• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Published by admin on 2011/8/30 (9163 )
عقائد متعلقہ ذات و صفات الہی جل جلالہ
عقا ئد متعلقہ ذات و صفاتِ الٰہی جَلّ جلا لہ

اﷲ (عزوجل) ایک ہے ، کوئی اس کا شریک نہیں، نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ افعال میں نہ احکام میں، نہ اسماء میں ، واجب الوجود ہے، یعنی اس کا وجود ضروری ہے اور عَدَم مُحَال، قدیم ہے یعنی ہمیشہ سے ہے، اَزَلی کے بھی یہی معنی ہیں، باقی ہے یعنی ہمیشہ رہے گا اور اِسی کو اَبَدی بھی کہتے ہیں۔ وہی اس کا مستحق ہے کہ اُس کی عبادت و پرستش کی جائے۔

عقیدہ (۲): وہ بے پرواہ ہے، کسی کا محتاج نہیں اور تمام جہان اُس کا محتاج۔

عقیدہ (۳): اس کی ذات کا اِدراک عقلاً مُحَال کہ جو چیز سمجھ میں آتی ہے عقل اُس کو محیط ہوتی ہے اور اُس کو کوئی اِحاطہ نہیں کر سکتا ، البتہ اُس کے افعال کے ذریعہ سے اِجمالاً اُس کی صفات، پھر اُن صفات کے ذریعہ سے معرفتِ ذات حاصل ہوتی ہے۔
  Print article

Published by admin on 2011/8/30 (15573 )
عقائد متعلّقہ نبوت
عقائد متعلّقہ نبوت

مسلمان کے لیے جس طرح ذات و صفات کا جاننا ضروری ہے، کہ کسی ضروری کا انکار یا محال کا اثبات اسے کافر نہ کر دے، اسی طرح یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نبی کے لیے کیاجاءز ہے اور کیا واجب اور کیا محال، کہ واجب کا انکار اور محال کا اقرار موجب کُفر ہے اور بہت ممکن ہے کہ آدمی نادانی سے خلاف عقیدہ رکھے یا خلاف بات زبان سے نکالے اور ھلاک ہو جائے۔

عقیدہ (۱): نبی اُس بشر کو کہتے ہیں جسے اﷲ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے وحی بھیجی ہو اور رسول بشر ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ملائکہ میں بھی رسول ہیں۔

عقیدہ (۲): انبیا سب بشر تھے اور مرد، نہ کوئی جن نبی ہوا نہ عورت۔

عقیدہ (۳): اﷲ عزوجل پر نبی کا بھیجنا واجب نہیں، اُس نے اپنے فضل وکرم سے لوگوں کی ہدایت کے لیے انبیا بھیجے۔
  Print article

Published by admin on 2011/8/31 (4040 )
ملائکہ کا بیان
ملائکہ کا بیان

Beliefs about Angels

فرشتے اجسامِ نوری ہیں، اﷲ تعالیٰ نے اُن کو یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں ، کبھی وہ انسان کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی دوسری شکل میں۔

عقیدہ(۱): و ہ و ہی کرتے ہیں جو حکمِ الٰہی ہے، خدا کے حکم کے خلاف کچھ نہیں کرتے، نہ قصداً، نہ سہواً، نہ خطاً، وہ اﷲ (عزوجل) کے معصوم بندے ہیں، ہر قسم کے صغائر و کبائر سے پاک ہیں۔
  Print article

Published by admin on 2011/8/31 (2407 )
جِنّ کا بیان
جن کا بیان

Beliefs about Ginius (Jinnee)

عقیدہ (۱): یہ آگ سے پیدا کیے گئے ہیں۔
اِن میں بھی بعض کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ جو شکل چاہیں بن جائیں
اِن کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں، اِن کے شریروں کو شیطان کہتے ہیں، یہ سب انسان کی طرح ذی عقل اور ارواح و اجسام والے ہیں، اِن میں توالد و تناسل ہوتا ہے، کھاتے، پیتے، جیتے، مرتے ہیں
  Print article

Published by admin on 2011/8/31 (13172 )
عالمِ برزخ کا بیان
عالمِ برزخ کا بیان

Beliefs about Barzakh (Purgatory)

دنیا اور آخرت کے درمیان ایک اور عالَم ہے جس کو برزخ کہتے ہیں، مرنے کے بعد اور قیامت سے پہلے تمام اِنس وجن کو حسبِ مراتب اُس میں رہنا ہوتا ہے، اور یہ عالَم اِس دنیا سے بہت بڑا ہے۔ دنیا کے ساتھ برزخ کو وہی نسبت ہے جو ماں کے پیٹ کے ساتھ دنیا کو ، برزخ میں کسی کو آرام ہے اور کسی کو تکلیف۔

