• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
(1) 2 3 4 5 »
Published by Admin2 on 2012/7/18 (847 )
اگر امام رفع یدین کرتا ہے اور آمین پکارتا ہے اور سب مقتدی حنفی المذہب ہیں کہ آمین بالجہر اور رفع یدین نہیں کرتے اور مقتدی اس کی امامت سے پناہ مانگتے ہیں مگر وہ نماز جبراً پڑھاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس فعل کو ہر گز نہیں چھوڑوں گا خواہ میرے پیچھے کوئی نماز نہ پڑھے اور وہ علم بھی رکھتا ہے پس ایسے امام کے واسطے کیا حکم ہے ا س کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟ کیا حکم شرع شریف دیتی ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (793 )
ایک شخص حافظ قرآن ہے مگر آدھا کلمہ لا الٰہ الااﷲ پڑھتاہے اور خود ولی بن کر عورتوں مردوں کو نصف کلمہ پڑھاتا ہے اورمحمد رسول اﷲبظاہراس کی زبان سے نہیں سُنا جاتا اور وُہ امامت بھی کرتا ہے ایسے شخص کے پیچھے نماز امّت محمدیہ حنفیہ علٰی صاحبہا الصلٰو ۃ والسلام کی درست ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (874 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اگرامام نماز پڑھائے جماعت کی اور اﷲ آواز سے کہے اوراکبر نہ کہے کہ کسی مقتدی کو نہ سنائی دے جائز ہے یا ناجائز؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (891 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے رباعی نماز سے ایک رکعت آخری پائی اور وُہ شخص قعدہ اولٰی کے واسطے دُوسری رکعت میں قعدہ کرے گا، یااس کو چاہئے کہ دوسری میں قعدہ کرے یا تیسری میں اور اگر تیسری میں قعدہ اولٰی کیا تواُس پر سجدہ سہوآئے گا یا نہیں؟بینوا توجروا ۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (1109 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک اندھا ہے لیکن حافظ قرآن اور قاری ہے اور مسائل روزہ ونماز سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور نیز آیاتِ قرآن مجید کا ترجمہ کرسکتا ہے اور بہت سی حدیثیں بھی جانتا ہے اور اس لیاقت کا کوئی شخص اس محلہ میں نہیں ہے اُس کے پیچھے نماز درست ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (901 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جن مسجدوں میں کئی درجے ہوں اور ہردرجہ سہ درجہ پنج درجہ امام کو اُن کی ہر محراب ودر میں کھڑا ہونا مکروہ ہے یا صرف اندرونی محرابوں یا وسطانی دروں میں۔بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (1023 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کو کہ نہ حافظ قرآن ہے نہ مسائل دان نہ علمِ قرأت سے واقف ایک معمولی اردوخواں بلکہ بازار میں کتب فروشی و نعلین فروشی کی دکان کرنےوالا ہے ایک مسجد کا امام بننا چاہتا ہے حالانکہ دو عالم متقی ومحتاط اسی مسجد میں اور بھی موجود ہیں اور مہتمم مسجد واکثر نمازی اس شخص کی امامت سے راضی نہیں اس صورت میں ایسے امام کے حق میں کیا حکم ہے اور ان علماء کی اقتداء کی نسبت کیا ارشاد ہے؟ بینوا تو جروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (891 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایک مسجد میں ہمیشہ سے امامت کے واسطے معین ہے اور ایک شخص اس سے افضل کسی شہر سے آیا چند آدمیوں نے چاہا کہ یہ شخص فاضل ہے اس وقت کی نماز یہی پڑھائے ، امام قدیم سے پُوچھا کہ آپ کی اجازت ہے یا نہیں؟ اس نے انکار کیا، مگر چند آدمیوں نے اس مسافر کو کھڑا کردیا یہ لوگ اور مسافر امام قدیم کے مؤاخذہ دار ہوئے یا نہیں۔بینوا تو جروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (1120 )
بخدمت علمائے متبحرین ملتمس ہُوں مثلاً کوئی لڑکا عمر اس کی تیرہ ۱۳یا چودہ۱۴ برس کی ہے اور وہ قرآ ن شریف پڑھا ہے لیکن کبھی نماز نہیں پڑھتا اور باوجود ہونے متصل مسجد مکان کے بیٹھا رہتا ہے اور نماز جمعہ کی قصداً نہیں پڑھتا اور نابالغ ہے اور اپنے گھر کی عورت کو لے کر میلہ ہنود میں جیسے کہ میلہ کُنبھ اور میلہ ردنا وغیرہ میں جاتا ہے عورتیں اُس گھر کی دھوبلاپوش ہیں اور پرستش رسمِ ہنود کی کرتی ہیں ،اُس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ اور اگر ایسا لڑکا نمازِ جنازہ پڑھائے تو درست ہے یا نادرست؟بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (826 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس نے امام کے ساتھ کچھ رکعتیں نہ پائیں بعد سلام امام وُہ اپنی رکعات باقیہ ادا کرتا ہے اس صورت میں کسی نے اس کی اقتدا کی تو اس اقتدا کرنے والے کی نماز صحیح ہوگی یا نہیں؟ بینوا تو جروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (885 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سُود خور کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے؟ اور اسے امام مقرر کرنا چاہئے یا نہیں ؟ بینواتوجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (774 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام کو دَر میں یعنی دو۲ ستونوں کے بیچ میں کھڑا ہونا کیسا ہے؟بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (1431 )
