• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Masjid / Waqf / مسجد، وقف > مسجد اور مدرسہ کے درمیان ایگریمنٹ کی بابت سوال

مسجد اور مدرسہ کے درمیان ایگریمنٹ کی بابت سوال

Published by Admin2 on 2012/11/15 (786 reads)

New Page 1

مسئلہ۱۱۷۴: از شہر الہ آباد زیر جامع مسجد چوک مرسلہ مرزا واحد علی خوشبوساز ۲۹ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک  مسجد میں مدرسہ ہے جس میں تعلیم کلام مجید وتفسیر وفقہ وحدیث کی ہوتی ہے، بعض متظمین نے چاہا کہ تعلیم مسجد سے اٹھادی جائے، بعد گفتگو بسیارکے یہ طے پایا کہ دونوں طرف سے تحریریں ہوجائیں اور رجسٹری کردی جائے، منتظمانِ مسجد لکھ دیں کہ ہم مدرسہ نہ اٹھائیں گے ، جب تک مدرسہ تین شرائط پر قائم رہے گا۔ ایک یہ کہ سات آٹھ برس کے لڑکے نہ داخل ہوں ، دوسرے مدرسہ میں تعلیم ہندی ناگری انگریزی غیر مذہب کی تعلیم نہ داخل ہو، مدرسہ مسجد کی کسی چیز پر قبضہ نہ کرے۔مہتمم مدرسہ نے اس کو تسلیم کیا اور تحریر کردیا کہ ہم اس کے پابند رہیں گے ، بکر کہتا ہے کہ یہ تحریر کرنا اور رجسٹری کرانا جائز نہیں ہے منتظمین کو شرعاً یہ حق حاصل نہیں کہ اس قسم کی تحریر کرائیں اور رجسٹری کرائیں ۔ زید کہتا ہے کہ یہ سب جائز ہے جو کام مسجد میں جائز ہیں اس کی مزاحمت کسی کو جائز نہیں لہٰذا عدم مزاحمت کی توثیق کرانا شرعاً کوئی مضائقہ نہیں جیسا کہ کوئی متولی کسی نمازی سے كہہ دے یا لکھ دے کہ ہم تم کو نماز سے کبھی نہ روکھیں گے جب تک تم کسی کو ایذا نہ پہنچاؤ گے اور مسجد میں فساد کی بات نہ کروگے لہٰذا کس کا قول صحیح ہے زید کا یا بکر کا؟بینوا تواجروا

الجواب: مسجد میں تعلیم بشرائط جائز ہے:

(۱) تعلیم دین ہو۔

(۲) معلم سنی صحیح العقیدہ ہو، نہ وہابی وغیرہ بددین کہ وہ تعلیم کفر و ضلال کرےگا۔

(۳) معلم بلا اُجرت تعلیم کرے کہ اجرت سے کار دنیا ہوجائے گی۔

(۴) ناسمجھ بچے نہ ہوں کہ مسجد کی بے ادبی کریں۔

(۵) جماعت پر  جگہ تنگ نہ ہو کہ اصل مقصد مسجد جماعت ہے۔

(۶) غل شور سے نمازی کو ایذا نہ پہنچے۔

(۷) معلم خواہ طالب علم کسی کے بیٹھے سے قطعِ صف نہ ہو۔

ان شرائط کا اگر وثیقہ لکھا جائے کیا مضائقہ ہے بلکہ بہتر ہے وہ تحریر کہ لکھانا چاہتے ہیں اس کی پہلی شرط ان میں کی چوتھی اور دوسری ان میں کی پہلی ہے اور تیسری کوئی خاص تعلیم کی نہیں مطلقاً ہے اس کا لکھا لینا بھی اچھا ہے گرمی کی شدت وغیرہ کے وقت جبکہ اور جگہ نہ ہو بضرورت معلم باجرت کو اجازت ہے مگر نہ مطلقاً، یونہی سلائی پر سینے والا درزی اگر حفاظت اور اس میں بچوں کو نہ آنے دینے کے لئے مسجد میں بیٹھے اور اپنا سیتا بھی رہے تو اجازت دی ہے یوں ہی غیر نماز کے وقت متعلمان علم دین کو تکرار علم میں رفع صوت کی حدیث میں فرمایا:جنبوا مساجد کم صبیا نکم ومجانینکم۱؎ ۔اپنی مساجد کو اپنے بچوں اور دیوانوں سے بچاؤ۔ (ت)

