائزہے یا ایک میں ، اگر ایک میں ہے تو اوّل یا ثانی ، اگر صورت، مذکورہ میں منع کرنا کسی مصلی کو شرعاً کوئی وجہ سے جائز ہے یا نہیں ؟ بینوابحوالۃ الکتاب توجروا یوم الحساب۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/1 (692 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل ذیل میں :
(۱) صحن مسجد داخل مسجد ہے یا خارج مسجد ہے؟
(۲) اذان ثانی جمعہ جو صحن مسجد میں پڑھی جائے تو داخل مسجد قرار پائے گی یانہ؟
(۳) کوئی شخص باوجود داخل مسجد ہونے کے صحن مسجد میں نماز پڑھے تو اُس کو مسجدکا پورا ثواب ملے گا یا کم؟
(۴) جنازہ مسجد میں یاصحن مسجد میں پڑھنا جائز ہے یانہیں؟"
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/1 (868 )
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ فصیل حوض خارج مسجد ہے ۔بینواتوجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (742 )
ایک جگہ بستی میں بستی کے سارے مسلمان مل کرکے مسجد بنوایا لیکن زمین دوسرے آدمی کے نام سے، جس کے نام سے زمین ہے وہ دعوٰی کرتاہے کہ وہ مسجد ہماری ہے ہم جس کو حکم دیں گے وہ نماز پڑھے گا اور ہم جس کو حکم دیں گے وہ امامت کرےگا۔ وہ جسے روک دیتاہے اس مسجد میں اس کی نماز جائز ہوگی یانہیں ؟ اور اُس مسجد کو کیا کہا جائے گا؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (684 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دیرمگام گجرات میں جو عیدگاہ ہے اُس پر چند لوگ جن کا چار پانچ نفر سے زیادہ عدد نہیں خود بخود بلا اجازت بانیِ مسجد وبلا اجازت مسلمانان شہر ایسے قابض و متصرف ہو گئے ہیں کہ گویا وہ مالک ہی ہیں، چنانچہ علی الاعلان اس امر کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ اس مسجد میں سوائے ہمارے دوسرے کا حق نہیں جس کو ہم چاہیں گے امام بنائیں گے، اور امام جو بناتے ہیں توایسا کہ جس کے پیچھے نماز پڑھنے میں تمام مسلمانانِ شہر اور اہل علم حضرات کراہت کرتے ہیں اور یہ کراہت شرعی ہوئی نہ مخالفت ذاتی پر قابضین کی قلیل جماعت کے عقائد کی یہ کیفیت ہے کہ نکاحِ ثانی کو حرام قطعی سمجھتے ہیں ، اور مسجد پرتصرفات میں سے یہ بھی ہے کہ اہل شہر کے ساتھ نماز پڑھنے میں مزاحمت کرتے ہیں، آیا اہل شہر کو اس مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
اور دوسری عیدگاہ قرار دیکراہل شہر نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟"
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (702 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد جو قدیمی تعمیر کردہ اہلسنت وجماعت کی ہے اور زمانہ قدیم سے آج تک مسجد مذکورہ پر قبضہ بھی اہلسنت والجماعت کا ، ایسی مسجد میں شیعہ وسُنّی ہر دو فریق کا باہم نماز پڑھنا اور اذان واقامت بھی ہر دو فریق کی ہونا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (756 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی شخص بڑا فتان ومفسد ہے، جماعت المسلمین بوجہ اس کے افتراق ہوگیا ہے، لوگ دُوسری مسجد میں نماز پڑھتے ہیں اور وہ مفسد امام اس قوم باغین کا ہے اور یہ بغاوت دینی نہیں بلکہ محض نفسانیت ہے اس صورت میں اس مسجد کھنہ کو مسجد ضرار کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ بینواتوجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (774 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک بستی میں مسلمانان ہم قوم ہم مذہب قریب دواڑھائی سو گھر کے رہتے ہیں اور ایک مسجد پختہ عرصہ دس بارہ برس سے کہ بنوائی ہوئی انھیں مسلمانان کی ہے اور ایک دل ایک رائے ہو کر اسی مسجد میں نماز پنجگانہ جمیع مسلمانان باشندہ بستی مذکورہ اداکرتے ہیں اتفاق وقت کہ بعد چند سال کے دو مسلمان رئیس میں جو رہنے والے اسی بستی کے ہیں جھگڑا وتکرار دنیاوی دربارہ زمین خواہ کسی امر دنیاوی کے برپا ہوا اور ہنوز ہے یا نہیں ہے کہ منجملہ دو کے ایک نے بلا سبب اپنے زورنفسانی وضد میں آکر چالیس پچاس گھر مسلمانوں کو شامل اپنے لے کر اُس مسجد مذکورہ سے روگرداں ہوا اور ہوکر ایک مسجد گیا ہی جسے پھو س کہتے ہیں اپنے مکان کے قریب تعمیر کرا کر نماز پنجگانہ مع ہمراہیان خود اداکرتا ہے تو کیا رہتے ہوئے مسجد پختہ کے کہ مسجد ہذا سے مسجد گیااندازی دوسو قدم پر واقع ہے اور ان دونو ں کے راستہ درمیان کسی طرح کا خوف جان ومال کا نہیں ہے نماز پنج وقتی مسجد گیاہ میں اداہوسکتی ہے کہ نہیں؟ اس کے جواز ولاجواز سے جہاں تک تعمیل فرماکر ممتاز فرمایا جائے گا عین نوازش واکرام ہے اور ان دونوں رئیسوں کا بلکہ سائرمسلمانان کا فیصلہ ہے مکرر آنکہ اُن لوگوں نے جتنے روز تک اُس مسجد گیاہ میں جان بوجھ کر نماز پڑھی تو اُن سبھوں کی نماز ہوئی یا نہیں، اور بصورت نکلنے حکمِ جواز آمنّاصدقناو بصورت نکلنے ناجواز ان مسلمانوں روگردانوں پر ازروُئے شرع شریف کے کیا لازم آسکتا ہے اور ان لوگوں کو جماعت میں پھوٹ ڈالنے والا کہہ سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور جماعت میں پھوٹ ڈالنے والے پر کیا حکم مطابق شرع کے جاری کیا جائےگا اور وہ لوگ کیا کہے جاسکتے ہیں؟ آگاہ فرمایا جائے۔بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (1310 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجدصغیر و کبیر میں کیا فرق ہے ؟ بینواتوجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (725 )
زید نے دس برس ہوئے مسجد کے پیچھے جوزید کا مکان مسجد کے متصل بلاخلا تھا اور مسجد کی بنا سے اس کی بنا جداگانہ تھی اور زمین بھی زید کی اپنی موروثی تھی اُس مکا ن پر زید نے ایک بالاخانہ بنایا اور زید کے نیچے مکان کا چھت مسجد کی چھت کے برابر ہے صرف بالا خانہ مسجد سے اونچا ہے بلکہ بالاخانہ مسجد کے برابر بھی نہیں ہے مسجد کے بائیں جانب طالب علم کے حجرے کے برابر ہے ، ہاں کچھ تھوڑا ساکونا بالاخانے کا مسجد کے کونے کے برابر ہے لیکن زید بالاخانہ بنانے کے بعد دل میں نادم ہوا، اور چونکہ روپیہ خرچ ہو چکا تھا اس وجہ سے اس نے بالاخانے کو اکھیڑا نہیں لیکن مسجد کی عزت کی وجہ سے زید مع آل وعیال بالاخانہ میں نہیں رہتا نیچے مکان میں رہتا ہے اب اس بالاخانے کو اکھیڑنا چاہے یا نہیں؟.
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (740 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد قبل سے ہے اور نماز پنجگانہ ہوا کرتی ہے اور متولی مسجد کا سہ منزلہ مکان مسجد کے متصل ہے بعد انتقال متولی کے لوگوں نے مسجد میں نماز پڑھنا چھوڑ دیا اور عزر یہ ہے کہ جس مسجد کے قریب کوئی اونچی عمارت ہو اس مسجد میں نماز نہیں جائز ہے، لہٰذا لوگوں نے دوسری مسجد متصل پہلی مسجد کے پندرہ قدم کے فاصلہ میں بناتے ہیں اور منع کرنے سے نہیں مانتے حالانکہ اس مسجد کے بنانے سے سابق مسجد کے ویران ہونے کا احتمال ہے لہٰذا حکم خدا و رسول جل و علا و صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کیا ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (754 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اطراف ضلع فرید پور ضلع کھونـڈا میں قدیم سے ایک مسجد ہے جس میں اہل محلہ پنجگانہ نماز جمعہ پڑھتے چلے آئے ہیں ان دنوں دنیاوی کسی لین دین کے جھگڑے میں بعض مصلی وغیر مصلی اس مسجد قدیم کے مقابل چارپانچ سو ہاتھ کے فاصلہ میں محض ضد و مخالف سے دوسری ایک مسجد بنائی ہے اور اس مسجد قدیم کے باقی مصلی صاحبوں کو یہاں سے بھگا کر لے جانے کی پوری کوشش کررہا ہے تاکہ یہ مسجد ویران ہوجائے اور یہاں پڑھنے والے لوگ اچھی طرح سے ضبط ہو جائیں، مسجد قدیم میں امام و متولی صاحب و دیگر مصلی صاحبان کبھی کسی کو پڑھنے سے مانع مزاحم نہ ہوا، اور نہ اس لین دین کے جھگڑے میں شامل ہے تاہم چند قدیمی مصلی صاحبوں کو بوجہ عداوت مخالفت یہاں سے بھگالے گیا ہے ، پس اس صورت میں مسجد جدید میں نماز جائز ہوگی یاحکم میں مسجد ضرار کے ہوگا؟ اگر شرعاًمسجد ضرار قرار پائے بوجہ مخالفت وعداوت وتفریق جماعت تو اس مسجد کو کیا کرنا ہوگا؟ اگر شرعاً مسجد جدید ضرار ثابت ہوجائے تو جن مولوی صاحبان نے جدید مسجد نماز عدمِ جواز ومسجدِ ضرار فرمایا تھا ان عالمو کو گالی دینے و برا کہنے وعداوت رکھنے ، حقیر جاننے والے پر شرعاً کیا حکم ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (716 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میرے گاؤں کی مسجد پُرانی خام تھی، وہ شکستہ بھی ہے، دوسرے آبادی کم ہوجانے سے ایک کنارے پر آبادی کے ہوگئی ہے جو بہت بے موقع ہے، اس لئے مسجد اندر آبادی جدید تعمیرکرانے کی خواہش ہے، اس واسطے مطابق حکم شرع شریف دوسری جگہ میں مسجد جدید تعمیر ہوسکتی ہے یا نہیں اگر ہوسکتی ہے تو کس طرح؟ خلاصہ حکم سے آگاہی بخشے۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (853 )
"ایک مسجد متصل کتب خانہ دومنزلہ پر واقع تھی دیوار زینہ مسجد پر اہل ہنود سے بحق ملکیت تنازعہ ہوکر کل مکانات مع جائے تنازعہ کے اہل اسلام صاحبان بریلی نے بحق مسجد وزیارت مع ایک قطعہ دیگر اراضی ہنود سے خرید لیا، مسجد نہایت چھوٹی ہونے کے سبب توسیع اُس کی ہونا تجویز کیا گیا، انجمن اسلامیہ بریلی نے تمام تعمیر وغیرہ کا انتظام اپنے ذمہ یعنی سپردگی میں لیا اور تو سیع مسجد مذکورہ قطعہ اراضی دیگر تجویز کرکے کام تعمیر شروع کیا، مسجد کہنہ کو چھوڑکر متصل اُس کے دوسری مسجد جدید تعمیر کی اور مسجد کہنہ کو ایسا منہدم کیا کہ نشان تک اُس کا باقی نہ رہا اور جائے مسجد کہنہ کو دیگر دکانات میں بغرض حصولِ زر شامل کرلیا جاتاہے ، سوالات ذیل برائے جواب پیش ہیں:
(۱) بجائے توسیع مسجد کہنہ کے دوسری جگہ جدید مسجد تعمیر ہونا کیا مسجد اول کا حکم بموجب شرع شریف رکھے گی؟
(۲) جگہ مسجد کہنہ منہدمہ کو دیگر تعمیر دنیوی میں شامل کرکے کام میں لانا جائز ہے یا نہیں؟
(۳)جن اہل اسلام صاحبان سے یہ فعل مذکورہ بالاظہور میں آیا حکماً یا عملاً مشیر، ان کے ہے شرعاً کیا حکم ہے؟
(۴) بقیہٖ اہل اسلام کو فاعل مذکوربالا سے کیاعمل درآمد کرنا چاہئے؟"
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (753 )
مسجد بنانا فرض ہے یاواجب یامستحب ؟ اور برا ہے وہ پیسہ جو خرچ ہو گارے پتھر میں، اس واسطے کہ امام اعظم رحمۃاﷲ علیہ کی خدمت میں چند آدمی حاضر ہوئے عرض کیا، یا امام ! ہم ایک مسجد بنواتے ہیں کچھ آپ تبرکات عنایت فرمائے کہ برکت ہو ، امام صاحب نے پہلے چہرہ سائلین کی طرف سے پھیر کر خراب منہ بنایا اور ایک درہم نکال کر دے دیا دوسرے روز وہ شخص آئے اور درہم واپس دے کر کہنے لگے کہ حضرت ! لیجئے یہ درہم کوٹھا ہے اس کو بازار قبول نہیں کرتا ۔ امام صاحب نے وہ درہم لے کر رکھ لیا اور فرمایا خوش ہوکر کہ :خراب ہے وہ پیسہ جو گارے پتھر میں خرچ ہووے۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (843 )
چہ می فرمایند علمائے دین کہ ایک مسجد قدیم کو از مال حلال تیارکیا گیا تھا اوروقف بھی کیا گیا اس وقت ایک سود خور کے سود کا مال اور حلال مال دونوں مخلوط ہوگئے ، دونوں میں تمیز نہیں ہو سکتی کہ کون حرام کو ن حلال ہے مسجد قدیم کو تعمیر کیا یعنی گھر کو ٹین دیا در صحن مسجد کو اینٹ سے پختہ کیا اور مصلیوں کے وضو کے واسطے کنواں بنوادیا۔ اب عرض یہ ہے کہ ایسی مسجد میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ بینو اتواجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (765 )
"حضرت مولانا مولوی محمد احمد رضا خاں صاحب قبلہ مدظلہ العالی: السلام علیکم ورحمۃاﷲ وبرکاتہ، حضور کو ایک امر کی تکلیف دی جاتی ہے اور چونکہ یہ خدا کا کام ہے اور حضور ہم لوگوں کے آقا ہیں، حضور سے دریافت کرنا
میرا فرض منصبی ہے، ایک مسجد بنانے کی خواہش صرف حضور سے اجازت اس امر کی لینی ہے ، یہاں اکثر پرانی اینٹ ملتی ہے اور وہ اینٹ پاک عمدہ ملتی تو اس اینٹ سے مسجد بناسکتے ہیں یا نہیں؟ حضور کی جیسی رائے عالی ہو اس سے بہت جلد بواپسی ڈاک مطلع فرمائیں،خداوند کریم حضور کو اجر عظیم عطافرمائے گا۔"
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/5 (735 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ:
(۱) اس قصبہ ڈبھوئی ریاست بڑودہ میں ایک عید گاہ قدیم زمانے کی بنی ہوئی ہے، اس کے نزدیک ریل کا احاطہ ہے ، اب رہلوے کمپنی والے اس ریل کے احاطے کو بڑھانے کی غرض سے عیدگاہ کو گراکر اور جاپر بنا دینا چاہتے ہیں، آیا یہ شرع شریف میں درست ہے یا نہیں؟ اگر مسلمانِ ڈبھوئی اس عیدگاہ کو نہ دیں تو ریاست کی جانب سے جبراً گرادینے کا اندیشہ ہے اس حالت میں کیا کیا جائے؟
(۲) ریاست بڑودہ تعلقہ سنگھیڑا موضع ماکنی کے قریب جنگل میں ایک مسجد قدیم شاہی زمانے کی بنی ہوئی اس وقت مسمار حالت میں ہے، اس مسجد میں چند قیمتی پتھّر ، محرابیں، کھمبے وغیرہ جو نقشی کام کئے ہوئے ہیں زمین پر گرے ہوئے ہیں ، اس موضع کے ہنود وغیرہ جن کی حالت اچہی ہے اٹہا کر لے جاتے ہیں اور اس موضع کے مسلمانوں کی حالت ایسی نہیں کہ اس مسجد کو پھر تعمیر کر سکیں، لہٰذا ان پتھروں کو لے جاکر کسی اور قصبہ کی مسجد میں لگانا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر مسلمان ان پتھروں کو نہ لے جائیں گے تو ہنود لوگوں کا ان پتھروں کو اٹھاکر لے جا نے کا اندیشہ ہے۔"
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (1217 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سوائے معتکف اور مسافر کے مقیم یا اہل شہر کو مطلقاً مسجد میں سونا حرام ہے یا مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی؟ اگر بیرونی شہری نہ نیت اس کے کہ نماز صبح با جماعت ملے یا تہجد بھی نصیب ہو کیونکہ اگر گھر میں رہ کر نمازِ صبح با جماعت یا نماز تہجد نہیں ملتی ہے مسجد میں سوئے تو یہ سونا حرام ہے یا مکروہ یا تحریمی یا تنزیہی، نیز مسجد میں کھانا یا پینا سوائے معتکف اور مسافر کے شرعاً حرام ہے یا مباح ؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/7 (744 )
جو لوگ عرس میں آئیں وہ مسجد ہی میں قیام کریں اور جائے نماز وغیرہ استعمال کریں ، کھانا وہاں کھائیں، دنیا کی بات کریں ، اشعار پڑھیں، جائز ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/7 (820 )
امام مسجد اور عوام مسلمین جن کے پاس رہنے سونے کو مکان ہیں وہ مسجد میں کسی وقت سو سکتے ہیں یا نہیں نیز ایسے مسلمان مسافر جو آج کل شہروں میں آیا جایا کرتے ہیں اور چندے لے کر گزارہ کرتے ہیں انھیں مسجدوں میں رکھنا اور وہ وہاں پر بطور گھروں کے رہیں ، سوئیں ، کھائیں پئیں، جائز ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/13 (759 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ مسجد خاص میں یا صحن میں اگر واہیات لغویات اور گالی گلوچ ایک دوسرا آپس میں جمع خاص وعام کے روبرو کرے تو ان لوگوں کے لئے کیا حکم ہے؟ بیوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (1040 )
مسجد کا ایک امام جو شب وروز مسجد کے حجرہ میں رہتا ہے اور عملیات تعویز گنڈا وغیرہ آیاتِ قرآنی سے کرتا ہے اس کو بصورتِ قیام مسجد ایسا روزگار کرنا اور اس سے اجرت لینا جائز ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/13 (802 )
ایک شخص کچہری میں ملازم ہے فرصت کے وقت دن ورات میں مسجد میں قیام کرکے سوتا ہے اور کھانا وغیرہ کھاتاہے بہت عرصہ سے ، اب منع کرنے پر جواب دیا کہ میں نیت ِ اعتکاف کرلیتا ہوں کوئی حرج میرے قیام اور کھانے سونے میں نہیں ہے۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/13 (806 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی عالم اور کوئی شخص مسجد میں سوئے اور مسند تکیہ مسجد میں اندر مسجد کے لگائے اور کھانا مسجد میں ایک جماعت کے ساتھ کھائے اور اگالدان مسجد میں رکھے اور گھوڑے کی زین اور اوراسباب وغیرہ مسجد میں رکھے یہ سب شرع سے درست ہے نہیں؟ بینواتوجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/13 (837 )
اگر کوئی مسجد میں بآواز بلند درود و وظائف خواہ تلاوت کررہاہو اس سے علیحدہ ہو کر نماز پڑھنے میں بھی آواز کانوں میں پہنچتی ہے لوگ بھو ل جاتے ہیں خیال بہک جاتا ہے، ایسے موقع پر ذکر بالجہر تلاوت کرنے والے کو منع کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ یعنی آہستہ پڑھنے کو کہنا بالجہر سے منع کرنا، اگر نہ مانے تو کہاں تک ممانعت کرناجائز ہے ؟ اس کے متعلق کیا ارشاد فرماتے ہیں علمائے دین؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (690 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرح متین اس مسئلہ میں کہ ایک یا زیادہ شخص نماز پڑھ رہے ہیں یا بعد جماعت نماز پڑھنے آئے ہیں اور ایک یا کئی لوگ بآوازِ بلند قرآن یا وظیفہ یعنی کوئی قرآن کوئی وظیفہ پڑھ رہے ہیں یہاں تک کہ مسجد بھی گونج رہی ہے تو اس حالت میں کیا حکم ہونا چاہئے کیونکہ بعض دفعہ آدمی کا خیال بدل جاتا ہے اور نماز بھول جاتاہے۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/13 (886 )
زید اگر مسافرانہ طورپر کسی مقام پر واردہوا اور وہاں اس کا کوئی ایسا شخص شناسہ نہ ہو کہ جس کےمکان میں قیام کرسکے اور بسبب پابندی نماز جماعت ووضو وغیرہ کسی مسجد میں ٹھہر جائے تو جائز ہے یا نہیں اور اس کا سلف سے ثبوت ہے یانہیں ، اور جو شخص زید کو بصورت مذکورہ جبراً مسجد سے نکالے اور کہے کہ یہ مسجد خالد کی ملک ہے اور میں چونکہ ملازمِ خالد ہو لہٰذا مجھے حکم خالد ہے کہ بے اذن ہمارے کسی کو ہماری مسجد میں نہ رہنے دو اور اس پر برسر پیکار ہو تو زید کا اخراج عن المسجد بصورت فتنہ وفساد جائز ہے یا نہیں، اور مسجد کی ملک کی نسبت خالد جانب جائز ہے یانہیں؟ اور مسجد مذکورہ میں اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے؟ اور ایسی مسجد پر مسجد ضرار کی تعریف صادق ہے یا نہیں ؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/13 (836 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مٹی کا تیل مسجد میں جلانا جائز ہے یا نہیں ؟ بعض لوگ جائز کہتے ہیں اور عدم جواز کی دلیل چاہتے ہیں۔ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/13 (694 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں روغن مٹی کا جلانا جائز ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/13 (775 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد ہے جس میں تین د ر و ازے لگے ہیں ، صبح کی نماز میں بوجہ سردی کے تنیوں دربند کرکے اورچراغ جلاکر لوگ نماز پڑھاکرتے ہیں او رنماز صبح اپنے وقت پر ادا کرتے ہیں، ایک شخص کہتا ہے کہ چراغ جلاکر نماز نہ پڑھنا چاہئے منع ہے مگر کو ئی ثبوت اس کا نہیں دیتا ہے اس لئے دریافت طلب ہے کہ ایسا کرنے میں شرعاً کوئی قباحت ہے یا نہیں؟ اور کہاں تک اس کا کہنا صحیح ہے ؟ مہربانی فرماکر جوا ب مع حوالہ کتبِ فقہ شریف عنایت ہو۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (735 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اندرونِ مسجد مرزائی یعنی ٹین کے دالان کے دروں میں بغرض زیبائش مسجد گملے درختاں پھول وغیرہ لٹکائے جانے کےلئے تیار کئے گئے ہین جن مین کہ کھادوغیرہ پاک مٹی کی دی گئی ہے۔ اب چند حضرات کو اعتراض ہے کہ نئی بات مسجد میں نہیں ہونا چاہئے۔ ازرُوئے شرع شریف کیا حکم ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (724 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس باب میں ، مسجد میں اکثر کاپیاں عربی کی ونقشجات وغیرہ چہار جانب دیواروں پر مسجد کی نصب کئے جاتے ہیں منجملہ اُن کے منبر کے قریب دیوار پر عربی مناجات ایسے موقع پر نصب یعنی چسپاں کئے جاتے ہیں کہ بروقت پڑھنے کے امام کے پسِ پشت یا اس سے کسی قدر اونچے یعنی قریب پس گردن عربی مناجات ہوتے ہیں ، ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (751 )
مسجد میں طلائی نقش ونگار جائز ہے یا نہیں؟ کیا نمازیوں کے پیشِ نظر گُل بوٹے چمکتے دمکتے مخل صلوٰۃ نہیں؟ کیا اس طرح کی زیبائش مسجد کی من جہت معبد ہونے کے شایان شان نہیں؟ محض مختصر جواب اس کا تحریر فرماکر فقیر کو ممنون فرمائیں،یہاں مسئلہ درپیش ہے کالج کی مسجد منقش ومطلا کی جارہی ہے۔ فقط
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (695 )
مسجد کے کنارے کسی بزرگ کی قبر ہو اور وہاں گانا مع آلات ڈھولکی وغیرہ ہو اور تماشائی لوگ اندر مسجد کے بلالحاظ پاکی اور ادب کے اور گاگر کے وقت ہجوم ہو لوگ اندر مسجد داخل ہوں جائز ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (714 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کی مسجد میں کرُسی پر بیٹھ کر وعظ کہنے کو بعض لوگ عدمِ سنت کہتے ہیں سنت ہونے کی دلیل چا ہتے ہیں۔ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (689 )
مجموعہ فتاوٰی عبدالحی صفحہ ۵۵ ومجموعہ فتاوٰی ہمایونی تصنیف مولٰینا مفتی عبدالغفور نے چارپائی والے مسئلہ مسجد میں جواز لکھا ہے وہ حدیث پیش کرتے ہیں جو آنحضرت اعتکاف کے موقع میں سریر پر سوئے تھے۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (823 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید دریافت کرتا ہے کہ:
(۱) مسجد میں استعمالی جوتا رکھنا چاہئے یا نہیں؟ چونکہ زید نے ایک مولوی صاحب کی زبانِ مبارک سے سنا ہے کہ جوتا مسجد کے اند رکھنا حرام ہے اس وجہ سے منع کیا تو جواب ہوا کہ ہر مسجد میں جوتا رکھتے دیکھتے ہیں اور
کہتے ہیں کہ عید گاہ اور جامع مسجد میں بھی دیھا اور یہاں تک کہا کہ شرع کی کتابوں میں بھی دیکھا ہے تو جوتا خشک پاک ہے اور مسجد میں کوئی حرج نہیں آیا اس میں کیا حکم ہے؟
(۲) اگر غسل خانہ مسجد کے فرش سے جُدا ہے اور غسل خانہ اتنا تر رہتا ہے کہ پاؤں پر تری لگ جاتی ہے تو جوتا پہن کر جانا چاہئے یا ویسے ہی؟"
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (697 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر نمازی مسجد میں جوتا سامنے رکھتے ہیں، منع کرنے پر کہتے ہیں کہ کہاں منع ہے؟ کس قول سے منع ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (599 )
مسجد کے چاہ سے عموماً پانی بھرنا اپنے گھروں کو اور ننگے پیروں سے آنا، اور رسی سے بھی وہ خراب پیر لگتے ہیں پھر اس کی چھینٹیں کنویں میں ضرورجاتی ہیں، منع کرنے پر کہتے ہیں کہ پہلے سے یونہی بھر تے آتے ہیں۔ ان کا کیا حکم ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (868 )
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ مسجد میں درخت پھلدار مثلاً جامن مولسری کھنی وغیرہ کے ہو اور پھل اس مقدار پر آیاجس کو فروخت کیا جائے ، ایسی صورت میں وہ پھل نمازی یا غیر نمازی بلا کچھ قیمت ادا کئے ہوئے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ دیگر یہ کہ مسجد میں درخت بیلہ۔ چنبیلی۔ مولسری کا ہےاس کے پھول نمازی لوگ بلا کوئی قیمت ادا کئے ہوئے گھر کو لاسکتے ہیں یا نہیں ؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (1400 )
کیا فرماتے ہیں علما ئے دین اس مسئلہ میں کہ مساجد میں معاملاتِ دنیا کی باتیں کرنے والوں پر کیا مما نعت ہے اور بروزِ حشر کیا مواخذہ ہوگا؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (746 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد میں شور وشرکرنا اور دنیا کی باتیں کرنا اور اسی طرح وضو میں درست ہے یا نہیں ، اور اپنے پاس سے غیبت کرنے والوں اور تہمت رکھنے والوں اور جن میں شیوہ منافقت کا مفسدہ کا انداز پایا جائے نکلوادینا جائز ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (718 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد ویران شدہ یعنی چھت وغیرہ اُس کا گرگیا صرف دیواریں و دیگر آثار اُس کے سب نمودار ہیں اُس مسجد کے متعلق جو دُکان ہو اُس کا کرایہ دوسری مسجد پرخرچ ہوسکتا ہے یا نہ؟ اور اس کرایہ میں سے دوسری مسجد کے پیش امام کو دینا جائز ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (724 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ صحنِ مسجد میں کچھ قبریں آگئی ہیں اور ان قبروں میں فرش پختہ بنادیا گیا ہے اب کوئی نشا ن قبر کا صحنِ مسجد میں معلوم نہیں ہوتا البتہ یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فلاں فلاں کی قبریں ہیں لہٰذا یہ معلوم کرنا ہے کہ اس صحن مسجد میں کہ جہاں قبریں تھیں نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو نمازیں پڑھی ہیں وہ نمازیں ہوگئیں یا نہیں؟ سوال کا جوب بحوالہ کتب احادیث ارقام فرمائیں۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/14 (761 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جامع مسجد کے یمین ویسار قبرستان خام ہے نشانِ قبور موجود ہیں، قبرستان کونئی مٹی سے یا پختہ چبوترہ باندھ کر فرش مسجد کا بڑھا لیا جائے ایسا کہ بلکل نشانِ قبر بالکل ظاہر نہ رہے تو اس پر نماز پڑھنا درست ہے یا ناجائز؟ بینواتواجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

Published by Admin2 on 2012/11/15 (888 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جامع مسجد بجنور جو محلہ قاضیان میں واقع ہے اس کا فرش موجودہ شرقاً وغرباً یعنی عرض میں بہت کم ہے کہ جو بعض جمعہ کو نمازیوں کے لئے کافی نہیں ہوتا لہٰذا اس کے فرش بڑھانے کی تدبیر درپیش ہے درصورت بڑھانے فرش کے ایک قبر پختہ جس کا حضیرہ زمین سے قریب بارہ گرہ کے اونچا بناہوا ہے بیچ فرش میں پڑگئی، صاحبِ قبر کے انتقال کو قریب سو سال کے گزری ہوں گی لہٰذا علمائے دین کی خدمت میں التماس ہے کہ اس قبر کو کیا کیا جائے تاکہ نماز میں کچھ حرج نہ ہو، یا فرش کے براب کردی جائے یا اونچی رہنے دی جائے؟ درصورت بحالت موجودہ رکھنے قبر کے ، نماز میں کچھ حرج ہوگا یا نہیں؟ ورثائے صاحبِ قبر سوائے ایک شخص کے قبر کو برابر کرنے کے لئے راضی ہیں اگر برابر کرنا درست ہو تو یہ بھی مع حوالہ کتبِ فقہ تحریر کیا جائے کہ کتنے میعاد کے بعد برابر کرنا درست ہے ؟ بینوا تواجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب احکام المسجد
  Print article

(1) 2 »
RSS Feed
show bar
Quick Menu