کیا فرماتے ہیں علما ئے دین ومفتیانِ سنّت وجماعت اس مسئلہ میں کہ زید مسائل فقہ سے محض ناواقف اور نہ عبورِ حدیث وتفسیر،باوجود ان اوصاف کے بلادلائل شرعیہ بیان کرے کہ جو مرد اپنی بی بی سے قربت کرےاور جب تک نہ نہاوے موردِ لعنت ہے اور کہے کہ جوشخص دروازہ مسجد کو بحفاظتِ مسجد بعد نمازِ عشاء مقفل کرے اُس مسجد میں نماز قطعی حرام ہے وُہ آدمی سنگسار کیا جائے اوربغیر علم احادیث و تفسیر ترجمہ قرآن مجید کرے اور فرض کو سنّت اور واجب کو مستحب بیان کرکے جُھوٹے حوالے کتاب کے دے اور بعد ہونے نماز جنازہ بارہ دوم تکبیر پانچ منسوخہ سے نماز جنازہ پڑھاوے اور بلا وقفیت مسائل وارکان نماز پیش امامی کرے نماز اسکے پیچھے جائز ہے یا نہیں؟ اور جائز کو ناجائز کے کہے اُس کے حق میںاور اُس کے ممدومعاون کے حق میں شرعاً کیا حکم ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (844 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید حافظ قرآن ہے مگر نوکری خانساماں (بیرا) گیری کرتا ہے اب اس نوکری سے اس نے توبہ کی اور اب اس کے پیچھے لوگ نماز پڑھنے میں کراہت کرتے ہیں آیا کراہت کرنا اُن لوگوں کا جاسے یا بیجا ہے؟ صاف صاف کتاب اﷲ و حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے فرمایئے: بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (1731 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کوئی مولوی مقلدین حنفیہ کو ذریۃً الشیطان اور کتاب و سنّت کا منکر لکھے اور غیر مقلدی کی اشاعت میں ہمہ تن مصروف ہو اور مسائل خلافیہ مقلدین کا سخت مخالف اور غیر مقلدین کا حامی اور معاون ہو اور مسائل حنفیہ کو مثلاً آمین بالخفا کو اپنی تحریرات میں خرافات لکھے اور بعض اوقات کسی مصلحت دنیوی سے اپنے آپ کو حنفی المذہب ظاہر کرے ایسے شخص کی اقتداء اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور ایسے شخص کو حنفی کہا جائے گا یا نہیں؟
دومؔ جس امام ِ شہر سے شہر کے مسلمان بوجہ شرعی ناراض ہوں اور اسکے پیچھے نماز نہ پڑھیں تو اس حالت میں اُس کا امام ہونا جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (872 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ جو شخص حنفی ہو کر مسح میں امام شافعی رحمہ اﷲ تعالٰی کا طریقہ عمل میں لائے یعنی چند بال چُھو لےنے پر اکتفا کرے اُس وقت میں کہ پگڑی باندھے ہو تو اُس کی نماز اور اس کے پیچھے نماز کیسی ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (974 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو شوق قرآن و حدیث کا نہایت درجہ کا ہے مگر بسبب فکر معاش کے نہیں ہوسکتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ اگر خداوند کریم میری اس فکر کو دُورکردے تو میں اس شوق کو عمر بھر نہیں چھوڑوں گا اور کبھی بچپن سے شوق راگ وغیرہ کا اس کو زید نہیں تھا اور اب جس وقت سے ایک بزرگ کامل یعنی مولوی فضل الرحمن صاحب کا مرید ہُوا ہے اس درجہ کا شوق راگ وغیرہ کا اُس کوہو گیا کہ بیان سے باہر یعنی رنڈی اگر ناچتی ہو تو وہاں کھڑا ہوجاتا ہے اور ستار کا اس قدر شوق ہے کہ رات کے ۹ بجے فرصت ہوتی ہے فکر معاش سے تو اُس وقت سے لے کر ۲بجے تک بلکہ بعض روز تمام رات ستار بجاتا ہے، اور اگر منع کرو تو کہتا ہے میرے واسطے دعا کرو تاکہ خداوند کریم مجھے اپنی محبت عنایت کرے ،اور اگر دریافت کرو کہ جناب مولوی صاحب نے ان چیزوں کا حکم تم کو دیاہے؟ تو کہتا ہے کہ نہیں ؎
مبادا ہیچ دل بے عشق بازی
اگر باشد حقیقی یا مجازی (خدا کرے کہ کوئی دل بغیر عشق کے نہ رہے خواہ عشق حقیقی ہو یا مجازی)
اور قرآن مجید اچھا جانتا ہے عمدہ جاننے میں شک نہیں بلکہ اس کے مقابلے میں اس جگہ پر لوگ غلط پڑھتے ہیں ایسے شخص کے پیچھے نماز صحیح ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (761 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص مولوی حافظ ہوکر روزہ نہ رکھے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائزہے یا نہیں۔؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (2415 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام شافعی المذہب ہو اور مقتدی حنفی تو اُن امور میں جو حنفی کوجائز نہیں جیسے آمین بالجہر کہنا اور رفع یدین اور قومہ میں ہاتھ اُٹھا کر دُعا مانگنا امام کی متابعت کرے یا نہ کرے ؟اور ایسے ہی مقتدی شافعی المذہب کو اپنے مذہب کے خلاف امور میں امام حنفی المذہب کی متابعت چاہئے یا نہیں؟ اور اگر متابعت کرے تواس کی نماز کا کیاحال ؟بینوا تو جروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (826 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عدیم البصر کے پیچھے نماز جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (1216 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس باب میں کہ مسجد میں بحکم والی ملک(زید) جو حافظ قرآن و متشرع ہے قدیم سے خدمت ِ امامت بجالاتا ہے اور اس کی تنخواہ پاتا ہے لیکن بکر جو دوسرے سرشتہ کا ملازم ہے اور اس کے پاس باوجود یکہ کوئی حکم فسخ امامت کا زید کانہیں ہے اور نہ بکر کو حکم امامت کا والی ملک کے یہاں سے ملا اور عموماً مقتدیان بکر کی امامت سے بوجوہاتِ ذیل نارضامند ہیں:
(۱) یہ کہ بکر بعض اوقات رقصِ طوائف دیکھ لیتا ہے۔
(۲) کفار و مشرکین کے میلوں ٹھیلوں اور دیوالی کی شب جو ہنود میں صورت لچھمن کی ہوتی ہے اور خبائث دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی ہے شریک ہوکر بھی سب کے ساتھ مہورت کا روپیہ چڑھاتا ہے اور علاوہ تنخواہ اپنی مقررہ کے خلاف حکم لوگوں سے نذرانہ بھی لیتاہے۔
(۳) محفل میلادِ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو اور قیام کو بدعت سیئہ بتلاتا ہے اور محفل یاز دہم حضرت غوث الثقلین محبوب سبحانی کرنے اور پڑھنے والے بدعتی اور گنہگار کہتا ہے اور شیرنیِ محفل میلاد کو برا جانتاہے ۔
(۴) شرفا و نجبا کی توہین اور غیبت کو فخر سمجھتا ہے اور مولوی ابو المنصور صاحب دہلوی کی نسبت جو امامِ وقت کہے جاتے ہیں ان کی تصنیف پر جو سب علماء دیکھ چکے ہیں اور کوئی حر ف زن نہیں ہوا مگربکر نے فتوی کفر دے دیا ہے پس مقتدیان وغیرہ کے دلوں میں جو بکر کی طرف سے بوجوہات بالاکراہت آگئی ہے اس واسطے بکر نماز نہ پڑھنے میں کوئی حر ج تو نہیں ہے اور بکر اپنی امامت کے باعث مقتدیان وغیرہ کو تارکِ جماعت دیکھتا مگر پھر بھی اپنی امامت نہیں چھوڑتا اور اس کے امام حکمی کو جس کا ذکر اوپر آچکا امامت کرنے کا موقع نہیں آنے دیتا پہلے خود امام بن جاتاہے توبکر کس گناہ کا مرتکب کہا جائے گا،فقط،بینوا تو جروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (788 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جوامام نماز پڑھانے پر نوکر ہے اس کی اقتداء کی جائے یا جماعت ترک کی جائے؟ بینواتوجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (1811 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو بہت رکوع اور سورتیں یاد ہیں جن سے وہ نماز پڑھاتاہے مگر اسے کھڑے پڑے مدوشد وقف رہاؤ پر چنداں خیال عبور نہیں اپنے نسیان کی وجہ سے مجبور ہے حافظ یاقاری کو سنا کر صاف بھی کرتا ہے تاہم بڑے رکوع یا سُورت نقصان حافظہ یا کمی علم عربی قواعد قرأت کے سبب امور مذکورہ کا خیال نہیں رہتا ہاں چھوٹے رکوعوں سورتوں پر اکتفا کرے تو کسی قدر عبوررہ سکتا ہے مگر صبح وعشاء وغیرہ میں جوطوال اوساط کا حکم ہے اُس کی رعایت نہ ہوگی زید سین وصاد میں بھی غلطی کرتا ہے اس صورت میں زید کی امامت درست ہے یا مکروہ؟ اورکھڑا پڑا ادا نہ ہونے سے نماز تو مکروہ نہ ہوگی اور اگرہر نماز میں قصار پر قناعت کرے تو کیا حکم ہے؟ دوسراشخص بکر ہے جو تمام امورِ قرأت حسبِ قواعد ملحوظ رکھتا ہے مگر بوجہ اپنے کسی فعل ناجائز مثل نشہ ممنوع شرعی میں معلن ہونے کے امامت سے انکار کرکے زید کو جو بوجہ غلطی سین و صاد وعدم رعایت امور مذکورہ معذور ہے امام کرنا چاہتا ہے اور خود انکار کرتا ہے ایسی صورت میں اس کا اپنی امامت سے انکاراور زید کو امام کرنا درست ہے یا نہیں اور ان دونوں میں لائق امامت کون ہے ؟بینواتوجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (847 )
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام کوئی مستحب ترک کرے تو کیا مقتدیوں پر اس کا ترک بحکم متابعت واجب ہوتا ہے اوردلیل یہ کہ متابعت فرض ہے اور وہ فعل مستحب، اورقاعدہ کلیہ ہے کہ مستحب مزاحم فرض نہیں ہوسکتا۔بینوا توجروا:
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/19 (1026 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وہابیہ کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر کسی مسجد کا امام وہابی المذہب ہو تواس کی اقتدا کرنا بہتر ہے یا اس مسجد کو چھوڑ کر دوسری مسجد میں نماز پڑھنا بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (1084 )
"مسئلہ نمبر ۵۹۳ : ازا شہر کہنہ بریلی مرسلہ مولوی غلام محمد صاحب پنجابی ۸ شعبان المعظم ۱۳۱۲ھ
