• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
(1) 2 3 »
Published by Admin2 on 2013/10/28 (1540 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ دیہات میں جمعہ جائز ہے یا نہیں؟ اور وہ آبادی جس کی مسجد میں اس کے ساکن نہ سماسکیں شہر ہے یا گاؤں ؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/28 (1057 )
بشرف خدمت باعظمت من مولانہ فیاض دارین حضرت مولوی احمد رضا خاں صاحب مقیم بریلی زاداﷲ فیضانہ، بعد السلام علیکم وتمنائے زیارت خدمت شریف میں عرض یہ ہے کہ نماز جمعہ کی فرضیت میں اختلاف چلا آتا ہے اس سے اطمینان حال نہیں بعض عالم فاضل قابل فتوٰی کے فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ کی عین فرض ہے کوئی کوئی امر حالات موجودہ سلطنت سے اُس کی فرضیت کا مانع نہیں خالصاً بلاشک وشبہ عین فرض یقینا نماز جمعہ پر آمناً وصدقنا سے یقین رکھنا چاہئے اور جو بعد نماز جمعہ کے احتیاطی فرض نماز پیش کے پڑھے جاتے ہیں یہ نہیں پڑھنے چاہئیں ، اور بعض بعض عالم فاضل لائق فتوٰی کے بنظر حالات سلطنت دقت کے فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ عین فرض تھی مگر اس وقت بوجہ نہ ہونے سلطنت اسلام کے وہ فرضیت جو دراصل تھی اب وہ نہیں رہی نماز جمعہ کی بجائے فرضیت کے بمنزلہ مستحب کے فرماتے ہیں اور فتوٰی دیتے ہیں کہ نماز جمعہ کی ایک بڑا بھاری رکن اسلام کاہے اس کا ترک اور ان کا مطلقاً چھوڑنا اچھا نہیں بہر حال پڑھنا نمازِ جمعہ ثواب اور اچھا ہے اور ساتھ اس کے یہ بھی فتوٰی فرماتے ہیں کہ بعد نماز جمعہ کے احتیاطاً نماز سب پیشیں کی معہ فرضوں کے پڑھ لینا ضرور چاہئے، اس واسطے جناب میں التماس پیش کیا جاتا ہے کہ جناب اس میں کس طرح فرماتے ہیں آیا مطابق فرقہ علمائے اول کے جو عین فرضیت کافتوٰی فرماتے ہیں یا برخلاف اُس کے اور مطابق فرقہ علمائے گروہ ثانی کے جومستحب فرماتے ہیں اور پیچھے نماز جمعہ کے جملہ نماز پیشیں معہ فرضوں کے احتیاطاً پڑھ لینا فرماتے ہیں جناب بالتشریح اسے درخواست کے محاذ پر مفصل حال جو جناب کے فتوٰی سے بہتر اور اولٰی ہو تحریر فرمادیں تاکہ ان دونوں فریق کی بحث مختلف سے یک سو اطمینان حاصل ہو فقط ۲۲ ماہ ستمبر ۱۸۹۱ء
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/28 (991 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ جو فتاوٰی ابوالبرکات میں لکھا ہے
لا تجوز الجمعۃ حتی یعلم الخطیب معناہ ( جب خطیب ، خطبہ کے معانی اگاہ نہ ہو جمعہ جائز نہیں۔ ت) یہ صحیح ہے یا کیا: بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/28 (750 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ زید جمعہ کے دن جب خطبہ پڑھتا ہے تو اس کے بعد ترجمہ بھی پڑھتا ہے اس لئے خطبہ ثانیہ میں توقف ہوتا ہے اور خطبہ ثانیہ کے بعد ترجمہ پڑھنے سے نماز میں تاخیر ہوتی ہے تو یہ خطبہ مع ترجمہ بزبان غیر عربی جمعہ یا عیدن کا جائز ہے یا نہیں؟ اور توقف مابین ہر دو خطبہ شرعاً جائز ہے؟ اور خطبہ ثانیہ کے بعد تاخیر نمازِ جمعہ میں ہوگی وہ بھی شرعاً جائز ہے ؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/28 (1337 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱) قلعہ کلکتہ میں دروازوں پر پہرہ چوکی رہتا ہے اور دس پانچ کیا سو پچاس آدمی بغرضِ سیر جائیں یا دوسری غرض سے مثلاً کسی کے ملاقات کو ، تو کوئی مانع ومزاحم نہیں ہوتا، تین چار ہزار مزدور اندر کام کرتے ہیں جو صبح کو بے روک ٹوک اندر جاتے اور باہر آتے ہیں، ہاں شب کے ساڑھے نو بجے سے عام لوگ پانچ بجے تک اندر نہیں جاسکتے اند ربازار بھی ہے جوچاہے باہر سے اشیاء خریدنے کو جائے کچھ ممانعت نہیں ، انگریزی جو تا قلعہ میں عمدہ بنتا ہے اکثر لوگ اس کے خرید نے کو جاتے اور خرید کرلاتے ہیں، ہاں یہ قاعدہ ہے کہ باہر سے جو چاہے جو چیز چاہے اند رلے جائے مگر اند رسے بغیر پاس کے کوئی چیز باہر نہیں لاسکتا، مسجد اندر نہیں ہے، جماعت اذان کے ساتھ ہوتی ہے ، پیشترکی پلٹن میں مسلمان بکثرت تھے، نماز باجماعت ہوتی تھی اب جو پلٹن ہے اس میں ہندو بہت ہیں، مسلمان قریب ستر کے ہوں گے ، انھوں نے کرنیل سے درخواست کی کہ ہم اپنا مولوی نماز پڑھانے کی غرض سے رکھنا چاہتے ہیں اس نےاجازت دی اور انھوں نے رکھ لیا، ایک وقت میں ایک مسلمان صاحب نے جو پلٹن کے سپاہیوں میں نہیں بلکہ ایک جرنیل کے ملازم ہیں بعض مسائل میں دوسرے مسلمان سےحجت کی اور مارپیٹ ہوئی، کرنیل نے اُن تنہا مسلمان کو ان کی جماعت میں شریک ہونے سے ممانعت کردی اور ان سب سے کہہ دیا اگر یہ شخص تمھاری نماز کی جگہ آئے تو اس کو قید کرلو اور ہمارے پاس پہنچادو، ایسی حالت میں نماز جمعہ قلعہ کے اندر اداہوجائے گی یا نہیں؟
(۲) جمعہ کے دو رکعت فرضوں کے سوا کَے(کتنے) رکعت نماز سنت پڑھنا چاہئے ؟ فرضوں سے پہلے کَے رکعت اور بعد فرضوں کے کَے رکعت ؟ اور احتیاطی ظہر پڑھنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (757 )
کیا فرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد نمازجمعہ چار رکعت فرض ظہر مثل نفل یعنی چاروں رکعتوں میں سُورت ملا کر پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (795 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :
(۱) حنفی اگر بعض اقوال امام شافعی رحمۃ اﷲعلیہ کے اختیار کرلیں جو دربارہ ترقی عبادت ہوں جائز ہے یا نہیں؟ مثلاً اگر دیہات میں جمعہ پڑھنا بقول امام شافعی جائز ہو وے اور بدیں حکم حنفی پڑھیں تو جائز ہوگا یا ناجائز؟ اور ناجائز ہونے کی صورت میں لائق مواخذہ کے ہوں گے یا صرف فرضِ ظہر ان کے ذمہ باقی رہے گا؟
(۲) اگربنظر شبہ ناجواز بعد پڑھنے جمعہ کے چار رکعات دیگر بدیں نیت کہ اگر جمعہ ناجائز ہو ایہ رکعتیں فرض ظہر میں شمار ہوجائیں ورنہ نفل رہیں بدیں خیال کہ روز قیامت فرائض میں جو کمی ہوگی سنا ہے کہ وہ سنن ونوافل سے پوری کی جائے گی، پڑھنا کفایت کرے گا یا نہیں؟ اور یہ بات اکثر جگہ رواج میں ہے یہ رواج جائز ہے یا نہیں؟
(۳) یہ بات مشہور ہے کہ نہ پڑھنے سے پڑھنا اولٰی ہے کہ ضعفِ اسلام کا وقت ہے جمعہ پڑھنے کے واسطےلائق کہنے کے ہے یا نہیں؟
(۴) حاکم یا قاضی یابادشاہ یا نائب کا موجود ہونا جومشروط ہے اور وہ شرط ہندوستان میں کہیں میسر نہیں پھر آخر جمعہ پڑھا جاتا ہے اور ایک شرط پر لحاظ نہیں کیا جاتا، ایساہی اگر بعض شرائط '' حوالیِ شہر یا آبادی مساوی منی'' نہ لحاظ کیا جائے تو گنجائش ہے یا نہیں؟
(۵) جن دیہات میں جمعہ پڑھا جاتا ہے اور وہاں کی آبادی کم ہے کہ شہریت ا س کو حاصل نہیں وہاں کے لوگوں کو اگر جمعہ پڑھنے سے باز رکھا جائے اور کہا جائے کہ فرض ظہر تمھارے ذمّہ سے ساقط نہیں ہوتا جائز ہوگا یا ناجائز ،درحالیکہ وہ جمعہ پڑھنے دوسری جائز جگہ پر جانے والے نہ ہوں۔
(۶) یہ جو علماء لکھتے ہیں کہ جس بستی کے مسلمان مکلف وہاں کی بڑی مسجد میں نہ سماویں وہاں جمعہ جائز
ہے یہ مردم شماری دیہہ سے مراد ہے یا تعداد نمازیوں سے اندرونِ مسجد سے یا مع صحنِ مسجد؟
(۷) جماعت میں بقول بعض ائمہ علاوہ دو آدمی اور بقول بعض چالیس آدمی لکھے ہیں مالا بدمنہ میں ، اگر موجب اُس کے چالیس آدمی سے کم میں جمعہ پڑھا جائے تو جائز ہوگا یا ناجائز ؟ بینوا توجروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (655 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطیب کے سامنے جو اذان ہوتی ہے متقدیوں کو اس کا جواب دینا اور جب دو خطبوں کے درمیان جلسہ کرے مقتدیوں کو دعا کرنا چاہئے یا نہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (608 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطبہ جمعہ میں بسم اﷲ الرحمن الرحیم بآواز بلند کہنا چاہئے یا باخفا؟ اور اگر بآواز بلند کہے تو کچھ حرج تو نہیں؟ بینوا تو جروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (740 )
کیا فرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ خطبہ جمعہ میں جو اردو قصائد متضمن وعظ و نصیحت پڑھے جاتے ہیں یہ شرعاً کیسا ہے اور عوام کا یہ عذر کہ عربی ہماری سمجھ میں نہیں آتی لہذا اردو کی ضرورت ہے قابل قبول ہے یا نہیں؟ بینوا تو جروا۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (703 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں ، خطیب کو وقتِ خواندگی خطبہ عصا ہاتھ میں لینا سنت ہے یا نہیں ؟ فقط
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (1202 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ وعیدین میں پورا خطبہ اشعار عربی وفارسی و ہندی میں پڑھنا اور اشعار کا داخل کرنا درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (655 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نابالغ کا خطبہ جمعہ پڑھنا اور نماز غیر خطیب کا پڑھانا جائز ہے یا نہیں ؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (620 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک قصبہ میں جامع مسجد ہے کہ ہمیشہ اُس میں جمعہ ہوتا ہے اب ایک مسجد بنا ہوئی اُس کو جامع مسجد بنانا اور قدیم کی جامع مسجد کو ترک کردینا یا دونوں جا جمعہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (633 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز جمعہ کے چار رکعت ظہر احتیاطی کا پڑھنا ملک پنجاب یا ہندوستان کے شہروں میں جن میں جامع مساجد بادشاہوں کے حکم سے بنی ہوئی ہیں واجب ہے یا مستحب ، اور ان شہروں میں نماز جمعہ میں کچھ وہم یا شبہ ہے یا نہیں؟ بحوالہ کتاب مع عبارت لکھا جائے ۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (657 )
"چہ می فرمایند علمائے دین دریں مسئلہ کہ جمعہ بکدام سال مفروض شد،
اس مسئلہ کے بارے میں علمائے دین کیا فرماتے ہیں کہ جمعہ کس سال فرض ہوا؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (673 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نماز عیدین یا جمعہ میں آدمیوں کی کثرت سے سجدہ سہو امام کو ترک کرنا جائز ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (1148 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد میں آج جمعہ کے دن امام صاحب جمعہ مع خطبہ پڑھا کہ فارغ ہوئے، اب اُس وقت پندرہ سولہ آدمی اسی مسجد میں بعد نمازِ جمعہ آگئے اب یہ آیندگان اسی مسجد میں پھر جمعہ پڑھیں یا ظہر، برتقدیر ثانی جماعت سے پڑھیں یا منفرد؟ عبدالحی صاحب مرحوم نے اپنے مجموعہ فتاوی میں لکھا ہے کہ وہ لوگ جمعہ پڑھیں گے دوسری مسجد میں افضل لکھا ہے اگر اسی مسجد میں پڑھیں کچھ حرج نہیں کرکے تحریر کیا ہے، مگر عالمگیری کی عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دُوسرا جمعہ جائز نہیں بلکہ وہ لوگ فرادی فرادی نماز پڑھیں اس کی تحقیق کیا ہے؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (777 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد میں دو امام درمیان میں پردہ ڈال کر جمعہ پڑھانا جائز ہوگا یا نہیں ؟
(۲) ایک مسجد میں دو دفعہ جمعہ پڑھنا جائز ہوگا یانہیں ؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (1233 )
ماقولکم ایھا العلماء لکرام ( اے علمائے کرام ! تمھارا قول کیا ہے ۔ت) اس مسئلہ میں کہ خطبہ یا عیدین کو عربی میں پڑھ کر اُردو ترجمہ کرنا یا صرف اردو میں بطور وعظ کے خطبہ ادا کرنا یا بعض حصہ عربی و بعض اردو میں پڑھنا یا چند اشعار ترغیباً و ترہیباً عربی یا غیر عربی میں پڑھنا مع النثراولاجائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/10/31 (644 )
ماقولکم ایھا العلماء الکرام( اے علماء کرام تمھارا کیا قول ہے ) اس مسئلہ میں کہ جمعہ کی نماز میں جو اخیر میں دورکعت ظہر کی سنت پڑھتے ہیں اس کی ضرورت ہے یا نہیں؟ بینوا توجرو
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/11 (1630 )
"بخدمت حضرت مخدوم ومعظم مقبول السبحان حضرت مولیٰنا مولوی احمد رضا خاں صاحب ادام اﷲ فیضہ القوی، السلام علیکم وعلی لدیکم مصدع خدمت خدام والا ہوں کہ ایک مسئلہ کی دوصورتیں ارسال خدمت شریف کرکے گزارش کہ بتفضلات کریما نہ جوا ب باصواب سے معزز وممتاز فرمائیں جزاکم اﷲ خیر الجزاء ( اﷲ تعالٰی آپ کو بہتر جزا عطا فرمائے۔ ت) نیازمند قدیمی فقیرمحمد فضل الرحمن۔
مبسلا وحامد اومصلیا ومسلما اما بعد پس واضح رہے کہ
بحدیث آمدہ بخطبہ جمعہ ہر کہ دیگرے رامی گوید کہ خاموش باش یاسنگریزہ رامس کرو اور اثواب جمعہ نباشد کہ اوعبث ولغو کرد۔
حدیث شریف میں ہے کہ خطبہ جمعہ میں اگر ایک دوسرے کو کہے خاموش ہوجا یا سنگریزے کو مَس کر دیا تو اسے جمعہ کا ثواب حاصل نہ ہوگا کیونکہ اس نے ایک عبث ولغو کام کیا ہے ۔(ت)
نیز خطبہ جمعہ میں حاضرین نے آپ سے کہا کہ بارش کی دُعا کیجئے ، آپ نے ہاتھ اٹھا کے دعا کی تھی اور تمام حاضرین نے بھی ہاتھ اٹھائے تھے تو آئندہ جمعہ کو تمام حاضرین نے کہا کہ بند ہونے بارش کی دعا کیجئے ، آپ کے دعا کرنے سے فوراً مینہ بند ہوگیا تھا ،بخاری ومسلم(عہ۱)، تو دونوں مقاموں سے معلوم ہوا کہ عبث کام کےلئے بولنا، ہاتھ کا ہلانا جمعہ کےخطبہ میں مکروہ ہے اور نیک کار کے لئے مکروہ ہرگز نہیں،اس استدلال کی اگر سمجھ نہ آئے عہ۱ :باب خطبہ جمعہ وباب استسقاء کے دیکھنے سے یہی حاصل ہے ۔ (م)
تو بفتاوی علمگیریہ نقلاً عن المحیط وغیرہ موجود ہیے کہ بخطبہ جمعہ:
اذالم یتکلم بلسانہ لکنہ اشار بیدہ او برأسہ اوبعینہ نحوان رأی منکرا من انسان فنھاہ بیدہ (عہ۲) اواخبر بخبر فاشار برأسہ الصحیح انہ لاباس بہ اما دراسۃ الفقہ وکتابتہ عند البعض مکروہ وقال البعض لاباس ۱؎ بہ ( ملخصا تقدماً وتاخراً ) انتھی۔اگر اس نے زبان سے کلام نہیں کیا لیکن ہاتھ یا سر آنکھ سے اشارہ کیا مثلاً کوئی بُرا کام دیکھا اور اسے ہاتھ سے روکا یا اسے کسی نے خبردی تو اس نے سر سے اشارہ کیا تو صحیح یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن فقہ کی تدریس وکتابت بعض کے ہاں مکروہ ہے اور بعض کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں انتہی (ت)
عہ۲: مثلاً اگر دیکھے کسی کو کہ دوسرے کو کہتا ہے چپ کر یا سنگریزہ کو مس کر تاہے تردیکھنے والا اس کو ہاتھ یا سر یا آنکھ کے اشارے سے منع کرے کہ یُوں نہ کر تو منع کنندہ لاباس بہ میں داخل ہے اور جس کو اس نے منع کیا ہو لغو و عبث کنند گان سے شمار کیا جائے گا ۔ فتدبر (م)
(۱؂فتاوی ہندیہ الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۱۴۷)
پس ان سب روایتوں کے استدلال سے جو کوئی خطبہ اولٰی بقدر سنت سن کے باقی کو سنتا رہے اور حاضرین کو جوگرمی میں ہوا کی حاجت وضرورت ہوتی ہے سب کو ہوا کرنے لگے تاکہ اطمینان سے خطبہ سنیں لا باس بہ ( اس میں کوئی حرج نہیں۔ ت) بیشک یہ شخص ثوابِ جمعہ سے محروم نہ رہے گا۔
اذا المقصود من الانصات ملا حظۃ معنی الخطبۃ واشتغال قلوب السامعین بالحر یفوت ذلک کذا یستفاد من فتاوی حموی۔کیونکہ خطبہ کی طرف کان لگانے سے مقصود یہی ہے کہ معانی خطبہ سے اگاہی ہو، لیکن سامعین کے دلوں کا گرمی کی وجہ سے پریشان ہونا اسے فوت کرنے کا ذریعہ ہے فتاوٰی حموی سے یہی مستفاد ہے ۔(ت)
دیکھو جنت میں بروز جمعہ سب مومنوں کو ایک مکان میں جمع کرکے باری تعالٰی بھی ہوا شمالی چلائے گا تاکہ باطمینان دیدار حق سبحانہ تعالٰی سے مشرف ہواکریں گے، اس ہو اکا نام میثرہ ہے کہ کستوری کی خوشبوئی کا اثر رکھتی ہوگی کما فی مسلم ( جیسا کہ مسلم شریف میں ہے۔ ت)
ثانیاً اس ہواکنندہ قوم کو بخطبہ جمعہ گرمی کے مارے خود ہوا کی سخت حاجت وضرورت ہوتی ہے تو اُس نے اپنی اس راحت پر راحت کو مقدم کیا
ویؤثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ ۲؎
( وہ اپنی ذاتوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ وہ خود بھوکے ہوتے ہیں ۔ت)
(۲؎ القرآن ۵۹ /۹)
کے گروہ میں داخل ہوکے درجہ مفلحون کا پایا ،یہ آیت سورہ حشر کی بخاری و اشباہ وفتاوٰی حموی میں موجود ہے اور کتاب وسنت کا حکم عام ہے۔
لان العبرۃ لعموم اللفظ لالخصوص المورد کما قرر فی الاصول۔کیونکہ اعتبار عموم لفظ کا ہو تا ہے مخصوص واقعہ کا اعتبار نہیں کیا جاتا جیسا کہ اصول میں مسلمہ ہے ۔(ت)
خطبہ جمعہ بقدر ایک تسبیح کے فرض اور تین آیات قصیرہ یا ایک آیت طویلہ پڑھنا وشہادتین و درود پڑھنا اور پند و نصیحت قوم کو کرنا خطیب پر سنت اور خطبہ ثانیہ نیز سنت ہے اور بعضوں کے نزدیک خطبہ اولٰی بقدر تمام التحیات کے فرض ہے فتدبر۔ راقم دعاگوخیر خواہ فقیر غلام النبی عنہ باسمہ سبحٰنہ وتعالٰی شانہ،۔
"فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/2 (825 )
"ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی ( اﷲ تعالٰی آپ پر رحم فرمائے آپ کا کیا فرمان ہے ) اس مسئلہ میں کہ:
(۱) بعض خطبہ میں جولکھا ہے کہ فرود آید بالا رود بدست راست خواند بدست چپ خواند( نیچے آئے ، اوپر جائے دائیں طرف اور بائیں طرف متوجہ ہو کر پڑھے) اس کا اصل کیا اور مبنی کہاں سے ہے اور اس پر عمل کرنا جائز ہے یا نہیں؟
(۲) بعض خطبہ کے درمیان جو اردو اشعار لکھا ہے خطبہ مع اُس کے پڑھنا یا صرف فارسی یا اردو یا اور کوئی زبان میں سوائے عربی کے پڑھنا اول سے اخیر تک چاہے عید ہو یا جمعہ، جائز ہے یا نہیں؟
(۳) منبر کتنی سیڑھی کا ہونا چاہئے اور کس پر کھڑے ہو کر خطبہ چاہئے اور منبر کس زمانہ سے شروع ہوا ہے؟"
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/2 (789 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:
(۱) ہندوستان میں جمعہ جائز ہے یانہیں؟
(۲) جائز ہے تو کیوں؟ اور اس کے دلائل کیا ہیں؟
(۳) جمعہ شہر ہی میں جائز ہے یا دیہات میں بھی؟
(۴) تعریف شہر اور قصبہ اوردیہات کی کیاہے ؟
(۵) دیہات سے نیچے بھی کوئی حد بستی کی ہے کیونکہ دیہات دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک محض کوردہ ، دوسرا وہ جس میں اشیاءِ اشد ضروری جیسے معمولی کپڑے ملتے ہوں اوردرزی اور لوہار اور بڑھیئ اور بنیا اور بقال وغیرہم ہوں اور ساکنان اُسی کے ہندو مع مسلمان قریب بارہ سو(۱۲۰۰) مردمع عورت کے ہوں اور غالب درجہ مسلمان زمیندارہوں اور مسلمانوں کی تعداد قریب پانچ سو عوتوں کے ہو اور مسجد قدیم سے ہو اور جب سے مسجد بنی ہمیشہ سے برابر جمعہ ہوتا رہا ہو تو ان دونوں قسموں میں دیہات کے جمعہ جائز ہوگا یا صرف قسمِ اخیر میں یا کسی میں نہیں اور ہم قسم اخیر کے دیہات کے رہنے والے ہیں، اب بعض لوگ کہتے ہیں کہ دیہات میں جمعہ جائز نہیں، تو آیا ہم لوگ پـڑھیں یا نہیں؟بہت صاف جواب بالتفصیل تحریر ہو۔"
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/4 (681 )
جناب مستطاب مخدومنا مولنٰا مولوی احمد رضا خاں صاحب زاد مجد ہم بعد ہدیہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، کے مکلف خدمت ہوں کہ اس موضع مخدوم پور قاضی چک میں اورنیز قرب وجوار میں اس کے نماز جمعہ و عیدین ہم لوگ مقلدین حنفی پڑھا کرتے ہیں اور جماعت جمعہ کی خاص اس موضع میں پندرہ بیس آدمی او ر کبھی کم بھی ہوا کرتی ہے اب بعض معترض ہیں کہ جمعہ دیہات میں نزدامام ابو حنیفہ صاحب جائز نہیں ہے پڑھنا بھی نہ چاہئے مخدومنا پڑھا کروں یا ترک کردوں، حضور کے نزدیک جو جائز ہو مطع فرمائیں تا مطابق اس کے کار بند ہوں اور نمازِ عیدین بھی دیہات میں ہویا نہ ہو؟ شہر صاحب گنج یہاں س کوس پر ہے۔ زیادہ حد نیاز۔ احقر رضی الدین حسین عفی عنہ
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/2 (781 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایسے قریہ میں جس پرکسی طرح حدِ مصر صادق نہیں اگر وہاں کے حنفی المذہب بخیال شوکتِ اسلامی نماز جمعہ مع ظہر احتیا طی وصلٰوۃ العیدین پڑھتے ہوں تو گنہگار ہوں گے یا نہیں؟ اور اگر گنہگار ہوں تو اس کی وجہ کیا ہے ؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/2 (690 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جس حالت میں امام خطبہ پڑھتا ہو اُس وقت کوئی وظیفہ یا سُنن یا نوافل یا فرض قضائے فجر پڑھنا چاہئیے یا نہیں اور ٹھیک ہوں گے یا نہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/2 (811 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چند اشخاص جمعہ کی ادائیگی کے لئے مسجد میں گئے انھوں نے دیکھا جمعہ ادا ہوگیا ہے اب وہ لوگ اس مسجد میں جمعہ اداکریں گے یا ظہر کی ادائیگی ان پر لازم ہوگی، اگر ظہر لازم ہے تو وہ جماعت کے ساتھ اداکریں یا تنہا؟ ایک شخص کا کہنا ہے کہ اگر کسی گروہ کی جماعت جمعہ فوت ہوگئی تومسجد سے دور انگریزی سوگز یا ایک سو پچیس گز کے فاصلے پر چلے جائیں اور وہاں جمعہ ادا کریں اگر چہ وہاں مسجد نہیں، اس کا قول صحیح ہے یا نہ؟ اگر اس طرح انھوں نے ادا کرلیا ہے تو جائز ہے یا نہ؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/2 (631 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس قصبہ شاہی میں صرف ایک مسجد وہی جامع مسجد ہے قدیم الایام سے اُس میں نماز جمعہ ہوتی ہے اور ایک عیدگاہ قریب آبادی کے ہے اس میں نماز عید پڑھی جاتی ہے فی الحال بوجہ کثرت نمازیا گنجائش سب نمازیوں کی نہیں اس لئے عیدگاہ میں جمعہ پڑھتے ہیں اُس روز جامع مسجد نماز جمعہ سےبالکل خالی رہتی ہے ایسی حالت میں کوئی بازپرس تو اہل قصبہ سے خداوند کریم بوجہ خالی رہنے مسجد کے بروزِ حساب نہ فرمائے گا اور پڑھنے نماز جمعہ سے عیدگاہ میں کچھ نقصان عنداﷲ وعند الرسول ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/4 (693 )
تعلیمات رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی تبلیغ کرنے والے اہل فہم کی اس بارے میں کیا رائے ہے کہ جمعہ کے ساتھ نمازیوں پر ظہر ادا کرنا لازم ہے یا نہ؟ اگر وہ ادا کرتے ہیں تو کس نیت سے فرض یا نفل ؟ دلیل کے ساتھ واضح فرمائیں، اﷲ تعالٰی آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے ۔(ت)
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/4 (684 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز جمعہ انحرافِ قبلہ یعنی جانب ایمن وایسر کو پھر کر مناجات کرنا جائز ہے یا نہیں باوجود یکہ فقہ کی کتابوں میں بھی یہ ہے کہ جس نماز کے بعد سنتِ موکدہ ہو نہ پھرے بالدلائل تحریر فامائیے۔بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/4 (606 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک موضع میں عرصہ کثیر گزرا زمانہء پادشاہت اسلام میں قاضی شرع نے جو قاضی بااختیار تھے جامع مسجد قائم کی اور وہ مقام شرائط جمعہ کے موافق مناسب سمجھ کر نماز جمعہ ونماز عیدین اُسی مسجد میں ہوتی رہی اور مسلسل اُسی وقت سے حسبِ اجازت وہدایت اصل قاضی یا حاکم وقت مذکور کے اُسی خاندان میں امامت رہی اب ایک شخص نے بوجہ مخالفت چندامور دنیاوی کے امام سے رنج کرکے ایک دوسری مسجد میں جو تھوڑے زمانے سے تیار ہوئی ہے نماز عید ادا کی اور باشندگانِ دیہ کو جامع مسجد قدیم کو آنے سے روک کر بہکا کر بہت سے اشخاص کو اُس نماز میں شریک کیا اور نماز پڑھائی اور جامع مسجد قدیم میں بھی مثل قدیم نماز پڑھی گئی اور جماعت ہوئی تو اب دریافت طلب ہے کہ اُس مسجد جدید میں امام قدیم سے مخالفت کرکے نماز عید ہوئی یا نہیں؟ اور ایسے نماز پڑھوانے والے کے واسطے جو تفریق جماعت کا مرتکب ہواکیا حکم ہے اور آئندہ اس طریقہ سے نماز ہوگی یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/4 (721 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک قصبہ میں ایک مسجد ہے جہاں لوگ بہت دنوں سے جمعہ پڑھا کرتے ہیں اگرامام مع چند لوگوں کے نماز جمعہ پڑھ لے تو بعدہ، دوسرے لوگوں کو تکرارِ نمازِ جمعہ جائز ہے یانہیں ؟ اور اگر پڑھ لیا تو نماز اُن کی ہوگئی یا نہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/4 (804 )
"جس موضع میں تین مسجد ہوں اور بڑی مسجد میں اُس جگہ کی سب لوگ گنجائش نہ کرسکیں اور اس جگہ سے تین میل شہر متصل ہو اُس موضع میں جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ اور اس جگہ کے لوگوں کو جمعہ پڑھنا اُس شہر میں واجب ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔ یہ جوعبارت وقایہ کی ہے کہ:مالایسع اکبر مساجدہ اھلہ مصر ۲؎
( ایسی جگہ کہ بڑی مسجد میں اُس جگہ کی سب مسلمان گنجائش نہ کرسکیں جمعہ واجب ہے یا نہیں یعنی مسلمان عاقل بالغ جس پر نمازِ جمعہ واجب ہے ۔
(۲؎ شرح الوقایۃ باب الجمعۃ مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی ۱ /۲۴۰)"
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/4 (671 )
"کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ :
(۱) بعد نماز جمعہ احتیاطاً ظُہر پڑھنا کیسا ہے ، چاہئے یا نہیں؟
(۲) خطبہ جمعہ میں جب نام پاک محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا آوے اُس وقت سامعین کو درود شریف پڑھنا کیسا ہے، چاہئے یا نہیں؟ بینوا توجروا"
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/4 (1718 )
"اگر قری میں جہاں مسلمان کثرت سے ہوں اور مکانات آپس میں متصل بلا فاصلہ ہیں اگر ہے تو پندرہ یا بیس گز اور نماز پنجگانہ کے لئے مقرر ہے اذان و جماعت ہوتی ہے وہاں کے لوگ متفق ہو کر ایک شخص کوامام جمعہ مقرر کرکے نماز جمعہ ادا کرلیں تو علیہ ماوجب لہ ( جوان پر لازم ہے ۔ت) سے بری ہوں گے یا نہیں، اور موافق مذہب امام اعظم وحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ صحیح ہوگا یا نہیں،اور بعد نماز جمعہ ظہر احتیاطی پڑھنا کیسا ہے او روہ لوگ بسبب اس جمعہ پڑھنے کے مستحق ثواب یا اثم، اور اگر اثم ہے تو کیسا؟
بینوا بالتفصیل مع الدلیل توجروا یوم الاخر والحساب اٰمین یا رب العٰلمین
( تفصیلا دلائل کے ساتھ بیان فرمادیجئے اﷲ تعالٰی آخرت میں آپ کو اجر عطا فرمائے۔ اے رب العٰلمین ! دعا قبول فرما ۔ت)
صحتِ جمعہ کے لئے مصر شرط ہے پس مصر کی تعریف صحیح موافق مذہب امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کہا ہے اور تعریف قری جس میں جمعہ واجب نہیں اور نہ وہاں جمعہ پڑھنا جائز کیا ہے ، قری اور دیہات میں فرق ہے یا نہیں، اگر فرق ہے تو کس میں جمعہ جائز اور کس میں ناجائز ؟"
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/4 (713 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں چار رکعت احتیاطی ظہر کا ادا کرنا مستحب ہے یا واجب یا فرض قطعی؟ بصورتِ اولٰی وثانیہ یہ نماز احتیاطی قائم مقام فرض کے ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اور صورتِ ثانیہ میں صلٰوۃ ظہر وجمعہ کا لزوم بطریق اجتماع لازم آتا ہے یا نہیں؟ اور ایسی صورت میں تارک ِ احتیاطی تارکِ فرض ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/4 (1225 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک بستی میں قریب تین چار سو مسلمان مرد مکلف اور اُس کےقریب قریب بھی اتنے مرد مقیم ہیں اُس بستی میں منصفی تھانہ ڈاک خانہ شفاخانہ بازار بھی ہیں اب یہ مصر ہے یا قریہ؟ اس بستی والے پر جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ اگر واجب نہیں تو یہاں جمعہ ادا کرنے سے صلٰوۃظہر ذمہ سے ساقط ہوگی یا نہیں؟ ہمارے ملک برہما کی آبادی میں کہیں کہیں تومسلمان مرد مکلف ہزار دوہزار تلک مقیم ہیں ایسی بستی کم ہے اور ادنٰی درجے میں بعض بستیوں میں دس بیس مرد مسلمان مکلف مقیم ہیں البتہ جن بستیوں میں سو دوسو چار پانچ سو مرد مکلف ہیں بہت ساری ہیں بعض بسیتوں میں سات آٹھ سو مکلف مقیم ہیں، اب ان آبادیوں میں سے کوئی شہر کہلا سکتی ہے یا نہیں؟ اور اگر سب کو گاؤں مانیں گے تو کوئی بڑے گاؤں میں بھی جمعہ اورعیدین فرض یا واجب ہے یا نہیں؟ اور اگر واجب نہیں تو ان بستیوں میں سے کسی میں جمعہ ادا کرے تو صلٰوۃ ظہرذمہ سے ساقط ہوگی یا نہیں؟ اگر آپ بڑے گاؤں میں جمعہ درست بتائیں تو ان بستیوں میں کون سی بستی بڑی کہلائے گی؟ اس کی تشریح فرمادیں، جن آبادیوں میں کئی ایک حصے ہیں فقط زراعت وغیرہ کی میل ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ایک دوسرے سے بسا ہے ہر ایک کانام بھی آپس میں جداگانہ ہے مگر اطراف میں ایک ہی نام مشہور ہے اب کیا سب کو ملا کر ایک بڑی بستی ماننا پڑے گی یا ہر ایک کا حکم جداگانہ ہے حتی الامکان جواب مفصل اور مدلّل سے ہم نابیناؤں کو ہدایت فرمائیں۔
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/4 (695 )
کیا حکم ہے شرع شریف کا اس مسئلہ میں کہ جادو ایک قصبہ ہے جہاں تین مسجدیں اباد ایک ہی محلہ میں قریب قریب واقع ہیں جمعہ کے روز ہر مسجد والے اپنی اپنی مسجد میں مانند صلٰوۃ خمسہ کے جمعہ پڑھا کر تے ہیں ایک مولوی صاحب کہتے ہیں کہ اس طرح جمعہ پڑھنا صحیح نہیں کیونکہ جمعہ کی شرائط سے حضور سلطان ہے یا نائب یا ماذون باقامۃ جمعہ تو یہ شرط یہاں پر مفقود ہے اور ایسے مقام پر مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک شخص کو اپنا قاضی و سردار بنا کر اس کے پیچھے جمعہ پڑھا کریں، دوسرے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ جمعہ کی اقامت کے واسطے سلطان یا اس کے نائب مامور کا ہونا شرط نہیں، اگر ان سے ایک بھی نہ ہو تو بھی جمعہ صحیح ہے اور مسلمانوں کو قاضی بنانا اور اُس کے پیچھے نماز پڑھنے کی کچھ ضرورت نہیں اسی طرح اپنی اپنی مسجدوں میں بھی جمعہ پڑھنا کچھ حرج نہیں بلکہ ایک جگہ جمع ہونے میں حرج ہے امید وار قولِ فیصل ہوں ، بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/8 (690 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امامت پنجگانہ وامامت جمعہ وعیدین کا ایک ہی حکم ہے کیا ؟ فقط
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/4 (622 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جمعہ گاؤں میں درست ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/11 (1267 )
"خطبہ جمعہ واعیاد کا سوائے زبان عربی خواو فارسی ہو یا دیگر زبان ہو پڑھنے کی نسبت جناب مفتی سعداﷲ صاحب مرحوم اپنے فتاوی سعدیہ میں فرماتے ہیں: نزد امام ابوحنیفہ جائز ومکروہ بکراہت تنزیہی است۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اﷲ تعالٰی کے نزدیک یہ جائز مگر مکروہ تنزیہی ہے ۔ (ت)
اور اسی جواب میں اختتام عبارت میں ہے :
اگر کسے خطبہ بقدر واجب کہ نذد صاحبین بقدر تشہد است بعربی اداکردہ باشد خواندن ماورایش درفارسی وغیر آں نزد ایشان مضائقہ ندارد کما فی منح الغفار شرح تنویر الابصار۔
اگر کوئی شخص خطبہ بمقدار واجب جوصاحبین کے نزدیک تشہد کی مقدار عربی میں پڑھ لے اور اس کے علاوہ خطبہ کسی اور زبان میں پڑھ لے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ، جیسا کہ منح الغفار شرح تنویر الابصار میں ہے۔(ت)
جناب مولوی عبدالحی صاحب اپنے مجموعہ فتاوی کے جلد دوم میں بہت شد ومد کے ساتھ خطبہ کو عربی زبان عربی میں سنت مؤکدہ اور غیر زبان میں پڑھنے کو مکروہ تحریمی وبدعت ضالہ تحریر فرماتے ہیں، مگر اُسی فتاوٰی کے جلد سوم میں مکروہِ تنزیہی تحریر فرماتے ہیں، لہذا جو خطبہ کُلاًّ غیر زبان میں ہو یا بعضاً مخلوط بزبان عربی وزبانِ دیگر میں ہو پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور بدعت ضالہ یا مکروہِ تنزیہی یا جائز بلاکراہت ، جو حکم ہو اس سے ہدایت فرمائی جائے ، بینواتو جروا
(۲) خطبہ جمعہ مصنفہ حضرت مخدوم سعد الدین عرف مخدوم شیخ سعد قدس سرہ، خیر اباد ی خلیفہ حضرت مخدوم شاہ مینا لکھنوی قدس سرہ اﷲ العزیز جو منسلکہ ہذا ہے منجملہ عبارت خطبہ مذکور کے :
چوں گفتہ حضرت محمد مصطفے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بار خدا اگر گلیم برسر کشم کوئییایھا المزمل قم الیل الاقلیلا نصفہ
واگر بیروں آرم گوئی
واھجرھم ھجرا جمیلا ،
مراچہ باید کرد فرمان آمد اے توراحت می طلبی وما ازتوسر گردانی میخواہم تومیخواہی کہ بامن حساب حسنات بسر بری بوگوشہ نشینی ومامی خواہم کہ مرا با تو وترا بامن صدہزار گونہ حساب بود تو کیستی کہ خاص جمع میخواہی حکم برانبیا ہائے اولین کردیم بپریشانی ،اگر شادت بینم گویم
ان اﷲ لا یحب الفرحین ۱؎
واگر دل تنگت بینم گویم
ولقد نعلم انک یضیق صدرک بما یقولون ۲؎
زہے مسرگردانی کہ مشتِ خاک راست کیست کہ دریں، ماتم ومصیت وقوف دارد فریادداز محمد برخاست یالیت رب محمد لم یخلق محمدا وفریاد عاشقاں بریں نوع ست اے کاش نزادے پسرے مادر عالم ÷ خودنہ بدی نام ونشان پدرمن ÷ عاقبت ایں دینائے مکارہ وغدارہ پابستہ نداری کہ سلطانِ مرسلاں ایں معاملہ بودہ است۔ جب حضرت محمد مصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نےبار گاہ خداوندی میں عرض کیا اے اﷲ ! اگر میں کملی سر پر لیتا ہوں تو آپ فرماتے ہیں '' اے چادر اوڑھنے والے رات کو تھوڑا قیام کرنصف رات''اگر میں باہر آتا ہوں توآپ فرماتے ہیں،'' ان کو احسن طریقے سے چھوڑدے '' مجھے کیاکرنا چاہئے ؟ا ﷲ تعالٰی کی طرف سے ارشاد ہوا کہ اے محمد! آپ راحت کے طلبگار ہیں اور ہم آپ سے محنت وپریشانی چاہتے ہیں، آپ جانتے ہیں کہ میری نیکیوں کا حساب ہو اور گوشہ نشین رہوں، اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم تیرے ساتھ اور آپ میرے ساتھ سوہزار قسم کا حساب رکھیں، آپ کو ن ہیں جو دل کا اطمینان چاہتے ہیں ہم نے تو سابقہ انبیاء کو پریشانی کاحکم دیا اگر میں تجھے خوش دیکھوں گا تو کہوں گا'' یقینا اﷲ تعالٰی خوش ہونے والوں کو پسند نہیں کرتا'' اور اگر تیرے دل کو تنگ پاؤں تو کہوں گا '' ہم جانتے ہیں اس بات کو کہ آپ کا سینہ ان کی باتوں سے تنگ ہے'' وہ پریشانی کتنی اچھی ہے جو مشت خاک کو حاصل ہوئی ہے کون ہے جو اس معاملہ میں ماتم مصیبت کا اظہار کرے ، محمد کی طرف سے یہ فریاد ہوئی اے رب محمد ! کاش محمد کو پیدا ہی نہ کرتا، عشاق کی فریاد اسی طرح کی ہوتی ہے، کاش اس کائنات میں کوئی ماں بیٹا ہی نہ جنتی، یا خود ،میرے باپ کا نام ونشان تک نہ ہوتا ، اس مکار و غدار دنیا کے پاؤں تو نہیں باند ھ سکتا جبکہ رسولوں کے سربراہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ معاملہ تھا۔ (ت)
(۱؎ القرآن ۲۸ /۷۶) (۲؎ القرآن ۱۵ /۹۷)
اس عبارت پر ایک صاحب کو جو بنظر حالت زمانہ حال ذی علم خیال کئے جاتے ہیں یہ اعتراض ہے کہ اس عبارت میں اہانت وبے حرمتی حضرت نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم ہے جو باعثِ تکفیر قاری وسامعین خطبہ ہے کیونکہ اس مضمون کا استنباط نہ کیسی آیتِ قرآنی سے ہے نہ کسی حدیث سے ، یہ اعتراض معترض کا صحیح ہے یا غلط؟ اور اگر غلط ہے تو معترض کے اعتراض کا کیا جواب ہے ؟ بینوا توجروا
"
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/8 (683 )
امام حنفی ہے اور مقتدی شوافع بھی ہيں اگر خطبہ اُولٰی جمعہ میں امام اوصیکم بتقوی اﷲ نہ پڑھے اور درود شریف نہ پڑھے توشوافع کی نماز ہوگی یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/8 (713 )
جمعہ کے دن چند آدمیوں نے مل کر مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی بعدہ، اور دس بارہ آدمی آگئے انھوں نے بھی اذان و اقامت خطبہ کے ساتھ اسی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی پھر دس بارہ آدمی آگئے انھوں نے بھی ایسا کیا، تو دوسری تیسری جماعت والوں کا جمعہ ادا ہولیا یانہیں، فقط ، بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/8 (800 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جمعہ کے روز امام اول کا خطبہ پڑھ کے جلسہ کرنا ہے اس جلسہ میں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا مذہب حنفی میں جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر ناجائز ہے تو کس درجہ کا، مکروہ تنزیہی یا مکروہ تحریمی؟ زید درمیان خطبین کے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا بدعت او رحرام بتاتا ہے۔ یہ عقیدہ زید کا موافق شرع شریف کے ہے یا نہیں؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/8 (691 )
حضرت اقدس مدظلہ العالی بعد عرض تسلیم بصد تعظیم گزارش ہے کہ جیل میں جہاں پانچ چھ سو آدمی قیدی و حوالاتی اور ملازمین رہتے ہیں نمازِ جمعہ ادا کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ جہاں پرصوم صلٰوۃ کی جماعت کو عام اجازت ہے اس میں روک ٹوک نہیں مگر باہر کے لوگ بغیر اجازت اندر نہیں آسکتے نہ اندر کے باہر جاسکتے ہیں، پس جو مسلمان اندر جیل کے ہیں اور جن کی تعداد سو سے زائد ہے جمعہ کے روز جماعت سے نماز جمعہ ادا کریں یا نماز ظہر کی ، امید کہ بواپسی ڈاک جواب سے سرفرازی بخشی جائے، زیادہ حد آداب!
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/8 (684 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ جہاں پر حکم مصر رکھتا ہے اور بنا بر قول معتبر کے وہاں جمعہ ہوتا ہو ان میں احتیاط ظہر پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ اور جو لوگ اس کو نہیں پڑھتے ہیں جمعہ پڑھنے سے ظہر ساقط ہوتے ہیں یا نہیں؟ اور اگر اس کا ثبوت شرع میں ہو تو اس کو کس نیت سے پڑھنا چاہئے اور جو اس کا مانع ہو ازروئے شرع شریف کے کیا حکم ہے؟ بینوا بالدلائل الشرعیۃ وتوجروا بالبراھین العقلیۃ ( دلائل شرعیہ سے بیان کرو اور براہینِ عقلیہ سے اجر پاؤ، ت)
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/8 (624 )
جس جامع مسجدمیں ایسا امام نماز پڑھاتا ہو جو صاحب جائداد ہے اور دوسری جائداد سودی روپیہ لے کر خریدی اور اس کے بدلنے کو چند اشخاص اہل شہر جن کا زور زیادہ ہے پسند نہیں کرتے بلکہ اگر کوئی اس بابت ذکر بھی کرے توخوف فتنہ کا ہے ایسی صورت میں شہر میں سے کسی محلہ کے آدمیوں کو متفق ہو کر کسی دوسری مسجد میں جمعہ کا ادا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا توجروا
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/8 (762 )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ خطبہ جمعہ وعیدین عربی عوام نہیں سمجھ سکتے ہیں کیا ان کے لحاظ سے اردو زبان ہی میں پڑھا جاسکتا ہے ؟
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

Published by Admin2 on 2013/11/8 (750 )
"ا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ:
(۱) اذان ثانی جمعہ کے دن امام کے قریب اندر مسجد کے جو مروج ہے اس میں کراہت یعنی کراہت تحریمی ہے یا تنزیہی ؟
(۲)فصیل حوض خارج مسجد ہیے یا داخل مسجد؟
(۳) ابوداؤد کی حدیث میں جو حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور شیخین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے وقت میں باب مسجد پر اذان کاذکر ہے اُس وقت تک اذان اول شروع تھی یا نہیں ؟اگر ا س وقت میں صرف ایک اذان تھی تو جب سے دوسری اذان شروع ہوئی اُس وقت بھی بقیہ خلفائے راشدین کے وقت میں اذانِ ثانی باب مسجد پر ہوتی تھی یا امام کے متصل منبر کے پاس ؟ بینواتوجروا
"
فتاویٰ رضويه جلد ہشتم باب الجمعۃ
  Print article

(1) 2 3 »
RSS Feed
show bar
Quick Menu