عقیدہ(۱): ہر شخص کی جتنی زندگی مقرّر ہے اُس میں نہ زیادتی ہو سکتی ہے نہ کمی، جب زندگی کا وقت پورا ہو جاتا ہے، اُس وقت حضرت عزرائیل علیہ السلام قبضِ روح کے لیے آتی ہیں
  Print article

Published by admin on 2011/11/29 (10950 )
معاد و حشر کا بیان
معاد و حشر کا بیان

Beliefs about the day of judgement (Qiyamat)

بیشک زمین و آسمان اور جن و اِنس و مَلک سب ایک دن فنا ہونے والے ہیں، صرف ایک اﷲ تعالیٰ کے لیے ہمیشگی و بقا ہے۔
دنیا کے فنا ہونے سے پہلے چند نشانیاں ظاہر ہوں گی۔
تین خسف ہوں گے یعنی آدمی زمین میں دھنس جائیں گے
ایک مشرق میں، دوسرا مغرب میں، تیسرا جزیره عرب میں
عِلم اُٹھ جائے گا یعنی علما اُٹھالیے جائیں گے، یہ مطلب نہیں کہ علما تو باقی رہیں اور اُن کے دلوں سے علم محو کردیا جائے۔
جھل کی کثرت ہوگی
  Print article

Published by admin on 2011/11/29 (5632 )
جنّت کا بیان
جنّت کا بیان

Description of The Paradise (Jannah)

جنت ایک مکان ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے بنایا ہے، اس میں وہ نعمتیں مہیا کی ہیں جن کو نہ آنکھوں نے دیکھا، نہ کانوں نے سنا، نہ کسی آدمی کے دل پر ان کا خطرہ گزرا۔
جو کوئی مثال اس کی تعریف میں دی جائے سمجھانے کے لیے ہے، ورنہ دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ شے کو جنت کی کسی چیز کے ساتھ کچھ مناسبت نہیں۔
وہاں کی کوئی عورت اگر زمین کی طرف جھانکے تو زمین سے آسمان تک روشن ہوجائے اور خوشبو سے بھر جائے اور چاند سورج کی روشنی جاتی رہے اور اُس کا دوپٹا دنیا ومافیہا سے بہتر۔
اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اگر حُور اپنی ہتھیلی زمین و آسمان کے درمیان نکالے تو اس کے حسن کی وجہ سے خلائق فتنہ میں پڑ جائیں اور اگر اپنا دوپٹا ظاہر کرے تو اسکی خوبصورتی کے آگے آفتاب ایسا ہو جائے جیسے آفتاب کے سامنے چراغ اور اگر جنت کی کوئی ناخن بھَر چیز دنیا میں ظاہر ہو تو تمام آسمان و زمین اُس سے آراستہ ہو جائیں
  Print article

Published by admin on 2011/11/29 (4424 )
دوزخ کا بیان
دوزخ کا بیان

Description of The Hell

یہ ایک مکان ہے کہ اُس قہار و جبار کے جلال و قہر کا مظہر ہے۔ جس طرح اُس کی رحمت و نعمت کی انتہا نہیں کہ انسانی خیالات و تصورات جہاں تک پہنچیں وہ ایک شَمّہ ہے اُس کی بے شمار نعمتوں سے، اسی طرح اس کے غضب و قہر کی کوئی حد نہیں کہ ہر وہ تکلیف و اذیت کہ اِدراک کی جائے، ایک ادنیٰ حصہ ہے اس کے بے انتہا عذاب کا۔ قرآنِ مجید و احادیث میں جو اُس کی سختیاں مذکور ہیں، ان میں سے کچھ اِجمالاً بیان کرتا ہوں، کہ مسلمان دیکھیں اور اس سے پناہ مانگیں اور اُن اعمال سے بچیں جن کی جزا جہنم ہے۔ حدیث میں ہے کہ جو بندہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے، جہنم کہتا ہے: اے رب! یہ مجھ سے پناہ مانگتا ہے، تُو اس کو پناہ دے۔ قرآن مجید میں بکثرت ارشاد ہوا کہ جہنم سے بچو! دوزخ سے ڈرو!
  Print article