ایک جنازہ وقت غروب شمس کے پاس مسجدکے موجود ہو اور وہ جنازہ اہل سنّت والجماعت کا تھا حال یہ ہے کہ وارث میّت من کل الوجوہ جاہل تھے حتّی کہ نماز سے اور امام اس مسجد کا پانچوں وقت نماز تاکید پڑھاتا ہے اور کتب د رسیہ متداولہ میں بھی تعلیم و تعلم رکھتا ہے اور خالص سنت وجماعت ہے خالص حنفی ہے اور اس امام کا یہ عقیدہ منعقد ہوا ہے خدا ایک ہے مثل اس کے متصوّر نہیں ہوسکتا ہے اور سب انبیاء علیہم السلام صادق ہیں خصوصاً حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بزرگی میں سب سے زیادہ اور بعد سب انبیاء علیہم السلام کے بزرگی میں سب سے زیادہ حضرت ابوبکر صدیق ہیںپھرحضرت عمر ہیںپھرحضرت عثمان ہیں پھرحضرت علی ہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہم،اور کرامت اولیاء اﷲ کی بھی برحق ہے خلاصہ جو طریقہ اہلسنت وجماعت کا ہے وہ اُس امام میں موجودہے ا ور ایک شخص اور ہے کتب درسیہ پڑھے ہے یا نہیں واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب مگر دعوٰی ہے اور تعلیم و تعلم بھی کسی کتاب کا نہیں ہے اُس شخص کا عقیدہ یہ ہے کہ بزرگی حضرت محمدرسول اللہ صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی سب آدمی سے زیادہ ہے مگر حضرت علی اور بی بی فاطمہ اورحضرت امام حسن و حسین رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے زیادہ نہیں ہے بلکہ یہ سب پانچ تن بزرگی میں برابر ہیں اور بزرگی حضرت علی کی سب اصحاب سے زیادہ ہے اور وہ شخص نماز پانچ وقت جماعت سے نہیں پڑھتا ہے بلکہ محض جمعہ کے دن جماعت سے پڑھتا ہے اور تعزیہ بنانے کو بھی اچھا کہتا ہے وقت جنازہ کے یہ دونوں مولوی مذکور موجود تھے اور دونوں ورثائے میّت نے بلایا تھا اور دونوں حکم جنازہ پڑھانے کا کیا اور سواامام کے دوسرا مولوی امام بن گیا اس وقت امام نے کہا لائق امامتِ جنازہ کے میں ہوں چونکہ سلطان اور قاضی اس وقت میں نہیں ہیں اور یہی بات شرح وقایہ اور ہدایہ اور سب کتابوں میں موجود ہے عبارت مسئلہ مذکورہ کی یہ ہے:
والاحق بالامامۃ السلطان ثم القاضی ثم امام الحی ثم الولی کما فی العصبات۔امامت کا زیادہ حقدار سلطان ہے پھر قاضی پھر محلّہ کا امام پھرولی،اس ترتیب سے جو عصبات میں ہے۔(ت)
اور وہ مولوی اس مسئلہ کو نہ مانا اور امام بنا اور امام الحی نے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھی اس وجہ سے کہ اس نے اس مسئلہ محررہ کو نہ مانا اور بلحاظ عقائد مذکورہ محررہ کے امام الحی نے اس کے پیچھے نماز ترک کی۔آیا امام ہونا نماز جنازہ کا امام الحی مولوی کو لائق تھا یا دوسرے مولوی کو ،اور نماز کا ترک کرنا امام الحی کا ایسے شخص کے پیچھے مناسب تھا یا نہ اور سب نمازیعنی پانچ وقتی اور جمعہ کی اور جنازہ کی ان سب نمازوں میں امام ہونا ان دونوں میں سے کون لائق ہے؟بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (1237 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مسائلِ نماز سے جائل اور مخارج و صفات وقواعد ِقرأت سے محض ناواقف اور اس پر غیر عامل ،ایک بڑی مسجد کی امامت کرتا ہے عقیدہ کا بھی سنّی نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کی ترویجِ مذہب میں مصروف رہتا ہے جن میں تقیہ ہے اور اُن کے مذہب کی ترویج میں ہر قسم کی چالاکی وبیباکی اور عوام کو مغالطہ دہی گو ارتکاب حرام ہو،بے تکلف کرتا ہے اور اُس مذہب کے علماء وعمائد کی مدح وستائش اور عوام کو ہر طرح اُن کی طرف متوجہ اور مائل کر تا ہے اوران کے مذہبی مشوروں میں شریک ہوتا ہے اُس مذہب والے کیسی ہی بات کہہ دیں گو حدِ کفر تک پہنچی ہواُس کو مقبول و مسلم اور اس کی ترویج میں بجان ودل ساعی اور اس مذہب کے اہلِ علم کے پاس مسافت دُور دراز قطع کرکے جاتا ہے اور اگر کوئی سنّی عالم مسجد میں وعظ کہے تو ناخوش ہوتا ہے اور اکثر اوقات شریک نہیں ہوتا اور علمائے اہلسنّت کی اہانت اور ان پر افتراء و بہتان اور خلق کو ان کی عقیدت سے باز رکھنا اس کا شیوہ ہے کہ ان حالات سے رفتہ رفتہ صد ہا وہزارہا اہلسنّت واقف ہوگئے ہیں بایں ہمہ اس غرض سے کہ امامت اور جو منافع دنیویہ اُس سے حاصل ہوتے ہیں قائم رہیں اور نیز اس خیال سے کہ سنّیوں میں ملارہ کر عوام کو بتدریج دام میں لائے اور اپنے مذہب کو خفیہ طور پر پھیلائے اس درجہ تقیہ کرتا ہے کہ سُنیوں کے مجامع و مجالس میں بظاہر شریک رہتا ہے اور سُنّیوں کے سامنے دوسرے مذہب پر تبرّااوراُن کے علماء وعمائد کو خاص مسجد میں فحش گالیاں برملا دیتا ہے اور جب کہا جاتا ہے کہ اگر تو فی الواقع اس مذہب میں نہیں تو اس کے مسائل تجھے کیوں معلوم ہیں اور ان کے بیان کی عوام کے سامنے کیوں تعریف اوران کی طر ف راغب اور متوجّہ کرتا ہے تو کہہ دیتا ہے مجھے تو قال اﷲ وقال الرسول سے غرض ہے نہ اُن کے مسائل سے ،گویا اُس کے نزدیک سنّی علماء جو مسجد میں وعظ کہتے ہیں وعظ اُن کا قال اﷲ وقال الرسول کےخلاف ہے جو اسے نہیں سنتا اور جب اُن کے مجامع میں شریک ہونے اور مذہب کی تائید وتقویت سے تعرض کیا جاتا ہے تو کبھی انکار کرتا ہے اور جب انکار سے چارہ نہیں پاتا تو توبہ کرتا مگر افعال مذکورہ بدستور رکھتاہے چنانچہ ایک سال میں تین بار توبہ کی اور ہر بار انھیں افعال کا مرتکب رہا،تیسری بات توبہ کے بعد ایک سنّی واعظ کو بعدنماز جمعہ کے وعظ کے لئے منبر پر بیٹھ لئے تھے وعظ سے روکا اور مذہب کے ایک عیار کو ایک مثنوی پڑھنے کو بٹھا دیا جس کی تصنیف کا باعث عوام کو مغالطہ دہی اور انھیں دامِ فریب میں لینا اور اپنے مذہب کی طرف گرویدہ کرنا ہے اور اس میںوہ عیاری وچالاکی کی ہے جس کی حقیقت عوام اور ناواقفوں کی سمجھ میں نہ آسکتی مگر مصنف مثنوی کو سب اہلسنّت پہلے سے اپنا مخالف مذہب جانتے تھے لہذا واعظ سنّی کو اُٹھا کر اُس شخص کو بٹھانا اور وعظ سے روک کے اسی کی مثنوی پڑھوانا باعث ِ برہمی اہلسنت کا ہوا اور جولوگ اس کی ظاہری باتوں اور باربار کی توبہ کے فریب میں تھے اُن پر حال اس کا منکشف ہوگیا اور نماز اُ س کے پیچھے چھوڑ دی اور جو واقف ہوتاجاتا ہے اس مسجد میں نماز کو نہیں آتا روز بروز جماعت میں کمی اور مسجدکی ویرانی اور خرابی ہوتی جاتی ہے ہر وہ لوگ کہ احوال واقعی سے آگاہ اور اس کی چالاکیوں اور عیاریوں سے واقف نہیں اُس کی پیچھے نماز پڑھنے آتے ہیں اور بعض اشخاص جنہیں نماز سے کام نہ دین سے غرض بعض وجوہ نفسانی سے مسلمانوں کی نماز اور مسجد کی خرابی گوارا کرکے اس کی حمایت بیجا اور امامت قائم رہنے پر اصرار کرتے ہیں آیا اس شخص کو سنّی کہا جائے گایا دوسرے مذیب میں شمار کیا جائے گا یا کسی میں نہیں،اور باوجود ان سب امورات کے اس کی توبہ کا اعتبار ہوگا یا نہیں ،اور ایسے شخص کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے اور مسلمانو ں کو اُسے امامت سے موقوف کرکے کسی شخص سنّی صحیح العقیدہ واقف مسائل و قواعد قرأت کو جس کی امامت پرکوئی فتنہ اور اختلاف اور جماعت کی کمی اور مسجد کی ویرانی نہ ہو اس کی جگہ مقرر کرنا اور اس کی حمایت کرنے والوں کو حمایت سے باز آنا ضرور ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (756 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مرجہ ذیل مسئلہ میں : ایک شخص کا دہنا ہاتھ ٹوٹ گیا ہے اس وجہ سے نیت باندھتے وقت ہاتھ اسکا گوش تک نہیں پہنچتا کہ اس کو مس کرے، اس سبب سے بعض لوگ اس کے پیچھے اقتداء کرنے سے انکار کرتے ہیں کیا موافق ان لوگوں کے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوسکتی؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (820 )
ایک شخص کی جوان بی بی بے پردہ باہر نکلی ہے بلکہ بازار میں بیٹھ کر کچھ سودا بیچا کرتی ہے پس اُس شخص کے پیچھے نماز کا کیا حکم ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (868 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) توتلے کے پیچھے نماز کیسی ہے؟
(۲) ہکلے کے پیچھے نماز کیسی ہے؟
(۳) ایک شخص تھوڑی سی افیون بغرضِ دوا کھاتا ہے اور اسکے سبب اسے نشہ نہیں ہوتا ایسے کی امامت مکروہ ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (872 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک زمین اپنی بنام مسجد وقف کی ایک زمانے تک مہتمم مسجد کے قبضہ میں رہی اور کرایہ مسجد میں خرچ ہوتا رہا پھر با غوائے بعض ہنود زید نے ایک کچہری میں کرایہ دار پر خود کرایہ پانے کا دعوٰی کیا مہتمم مسجد جس کے متعلق اس زمین کا اہتمام تھا اور وہی مسجد کا امام ہے مسجد کے نام کے کرایہ نامہ وغیرہ کاغذات اُس کے پاس تھے اس کچہری میں موافق مسجد رہا کہ دعوٰی خارج ہوا زید نے پھر دوسری کچہری میں دعوٰی مالکیت کیا اب وہ مہتمم زید سے مل گیا مقدمہ کی پیروی نہ کی نہ مسجدکی طرف سے کاغذات ثبوت پیش کئے عدمِ پیروی کی وجہ سے مقدمہ خلاف مسجد تجویز ہوا مسلمانوں نے مسجد کی طرف سے اپیل کیا اس کچہری میں کاغذات سے مہتمم نے صاف انکار کردیا کہ زمین قبضہ مسجد سے نکل گئی اس صورت میں مہتمم مذکور مسجد کا مہتمم یا امام رکھے جانے کے قابل ہے یا نہیں؟ اسے امام مقرر کرنا کیسا ہے؟ اور اب کہ مسلمان اس کی حرکت کے باعث ناراض ہیں اُسے امام بننا کیسا ہے؟بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (911 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں کہ جو شخص رشوت لیتاہے اسکے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے اور جو شخص اپنی زوجہ کو باہر نکلنے سے منع نہیں کرتا اور پردہ نہیں کراتا اس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں ؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (924 )
میں بعد فرضِ ظہر مغرب و عشاء کے سلام پھیرتے ہی یمین ویسار کی جانب رُخ کرکے اللھم انت السلام ومنک السلام پڑھ کر سنّتیں پڑھا کرتا ہوں مولوی حبیب الرحمن سہارن پوری نے مجھ سے کہاکہ فقہا بعد ان فرضوں کے جن کے بعد تطوع ہے ترک استقبال قبلہ کو منع لکھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ ان فرضوں کے بعد اُسی ہیأت پر رہے اور فوراً تطوع میں مصروف رہے اس پر خلیل الرحمان نے یہ کہا کہ تعامل حرمین میں بھی یوں ہی ہے۔میں نے کتابوں میں دیکھا تو کہیں ممانعت نہ ملی صرف اتنا ملا کہ جن فرضوں کے بعد تطوع ہے مقدار اللھم انت السلام سے زیادہ توقف نہ کرے اس مسئلہ میں جو حضور کے نزدیک صواب ہو افادہ فرمائےے تاکہ میں اس کے مطابق عمل کروں بلکہ مناسب تو یہ ہوگا کہ عربی عبارت میں بطور اختصار اس کو قلمبد فرمائیے۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (781 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مبروص کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیںیعنی جس کا تمام جسم عارضہ برص سے سفید ہوگیا ہو اس کی امامت کے لئے کیا حکم ہے اور اس ملک دکن میں اکثر لوگ ماہ محرم الحرام میں سواری اپنے مکان پر بٹھا لیتے ہیں اور اس کو فعل صاحب کی سواری کہتے ہیں اکثر لوگ اس سے منتیں مانگتے ہیں اور چڑھاوا وغیرہ بہت کچھ چڑھاتے ہیں کیا ایسے شخص کے پیچھے جو اپنے مکان پر سواری بٹھائے نماز جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (799 )
کیافرمایا ہے شرع مطہر نے اس مسئلہ میں کہ بخشش ولد الحرام المومن کی ہوگی یا نہیں اور بشرط قابلیت امامت کے نماز میں امام بنایا جائے گا یا نہیں؟ اور طریقہ ازروئے قواعد طریقت کے بانسبت اور مرتبہ عرفان پاسکتا ہے یا نہیں ؟اور استخلاف اس طریقہ کاجائز ہے یا نہیں؟ یعنی شیخ اپنے کا درصورت حصول قابلیت جانشین ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اور شیخ کو سندِخلافت اُس کو دینا جائز ہوگا یا نہیں؟بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (852 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زیدکی ایک بی بی زینب غیر منکوحہ اور دو ۲بیبیاں صغرٰی اورکبرٰی منکوحہ ہیں زید عرصہ آٹھ سال سے بی بی زینب غیر منکوحہ سے بلالحاظ وپاس اس کی عدم منکوحیت اور بلا شرم و حجاب اپنے ہمسروں اور ہمچشموں کے مباشر اور ہم صحبت رہتاہے اس صورت میں زید کی امامت جائز ہے یا نہیں؟ بینواوجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (788 )
بہرے کی امامت جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (885 )
ایک شخص کریہہ الصوت اور بہرا ہے ،دوسرا شخص کلام شریف اس سے اچھا پڑھتا ہے اور کریہہ الصوت نہیں ہے اور بہرا بھی نہیں ہے یعنی حواسِ خمسہ اس کے صحیح ہیں تو حالت مساوی العلم ہونے کے ان دونوں میں شرعاً مرجح لائق امامت کون ہو سکتا ہے بینوا بالبراھین والکتاب توجروایوم الحساب(دلائل وبراہین اور کتاب اﷲ سے بیان کرو اور روزِحساب اجر پاؤ-
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (941 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ افیونی کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں ،اوراگر اس نماز کے پھیرنے کاحکم ہو تو فقط ظہر وعشاء کی پھیری جائے یافجر وعصرومغرب کی بھی ،اور افیون کھانی کیسی ہے افیونی فاسق مستحق عذاب ہے یا نہیں؟بینواتوجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (2457 )
تسلیم بصد تکریم کے بعد خدمت عالی میں عرض رساں ہوں آپ کے اصافِ حمیدہ کی تحریر سے بندہ قاصر ہے جناب کی خدمت میں نہ عرض کے لائق نہ طاقت چونکہ اس وقت ایک فتوٰی پر آپ کے دستخط اور مہر کی اشد ضرورت ہوئی خدمت عالی میں عرض رساں ہوں کہ عنداﷲوعندالرسول اپنے خاص دستخط اور مہر سے زینت بخشیں اس عاجز کو آپ کی قدم بوسی کی ازحد تمنّا ہے دُعافرمائیں،فتوٰی یہ ہے:ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی اندریں کہ بامامت (۱) کدام شخص اولٰی است وامامت (۲) حرام زادہ مکروہ تحریمی است یا نہ (۳) وامامت شخص بد پنداشتہ قوم مکروہ تحریمی است یاچہ واگرکسے (۴) درمسجد از امام حی افضل باشد بامامت کدام اولی است بینواتوجرواتم پر اﷲ تعالٰی کی رحمت ہو اس مسئلہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ امامت کے لئے افضل شخص کون ہوتا ہے ؟حرام زادہ کی امامت مکروہ تحریمی ہے یا نہیں؟ جس شخص کو قوم بُرا جانے اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے یاکیا ہے؟ اگر مسجد میں محلہ کے امام سے کوئی افضل شخص موجود ہو تو امام کس کو بنانا اولٰی ہے(ت)
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (836 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے حفظ قرآن شریف کیااور عمر اس کی تقریباً ۱۵ برس کی ہے یعنی ۳ ماہ کم ہیں اور احتلام نہ ہونا ظاہر کرتاہے وللاکثرحکم الکل(اور اکثر کے لئے کُل کا حکم ہوتا ہے۔ت) حدِبلوغ میں داخل ہوکرامامتِ تراویح بغرض ختم قرآن رجال کی کراسکتاہے ،اور بالغین کی درصورت عدم بلوغ امامت تراویح کرا سکتا ہے مثلاً زید مذکور کے ولی نے کسی حافظ بالغ کو نوکر رکھااور بعد کہا کہ اس نابالغ کا قرآن شریف تراویح میں سن اس اجیر نے بوجہ اقتدا اس نابالغ کے قصد کیا کہ میں تراویح کا اعادہ کروں گا اس حیلہ سے اس فاعل پر کوئی کراہت ہے یا نہیں،اکثر نابالغین امامتِ تراویح حسبِ تجویز ِ مشائخِ بلخ کرتے ہیں در صورت عدمِ جواز کیاان کاحکم یعنی اُن رجال کا جوتراویح باقتدائے نابالغ اداکریں اعادہ ہے یا نہیں؟درصورت اعادہ ان پر کوئی اساء ت ہے یا نہیں؟خصوصاً یہ مقتدی حافظ ہوکر جماعت نابالغ کرے بوجہ استاد ہونے کے اور اعادہ کرے تو اسپر کیا ہجنت وقباحت؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (950 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ(۱) ہندہ زید کی بیوی کچھ روز علیحدہ رہی اب اس نے زید کو چھوڑ کر بکر سے نکاح کرناچاہااوراب ہندہ زید کے پاس جاکر دوچار روز رہی اس سے طلاق نامہ لکھوالائی اس جگہ کے جوصاحب پیش امام ہیں اور وہی قاضی بھی ہیں ان کو طلاق نامہ دکھایا پیش امام صاحب نے خود بھی پڑھا اور لوگوں نے بھی پڑھ کر پیش امام صاحب کو سنایا اور سب نے مع مادر ہندہ پیش امام صاحب سے کہا جب تک عدت کے دن پورے نہ ہوں نکاح نہیں ہوسکتا پیش امام صاحب نے فرمایا کہ تم لوگ نہیں جانتے ہو ضرور نکاح ہوجائےگا۔چنانچہ رات کو مولوی صاحب پیش امام نے بکر کے خود گھرجاکر نکاح پڑھا دیابلکہ ہندہ کی والدہ اس نکاح میں بلانے سے بھی نہیں آئی نکاح بطمع نفسانی پڑھایاگیااورپہلے بھی اس قسم کے دوچار نکاح امام صاحب اور پڑھ چکے ہیں۔امام صاحب مولوی ہیں اوراکثر اس قسم کے فتوے بھی دیتے رہتے ہیں۔(۲) مسجد کے اندربوجہ پمپ ہونے کے پانی کی کثرت ہے بازار اور محلہ کے آدمی اپنے گھر وں کے کپڑے دھوتے ہیں پاک ناپاک چھینٹیں مسجد کے گھڑے لوٹے فرشِ مسجد پر پڑتی ہیں دوسرا آدمی کپڑے دھونے والوں کو منع کرتاہے تو مولوی صاحب منع کرنے والے کوبراکہتے ہیں اور مارنے کواُس آدمی کے آمادہ ہوتے ہیں مسجد میں روزمرّہ دھوبی گھاٹ رہتاہے اکثر لوگ مسجد کے اندر خط یعنی حجامت بھی بنواتے ہیں مگر مولوی صاحب کسی کے مانع نہیں آتے،(۳)دوبرس سے مولوی صاحب اس مسجد میں مقررہیں چارمہینے اس جگہ رہتے ہیں باقی آٹھ ماہ باہراور شہروں میں وعظ کہتے ہیں اور اپنی اوگھائی کرتے ہیں غرض یہاں سے بھی اپنی تنخواہ سال تمام کی لیتے ہیں ۔جو کوئی ان سے کہتا ہے کہ مولوی صاحب پیچھے آپ کے یہاں پر نماز پڑھانے والا میسر نہیں آتا ہم لوگوں کو بہت تکلیف ہوتی تو فرماتے ہیں ہم تو ایسے ہی رہیں گے اس مسجد کی تنخواہ میں پشم پرمارتاہوں۔(۴) اور جن لوگوں کی عورتیں باہر کی پھرنے والی ہیں اُن کو مولوی صاحب نماز پڑھانے کی اجازت فرماتے ہیں ۔فقط،جواب سے مشرف فرمائیے۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (886 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہر بنارس میں ایک مسجد متصل کچہری دیوانی جس میں نماز وقتیہ و جمعہ ہوتا ہے،عرصہ دراز سے ایک جلسہ بایمائے حاکم ضلع بغرض انہدام مسجد مذکور اہل اسلام نے کیا منجملہ اور باتوں کے بیان کیا گیا کہ مسجد کا کھودنا بمعاوضہ مکان دیگر ازروئے کتب فقہ جائز ہے تو یہ مسجد کھود ڈالی جائے بعوض اس کے دوسری مسجد سرکار کی جانب سے تیار کردی جائے حالانکہ مسجد کا کھودنا ازروئے فقہ جائز نہیں ہے ۔عالمگیریہ میں ہے :لوکان مسجد فی محلۃ ضاق علٰی اھلہ ولایسعھم ان یزید وافیہ فسألھم بعض الجیران ان یجعلوا ذلک المسجد لہ لید خلہ فی دارہ ویعطیھم مکانہ عوضا ماھو خیرلہ فیسع فیہ اھل المحلۃ قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لایسعھم ذلک ۱؎۔اگر محلہ کی مسجد اہل محلہ پر تنگ ہو گئی ہو اور وہ لوگ اس میں کشادگی نہ کرسکتے ہوں تو اس مسئلہ کے متعلق بعض پڑوسی یہ کہتے ہوں کہ مسجد کو ان میں سے کوئی ایک حاصل کرے اور اپنے گھر میں شامل کرے اور اس کے عوض متبادل بہتر جگہ مسجد کے لئے خریدے تاکہ اہل محلہ مسجد میں کشادگی حاصل کر سکیں۔امام محمدرحمہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا ایسا کرنا ان کے لئے جائز نہیں ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ الباب الحادی عشر فی المسجد الخ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشارو ۲/۴۵۷)
اُس جلسہ میں بعض وہ شریک تھے جو بنارس کے مولوی صاحب کہلاتے ہیں انھوں نے معلوم نہیں کس غرض سے مسجد مذکور کے کھودنے کے واسطے رائے دی اور دستخط بھی کئے بلکہ مولوی صاحب موصوف سے لوگوں نے دریافت کیا تو مولوی صاحب نے جواب دیا کھودنے کے واسطے رائے نہ دیتا تو کیا بیڑیاں پیروں میں ڈالتا ،حالت اکراہ میں تو دو خدا اور جناب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو گالیاں دینا جائز ہیں۔حالانکہ کسی قسم کا اکراہ حاکمِ ضلع کی جانب سے نہ تھا صرف اہل ِاسلام سے امر مذکور الصدر میں رائے طلب کی گئی تھی ،مولوی صاحب نے اکراہ کوقُطِعَ اَوْقُتِلَ کےساتھ مقید نہیں کیا اور نہ توریہ کو کہا جس کی قید کتبِ فقہ میں ہے۔الغرض ایسی ایسی باتیں مولوی صاحب نے بیان کیں جس سے عوام کے گمراہ ہوجانے کاخیال ہے۔ حنفیوں پر اکثر طعنے بھی مخالفین کے ہونے لگے کہ تمھارے یہاں ایسے ایسے گندے مسائل ہیں۔مولوی صاحب کو امام نماز کا ازروئے شرع ومصلحت بناناچاہئے یا نہیں؟
