• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Masjid / Waqf / مسجد، وقف > معتکف،مسافر کے علاوہ اہل شہر کا مسجد میں سونا کیسا

معتکف،مسافر کے علاوہ اہل شہر کا مسجد میں سونا کیسا

Published by Admin2 on 2012/11/14 (1489 reads)

مسئلہ ۱۱۴۴: از بمبئی بھنڈی بازار مرسلہ محمد فضل الرحمٰن سادہ کار ۵ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سوائے معتکف اور مسافر کے مقیم یا اہل شہر کو مطلقاً مسجد میں سونا حرام ہے یا مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی؟ اگر بیرونی شہری نہ نیت اس کے کہ نماز صبح با جماعت ملے یا تہجد بھی نصیب ہو کیونکہ اگر گھر میں رہ کر نمازِ صبح  با جماعت یا نماز تہجد نہیں ملتی ہے مسجد میں سوئے تو  یہ سونا حرام ہے یا مکروہ یا تحریمی یا تنزیہی، نیز مسجد میں کھانا یا پینا سوائے معتکف اور مسافر کے شرعاً حرام ہے یا مباح ؟ بظاھر ابن ماجہ ف؎کی کتاب الاطعمہ کی روایت سے اباحت معلوم ہوتی ہے:

ف؎____:سائل نے ابن ماجہ کے حوالے سے جو حدیث ذکر کی ہے وہ دراصل دو حدیثوں کا مجموعہ ہے ، اصل عبارتیں یوں ہیں:

 (۱) ص ۲۴۵: کنا نا کل علی عھد رسول اﷲ علیہ وسلم فی المسجد الخبز واللحم۔

(۲) ص۲۴۶: اکلنا مع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم طعاً ما فی المسجد قد شوی فمسحنا ایدینا بالحصباء ثم قمنا نصلی ولم نتوضأ__ ابواب الا طعمہ میں دونوں حدیثیں انہی الفاظ کے ساتھ ملی ہیں۱۲۔ نذیر احمد

عن عبداﷲ بن حارث بن جزء قال اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بخبز و لحم وھو فی المسجد فاکل واکلنا معہ ثم

قام فصلی وصلینا معہ ولم نزد علی ان مسحنا ایدینا بالحصباء  ۱؎ بینواتوجوا۔

حضرت عبداﷲ بن حارث بن جزء سے مرعہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں روٹی اور گوشت لایا گیا ، اس وقت آپ مسجد میں تشریف فرماتھے ، آپ نے اسے تناول فرمایا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ گوشت روٹی کھائی، پھر کھڑے ہوئے نماز پڑھی اور ہم نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی ، اور ہم نے سوائے اس کے کچھ نہ کیا کہ اپنے ہاتھ پتھروں کے ساتھ صاف کئے ۔ت) بیّنواتوجروا۔

 ( ۱؎ سُنن ابنِ ماجہ    ابواب الاطعمہ    مطبوعہ ایچ ایم کمپنی کراچی        ص ۲۴۵ و ۲۴۶)

الجواب

مسجد(۱) میں معتکف کو سونا تو بالاتفاق بلاکراہت جائز ہے اور اس کے غیر کے لئے ہمارے علماء کے تین(۳) قول ہیں:

اول یہ کہ مطلقاً صرف خلاف اولٰی ہے،

صححہ فی الھندیۃ عن خزانۃ الفتاوی ومشی علیہ فی جامع الاسبیجابی کما نقلہ ابن کمال باشا والکافی فی معراج الدرایۃ والیہ یمیل کلام الدرفی الاعتکاف قلت وفیہ حدیث ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔

اس کی ہندیہ میں خزانۃ الفتاوٰی کے حوالے سے تصحیح کی ہے اور جامع الاسبیجابی نے اسی کو اختیار کیا، جیسا کہ اسے ابن کمال باشا نے نقل کیا اور کافی نے معراج الدارایہ میں ،اعتکاف میں درکا کلام بھی اسی طرف مائل ہے،میں کہتا ہوں اس میں حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما کی حدیث ہے۔(ت)

دوم مسافر کو جائز ہے اس کے غیر کو منع،

وبہ جزم فی الاشباہ وعلیہ مشی فی الدر قبیل باب الوتر۔اسی پر اشباہ میں جزم ہے ، در میں باب الوتر سے تھوڑا پہلے اسی کو اختیار کیا ہے۔(ت)

سوم معتکف کے سوا کسی کو جائز نہیں،

وبہ جزم فی السراجیۃ وفی جامع الفتاوٰی ومنیۃ المفتی وغمزالعیون ومتن الوقایۃ وغیرھا من المعتمدات۔

سراجیہ، جامع الفتاوٰی، منیۃ المفتی، غمزالعیون، متن الوقایہ

اور دیگر کتب میں اسی پر جزم کی گیا ہے ۔(ت)

لقولہ یمنع منہ وانما المنع عن المکروہ۱تحریما واماکراھۃ التنزیہ فتجامع الاباحۃ کمافی ردالمحتار وغیرہ۔

کیونکہ اس کا قول ہے: اس سے منع کیا گیا ہے اور منع مکروہ تحریمی سے ہوتا ہے ، کراہت تنزیہی تو اباحت کے ساتھ جمع ہوجاتی ہے جیسا کہ ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔(ت)

اقول تحقیق امر یہ ہے کہ مرخص وحاظر جب جمع ہوں حاظر کو ترجیحٰ ہوگی اور احکام تبدلِ زمان سے متبدل ہوتے ہیں

ومن لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل( جو شخص اپنے زمانے کو لوگو ں کے احوال سے اگاہ نہیں وہ جاہل ہے۔ت)

اور ہمیں رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم نے یہاں ایک ضابطہ کلیہ فرمایا ہے جس سے ان سب جزئیات کا حکم صاف ہوجاتاہے فرماتے ہیں رسول اﷲ تعالٰی علیہ وسلم:

من سمع رجلا ینشد ضالۃ فی المسجد فلیقل لاردھا اﷲ علیک فان المساجد لم تبن لھٰذا۱ ؎۔ رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

جو کسی شخص کو سنے کہ مسجد میں اپنی گم شدہ چیز دریافت کرتا ہے تو اس پر واجب ہے کہ اس سے کہے اﷲ تیری گمی چیز تحجھے نہ ملائیے مسجدیں اس لئے نہیں بنیں، اسے مسلم نے ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰے عنہ سے روایت کیا ۔(ت)

 (۱؎صحیح مسلم         باب النہی عن نشدالضالۃ فی المسجد الخ    مطبوعہ نور محمد اصح ا لمطابع کراچی    ۱/۲۱۰)

اسی حدیث کی دوسری روایت میں ہے:

اذارأیتم من یتباع فی المسجد فقولوا لااربح اﷲ تجارتک۲؎۲ رو الترمذی وصححہ والحا کم عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

جب تم کسی کو مسجد میں خرید وفروخت کرتے دیکھوتو کہو اﷲ تیرے سودے میں فائدہ نہ دے ۔ اسے ترمذی نے روایت کیا اور اسے صحیح کہا اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰے عنہ سے روایت کیا ۔(ت)

 (۲؎جامع الترمذی  ابواب البیوع باب النہی عن البیع فی المسجد  مطبوعہ امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۱/ ۱۵۸)

اور ظاہر ہے کہ مسجدیں سونے۔ کھانے پینے کو نہیں بنیں تو غیر معتکف کو اُن میں ان افعال کی اجازت نہیں اور بلاشبہ اگر ان افعال کا دروازہ کھولا جائے تو زمانہ فاسد ہے اور قلوب ادب وہیبت سے عاری، مسجدیں چو پال ہوجائیں گی اور ان کی بے حرمتی ہوگی وکل ماادی الی محظور محظور (ہر وہ شخص جو ممنوع تک پہنچائے ممنوع ہوجاتی ہے۔ت) جو بخیالِ تہجّد یا جماعتِ صبح مسجد میں سونا چاہے تو اسے کیا مشکل ہےاعتکاف کی نیت کرلے کچھ حرج نہیں، کچھ تکلیف نہیں ، ایک عبارت بڑھتی ہے۔ اور سونا بالاتفاق جائز ہوا جاتاہے