(۱؎ سنن ابن ماجہ    باب ما یکرہ فی المساجد         مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۵۵)

( المعجم الکبیر        حدیث  ۶۷۰۱      مطبوعہ مکتبہ فیصلیہ بیروت        ۸ /۱۵۸)

بحرالرائق میں ہے:قالو ا ولایجوز ان تعمل فیہ (ای فی المسجد) الصنائع لانہ مخلص ﷲ تعالٰی فلا یکون محلا لغیر العبادۃ غیر انھم قالوا فی الخیاط اذا جلس فیہ لمصلحتہ من دفع الصبیان و صیانۃالمسجد لاباس بہ للضرورۃ ولایدق الثوب عند طیہ دقا عنیفا والذی یکتب ان کان باجر یکرہ وانکان بغیر اجرلایکرہ قال فی فتح القدیر ھذا اذاکتب القران والعلم لانہ فی عبادۃ اماھو لاء المکتبون الذین یجتمع عند ھم الصبیان واللغط فلا ولولم یکن لغط لانھم فی صنا عۃ لاعبادۃ اذھم یقصدون الاجارۃ لیس ھوﷲ تعالٰی بل للارتزاق ومعم الصیان القرآن کا لکتاب ان کان لاجرلا وحسبۃ لاباس بہ۲؎اھ

فقہاء نے فرمایا کہ مسجد میں کوئی عمل جائز نہیں یعنی مسجد میں کوئی کاروبار جائز نہیں کیونکہ وہ خالصۃ اﷲ تعالٰی کے لئے بنائی گئی ہوتی ہے تو اب وہ عبادت كے علاوہ کسی دوسری شے کا محل نہیں بن سکتی البتہ اس صورت میں مثلاًکوئی درزی وہاں اس لئے بیٹھ کر کام کرتا ہے کہ بچے داخل نہ ہوں اور مسجد کی حفاظت ہو، تو چونکہ یہ ضرورت کی وجہ سے ہے اس لئے اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ بھی کپڑے کو لپیٹتے وقت سخت آواز سے کپڑے کو نہ جھاڑے اسی طرح اگر وہاں کوئی لکھتا ہے اور اس کا معاوضہ لیتاہے تو مکروہ ہے اور اگر معاوضہ نہیں لیتا تو مکروہ نہیں۔ فتح القدیر میں ہے کہ یہ اس وقت ہے جب قرآن اور علم لکھ رہا ہو کیونکہ یہ عبادت ہے، لیکن یہ کتابت سکھانے والے لوگ جن کے پاس بچے اکٹھے ہوں اور شور ہوتاہو وہ جائز نہیں اگر چہ عملاً شورنہ ہو کیونکہ یہ کاروبار ہے نہ کہ عبادت، کیونکہ وہ تو معاوضہ واجر کی خاطر ہوتا ہے نہ کہ اﷲ تعالٰی کی رضا کے حصول کی خاطر، بلکہ یہ رزق کمانے کے لئے ہے ، اور بچوں کو قرآن کی تعلم دینے والے کا حکم بھی کاتب کی طرح اگر معاوضہ کی خاطر ہے تو جائز نہیں اور اگر رضائے الہٰی کے لئے ہے تو کوئی حرج نہیں اھ (ت)

 ( ۲؎ بحرالرائق        باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۳۵)

فتاوٰی خلاصہ میں قبیل کتاب الحیض ہے:المعلم الذی یعلم الصیان باجر اذا جلس فی المسجد یعلم الصیان لضرورۃ الحر وغیرہ لایکرہ وفی نسخۃ القاضی الامام رحمہ اﷲ وفی اقرار العیون جعل مسئلۃ المعلم کمسألۃ الکابت والخیاط فان کان یعلم حسبۃ لاباس بہ وان کان باجریکرہ الا اذا وقع ضرورۃ۱؎۔