بینوابالکتاب وتوجروایوم الحساب۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/20 (1044 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین وحامیانِ دین اس مسئلہ میں کہ اس ملک میں رسم ہے کہ عورتیں بازار میں دُکان کرتی ہیں اور باہر نکلتی ہیں سر کھول کر، اور بجائے پاجامہ کے تہبند باندھتی ہیں ،چلتے میں ان کا جسم ران تک معلوم ہوتا ہے مردوں کو،اور مرد اُن کومنع نہیں کرتے ،اور جب ان کے شوہروں سے کہا گیا کہ شرع کے خلاف ہے ایسی عورتوں سے پرہیز کرو ۔ تو وہ کہتے ہیں ہم جوان ہیں جب ہم کو شہو ت ہوتی ہے تو ہم کیا کریں نکاح پڑھا لیتے ہیں ۔اور وہاں اکثرآدمی اسی کے موافق پڑے ہوئے ہیں جن عورتوں کا ذکر ہوچکا اس کے پیچھے نماز اور امامت اس آدمی کی کیسی ہے؟
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/21 (977 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص ایک مسجد کا امام ہے اور وہ کارہائے مندرجہ ذیل سے روزی پیدا کرتا ہے : مُردہ نہلانا اس کی اجرت لینا،سوم میں قرآن مجید پڑھنا اور ناخواندہ لوگوں سے قرآن مجید پڑھوانا اور اس کی اجرت لینا،مُردے کے کپڑے وغیرہ لینا اور فروخت کرنا،اور سود کھانا خفیہ طور سے۔اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا ناجائز ؟ اور دوسرا شخص جس کو عام لوگ جانتے ہیں کہ اس کی روزی ناجائز ہے اُس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں۔بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/21 (832 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جوشخص اسمٰعیل دہلوی مصنف تقویۃ الایمان کو حق جانتا ہواُس کے پیچھے نماز پڑھنا چاہئے یا نہیں؟بینواتوجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/21 (894 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ بغرض پیشہ کے جو شخص تصاویر دیوتائے اہلِ ہنود کی مثل ٹیسوو رادن ورام چندر وسیتا وغیرہ کی بناتا ہے اور فوٹوگرافر اور مغلم اور حرامی اور علی العموم جن اشخاص کی عورات بے پردہ سرِبازار پھرتی ہیں تواس حالت میں اشخاص مذکورین کے پیچھے پڑھنا نماز کا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر پڑھ لی تو اعادہ اس کا چاہئے یا نہیں؟بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/21 (1013 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید کو مرض بواسیر کا ہے اور مسّے کثرت سے ہوگئے ان میں سے آلائش رنگ زردی مائل خارج ہوتی ہے ونیز کثرت مسّوں سے اخراجِ ریح فضلہ براز کا دھبّا بھی کپڑے پر آجاتا ہے کہ جو ہجوم مسّوں کی وجہ سے وقت اجابت کسی جگہ اندر الجھا ہوا رہ جاتا ہے ان دونوں حالتوں میں کپڑا ہر وقت نجس رہتا ہے ،زید مذکور ہر طرح انتظام مثل لنگوٹ باندھنا،دو یا تین پاجامے رکھنا اور ان کا وقتاً فوقتاً دھوکرپاک رکھنا یہ سب کچھ کر چھوڑا مگر کچھ نہ ہوسکا خاص کرسفر میں اس سے زیادہ دقتیں پیش آتی ہیں اور خصوصاً امامت کرنا اگرچہ وہ امامت سے درگزر کرتا ہے مگر اس صورت میں وہ کیا کرسکتا ہے کہ ادائے نماز فرض کے واسطے کھڑا ہوا اور بعد کو اور نمازی آکر مقتدی بن گئے بجز اس کے کیا چارہ کہ نماز اداکرے ،ان دقّتوں کی حالت میں زید مذکور کو کیا کرنا چاہئے کہ جس سے بے کراہت نماز ادا کرے اور وہ کپڑا حکم پاکی کا رکھے؟بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/21 (930 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں جو شخص قواعدِ تجوید سے ناواقف ہو اُس کوامام کیاجائے یا نہیں؟ اور اگر کیا جائے توا س کے پیچھے قواعدداں کی نماز ہوگی یا نہیں؟اور عام لوگوں یعنی غیرقواعدداں کی نماز بھی اس کے پیچھے ہوگی یا نہیں ؟ بینواتوجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2012/7/21 (898 )
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عمرو سے زید دربارہ جائداد مشترک فیہ بینھما نزاع مقدمہ کچہری کیاعمرو فتح یاب ہُوا زید اس گاؤں کا امام ہے اب عمرو نے بوجہ تعصب ومخاصمت کے تمام اس کے مقتدیوں کو کہا کہ زید نے کچہری میں واسطے فتحیابی اپنے مقدمہ کرکے جھوٹ بولا تم لوگ اب اسکے پیچھے نماز مت پڑھو وہ اب امامت کے قابل نہیں رہا، تب مقتدیوں نے عمرو سے کہا کہ تم اس کے جھوٹ بولنے کا کوئی ثبوت پیش کرو ہنوز کوئی شاہد پیش نہیں کیا گیا،دعوٰی بلا دلیل ہے اور آج تک کبھی زید نے جھوٹ کلمہ اپنی زبان سے نہ نکالا اور نہ کسی نے اس پر دروغ گوئی کا کبھی شک کیا ،اگر بالفرض اس کی کذب گوئی پر کوئی گواہ ثابت ہوجائے تو زید قابلِ امامت رہے گا یا نہیں؟ اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں؟بینواتوجروا
فتاویٰ رضويه جلد ششم باب الامامۃ
  Print article

(1) 2 3 4 5 »
RSS Feed
show bar
Quick Menu