• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Published by admin on 2012/2/13 (1157 )
مسواک کتنی طول میں ہونا چاہئے ؟ ''سنا ہے کہ غایۃ السواک فی مسائل المسواک ''مولفہ مولوی وحافظ شوکت علی سندیلی میں بیان ہے کہ اگر بالشت بھر سے زائد مسواک ہے تو وہ مرکب شیطان (شیطان کی سواری ۔ت )ہے ، امید کہ اس کی سند لکھی جائے
فتاویٰ رضويه-جلد اول-كتاب الطهارۃ
  Print article

Published by admin on 2012/2/13 (977 )
مسئلہ ۴ :مرسلہ شیخ شوکت علی صاحب ۱۲ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس صورت میں کہ شرع محمدی فصل بست وہشتم دربیان مکروہات وضو میں ہے ؎
تیسرے تانبے کے برتن سے اگر ہے وضو ناقص کرے گا جو بشر
یہ نہ معلوم ہوا کہ تانبے کے برتن سے کیوں وضو ناقص ہے آج کل بہت شخص تانبے کے برتن لوٹے سے وضو کرتے ہیں کیا ان سب کا وضو ناقص ہوتا ہے بینوا توجروا( بیان کرواجر دیے جاؤگے ۔ت)
فتاویٰ رضويه-جلد اول-كتاب الطهارۃ
  Print article

Published by admin on 2012/2/14 (1095 )
مسئلہ ۵: (ف) ۲۴ ربیع الاول ۱۳۱۹ھ:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر درمیان وضو کرنے کے ریح خارج ہوجائے یعنی دو عضو یا تین عضو دھولیے ہیں اور ایک یا دوباقی ہیں تو اس شخص کو ازسرِ نو وضو کرنا چاہیے یاجو عضو باقی رہا ہے صرف اسی کو دھولینا کافی ہے بینوا توجروا۔(ف) مسئلہ :وضو کرتے میں ناقض وضو واقع ہو تو سرے سے وضو کرے ۔
فتاویٰ رضويه-جلد اول-كتاب الطهارۃ
  Print article

Published by admin on 2012/2/14 (1005 )
مسئلہ ۶: ف مرسلہ مولوی محمد یعقوب صاحب ارکانی ازریاست رامپور محلہ پنجابیاں مکان حافظ غلام شاہ صاحب۴شوال ۱۳۲۴ھ
بعون من قال فاسئلوا اھل الذکران کنتم لاتعلمونo فیامخدومنا الذی فاق فی الاشتھار علی الشمس فی رابعۃ النہار احتوت فضائلہ الاقطار احاطت مواھبہ الامصارما قولکم فی ان المتوضیئ رأی اثرا من الدم فی البزاق بعد المضمضۃ فاخرج مافی الفم من البزاق وغیرہ بالمص لیظھر مساواتہ ومغلوبیتہ فی البزاق فرأی بعدما اخرج ان الدم مساو للبزاق ففی ھذہ ھل ینجس فمہ ام لا،وماء المضمضۃ التی وقعت بعد ذلک الاخراج نجس ام لا ففی صورۃ النجس ان الید التی مضمض بھا اخذ بتلک الید الاناء الذی فیہ الماء وقعت قطرتہا ای قطرۃ تلک الید فی ذلک الاناء غالبالان تلک الید کانت مبلولۃ بماء المضمضۃ لانہ لاشک ان القدر القلیل من ماء المضمضۃ یصل فی الید عند المضمضۃ وایضا یبقی شیئ من ماء المضمضۃ فی الید فلا یدخل کل الماء فی الفم وذلک الباقی یلاقی الشفتین ففی ھذہ ان صارت الشفتان نجستین بورود الدم المساوی للبزاق عند دفع ذلک الدم عن الفم یکون مایلاقیھما ایضا نجسا فتکون الید نجسۃ وما وقع علیہ ماء الید یکون نجسا فیصیر الماء الموضوع فی الاناء الذی اخذہ بتلک الید نجسالان قطرۃ تلک الید وقعت فی الاناء غالباً فذلک المتوضی غسل یدیہ ووجہہ ورجلیہ بذلک الماء الذی وقعت فیہ قطرۃ تلک الید التی مضمض بھا بعد اخراج الدم المساوی للبزاق ثم وقع فی الشک فتوضا ثانیا فی المسجد الاٰخر لکن وقعت قطرۃ فی ماء الا ناء الذی یتوضأ بہ ثم توضأ فی الوقت الاٰخر فوقعت قطرات فی ماء الاناء ثم توضأ فی ماء الاناء عند غسل الیدین وکل قطرات وقعت فی ماء الوضوء انما وقعت فی اول کل مرۃ عند غسل الیدین فی ھذہ الاوقات الثلٰثۃ فبعد ذلک طھرت اعضاء وضوئہ ام لالیکتب فی ھذہ الباقیۃ من الصفحۃ مختصرًا، بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه-جلد اول-كتاب الطهارۃ
  Print article

Published by admin on 2012/2/14 (1950 )
مسئلہ۹ دہم محرم الحرام ۱۳۲۵ھ:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ اپنے گھٹنے کھُل جانے یا اپنا پرایا ستر بلا قصد یا بالقصد دیکھنے یا دوڑنے یا بلندی پر سے کُودنے یا گرنے سے وضو جاتا ہے یا نہیں، بینوا توجروا( بیان فرمائیےاجر پائیے ۔ت)
فتاویٰ رضويه-جلد اول-كتاب الطهارۃ
  Print article

Published by admin on 2012/2/21 (990 )
مسئلہ ۲۴ : از غازی آباد وضلع میرٹھ محلہ باغ مرسلہ حامد حسن صاحب ۵ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ
استنجا(۱) یعنی پیشاب پاخانے کے بچے ہوئے پانی سے وضو جائز ہے یا نہیں اور وضو کی حرمت میں اس وجہ سے کچھ فرق تو نہیں آتا یا کیا؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه-جلد دوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/24 (965 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسجد کا دہ در دہ حوض طول مکث وکثیر الاستعمال کی وجہ سے بدبُو کرجائے اور رنگ میں تغیر آجائے تو وضو کرنا درست ہے یا نہیں۔ایک مولوی صاحب ماءِ مستعمل غیر مطہر قرار دے کر پیشاب کے برابر فرمارہے ہیں اور یہ بھی فرمارہے ہیں کہ ہمارے امام صاحب کے نزدیک ماءِ مستعمل نجس بہ نجاست غلیظہ ہے لہذا نجس ہے تو کیا وہ دہ در دہ حوض کا پانی مستعمل قرار د یا جاسکتا ہے مولٰنا عبدالحی صاحب لکھنوی مرحوم فتاوٰی عالمگیری وفتاوٰی قاضی خان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے فتاوٰی میں تحر یر فرماتے ہیں کہ ایسے پانی سے وضو بنانا درست ہےیجوز التوضئ فی الحوض الکبیر المنتن اذا لم یعلم نجاستہ ۳؎۔ (بڑے بدبودار حوض سے وضو کرنا جائز ہے جب تک نجاست کا علم نہ ہو۔ت) اسے مولوی صاحب موصوف تسلیم نہیں کرتے۔

(۳؎ فتاوٰی ہندیہ الفصل الاول من باب المیاہ المطبعۃ الکبرٰی الامیریہ مصر ۱/۱۸)"
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/29 (863 )
وضو کرتے وقت جس لوٹے سے وضو کرے اُس میں اگر ہاتھ منہ کے مستعملہ قطرے گرے تو اس لوٹے کا پانی طاہر ہے یا نہیں اور اُس سے بقیہ عضو کا دھونا درست ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه-جلد سوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/29 (856 )
حوض کا پانی بسبب گرمی یا پُرانا ہونے سے جس میں بُو اور رنگ تغیر ہوجائے اُس میں وضو کرنا چاہئے یا نہیں، اور اسی مسئلہ میں گاؤں کے چاہ وغیرہ ان کا پانی اور رنگ اور بُو آجاتی ہے اس سے وضو کرنا چاہئے یا نہیں اور زید کہتا ہے اگر اُس میں کوئی چیز کُتّا یا بلّی وغیرہ گر جائے جس سے بُو آجائے اور مزہ تبدیل ہوجائے تو ناپاک ہوجائے تو ناپاک ہوتا ہے اور آپ ہی خود مزہ اور رنگ تبدیل ہوجائے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا ہے؟
فتاویٰ رضويه-جلد سوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/29 (888 )
حوض کا پانی بسبب گرمی یا پُرانا ہونے سے جس میں بُو اور رنگ تغیر ہوجائے اُس میں وضو کرنا چاہئے یا نہیں، اور اسی مسئلہ میں گاؤں کے چاہ وغیرہ ان کا پانی اور رنگ اور بُو آجاتی ہے اس سے وضو کرنا چاہئے یا نہیں اور زید کہتا ہے اگر اُس میں کوئی چیز کُتّا یا بلّی وغیرہ گر جائے جس سے بُو آجائے اور مزہ تبدیل ہوجائے تو ناپاک ہوجائے تو ناپاک ہوتا ہے اور آپ ہی خود مزہ اور رنگ تبدیل ہوجائے تو پانی ناپاک نہیں ہوتا ہے؟
فتاویٰ رضويه-جلد سوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/5/14 (773 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد کا صحن اس طرح پر ہے کہ نصف حوض کے داہنے بائیں صحن مسجد ہے اور نصف کے اردگرد صرف زمین مقام الف میں اُس کے سیڑھیاں ہیں زید کو مرض ہے کہ اگر ڈھیلا لے کر فوراً علی الاتصال پانی سے استنجا پاک نہ کرے تو قطرہ آجاتا ہے اب وہ استنجا کرتا ہوا آیا ہے پانی حوض میں بہت نیچا ہوگیا ہے اور اِدھر اُدھر لوٹوں میں وضو کا بچا ہوا پانی رکھا ہے وہ مقام ب سے فصیل فصیل مقام الف تک ہاتھ میں درحالیکہ (درحالیکہ رضائی یا چادر وغیرہ اوڑھے ہو) جاکر پانی لاسکتا ہے یا نہیں۔نقشہ یہ ہے۔
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب الستنجاء
  Print article

Published by Admin2 on 2012/2/29 (945 )
کہ فقہاء حوض کی چاراقسام لکھتے ہیں: (۱) مدوّر (۲) مربع (۳) مثلث (۴) طول بلاعرض۔ آیا یہ چاروں قسمیں بلا اختلاف درست اور جائز ہیں یا ان میں سے کسی قسم میں اختلاف ہے اور جو قسم ان اقسام میں سے افضلیت رکھتی ہو استثناء کی جائے جواب سے بہت جلد تشفی فرمائیں
فتاویٰ رضويه-جلد سوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/1 (911 )
جنب مرد یا حیض والی عورت کا ہاتھ سیر بھر پانی یا سیر سے کم میں سہواً یا عمداً ڈوبے تو وہ پانی غسل ووضو کے قابل ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه-جلد سوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/3/1 (828 )
بلادِ ہند میں مسلمانوں کے گھروں میں ہندو کہارنیں پانی بھرتی ہیں ہندو کہاروں کے ہاتھ کے بھرے ہوئے سے غسل وضو درست ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه-جلد سوئم-باب المیاہ-
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/21 (890 )
"شیخ بشیر الدین صاحب رئیس لال کورتی میرٹھ کی ایک آنکھ میں سے خفیف خفیف پانی اس طرح نکلتا ہے کہ تھوڑی تھوڑی د یر میں ذرا ذرا نمی محسوس ہوتی ہے اور رومال سے صاف کرنے پر قریباً ایک چاول کے برابر کپڑا نم معلوم ہوتا ہے نمی کے الکس کی وجہ سے بار بار صاف کرتا ہوتا ہے۔ کبھی وہ نمی جلد جلد محسوس ہوتی ہے اور کبھی د یر د یر میں صاف کرنے کی ضرورت ہوتی ہے فجر میں بہت وقت اس طرح گزرجاتا ہے کہ صاف نہیں کیا جاتا ہے جب بھی سلانی کیفیت پیدا نہیں ہوتی بلکہ نمی بصورت کےچڑ معمولی طور پر معلوم ہوتی ہے۔ کبھی یہ نہیں ہوا کہ اگر کسی کام کی وجہ سے بھُول گئے ہوں د یر تک صاف نہ کیا ہو تو بھی سیلانی حالت رہتی ہے۔
اس کی بابت ایک بڑے ڈاکٹر کی رائے یہ ہے کہ دماغ سے جو پانی آتا ہے بینی کی راہ نکلنا ہے وہ یہی ہے چونکہ بینی میں جانے کا راستہ بند ہوگیا ہے اس واسطے آنکھ کے کوئے سے نمی کا الکس معلوم ہوتا ہے بعض کا خیال یہ ہے کہ سر میں کہیں کسی موقع پر کچھ ناسُوری کیفیت ہے وہ جگہ یہ پانی پیدا کرتی ہے۔ ایسی حالت میں وضو ہر وقت تازہ ہونا چاہئے بعض کا یہ خیال ہے کہ جب تک سیلانی کیفیت نہ ہو تازہ وضو لازم نہیں۔ اُن کو اس وجہ سے تکدر رہتا ہے اور محض احتیاط کی وجہ سے کہ بعض مقامات میں وضو کرنا دشوار ہوتا ہے اُنہوں نے اپنی آمدورفت کم کردی، یہ حالت ناقضِ وضو ہے یا نہیں؟
"
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب الوضو
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/23 (854 )
ان اطراف کے مولوی کہتے ہیں کہ ہندوؤں کے جھُوٹے پانی سے وضو درست ہے۔اس پر ہم کو شک ہے اس شک کو رفع کیجئے۔
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/23 (838 )
جو حوض دہ در دہ یا اس سے بڑا ہو مگر موسم گرما میں خشک ہونے کے باعث پانی دہ در دہ سے کم ہوگیا اب اگر حوض میں کوئی نجاست گر جائے بشرطیکہ اوصاف ثلٰثہ میں سے کوئی وصف متغیر نہ ہو وہ پانی پاک ہوگا یا ناپاک؟
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/23 (795 )
یہاں جامع مسجد میں ایک حوض وضو کے لئے تعمیر ہوا اس کے بنانے میں جو خرچ ہوا اس کی کیفیت یہ ہے کہ کچھ روپیہ تو اہلِ محلہ سے لیا گیا اور اس کے علاوہ مبلغ عــہ۱۰روپیہ مرغ بازی کی شرط کے بھی اسی حوض میں خرچ ہوئے اور کچھ روپیہ جو برادری میں کسی آدمی پر ایک مقدمہ میں ڈنڈ ڈالا گیا تھا وہ بھی اس حوض میں صرف ہوا۔آ یا اس حوض کے پانی سے وضو جائز ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/23 (884 )
"امام العلماء المحققین مقدام الفضلاء المدققین جامع شریعت وطریقت حکیم امت مولٰنا ومرشدنا ومخدومنا مولوی حاجی قاری شاہ احمد رضا خان صاحب متع اللہ المسلمین بطول بقائہم۔
بعد تسلیم فدویت ترمیم معروض رائے شریف وذہن لفیط ہوکہ ایک حوض دہ در دہ ہے عرض و طول میں لیکن حوض کو اوپر کو پتھّر لگانے سے مُنہ حوض کا کم از دہ در دہ ہوگیا ہے اس صورت میں حوض پانی سے پُورا بھر د یا جاتا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس حوض میں وضو نہیں ہوتا اس لئے کہ دہ در دہ کی حد سے پانی تجاوز کرجاتا ہے اور پانی بھی ہلتا نہیں ہے،اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ وضو ہوجاتا ہے اس لئے یہاں پر لوگوں میں سخت فساد واقع ہے۔سو حضرت مسئلہ کا خلاصہ کرکے تحر یر فرمائیں تاکہ اس پر عمل کیا جاوے۔بینوا توجروا۔"
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/23 (851 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے وضو کے پانی کے قطرے کپڑے یا کسی چیز پر گریں گے تو وہ ناپاک ہوجائے گا اور اگر جماعت ختم ہونے پر ہے اس صورت میں وہ بلا ہاتھ پاؤں پونچھے شریک جماعت ہوگیا تو جو قطرے اس کی رِیش و غیرہ سے گریں گے اُس سے رحمت کے فرشتے پیدا ہوں گے۔ حضور کا اس بارے میں کیا ارشاد ہے، بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/23 (859 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حُقّہ کے پانی سے وضو جائز رکھا گیا ہے وہ کون حالت اور کس وقت پر؟
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/23 (853 )
کیا ارشاد ہے علمائے دین کا اس مسئلہ میں کہ ٹھیلے کی رسّی جس میں ایک کپڑا لپٹا ہوا تھا اور جو بیل کے سینے کے نیچے باندھی جاتی ہے کنویں میں ڈالی گئی جس نے کپڑا رسّی پر لپیٹا تھا اس کا بیان ہے کہ کپڑا پاک لپیٹا تھا۔لوگوں کا شبہہ ہے کہ بیل کے گوبر یا پیشاب کی چھینٹیں شاید پڑی ہوں ایسی صورت میں کنواں پاک رہا یا ناپاک ہوا۔اگر ناپاک ہوا تو کس قدر پانی نکالنا چاہئے۔
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/23 (770 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ٹھیلے میں بیل کے جوتنے کے لئے بیل کے سینہ بند اور گردن میں ایک رسّی بندھی ہُوئی تھی اور اس کے سینے اور گردن کی خراش بچانے کے واسطے ایک بے نمازی عورت کا مَیلا دوپٹّا رسّی پر لپٹا ہوا جو کہ ایک عرصہ دراز تک استعمال میں آچکا ہے اس حالت میں ظن ہے کہ رسّی اور کپڑا گوبر اور پیشاب کی آلودگی سے یا اُس خون اور رطوبت سے جو بیل یا پہیّے کی رگڑ سے کھال چھلنے کے بعد نکلتا ہے نہیں بچا ہوگا وہ کنویں میں گر گیا اس حالت میں کنواں پاک ہے یا نجس۔
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/23 (881 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک کنواں ہے جس میں پانی اس قدر ہے کہ ایک حوض دہ در دہ اُس کے پانی سے بذریعہ چرسے کے بھر د یا جاتا ہے مگر پانی اُس کا نہیں ٹوٹتا اُس کنویں میں گلہری گر کر مرگئی اور سڑ کر پھٹ گئی ایسی حالت میں کس قدر پانی نکالا جاوے کہ کنواں پاک ہوجاوے۔
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/24 (925 )
اگر سگ کنویں میں گر پڑے اور اس کے مُنہ کے پانی میں داخل ہونے کی ثبوت نہیں ملتی پانی کا کیا حکم ہے۔
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/24 (826 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک بہشتی بے نمازی جو چھوٹا استنجا پانی سے نہیں کرتے معمولی طور پر غسل کرکے یعنی ایک ڈول پانی سرپر ڈال کر کنویں میں غوطہ لگا یا تھا اور استعمالی کپڑا بھی نہیں بدلا تھا اب اس کنویں کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/24 (948 )
"مسئلہ ۱۴۰: از اوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ ملّا یعقوب علی خان ۱۵۔جمادی الاولٰی ۱۳۱۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سُوتی موزہ پر مسح جائز ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔"
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المسح علی الخفین
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/24 (873 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بُوٹ جن سے ٹخنہ ڈھک جاتا ہے یعنی بُوٹ کہ پلٹن والے پہنتے ہیں وہ بُوٹ کیا چمڑے کے موزے کا حکم رکھتا ہے یا نہیں۔ چونکہ چمڑے کے موزے پر مسح کرنا درست ہے (عالمگیری) تو فرمائیے کہ بُوٹ پر مسح کرنا درست ہے یعنی مسح کرنا چاہئے یا نہیں اور نماز اس سے درست ہے یاکیا؟
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المسح علی الخفین
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/25 (783 )
زید کو اس قسم کا عارضہ ہے کہ دو۲ دو۲ تین۳ تین۳ منٹ کے بعد دُبر سے ایک قسم کے جانور جن کو چُنچنے کہتے ہیں نکلتے ہیں اور ان کا خروج بعد زوال تقریباً ایک بجے سے لے کر نصف شب تک عارض رہتا ہے اس درمیان میں ہر ہر نماز کے واسطے ایک ایک وضو کافی ہے یا نہیں، بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب الحیض
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/27 (854 )
"مسئلہ ۱۲۹ تا ۱۳۴:از شہرکہنہ محلہ سہسوانی ٹولہ مرسلہ محمد ادریس خان۲۸۔جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ
(۱) ایک چاہ میں ایک چُوہا نکلا جس کے نصف دھڑ کے نیچے کی کھال گل کر پانی ہی میں رہ گئی تھی لیکن پیٹ نہیں پھٹا تھا تو اب کنواں کس طرح پاک ہو۔
(۲) یہ بھی تشریح فرمائیے کہ پانی کا ٹوٹنا کسے کہتے ہیں یعنی کتنا پانی کنویں میں جائے تو چھوڑ دینا چاہئے۔
(۳) اگر کسی وجہ سے کنویں کے پاک کرنے کی غرض سے مٹی نکالنے کا حکم ہو تو مٹی کس قدر نکالنا چاہئے۔
(۴) اگر کنواں پاکی کے شرائط پُورے کرنے کے اندر بیٹھنے یا شق ہونے لگے تو اُس کا بیٹھنا یا شق ہونا پاکی کا مانع ہوسکتا ہے یا نہیں۔مثلاً ایک کنواں پانی ٹوٹنے کا حکم رکھتا ہے اور اُس کنویں میں دو۲ آدمی کے قد پانی ہے اور پانی نکالتے نکالتے ز یادہ سے ز یادہ گھٹنوں تک اور کم سے کم اتنا کہ بالٹی خوب ڈوب جاتی ہے بلکہ اس کے اُوپر بھی پانی چھ سات اُنگل رہتا ہے بدیں وجوہات اسے چھوڑ د یا گیا (کہ آدمی پانی نکالتے نکالتے تھک گئے یا کنواں شق ہونے لگا یا بیٹھنے لگا تو خیال کیا کہ اس کو پھر کون بنوائے گا یہ تو بیکار ہُوا جاتا ہے) تو کنواں پاک ہُوا یا نہیں؟
(۵) وہ لوگ جو بلاتشریح در یافت کیے ہوئے ہما وشما کے کہنے سے کنویں کو پاک کرادیں یا کردیں اور پاک بھی ایسا کہ حکم پانی ٹوٹنے کا رکھتا ہو اور ٹوٹا نہ ہو ایسی نجاست جوکہ ساٹھ۶۰ڈول نکالنے سے پاک ہوسکتی ہے اور ہما و شما کے کہنے سے جنہوں نے کہ نجاست کو دیکھا بھی نہ ہو بیس۲۰ڈول نکلوادئے اور پانی کے استعمال کا حکم دے د یا کہ اب کُنواں پاک ہوگیا۔اُن کے واسطے کا کیا حکم ہے۔
(۶) اگر ناپاک پانی سے وضو یا غسل کرکے نماز پڑھی اور بعد کو ناپاکی کا حال معلوم ہوا تو نماز کب تک کی واپس دہرانا چاہئے۔
"
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب المیاہ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/4/28 (965 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ جو شخص معذور ہے کہ پاخانہ کی جگہ سے اس کے کچھ چپک سا ہروقت آتا ہے تو اس کے واسطے حضور نے معذور کا حکم فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ وہ شخص ہر نماز کے واسطے تازہ وضو کرے اور جو پانی غلیظ درہم سے کم ہو اور وہ بہتا بھی نہ ہو تو اُس سے وضو بھی نہیں ٹوٹتا، صورتِ اول میں جو ہر نماز کے واسطے تازہ وضو کی ضرورت ہے اُس وضو کو اگر قبل ازوقت کرلیا۔ مثلاً جمعہ کی نماز کے واسطے بارہ بجے وضو کرکے مسجد کو چلاگیا تو اس وضو سے نمازِ جمعہ اداہوگی یا نہیں اور یا نمازِ مغرب کے واسطے ایک گھنٹہ دن سے وضو کرلیا تو اس سے نمازِ مغرب اداہوگی یا نہیں یا مثلاً نمازِ تہجّد کے وقت جسم وغیرہ دھوکر صاف تہبند یعنی لنگوٹ پاجامہ کے اندر باندھ لیا اور وضو کرے نماز تہجّد وقرآن شریف وغیرہ وغیرہ صبح کی نماز تک پڑھتا رہا جب نماز کا وقت ہوا دو۲ رکعت سنّت صبح کی پڑھ کر مسجد میں جاکر فرض باجماعت اداکیا اور ازاں بعد طلوعِ آفتاب تک وہاں بیٹھا رہا بعد طلوع نمازِ اشراق سے فارغ ہوکر مکان کو آیا۔تو اب اُس تہجد کے وضو سے یہ سب نمازیں اس کی ہوگئیں یا بعد نماز تہجد کے صبح کی نماز کے واسطے مکرر وضو کرنا چاہے اور اُس کے بعد اشراق کے واسطے صبح کی نماز کا وضو کافی ہوگا یا اشراق کے واسطے پھر جدید وضو کرے۔
اور دوسری صورت کو جو غلاظت درہم سے کم ہو اور بہتی نہ ہو بلکہ لنگوٹ سے بار بار پُونچھ جائے اس کے واسطے وضو ونماز کا کیا حکم ہے عنداللہ وعند الرسول مع دلائل ارشاد فرمائیے ورنہ اسی فکر میں یہ عاجز ہمیشہ رہے گا واللہ تعالٰی اعلم آپ کو اجرِ عظیم وثوابِ جمیل عطا فرمائے۔"
فتاویٰ رضويه جلد چہارم باب الحیض
  Print article

RSS Feed
show bar
Quick Menu