وہ استاد جو بچوں کو معاوضہ کے لئے پڑھاتا ہے اگر گرمی وغیرہ کی وجہ سے مسجد میں بیٹھ کر تعلیم دے تو مکروہ نہیں،اور قاضی امام رحمہ اﷲ کے نسخہ اور اقرا رالعیون  میں مسئلہ معلم کو مسئلہ کاتب اور مسئلہ درزی کی طرح ہی قراردیاگیا ہے کہ اگر وہ رضائے الہٰی کے لئے تعلیم دیتا ہے تو کوئی حرج نہیں اور اگر معاوضہ لیتا ہے تو مکروہ ہے البتہ اس صورت میں جائز جب ضرورت ہو۔ (ت)

 ( ۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    قبیل کتاب الحیض    مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱ /۲۲۹)

درمختار میں ہے:اذا ضاق فللمصلی ازعاج القاعد ولم مشتغلا بقراء ۃ او درس ۲؎۔جب نمازی کے لئے جگہ تنگ ہو تو بیٹھے ہوئے آدمی کو اٹھا سکتا ہے خواہ وہ تلاوت میں مصروف ہو یا تعلیم دے رہا ہو۔ (ت)

 (۲؎ درمختار         قبیل باب الوتر والنوافل    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۹۴)

ردالمحتار میں ہے:اقول وکذا اذالم یضق ولکم من قعودہ قطع للصف۳؎۔میں کہتا ہوں اسی طرح اس کا حکم ہے جس کے بیٹھنے کی وجہ سے صف منقطع ہورہی ہو اگر چہ تنگی نہ ہو (ت)

 ( ۳؎ ردالمحتار      قبیل باب الوتر والنوافل  مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۴۹۰)

درمختار مکروہات وممنوعات مسجد میں ہے:و رفع صوت بذکرالا للمتفقھۃ۴؎۔ذکر بلند آواز سے کرنا منع ہے مگر اس شخص کے لئے جو فقہ کی تعلیم دے رہا ہو۔ (ت)

 ( ۴؎ درمختار ،    قبیل باب الوتر والنوافل  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۹۳)

ردالمحتار میں ہے:الاان یشوش جھر ھم علی نائم اومصلی اوقارئ الخ ۵؎۔البتہ اس صورت میں بھی جائز نہیں جب ذکر بالجہر سے کسی سونے والے کی نیند ، کسی نمازی کی نمازیا تلاوت کرنے والے کی تلاوت میں خلل کا ندیشہ ہو۔(ت)

 (۵؎ردالمحتار         قبیل باب الوتر والنوافل  مطبوعہ مصطفٰی البابی مصر   ۱ /۴۸۸)

مناقب کردری میں ہے:عن ابن عیینۃ قال مررت بہ (ای بالا مام رضی اﷲ تعالٰی عنہ) وھو مع اصحابہ فی المسجد قد ارتفعت اصواتھم فقلت یا ابا حنیفۃ ھذا المسجد والصوت لایرفع فیہ فقال دعھم فانھم لایفقھون الابہ ؎۱ ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

ابن عیینہ سے ہے کہ میں ان ( امام رضی اﷲ تعالٰی عنہ) کے پاس سے گزرا  آپ شاگردوں کے ساتھ مسجد میں تھے لیکن ان کی آواز بلند تھی ، میں نے کہا: اے ابو حنیفہ! یہ مسجد ہے اس میں آواز بلند نہیں ہونی چاہئے۔ فرمایا: ان کو چھوڑدو کیونکہ دینی علوم کو اس آواز کے بغیر حاصل نہیں کرسکتے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

 (۱؎ امناقب للکردری    الامام ابو حنیفہ واصحابہ قاسواعلی السنۃ    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ  ۲ /۷۳)


Navigate through the articles
Previous article معتکف،مسافر کے علاوہ اہل شہر کا مسجد میں سونا کیسا مسجد میں میلاد پڑھنا کیسا ہے؟ Next article
Rating 2.76/5
Rating: 2.8/5 (215 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu