• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Published by Admin2 on 2014/10/27 (606 )
جناب عالی فیض بخش فیض رساہ امید گاہ جاویداں بندہ سے ایک مولوی امرت سر سے آئے ہیں وہ کسی بات کا جھگڑا کیا تھا تو بندہ نے کہا کہ نماز کا اللہ نے بہت بار قرآن شریف میں ذکر کیا ہے اور زکوٰۃ کا بھی بہت بار ذکر کیا ہے مگر روزہ کا ایک بار ذکر کیا ہے ، جنا ب عالی یہ صحیح ہے یا نہیں ؟اور عُشر کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے یا نہیں ؟
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/10/27 (804 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند مسلمانوں نے ایک صاحب کا کچھ ماہوار نقد بطور چندہ مد زکوٰ ۃ میں سے اور طعام شبانہ روز مقرر کردیا اور کوئی کام خدمت یا بدل وغیرہ ان کے ذمہ نہیں کیا ،غرض ان لوگوں کی ایک مسلمان بزرگ و مسکین کے ساتھ سلوک کرنا تھا اور ایسے شخص کا اپنے محلّہ و مسجد میں رہنا موجبِ خیر و برکت سمجھا، اسی طور پر عرصہ قریب چار سال کی گزرا کہ یہ لوگ مو افق اپنے وعدے اور نیّت کے خواہ وہ بزرگ اپنے وطن کو گئے یا یہاں رہے ، دیتے اور ادا کرتے رہے ، مگر بعض نے ان میں عذر کیا اور کہا ہم ایامِ غیر حاضری کا نہ دیں گے ، تو اس صورت میں زکوٰ ۃ ان لوگوں کی ادا ہوئی یانہیں ؟بینو اتوجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/10/27 (480 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ان دنوں قحط میں بعض آدمی مد زکوٰۃ میں بھوکوں کو غلّہ مکّا وغیرہ تقسیم کر تے ہیں ، یہ جائز ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/10/27 (502 )
کیا فر ماتے علمائے دین اس صور ت میں کہ اگر کسی شخص نے عوض اس زر زکوٰۃ کہ جو اس کہ ذمّہ واجب ہے محتاجو ں کو کھانا کھلادیا یا کپڑے بنادئے تو زکوٰۃ ادا ہو جائیگی یا نہیں؟بینو ا توجروا۔
فتاویٰ رضويه ج لد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/10/27 (488 )
کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے زکوٰۃ کا روپیہ نکا لا اور اس روپیہ سے غلّہ خریدا اور تمام محتاجوں کو جمع کرکے اور کھانا پکواکر کھلوایا تو آیا زکوٰۃ ادا ہو جائیگی کہ نہیں ، کیا ضروری ہے کہ جو روپیہ نکالا وہی بعینہٖ دے؟
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/10/29 (709 )
چار پانچ آدمی بزاز کے یہاں کپڑا خریدنے گئے اُن میں سے ایک نے کوئی کپڑا چُرالیا، بعد معلوم ہونے کے دُکاندار نے اس کومعاف کر دیا اور نیّت صدقہ یا زکوٰۃ کی کی، تو یہ نیت اس کی صحیح ہوگی یا نہیں؟ اور یہ کپڑا صدقہ یا زکوٰۃ میں محسوب ہوگا یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/10/29 (541 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسئلوں میں:
(۱) زید نے اپنے برادرِ حقیقی یا بہنوئی یا بہن یا کسی دوست کو اپنی ضمانت سے مبلغ پچاس۵۰ روپیہ سُودی قرض دلادئے، اب وُہ روپیہ اصل وسُود مل کر سو روپیہ ہوگئے، زید نے وُہ روپے اپنی زکوٰۃ کے روپے سے ادا کردئے مگر شخص مذکور سے یہ نہیں کہا کہ روپیہ زکوٰۃ کا ہم نے تمھارے قرضہ میں دیا کیونکہ اگر اُس سے کہا جائیگا تو وُہ شخص بوجہ برادری کے زکوٰۃ لینا پسند نہیں کرتااس صورت میں زید سےزکوٰۃ ادا ہوگیا یا نہیں؟
(۲) زید نے مبلغ ہزار روپیہ کا رس خریدا اور روپیہ بموجب رواج کھنڈسالیوں کے بالیوں کو دے دیا، وقتِ وصول رس کے، پانچ سو روپیہ کا رس وصول ہُوا، اور باقی روپیہ کے سال آئندہ پر وصول ہونے کی امید رہی، اب زید پر زکوٰۃ پانچ سو روپیہ کی چاہئے یا ہزار کی؟ اور اس بقیہ روپے کا یہ انتظام کیا کہ کچھ روپیہ اور دے کر دستاویز تحریر کرالی اس دستاویز کا روپیہ بشرطِ پیدا واراس تحریر دستاویز سے دس ماہ بعد وصول ہوگا ورنہ سال آئندہ پر کیا قرضہ دستاویز پر زکوٰۃ چاہئے یا نہیں؟
(۳) کچھ قرضہ زیدکا اس طور ہے کہ زید نے دستاویز تحریر کراکے روپیہ قرض کردیا، منجملہ اس کے کچھ روپیہ وصول ہوا اور کچھ باقی رہا، اس بقیہ کی نہ دستاویز ہے اور نہ کوئی شئ ایسی اس شخص کے پاس ہے کہ جس سے وُہ قرضہ اپنا ادا کرے ،اور اگر ہے تو بغرض بدنیتی اُس شئ کو دوسرےکے نام کردیا، اب زید کو صرف اُمید ہی امید وصول کی ہے لہذا اس روپے پر زکوٰۃ دی جائے یا نہیں؟
(۴) زید نے پانچ سو روپیہ اپنے اور ہزار قرض لے کر دکان کے منجملہ پندرہ سو روپیہ کے ہزار روپیہ کا مال دُکان میں ہے اور پانچ سو روپیہ قرضہ میں ہیں، اس صورت میں زکوٰۃ دی جائے یا نہیں اور دی جائے تو کس قدر کی؟"
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (1519 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعی متین اس مسئلہ میں کہ مسمّاۃ ہندہ عرصہ تین سال سے زیور طلائی و نقرئی کی حسبِ تفصیل ذیل اور نقد روپے کی عرصہ تین سال سے مالک ہے ،اس کے علاوہ اثاث البیت ضروری خرچ کا بھی رکھتی ہےاور روپیہ مذکور میں سے چار روپے ماہوار عرصہ تین سال سے متواتر خرچ ہوتا رہا ہے اب مسماۃ مذکورہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرنا چاہتی ہے کس طرح سے ادا کرے، بیان فرمائے، زیور طلائی ۴ تولے ۱۰ ماشے ۳ سُرخ ، زیور نقرئی (مععہ) نقد روپیہ( صما مہ)۔
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (1524 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین اس مسئلہ میں کہ پُورا نصاب کتنا ہوتا ہے جیساکہ علمی خطبہ کے اندر تحریر کرچکے ہیں وُہ ٹھیک ہے اُن کا قول یہ ہے کہ ساڑھے سات تولے سونا ہو یا ساڑھے باون تولے چاندی ہو ، دونوں میں سے ایک چیز ہو وُہ اہلِ زکوٰۃ اہلِ نصاب ہوگیا علمائے دین کو غورکرناچاہئے کہ ساڑھے باون تولے چاندی ہے اور گھر میں چار چھ آدمی کھانے والے اور خرچ کرنے والے ہیں تو وُہ شخص اہلِ نصاب اہلِ زکوٰۃ ہوگیا ، دوسری گزارش یہ ہے کہ مالا بد منہ میں لکھا ہوا ہے کہ کارروائی سے زیادہ ہو سال بھر اُس پر گزر جائے ، یعنی حاجت سے زائد ہو تو جس قدر ایک شخص کے پاس پچاس روپے کا کپڑا تجارت کا ہے اور اس سے اس کی اوقات بسری ہوتی ہے ساٹھ روپیہ کا زیور ہر وقت کے پہننے کا ہے اور اسیؔ روپے اس کے پاس نقد ہیں اور گھر میں کھانے کو کل ایک مہینے کا ہے اور پچانوے روپے مہر عورت کا ہے یعنی قرضدار ہے وہ مال نصاب کا ہوگیا یا نہیں، حضور!ہم لوگوں کا آپ پر یقین کامل ہے جب تک کوئی حکم حضور کے یہاں سے نہ ملے گا ہم کچھ نہیں کرسکتے اور ایک تحریر پیشترحضور کی خدمت میں روانہ کر چکا ہوں اس کا کوئی جواب نہیں ملا، حضور کو غور کرنا چاہئے ، یہاں پر حضور مولوی کبھی کچھ فرماتے ہیں کبھی کچھ۔ شرع کے اندر رخنہ بازی ہے ہم لوگوں کا یقین آپ پر ہے آپ جیسا لکھیں گے ویسا ہم مانیں گے آپ کے خلاف نہیں کرسکتے ، ایک مسئلہ کو چارجگہ دریافت کر و علیحدہ علیحدہ راہ ہوگی اس کی کیا وجہ ہے ، رائے کا اتفاق کیوں نہیں ہے ہم لوگوں کو بہت پریشانی ہوتی ہے کوئی مطلب ٹھیک نہیں ہم لوگوں پر عنایت فرمائیے اور دلی مراد پوری کیجئے۔
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (1502 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ۴۴برس ہوئے جو میں ۱۳ تولے ۶ ماشے سونے اور ؎ بھرچاندی کی مالک ہُوئی، چاندی نو دس برس تک بدستور رہی ، گیارھویں سال خرچ ہوگئی، اور سونا دو۲برس تک اُسی قدر رہ کر تیسرے سال پانچ تولہ خرچ ہو گیا کہ سال تمام میں صرف ۸ تولے ۶ ماشے تھا پانچویں سال ڈھائی تولہ اور خرچ ہوا کہ سال تمام میں صرف ۶ تولہ تھا اور وہی بیالیس برس تک رہا، پھر وُہ بھی اپنے دختر کو ہبہ کردیا، جن برسوں تک وُہ چاندی میرے پاس تھی بلکہ اُس کے بعد بھی سونے کا بھاؤ ( ؎ ) تولہ رہا اور چاندی روپیہ کی روپیہ بھر، اس صورت میں مجھ پر زکوٰۃ کس قدر واجب ہے؟بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (1516 )
زید کی بیوی ہندہ صاحبِ نصاب ہے اور مال ازقسم زیورات ہے جو خاص ہندہ کی ملکیت ہے یعنی وُہ اپنے میکے سے لائی ہے زید اس کو ہدایت ادائے زکوٰۃ کی کرتا ہے مگر اس کی سمع قبول میں نہیں آتی ہے تویہ فرمائیے کہ شوہر سے اُس کے عصیاں پر مواخذہ ہے یا نہیں اور اس کی طرف سے درانحالیکہ اس کی آمدنی وجہ کفاف سے بیش نہیں ،ادائے زکوٰۃ کا مکلّف شرعاً ہو سکتا ہے یا نہیں اور اُس عورت پر زجر اور فہمائش کی ضرورت ہو تو کس حد تک، اور اگر زید نے اپنے روپیہ سے کچھ زیور بنواکر ہندہ کو دیا ہو تو اس زیور پر کیا حکم ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (1503 )
ایک شخص نے ایک ہزار روپے کسی روزکار میں لگائے، بعد سال ختم ہو نے کے اُس کے پاس مال دوسو۲۰۰ روپیہ کا رہا اور قرض میں پانچ سو روپیہ رہااور نقد چار سو روپیہ مع منافع ایک سو رہا، آیا کُل گیارہ سو روپیہ کی زکوٰۃ نکا لی جائے یا کس قدرکی؟
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (1465 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ حساب قیمت کا جس وقت زیور بنوایا تھا وہ رہے گا یا نرخِ بازار جو بر وقت دینے زکوٰۃ کے ہے۔ بینو اتو جروا۔
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (491 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں زید کے پاس تخمیناً۵۲ تولے حبہ ماشہ زیور طلائی موجود ہے اور علاوہ اس کے تخمیناً۱۵ تولے زیور نقرئی و ۲ تولے زیور طلائی با لعوض مبلغ ؎ روپیہ کی رہن ہے اور ؎ روپے نقد بھی موجود ہیں اور مالِ تجارت میں کہ جو فروخت سے باقی رہ گیاہے وہ تخمیناً ما ۱۴۶ ؎ ۱۲کا ہے تواس میں زکوٰۃ کس طور سے ادا کی جائے گی۔
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (679 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اد ا ئے زکوٰۃ کے واسطے چاندی کا نصاب کس قدر روپیہ یا کس قدر وزن ہے اور ایسے ہی سونے کا کس قدر ہے؟رانی کھیت میں چند دنوں سے ایک عالم واعظ وارد ہیں ، انہوں نے وعظ میں فرمایا کہ پانچ کم دو سو پر زکوٰۃ فرض نہیں، جس وقت دو سو روپے ہوجائیں اور ایک سال اُن پر گزر جائے اس وقت زکوٰۃ دینا فرض ہوگی اور روپیہ رائج الوقت گورنمٹ انگلشیہ کا،جس کا وزن سوا گیارہ ماشے ہے۔ بینواتوجروا
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (567 )
"ماقولکم رحمکم اﷲتعالیٰ فی ھا تین المسألتین (اﷲتعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ان دو مسئلوں میں آپ کا کیا ارشاد ہے۔ ت):
(۱) زید اس وقت ۸ تولے ۶ماشے زیور طلائی اور ۷۹ ماشے زیور نقرئی کا مالک ہے۔
(۲)عمرو سَو تولے چھ ماشے زیور طلائی اور ۲۵۱تولے ۳ ماشے زیور نقرئی کا مالک ہے، دونوں کو کس قدر زکوٰۃ ادا کرنی چاہئے۔ المستفتی عبدالودود
بموجب ضوابط مندرجہ تحفہ حنفیہ میں نے اس کو یُوں نکالاہے: (۱)۸تولے ۶ماشے جس میں سے ۷-۱/۲ تولے نصاب سونے کے بعد خمس ڈیڑھ تولہ تک نہیں پہنچا لہذا دو ماشے ۲رتی واجب الادا زکوٰۃ ہُوئی اور ایک تولہ عفو ہوا، ۷۹تولے۶ماشے میں ایک نصاب چاندی ۵۲تولے اور ۲خمس۲۱تولے،کل ۷۳ تولے پر ایک تولہ۱۰ماشے ۲/۵رتی واجب الا دا اور ۶تولے چاندی عفو ہوئی۔ اب دونوں عفو بلحاظ انفع للفقراء ایک تولہ سونے کی ۳۷ تولے ۶ ماشے چاندی اس طرح ہُوئی کہ ایک تولہ سونا بحساب نرخ حال برابر ہے ؎ روپے کے اور ؎ کی چاندی ؎ ۰۶۔۔۔۔۔ چاندی میں ۶ تولے چاندی جو عفو تھی شامل کی گئی تو ۴۱تولے ۶ماشے ہُوئی جس میں ۶ماشے کم چار خمس ہیں:
(ا)پُورے چارخمس کا ربع عشر ۱۲ماشے ۴-۴/۵سُرخ لیے جو ایک تولہ ۱۰ماشے ۴/۵واجب پر بڑھائے تو۲تولے ۱۰ماشے ۵-۱/۵سرخ واجب الادا ہُوا۔
(ب)اگر تین نصاب خمس ۳۱-۱/۲تولہ اضافہ کیا جائے تو ۹ ماشے۳-۳/۵اضافہ ہوا اور دس۱۰تولے پھر فاضل ہوگا اور ۲ تولے ۷ ماشے ۴ رتی واجب ہوگا، اگر یہ حساب صحیح ہے تو کون سااختیار کیا جائے، الف یا ب ؟
(۲)عمرو والے معاملہ اسی طریقہ سے۱۶-۱/۲تولہ سونے میں ۲ نصاب ۱۵تولے اور ایک خمس ۱-۱/۲ تولہ ہے تو دو۲ نصاب کے ۴ ماشے ۴سُرخ اور خمس کا ۳-۳/۵، کل ۴ ماشے ۷-۳/۵سرخ واجب الادا ہوتا ہے اور عفو کچھ نہیں، اور ۲۵۱ تولے۳ ماشے چاندی میں ۴نصاب ۲۱۰تولے اور تین خمس ۳۱-۱/۲تولے مجرا ہوکر ۹ تولے ۹ ماشے عفو رہتا ہے اور ۴ نصاب کے ۵ تولے ۳ ماشے اور تین خمس کا ربع عشر ۹ ماشے ۳-۳/۵سرخ ہمگیں ۶۰ تولے ۳-۳/۵سرخ واجب الادا ہوتا ہے اب ایک جانب عفو نہیں اور دوسری جانب ہے اس صورت میں ۹ تولے ۹ ماشے عفو کو چھوڑدیا جائے یا اس کو سونا کیا جائے، اگر سونا کیا جائے تو اس کے خمس کا ربع عشر لے کر ۴ ماشے ۷-۳/۵سرخ اضافہ کیا جائے یا کیا؟بینو اتوجروا"
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (479 )
" کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں :(۱)زکوٰۃ زیور طلائی و نقرئی پر کس حساب سے دی جائے، آیا قیمتِ خرید پر یا جو قیمت اس کی خرید کرنے سے ملتی ہے؟(۲) زرِ نقدپر زکوٰۃ ۸ سیکڑہ ہے یا اس سے کم و بیش؟
(۳)زکوٰۃ کن کن اشیاء پر واجب ہے ؟(۴)صدقہ فطر و زکوٰۃ والدین کی جانب سے اولاد اور اولاد کی جانب سے والدین جبکہ خور دونوش یک جا ہو دے سکتے ہیں؟"
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (455 )
ایک شخص کے پاس گیارہ تولے سونا اور دوسیر چاندی ہے تو اس کو کس قدر زکوٰۃ دینا چاہئے ، یعنی ان دونوں کی مقدار تحریر فرمائیے کہ اس قدر سونے کی زکوٰۃ کے روپے ہوئے اور اس قدر چاندی کی زکوٰۃ کے ۔ بینواتوجروا
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (461 )
زید بشوقِ زیارت حرمین طیبین کچھ پس انداز کرتا جاتاہے، اس طرح پر اب وہ صاحب نصاب عرصہ ڈیڑھ سال سے ہوگیا تو اس کو صدقہ فطر وزکوٰۃ قربانی عید الاضحی کرنا چاہئے یا نہیں ؟بینو اتوجروا
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2014/11/4 (442 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کے پاس انیس اشرفیاں جے پوری وزنی ۱۷تولہ ۵ ماشہ اور چار اشرفیاں انگریزی وزنی ۳ تولہ ۹ ماشہ جملہ ۱۲۳ اشرفیاں وزنی ۲۱ تولہ ۲ ماشے ہیں اور پچیس سال سے اُس نے زکوٰۃ نہ دی اور ان کے سوا کوئی مالِ زکوٰۃ نہ اس کے پاس تھا،نہ ہے ، تو اس صورت میں اس پر کس قدر زکوٰۃ واجب ہے۔ بینو اتو جروا۔
فتاویٰ رضويه جلد دہم کتاب الزکوۃ
  Print article

RSS Feed
show bar
Quick Menu