• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
(1) 2 3 »
Published by admin on 2012/2/14 (1269 )
مسئلہ ۱۰: ۱۰ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ :
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے ایک پھڑیا تھی اُس نے اوپر کی جانب سے منہ کیا اور پھوٹی، بہی، بالکل اچھی ہوگئی، مگر اس کا بالائی پوست اور اس کے نیچے خالی جگہ ہنوز باقی ہے۔ زید نہایا غسل کا پانی کہ اوپر سے بہتا آیا اُس خلا میں بھر گیا، بعد نہانے کے زید نے ہاتھ سے دبادیا کہ وہ پانی بہہ کر نکل گیا، اس صورت میں وضو ساقط ہوا یا نہیں ؟اور جس بدن پر وہ پانی گزرا پاک رہا یا نہیں ؟ بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه-جلد اول-كتاب الطهارۃ-فصل فی النواقض
  Print article

Published by admin on 2012/2/14 (1467 )
مسئلہ ۱۸: ازکلکتہ دھرم تلا نمبر ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۱۲ رمضان المبارک ۱۳۱۱ ھ وبار دوم از ملک بنگال ضلع نواکھالی مقام ہتیا مرسلہ مولوی عباس علی عرف مولوی عبدالسلام صاحب ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۱۵ ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالتِ جنابت میں ہاتھ دھو کر کُلّی کر کے کھانا کھانا کراہت رکھتا ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه-جلد اول-باب الغسل-
  Print article

Published by admin on 2012/2/14 (1072 )
مسئلہ ۲۰: ۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان کو نہانے کی حاجت ہو اُس حالت میں مسجد کے لوٹے وغیرہ کو ناپاک ہاتھ سے چھُونا جائز ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه-جلد اول-باب الغسل-
  Print article

Published by admin on 2012/2/14 (1603 )
مسئلہ ۲۱: ازپیلی بھیت محلہ پنجابیاں مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ۱۳۰۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اِن مسائل میں اول یہ کہ سوا مصحف خاص کے کہ جس کے چھُونے کی جنب اور محدِث کے حق میں شریعت سے ممانعت صریح واقع ہوئی ہے بعض مصاحف اس قسم کے رائج ہوئے ہیں کہ اُن میں علاوہ نظم قرآن شریف کے دیگر مضامین بھی شامل ہوتے ہیں چنانچہ بعض قسم اُس کی مترجم ہیں کہ مابین السطور ترجمہ فارسی یا اردو کا ہوتا ہے اور بعض مترجم کے حواشی پر کچھ کچھ فوائد بھی متعلق ترجمہ کے ثبت ہوتے ہیں بلکہ بعض میں فوائد متعلق قراء ت اور رسم خط وغیرہ بھی درج ہوتے ہیں اور بعض اقسام مترجم کے حاشیوں پر کوئی کوئی تفسیر بھی چڑھی ہوتی ہے بعض پر عربی مثل جلالین وغیرہ کے اور بعض میں فارسی اور اردو مثل حسینی وغیرہ کے چڑھاتے ہیں علی ہذا القیاس اس قسم کے مصاحف کے مس کرنے کا حکم بحق جنب اور محدث کے حرام ہے یا مکروہ اور در صورت کراہت تحریمی ہوگی یا تنزیہی یا جائز بلا کراہت ہے بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه-جلد اول-باب الغسل-
  Print article

Published by admin on 2012/2/21 (957 )
مسئلہ ۲۵ : ۲۰ جمادی الاخری ۱۳۲۱ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پانی بارش کا جو خاص شہر میں برستا ہے اور نالی وغیرہ دھو کر باہر چلا جاتا ہے پاک ہے یا نہیں، اُس سے وضو درست ہے یا نہیں، اُس پانی کو جاریہ کہیں گے یا نہیں۔ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by admin on 2012/2/21 (948 )
مسئلہ ۲۶ : ۱۱ صفر ۱۳۰۹ھ
جناب مولوی صاحب قبلہ! ایک حوض ساڑھے سات گز لمبا اور ساڑھے سات گز چوڑا اور ڈیڑھ گز گہرا اگر اُس میں چار برس کا بچّہ موت دے تو ناپاک ہوگیا یا پاک رہا۔ خاکسار عزیز اللہ
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by admin on 2012/2/16 (3847 )
مسئلہ ۱۲: مسئولہ مولوی علی احمد صاحب مصنف تہذیب الصبیان ۱۵ جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ

کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ فرائض غسل جنابت جو تین ہیں ان میں مضمضہ واستنشاق واسا لۃ الماء علی کل البدن سے کیسا مضمضہ واستنشاق واسا لہ ماء مراد ہے، بینوا توجروا(بیان فرمائیے اجر پائیے۔ت)
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by admin on 2012/2/22 (1177 )
مسئلہ ۲۷:۲۹ رجب ۱۳۱۱ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اِس مسئلہ میں کہ ایک حوض دَہ در دَہ ہے سنّیوں میں یا شیعوں میں اور اُس میں کُتّا یا سُوئر پانی پی گیا ہو آیا اس سے وضو یا پینا چاہئے یا نہیں یا پیشاب یا پاخانہ پھر گیا ہو، پاک رہا یا نہیں۔ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/22 (1039 )
اگر بے وضو یا جُنب کا ہاتھ یا انگلی یا ناخن وغیرہ لوٹے یا گھڑے میں پڑ جائے تو پانی وضو کے قابل رہتا ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں اس سے پانی مکروہ ہوجاتا ہے اور اگر قابل وضو نہ رہے تو کس طرح قابل کیا جاسکتا ہے
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/22 (995 )
ایک حوض دہ در دہ ہے اس میں طاق ڈال کر بارہ تھم قائم کیے ہیں اب کُل تھموں کے عرض کو جو حساب کرتے ہیں تو چھ گز ہوتے ہیں اس سے حوض کبیر ہونے میں خلل ہے کہ نہیں
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/22 (901 )
حوض دہ در دہ میں اگر کوئی شخص تھوک یارینٹھ ڈالے یاپاؤں اُس کے اندر ڈال کر دھوئے یا وضو اس طرح کرے کہ تمام غسالہ اس میں گرتا جائے تو آیاان سب صورتوں میں وہ حوض پاک رہے گا یا نہیں،برتقدیر ثانی اگر کوئی نجس سمجھے تواس کاکیا حکم ہے؟
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/22 (857 )
ایک تالاب دہ در دہ میں تمام محلہ کے چوبچوں پاخانوں نالیوں وغیرہ کانجس پانی آکر جمع ہوتاہے بلکہ بھنگی اُس میں میلے کی ڈھلیان بھی ایام برسات میں ڈالاکرتے ہیں اوربعض اوقات لوگ اس کے کنارے پاخانہ پیشاب بھی پھرتے ہیں کہ اُس میں بہہ کرجاتاہے توآیا ایسے تالاب میں کپڑے نجس دھونے سے پاک ہوں گے یا نہیں اور اُس تالاب کو حکم پاکی کا دیا جائے گا یانہیں
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/22 (907 )
مریض کو دواءً ایسے پانی سے وضو یا استنجا کرنا جس میں کوئی دوسری شے جوش دی گئی ہو جس سے پانی کا نام پانی نہ رہے جائز ہے یا نہیں یعنی اس سے طہارت حاصل ہوگی بوجہ اس ضرورت کے یا ضرورت پر لحاظ نہ ہوگا
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/25 (948 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید دریافت کرتا ہے کہ میرے موضع میں چند تالاب ہیں اُن تالابوں کے پانی سے غسل اور وضو،پینا،کپڑے دھوناکیسا ہے کیونکہ اکثر مویشی ہنودومسلمان ہر ایک نہاتے ہیں استنجابڑا ہر ایک قوم وہاں پاک کرتی ہے اور کبھی چمار بھنگی بھی نہاتے ہیں اور اتفاقیہ سؤر پانی پی جائے یا نہائے کبھی یہ تالاب مقید رہتے ہیں اور کبھی اُن کے اندر ہو کر ندی سے نہر جاری ہوجاتی ہے اُس کی تشریح یوں ہے: کسی وقت میں اس سے زیادہ بھی پانی ہوجاتاہے اور کبھی کچھ کم اوراگر ندی سے پانی آجائے اور راستہ میں نہر میں کچھ غلیظ ہو توکیا حکم ہے اور بستی کے قریب چنداورتالاب ہیں اوران کاپانی رنگ بدلے ہوئے رہتاہے اکثر ہنود تک اُس پانی سے نفرت کرتے ہیں برسات میں بھی صاف طور پر نہیں ہوتاہے لمبائی چوڑائی گہرائی بھی بہت مگرپانی صاف نہیں ہے دیگر شہر سے نالہ کاپانی ندی میں آکر گرتاہے اور ندی کاپانی کچھ تھوڑا مخلوط ہوتاہے دیکھنے میں اکثرپیشاب کی صورت معلوم ہوتاہے ایسے پانی سے اکثر لوگ نہاتے اور دھوبی کپڑے دھوتے ہیں اکثر وضو کرتے ہیں تو اس پانی کیلئے کیا حکم ہے
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/25 (1230 )
ایک حوض ہے جو بعض لوگوں کے چھ قبضہ یعنی چوبیس۲۴ انگلیوں سے دہ در دہ سے چھیالیس۴۶ انگل زیادہ ہے اور یہ چوبیس۲۴ انگلیاں سترہ۱۷ انچ کے برابر ہیں اور جن لوگوں کی چوبیس۲۴ انگلیاں ساڑھے سترہ۲/۱ -۱۷ انچ ہیں اُس سے دہ در دہ سے چوبیس۲۴ انگلیاں زیادہ ہیں اور جن لوگوں کی چوبیس۲۴ انگلیاں اٹھارہ۱۸ انچ کی برابر ہیں اُس سے دہ در دہ بارہ انگل کم ہے اور اس کے بیچ میں ایک ستون ہے جس کا طول وعرض ایک ایک فٹ ہے کیاایسے حوض میں سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں اور نجاست پڑنے سے اس کا پانی نجس ہوگا یا نہیں؟ تمام کتابوں کے حوالہ سے جواب دیا جائے اور علماء کے مُہر ودستخط بھی ہونا چاہئیں اس کے بارہ میں یہاں سخت فساد ہے اکثر لوگ اس سے وضو کرنا جائز نہیں سمجھتے جو لوگ اس سے انکار کرتے ہیں ان کا شرعاً کیا حکم ہے اس مسئلہ کا جواب باعتبار مذہب حنفی ہونا چاہئے، گہرائی حوض کی ۳ فٹ ۶ انچ۔حوض کی شکل یہ ہے:
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/25 (846 )
نجس پانی دو تین گز بہنے سے یا ہوا لگنے سے پاک ہوجاتا ہے یہ کہیں مصرح ہے
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/25 (1077 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ پانی مکروہ کس کس طرح سے ہوجاتا ہے
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/26 (1031 )
نامحرم عورت جوان یا بُڑھیا اپنے مرشد کا جوٹھاپانی یا شوربا پی لے تو درست ہے یا نہیں، مکروہِ تحریمی یا تنزیہی،باسند لکھیں۔
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/26 (1124 )
پانی کی نالی ناپاک چُونے سے تیار کی گئی اورخشک ہونے سے قبل اُس میں پانی جاری کیا گیا اور وہ پانی حوض میں اُسی جگہ سے جمع ہوناشروع ہوا جہاں ناپاک چُونے سے بند کی گئی تھی تو کیا یہ پانی پاک ہے یا ناپاک، فقہاء نے لکھا ہے کہ جس تالاب میں نجاست کنارہ پر ہو اور پانی وہیں سے جمع ہوتاہو تو وہ پانی ناپاک ہے تو اس روایت پر تمام پانی ناپاک ہوگا۔
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/26 (994 )
عمرو وزید دو شخص ہیں عمرو سے کسی نے دریافت کیا کہ یہ چاہ جو سامنے موجود ہے اس کا پانی قابلِ وضو اور نیز دیگر استعمال کے ہے یا نہیں؟عمرو نے جواب دیاکہ بنا بررفعِ شک چاہ کو ناپ لیا جائے چنانچہ وہ کُنواں ناپا گیا تو لمبائی ۲/۱ -۱۱ ہاتھ اور چوڑائی ۲/۱ -۹ ہاتھ گہرائی ۳ ہاتھ ہوئی جو برابر ہے ۷۵ع ۳۲۷ ہاتھ کے مگر زید اس کو ۴۲ ہاتھ بتلا کر اس کے پانی سے وضوناجائز بتلاتا ہے اورپانی ہذا کو قابلِ استعمال نہیں بتلاتا لیکن عمرو نے اسی چاہ سے وضو کیا اور زید نے عمرو کے پیچھے نماز پڑھی لہٰذا التماس ہے کہ اس پانی کا استعمال موافق شرع شریف جائز ہے یا نہیں اور زید کی نماز اس صورت میں عمرو کے پیچھے ہوئی یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/28 (934 )
وضو نہر سے افضل ہے یا حوض سے
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/28 (1014 )
کہ ایک اہلِ اسلام اور ایک ہنود کو حاجت غسلِ جنابت ہے اُن دونوں کا آبِ غسل پاک ہے یا کچھ فرق ہے؟ ایک اہلِ اسلام نے اپنی بی بی سے صحبت کی اور غسل کیا وہ پانی پاک ہے یانہیں؟ اور ہنود نے بھی ایسا ہی کیا ہے اُس کے غسل کا پانی جو مستعمل ہو کر گرا ہے پاک ہے یا ناپاک؟اور ان دونوں کے پانی میں فرق ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/28 (2276 )
کہ جُوٹھا ہندو یانصرانی وغیرہ کا پاک ہے یا ناپاک، اُس کے کھانے کا کیا حکم ہے اگر کوئی کافر سہواً یا قصداً حقّہ یا پانی پی لے تو اس کا کیا حکم ہے
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/28 (937 )
حقّہ کا پانی پاک ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/29 (2769 )
حوض نیچے دَہ در دَہ اور اوپر کم ہے بھرے ہوئے میں نجاست پڑی تو سب ناپاک ہوگیا یا صرف اوپر کا حصّہ جہاں تک سو ہاتھ سے کم ہے
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/29 (922 )
اسی صورت میں حوض کے بالائی حصّے کے منتہی پر ایک نالی ہے جب یہ اوپر کا پانی ناپاک ہوانالی کھول کر نکال دیا گیا صرف نیچے کاپانی جہاں سے دہ در دہ ہے رہ گیاپھر پاک پانی سے بھر دیا گیا تو اب یہ سب حوض پاک ہوگیایا نہیں،اگر نہیں تو کیا کیا جائے کہ پاک ہو
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/29 (1855 )
اسی صورت میں اگر پانی صرف حصہ زیریں دہ در دہ میں تھااور اس وقت نجاست پڑی کہ ناپاک نہ ہوا، پھر نجاست نکال کر یا بے نکالے بھر دیا تو اب اوپر کا حصّہ پاک رہا یا ناپاک ہوگیا
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/29 (2770 )
حوض اوپر دہ دردہ اورنیچے کم ہے بھرے ہُوئے میں نجاست پڑی تو سب پاک رہا یانیچے کا حصّہ ناپاک ہوگیا جہاں سے مساحت سو ہاتھ سے کم ہے
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/29 (6151 )
اسی صورت میں پانی حصّہ زیریں قلیل میں تھا اور اس وقت نجاست پڑی اور اُسے نکال کر یا بے نکالے بھر دیا گیا یا بارش وسیل سے بھر گیا کہ آب کثیر ہوگیا تو اب بھی اوپر کا حصہ پاک ہے یا نہیں اور حصہ زیریں کا کیا حکم ہے
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/1 (945 )
آبِ مستعمل طاہر ہے غیر مطہر اور فقہ کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو پانی دَہ در دَہ سے کم ہو خواہ وہ دیگ میں ہو خواہ مٹکے یا لوٹے میں، اگر اُس میں محدث یا جُنب کا ایک پورا بھی چھُو جائے گا تو وہ مستعمل ہوجائےگا اور پھر وہ قابلِ طہارت نہ رہے گا کہ آبِ مستعمل مطہر نہیں۔ ایسی صورت میں بڑی مشکل یہ پڑتی ہے کہ ایک گروہ کثیر در کثیر مسلمانوں کا خاص کر گروہ اناث کا بالکل دارمدار سقّوں کے پانی پر وضو وغسل کرنے کا ہے کہ سقّے پانی لے کر گھروں میں بھرتے ہیں اور اُسی پانی سے تمام گھر والے وضو وطہارت کرتے ہیں اور سقّوں کی یہ حالت ہے کہ اوّل تو وہ بے نمازی ہوتے ہیں جن کو طہارت ونجاست کا کچھ امتیاز نہیں اس کے سوا یہ کہ وہ سقّے نمازی ہی کیوں نہ ہوں لیکن ہمہ وقت باوضو نہیں ہوتے اور پانی کُنویں سے جب کھنیچتے ہیں تو ڈول کی رسّی کو دانتوں سے پکڑ کر ایک ہاتھ کی انگلیوں کو ڈول میں ڈال کر دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے مشک کے منہ پر رکھ کر پانی مشک میں بھرتے ہیں اور پھر جب وہ گھروں میں آکر پانی بھرتے ہیں تو مشک کا منہ کھول کر اور مشک کے منہ کے قریب اپنا ہاتھ رکھ کر گھڑے مٹکوں میں پانی بھرتے ہیں کہ وہ سب پانی اُن کے ہاتھ کی کف دست پر ہو کر ظرف میں پہنچتا ہے اور ایسی حالت میں یقینی دو دو تین تین بار پانی مستعمل ہو کر گھڑے مٹکوں میں پہنچتا ہے اور اُسی سے سب طہارت و وضو ہوتا ہے اس کے سوا عام نمازی مسلمان جس طریق سے مسجدوں میں کُنویں سے پانی کھینچ کر لوٹوں اور مٹکوں میں بھرتے ہیں وہ بھی قریب قریب اُنہیں سقّوں کی ترکیب کے عمل کرتے ہیں اور اُسی سے وضو وطہارت کرتے ہیں تو ایسی صورت میں اس طہارت کا کیا حکم ہے مسجد کے نمازیوں کی بد احتیاطی سے قطع نظر کرکے سقّوں کی بداحتیاطی کا کیا مضر ہے کہ جن کے پانی پر تمام مسلمانوں کا دارومدار ہے اور سقّوں کی بداحتیاطی جس پر بلوائے عام ہے کسی ترکیب سے کسی تدبیر سے رفع نہیں ہوسکتی تو پھر اب کیا کیا جائے
فتاویٰ رضويه-جلد سوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/1 (791 )
تالاب کبیر میں اگر بُوٹی یا زراعت کثرت سے ہو جیسا کہ ایک جگہ کے پانی کی حرکت سے دوسری جگہ کا پانی حرکت نہ کرے تو اُس تالاب میں مقدار شرعی سے تھوڑی سی جگہ خالی کرکے کپڑے دھوئے جائیں تو پاک ہوسکتے ہیں یا نہیں
فتاویٰ رضويه-جلد سوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/1 (873 )
اگر گرگٹ چاہ افتادہ ہو اُس کا پانی کس قدر نکالا جائے اور گرگٹ کس جانور کے برابر ہوسکتا ہے اگرچہ جُثّہ میں چھپکلی سے زیادہ اور خون رکھتا ہے بحوالہ کتاب ارشاد ہو
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/1 (1627 )
دلو وسط کی مقدار کیا ہے
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/1 (870 )
کہ کنویں میں سے گائے یا بھینس کا پٹھا نکلا جو بندش کے کام میں آتا ہے نہیں معلوم کسی آدمی سے گرایا جانور نے ڈال دیا ثابت ہے گلا سڑا نہیں اس میں کنویں کیلئے کیا حکم ہے طاہر ہے یا نجس
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/1 (987 )
ایک ہندو نے ایک چیز ناپاک سے کنویں کو ناپاک کردیا یعنی نال بچّہ آدمی کا کنویں میں ڈال دیا اور بدون معلوم ناپاکی کے دو تین روز مسلمانوں اور ہندؤوں نے پانی اُس کنویں کا پیا اور کھانے پکانے کے صرف میں لائے تو اس صورت میں اُن لوگوں کے ایمان میں کچھ خلل ہوا یا نہیں اور ڈالنے والے کے واسطے کیا سزا ہے اور پینے والے لوگ کس طرح طاہر ہوں اور کنواں کس طرح پر پاک کیا جائے
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/4 (933 )
ایک کُنویں میں پُھکنا گر گیا اُس وقت اُس میں پیشاب نہ تھا بلکہ بچّے اُس میں پھُونک رہے تھے اُن کے ہاتھ سے گر گیا یہ معلوم نہیں کہ گائے کا ہے یا بھینس کا پھکنا نکال لیا گیا اب کُنویں کی نسبت کیا حکم ہے
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/4 (873 )
غوطہ خور ہندو تھا اور سب کپڑے اتار کر اُس نے ایک چھوٹا سا کپڑا جو اُسی کے استعمال میں رہتا ہے باندھ کر ایک ڈول اُس کنویں کے پانی کا جس میں وہ جُوتی نکالنے کو گیا تھا بلا ادائے ارکان غسل ڈال لیا تھا پس وہ کنویں میں گھُس کر جُوتی نکال لایا اور ایک جُوتی پہلے کی بھی جو خدا جانے کب گری تھی وہ بھی نکلی جو گل سڑ گئی تھی ایسی حالت میں کتنے ڈول پانی کنویں میں سے نکلوانا چاہئے بعد گرنے جوتی کے اگر اُس کنویں کا پانی ظروف گلی مثل سبو وغیرہ میں غلطی سے بھرا گیا تو ظروف قابلِ استعمال رہے یا نجس ہوگئے
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/6 (812 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین متین اگر مسجد کے کنویں سے عورتیں بے پردہ پانی بھر کرلے جایا کریں اس سے وضو کرکے نماز ادا کرنی چاہئے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/6 (869 )
ایک چوبچہ کنویں کے کنارے پر ہے قریب غسل خانہ کے اور اُس میں پانی بہنے کیلئے سوراخ بھی ہے غسل خانہ میں لوگ غسل جنابت وپاکی ہر طرح کا کرتے ہیں وضو کا پانی بھی اُسی چوبچّہ میں جاتا ہے اور سقاوہ کا بھی اور بہشتیوں کے بھرنے کا بھی اور ہر وقت سوراخ سے جاری رہتا ہے خلاصہ یہ کہ جنابت کا پانی کسی وقت اُس میں جاتا ہے اور وضو وغیرہ کا ہر وقت جاتا رہتا ہے اس میں ایک پیچک گر کر کنویں میں گری کنواں پاک رہا یا ناپاک اور ایسے چوبچہ کے پانی کا کیا حکم ہے اور ایک ہندو ظاہری پلیدی سے پاک ہے مٹی نکالنے کو کنویں میں گھسا کنویں کا کیا حکم ہے،
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/6 (864 )
ایک چوبچّہ زیر غسل خانہ سواگز طول بارہ گرہ چوڑا بارہ گرہ عمیق ہے اور آٹھ گرہ اونچائی پر اُس میں سوراخ لوٹے کی ٹونٹی کے برابر ہے اور چوبچہ میں پانی جنابت اور غیر جنابت غسل کا اور وضو کا اور کنویں پر جو بہشتی بھرتے ہیں اُن کا گرا ہوا اور سقاوے میں برائے وضو جو لوٹوں میں بھرتے وقت تھوڑا سا گرتا ہے اور استنجا چھوٹا اور بڑا اور ایسے جنب جن کے نجاست لگی ہو اُن کے غسل کا یہ سب پانی چوبچہ میں آتا ہے اور جب آٹھ گرہ سے زیادہ اونچا پانی اُس میں ہوجاتا ہے تو نکلنا شروع ہوتا ہے ورنہ اُس میں ٹھہرا رہتا ہے اور رنگ بُو پانی کا تبدیل نہیں ہوا ہے لیکن اُس چوبچہ کے پانی میں بُو بھی آتی ہے اور مزہ کسی نے چکھا نہیں ہے تو ان صورتوں میں اُس چوبچہ کا پانی پاک ہے یا ناپاک اور پاک ہے تو کس قسم کا اور ایک پیچک اسی چوبچہ میں ڈال کر کنویں میں ڈالی تھی تو کنواں پاک رہا یا ناپاک اور اگر ناپاک ہوا تو کس قدر ڈول نکلیں گے۔
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/6 (891 )
ایک مُرغا اور مُرغی کنویں میں گرے اور زندہ نکل آئے اُن کے نکالنے کو خشک کھانچا جس میں نجاست کا ہونا معلوم نہیں مرغی اُس میں بند ہوا کرتی تھی ڈالا گیا اس صورت میں کُنویں میں سے کتنے ڈول نکالے جائیں اور اُن کا نکالنا یا اُس کے دام دینا اُس شخص پر لازم ہوگا یا نہیں جس کی وہ مرغی ہے حالانکہ مرغی آپ مرغ سے بھاگ کر اُس میں گری
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/6 (951 )
چھپکلی اگر کنویں میں گر کر مرجائے اور پھُول یا پھٹ جائے تو کس قدر پانی کنویں سے نکالا جائے گا،
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/6 (744 )
ایک مسلمان غسل اور پارچہ صاف کرکے واسطے نکالنے لوٹے کے کنویں میں داخل ہوا تو آیا اب شرعاً بیس۲۰ ڈول نکالنے کا اس کُنویں میں سے حکم دیا جائےگا یا نہیں اور فتوی کس پر ہے
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/6 (921 )
اکثر جگہ اہلِ ہنود کنویں میں اپنے لوٹے ڈالتے ہیں اور پانی بھرتے ہیں اور اُن پر کھڑے ہوکر نہاتے ہیں اور اپنی دھوتییں دھوتے ہیں اسی طرح پر تمام چھینٹیں کنویں میں اندر جاتی ہیں ان سب حالات مذکورہ میں پانی کنویں کا پاک ہے یا ناپاک
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/6 (793 )
اُس گھر کی پیڑھی جس میں کہ چھوٹے بچّے اور مرغیاں ہیں اور ہر چند کو اُس پیڑھی میں کسی طرح کی نجاست ظاہری نہیں لگی ہے مگر ظن غالب ہے کہ اس پر ضرور بچّے نے کبھی پیشاب کیا ہو یا مرغیوں کی نجاست اُس کے پاؤں میں لگی ہو اگر یہ پیڑھی کنویں میں گر جائے تو پانی کنویں کا پاک رہا یا ناپاک ہوگیا اگر ناپاک ہوگیا تو کس قدر ڈول نکالے جائیں،
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/6 (792 )
ایامِ وبا میں گورنمنٹ کی طرف سے جو دوا کنوؤں میں واسطےاصلاح پانی کے ڈالی جاتی ہے اور رنگ پانی کا سُرخ ہوجاتا ہے اور ذائقہ میں بھی فرق آجاتا ہے وہ پانی طاہر ومطہر اور قابل پینے اور وضو کے ہے یا نہیں
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/8 (830 )
ایک شخص کل تیسرے پہر مسجد کے کنویں پر آیا اور وہ ایک لڑکے غیر نمازی سے صرف یہ کہہ کر چلا گیا کہ یہ کنواں ناپاک ہے چھپکلی نکلی ہے شام کے وقت نمازیوں کو خبر ہوئی اور تحقیق کیلئے اس شخص کو تلاش کیا لیکن پتا نہیں چلا اور نہ چھپکلی کنویں کے پاس پڑی ہوئی نظر آئی جس سے اس کی حالت معلوم ہوتی۔ اب ایسی صورت میں وہ کنواں پاک ہے یا ناپاک اور ناپاک ہے تو کس قدر ڈول نکالنا چاہئے اور مسجد کے سقاوے میں جو ایک روز قبل کا پانی بھرا ہوا ہے اُس سے نمازیوں نے مطلع ہوجانے پر وضو کیا اور نماز پڑھی اس کا کیا حکم ہے اور کسی وقت کی نماز لوٹائی جائے یا نہیں۔
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/8 (877 )
مسجد کے کنویں سے پانی ہنود اپنے برتن سے بھریں مرد وعورت دونوں اُن کا بھرنا پانی کا نمازی کی طہارت کو نقصان لائے گا یا نہیں جو شخص اس کو جائز رکھے اور اسلام کے مقابلہ میں ہنود کو قوت دیوے اس کو کیا کہنا چاہئے مسلمان کوشش کریں کہ مسجد کے کنویں سے پانی ہنود نہ بھریں اور ایک شخص کوشش سے باز رکھے وہ کون ہے اور کسی عالم صاحب کے فرمانے کو کہے کہ وہ کیا جانے عالم کی اہانت کرنا کیا ہے اور اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/8 (845 )
ایک کنویں میں سے ایک کُتّا نکلا اور وہ مرا ہوا تھا یہ نہیں معلوم کہ کب گر گیا تھا اُس کا پانی عدم واقفیت کی وجہ سے استعمال میں آتا رہا جس صبح کو وہ کُتا برآمد ہوا اُس سے قبل اُس پانی سے سر دھویا یا فوراً چادر سے اس کو پُونچھ کر تُرکی ٹوپی اوڑھی اُس وقت سر میں نمی موجود تھی پانی کا کچھ نہ کچھ اثر ٹوپی میں ضرور پہنچا ہوگا اس حالت میں ٹوپی پاک رہی یا کہ ناپاک، اور اس کُنویں سے کتنا پانی نکالا جائے
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/8 (862 )
سجد کے کنویں میں(جوکہ دہ در دہ نہیں ہے) ایک شخص کا مستعملہ جُوتا پڑ گیا گرے ہوئے جُوتے پر نجاست کے ہونے نہ ہونے کا حال معلوم نہیں مگر اُس شخص کا باقیماندہ دوسرا جُوتا اُسی وقت دیکھا گیا تو اس پر نجاست کا اثر نہیں تھا کتب موجودہ درمختار عٰلمگیریہ کبیری شرح منیۃ المصلی وغیرہا کتب فقہ میں دیکھا گیا تو بظاہر کوئی حکم صورتِ مسئولہ میں نہیں پایا گیا البتہ ایک عالم رکن الدین صاحب ساکن الور نے اپنے رسالہ رکنِ دین میں بلاحوالہ کتاب بایں عبارت کہ کنویں میں اگر جُوتی گرجائے تو سارا پانی نکالا جائے کیونکہ جوتی مستعملہ میں نجاست کا لگا رہنا یقینی ہے اور یہاں عام بلویٰ بھی نہیں کہ جس سے بچاؤ مشکل ہو چونکہ غایۃ الاوطار شرح درمختار میں ہے پس ان اقوال سے سخت حیرانی ہے کہ کون سا مسئلہ صحیح سمجھاجاوے آیا کنویں کا سارا پانی نکالا جائے یا پانی پاک سمجھا جائے امید کہ جواب اس کا مفصل بحوالہ کتب فقہ جلد تحریر فرمائیں کہ شرع شریف کے حکم پر عمل کیا جائے نمازیوں کو سخت تکلیف ہے
فتاویٰ رضويه جلد سوئم فصل فی البئر
  Print article

(1) 2 3 »
RSS Feed
show bar
Quick Menu