Published by admin on 2012/7/25 (6033 )
ایمان اسے کہتے ہیں کہ سچے دل سے اُن سب باتوں کی تصدیق کرے جو ضروریاتِ دین ہیں اور کسی ایک ضرورتِ دینی کے انکار کو کفر کہتے ہیں، اگرچہ باقی تمام ضروریات کی تصدیق کرتا ہو۔ ضروریاتِ دین وہ مسائلِ دین ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں، جیسے اﷲ عزوجل کی وحدانیت، انبیا کی نبوت، جنت و نار، حشر و نشر وغیرہا، مثلاً یہ اعتقاد کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہوسکتا۔ عوام سے مراد وہ مسلمان ہیں جو طبقہ علما میں نہ شمار کیے جاتے ہوں، مگر علما کی صحبت سے شرفیاب ہوں اور مسائلِ علمیہ سے ذوق رکھتے ہوں، نہ وہ کہ کوردہ اور جنگل اور پہاڑوں رہنے والے ہوں جو کلمہ بھی صحیح نہیں پڑھ سکتے، کہ ایسے لوگوں کا ضروریاتِ دین سے ناواقف ہونا اُس ضروری کو غیر ضروری نہ کر دے گا، البتہ ان کے مسلمان ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ ضروریاتِ دین کے منکر نہ ہوں اور یہ اعتقاد رکھتے ہوں کہ اسلام میں جو کچھ ہے حق ہے، ان سب پر اِجمالاً ایما ن لائے ہوں
  Print article

Published by admin on 2012/7/25 (5597 )
قادیانی:
کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ہیں، اس شخص نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا اور انبیائے کرام علیہم السلام کی شان میں نہایت بیباکی کے ساتھ گستاخیاں کیں، خصوصاً حضرت عیسیٰ روح اﷲ وکلمۃاﷲ علیہ الصلاۃ والسلام اور ان کی والدہ ماجدہ طیِّبہ طاہرہ صدیقہ مریم کی شانِ جلیل میں تو وہ بیہودہ کلمات استعمال کیے، جن کے ذکر سے مسلمانوں کے دل ہِل جاتے ہیں، مگر ضرورتِ زمانہ مجبور کر رہی ہے کہ لوگوں کے سامنے اُن میں کے چندبطور نمونہ ذکر کیے جائیں، خود مدّعی نبوت بننا کافر ہونے اور ابد الآباد جہنم میں رہنے کے لیے کافی تھا، کہ قرآنِ مجید کا انکار اور حضور خاتم النبیین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہ ماننا ہے، مگر اُس نے اتنی ہی بات پر اکتفا نہ کیا بلکہ انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی تکذیب و توہین کا وبال بھی اپنے سَر لیا اور یہ صدہا کفر کا مجموعہ ہے، کہ ہر نبی کی تکذیب مستقلاً کفر ہے، اگرچہ باقی انبیا و دیگر ضروریات کا قائل بنتا ہو، بلکہ کسی ایک نبی کی تکذیب سب کی تکذیب ہے
  Print article

Published by admin on 2012/7/26 (4361 )
اِن کے مذہب کی کچھ تفصیل اگر کوئی دیکھنا چاہے تو ''تحفہ اِثنا عشریہ'' دیکھے، چند مختصرباتیں یہاں گزارش کرتا ہوں۔
صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم کی شان میں یہ فرقہ نہایت گستاخ ہے، یہاں تک کہ اُن پر سبّ و شتم ان کا عام شیوہ ہے بلکہ باستثنا ئے چند سب کو معاذ اﷲ کافر و منافق قرار دیتا ہے۔ حضرات خلفائے ثلٰثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھم کی ''خلافتِ راشدہ'' کو خلافتِ غاصبہ کہتا ہے اور مولیٰ علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جو اُن حضرات کی خلافتیں تسلیم کیں اور اُن کے مَدائح و فضائل بیان کیے، اُس کو تقیّہ وبُزدلی پر محمول کرتا ہے۔ کیا معاذاﷲ! منافقین و کافرین کے ہاتھ پر بیعت کرنا اور عمر بھر اُن کی مدح و ستائش سے رطب اللسان رہنا شیرِ خدا کی شان ہو سکتی ہے...؟! سب سے بڑھ کر یہ کہ قرآنِ مجید اُن کو ایسے جلیل و مقدّس خطابات سے یاد فرماتا ہے، وہ تو وہ، اُن کے اتباع کرنے والوں کی نسبت فرماتا ہے: کہ اﷲ اُن سے راضی، وہ اﷲ سے راضی۔ کیا کافروں، منافقوں کے لیے اﷲ عزوجل کے ایسے ارشادات ہوسکتے ہیں...؟! پھر نہایت شرم کی بات ہے کہ مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالی وجہہ الکریم تو اپنی صاحبزادی فاروقِ اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں دیں اور یہ فرقہ کہے: تقیۃً ایسا کیا۔ کیا جان بوجھ کر کوئی مسلمان اپنی بیٹی کافر کو دے سکتا ہے...؟! نہ کہ وہ مقدس حضرات جنھوں نے اسلام کے لیے اپنی جانیں وقف کر دیں اور حق گوئی اور اتباع حق میں (لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآئِمٍ ط) کے سچے مصداق تھے
  Print article

Published by admin on 2012/7/26 (7563 )
وہابی: یہ ایک نیا فرقہ ہے جو ۱۲۰۹ھ؁ میں پیدا ہوا، اِس مذہب کا بانی محمد بن عبدالوہاب نجدی تھا، جس نے تمام عرب، خصوصاً حرمین شریفین میں بہت شدید فتنے پھیلائے، علما کو قتل کیا، صحابہ کرام و ائمہ و علما و شہدا کی قبریں کھود ڈالیں، روضہ انور کا نام معاذاﷲ ''صنمِ اکبر'' رکھا تھا، یعنی بڑا بت اور طرح طرح کے ظلم کیے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ نجد سے فتنے اٹھیں گے اور شیطان کا گروہ نکلے گا۔ وہ گروہ بارہ سو برس بعدیہ ظاہر ہوا۔ علامہ شامی رحمہ اﷲ تعالیٰ نے اِسے خارجی بتایا۔ اِس عبدالوہاب کے بیٹے نے ایک کتاب لکھی جس کا نام ''کتاب التوحید'' رکھا، اُس کا ترجمہ ہندوستان میں ''اسماعیل دھلوی'' نے کیا، جس کا نام''تقویۃ الایمان'' رکھا اور ہندوستان میں اسی نے وہابیت پھیلائی۔
اِن وہابیہ کا ایک بہت بڑا عقیدہ یہ ہے کہ جو اِن کے مذہب پر نہ ہو، وہ کافر مشرک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بات بات پر محض بلاوجہ مسلمانوں پر حکمِ شرک و کفرلگایا کرتے اور تمام دنیا کو مشرک بتاتے ہیں۔ چنانچہ ''تقویۃ الایمان'' صفحہ ۴۵ میں وہ حدیث لکھ کر کہ ''آخر زمانہ میں اﷲ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جو ساری دنیا سے مسلمانوں کو اٹھا لے گی۔'' اِس کے بعد صاف لکھ دیا: ''سو پیغمبرِ خدا کے فرمانے کے موافق ہوا''، یعنی وہ ہوا چل گئی اور کوئی مسلمان روئے زمین پر نہ رہا ، مگر یہ نہ سمجھا کہ اس صورت میں خود بھی تو کافر ہوگیا۔
اِس مذہب کا رکنِ اعظم، اﷲ (عزوجل) کی توہین اور محبوبانِ خدا کی تذلیل ہے، ہر امر میں وہی پھلو اختیار کریں گے جس سے منقصت نکلتی ہو۔ اس مذہب کے سرگروہوں کے بعض اقوال نقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے، کہ ھمارے عوام بھائی ان کی قلبی خباثتوں پر مطلع ہوں اور ان کے دامِ تزویر سے بچیں اور ان کے جبّہ و دستار پر نہ جائیں۔ برادرانِ اسلام بغور سُنیں اور میزانِ ایمان میں تولیں کہ ایمان سے زیادہ عزیز مسلمان کے نزدیک کوئی چیز نہیں اور ایمان، اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی محبت و تعظیم ہی کا نام ہے۔ ایمان کے ساتھ جس میں جتنے فضائل پائے جائیں وہ اُسی قدر زیادہ فضیلت رکھتا ہے، اور ایمان نہیں تو مسلمانوں کے نزدیک وہ کچھ وقعت نہیں رکھتا، اگرچہ کتنا ہی بڑا عالم و زاہد و تارک الدنیا وغیرہ بنتا ہو، مقصود یہ ہے کہ اُن کے مولوی اور عالم فاضل ہونے کی وجہ سے اُنھیں تم اپنا پیشوا نہ سمجھو، جب کہ وہ اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دشمن ہیں، کیا یہود ونصاریٰ بلکہ ہنود میں بھی اُن کے مذاہب کے عالم یا تارک الدنیا نہیں ہوتے...؟! کیا تم اُن کو اپنا پیشوا تسلیم کرسکتے ہو...؟! ہرگز نہیں! اِسی طرح یہ لامذہب و بد مذہب تمھارے کسی طرح مقتدا نہیں ہوسکتے۔
  Print article

RSS Feed
show bar
Quick Menu