،منیۃا لمفتی پھر غمز العیون اور سراجیہ پھر ہندیہ پھر ردالمحتار میں ہے:واذا اراد ذلک ینبغی ان ینو ی الاعتکاف فیدخل فیذکراﷲ تعالٰی بقدر مانوی اویصلی ثم یفعل ماشاء ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم

جب ارداہ کرے کھانے پینے کا ، تو اعتکاف کی نیت کرے ، پھر مسجد میں داخل ہوجائے ۔ پس اﷲ تعالٰی کا ذکر نیت کے مطابق کرے یا نماز پڑھے ، پھر وہاں جو چاہے کرے ، واﷲتعالٰی اعلم(ت)

 (۱؎ردالمحتار    باب الاعتکاف    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/۲۴۶)

مسجد میں ایسا اکل وشُرب جس سے اس کی تلویث ہو مطلقاًنا جائز ہے اگر چہ معتکف ہو، ردالمحتار باب الاعتکاف میں ہے:

الظاھر ان مثل النوم الاکل والشرب اذا لم یشغل المسجدولم یلوثہ لان تنظیفہ واجب کما امر ۲؎۔

ظاہر یہی ہے کہ کھانا پینا جبکہ مسجد کو ملوث نہ کرے اور نہ مسجد کو مشغول رہے تو یہ سونے کی طرح ہے کیونکہ مسجد کی نظافت کا خیال نہایت ہی ضروری ہے جیسا کہ گزرا۔(ت)

 ( ۲؎ردالمحتار    باب الاعتکاف    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/۲۴۶)

اسی طرح اتنا کثیر کھانا مسجد میں لانا کہ نماز کی جگہ گھیرے مطلقاً ممنوع ہے،اور جب ان دونوں باتوں سے خالی ہو تو معتکف کو بالاتفاق بلاکراہت جائز ہے اور غیر معتکف میں وہی مباحث و اختلاف عائد ہوں گے اور ہمیں ارشاد اقدس کا وہ ضابطہ کلیہ کافی ہے کہ ان المساجد لم تبن لھذا(مساجد اس خاطر نہیں بنائی جاتیں۔ت) اعتکاف نفل کے لئے نہ روزہ شرط ہے نہ طول مدت درکار ،صرف نیت کافی ہے،جتنی دیر بھی ٹھرے بہ یفتی(اسی پر فتوی ہے۔ت)    تو اختلاف میں پڑنے کی کیا حاجت ، وماکان اقرب الی الادب فھوالاحب فھوالا حب الاوجب نسأل اﷲ حسن التوفیق( جوادب کے زیادہ قریب ہو وہی زیادہ پسندیدہ اور واجب ہوتا ہے ، اﷲتعالٰی سے حسنِ توفیق کا سوال ہے۔ت)

رہی حدیث ابن ماجہ، وہ ایک واقعہ عین ہے اور علماء بالاتفاق تصریح فرماتے ہیں کہ وقائع عین کے لئے عموم نہیں ہوتا ممکن کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وصحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنھم اس وقت معتکف ہوں اور صحابی کو یہاں مسئلہ اکل بیان کرنا مقصود نہیں بلکہ یہ کہ مامسّتہ النار (وہ چیز جسے آگ چھولے ۔ت)

سے وضونہیں، علاوہ بریں فعل وتقریر سے قول اور بیح سے خاطرار جح ہے ۔ واﷲتعالٰی اعلم


Navigate through the articles
Previous article مسجد میں دنیا کی باتیں کرنے والوں کا حکم مسجد اور مدرسہ کے درمیان ایگریمنٹ کی بابت سوال Next article
Rating 2.79/5
Rating: 2.8/5 (203 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu