• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Masjid / Waqf / مسجد، وقف > شراب بنانے والوں کے ساتھ نماز کے احکام

شراب بنانے والوں کے ساتھ نماز کے احکام

Published by Admin2 on 2012/11/15 (962 reads)

مسئلہ ۱۱۸۴تا ۱۱۸۱: از میٹرتا علاقہ جودھپور متصل مسجد جامع چوٹھ کی گلی مرسلہ مولوی عبدالرحمان صاحب وکیل کچامن۸ ذی الحجہ یوم چہار شنبہ ۱۳۱۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کثر اﷲ جما عتہم سوالات مستفسرۃ ذیل کے جوابات میں:

(۱) ہمارے ادھر  ایک قوم  ہے جس کا  پیشہ شراب کشید کرنے کا ہے اور مذہباً مسلمان ہے اس قوم میں کچھ آدمیوں نے دوچار  پشت سے شراب کی کشید موقف کردی ہے اور دوسرے پیشے مثلاً پیشہ بساطی اور معماری وغیرہ وغیرہ جن سے اکل حلال میسر ہوسکتا ہے اختیار کر لئے ہیں ان لوگوں نے ایک مسجد بنائی ہے اس میں ہم لوگوں کی نماز ہوسکتی ہے  یا  نہیں ؟

(۲) مذکورہ  بالاقوم کے بعض مسلمان ابھی تک شراب کشید کرتے ہیں مگر وہ نماز اور روزہ کے پابند ہیں، یہ لوگ اس مسجد میں نماز پڑھنے آتے ہیں اسی میں وضو بناتے ہیں مگر مسجد میں جب داخل ہوتے ہیں اس وقت شراب سے بدن کو ملوث نہیں رکھتے بلکہ کپڑوں سے اور بدن کی طہارت سے داخل ہوتے ہیں اس صورت میں ان کو مسجد میں آنے دینا چاہئے یا نہیں اور وضو کرنے دیں یا منع کیا جائے اور جماعت مین شریک کریں یا نہ کریں؟

(۳) وہ مسلمان جنھوں نے شراب ترک کردی ہے ان کے یہاں کی دعوت قبول کی جائے یا نہیں اور ان کی بنا کردہ مسجد میں امامت کرنے والے کے حق میں شریعت سے کیا حکم ہے؟

(۴) قوال یعنی بڑھ مچھے اور طوائف بڑھیا کو مسجد میں آنے دینا چاہئے یا نہیں اور ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں؟ بینوا توجروا

الجواب: وہ مسجد کہ ان لوگوں نے بعد توبہ مال حلال سے بنائی ہے بیشک مسجد شرعی ہے اور اس میں نماز فقط ہوسکتی ہی نہیں بلکہ اس کے قرب وجوار  والوں  اہل محلہ پر اس کا آباد رکھنا واجب ہے، اس میں اذان  و اقامت  و جماعت  و امامت کرنا ضرور ہے اگر ایسا نہ کریں گے گنہگار  ہوں گے ، اور  جو  اس میں نماز سے روکے گا وہ ان سخت ظالموں میں داخل ہوگا جن کی نسبت اﷲ عزوجل فرماتا ہے:ومن اظلم ممن منع مسٰجداﷲ ان یذکر فیھا اسمہ وسعٰی فی خرابھا  ۱؎ ۔اس سے بڑھ کر كون  ظالم  جو  اﷲ کی مسجد وں  سے  روکے ان  میں خدا کا  ذکر  ہونے  سے  اور  ان کی ویرانی میں کوشش کرے۔

  ( ۱؎ القرآن       ۲ /۱۱۴)

اور ان تائبوں کی دعوت بھی قبول کی جائے کہ اب اس کا مال بھی حلال ہے اور توبہ سے گناہ بھی زائل ، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہے:التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ ۲؎۔جس نے گناہ سے توبہ کرلی  وہ  ایسے  ہے جیسے گناہ کیا ہی نہیں۔

 (۲؎ سنن ابن ماجہ    ابواب الزہد        باب ذکر التوبہ    مطبوعہ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۳۲۳)

( السنن الکبرٰی    کتاب الشہادات    باب شہادت القاذف   مطبوعہ  دار  صادر  بیروت        ۱۰ /۱۵۴)

رواہ ابن ماجۃ بسند حسن والبیھقی فی السنن والطبرابی فی لکبیرعن عبداﷲ بن مسعود والحکیم الترمذی عن ابی سعید الخدری والبیھقی فی الشعب والسنن وابن عساکر عن ابن عباس وفی السنن عن عقبۃ الخولا نی والاستاذ القشیری فی رسالتہ والدیلمی وابن النجار عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنھم

اسے ابن ماجہ نے  بسند حسن ، بہیقی نے سنن میں اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی علیہ سے، حکیم ترمذی نے حضرت  ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی علیہ سے ، بہیقی نے شعب الایمان میں ، اور ابن عسا کر  نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے اور سنن میں عقبہ خولانی سے ، اورا ستاد القشیری نے  اپنے رسالہ میں ، اور دیلمی اور ابن نجار نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔

اور ان میں جو لوگ اب تک اس فسق عظیم میں مبتلا ہیں اگر چہ مستحق لعنت خدا ہیں مگر جبکہ پاک بدن پاک کپڑوں سے مسجد میں آتے ہیں تو انھیں وضو  و مسجد  و جماعت سے نہیں روک سکتے، اگر ان کے آنے سے فتنہ نہ ہو  ،    یو نہی قو ال کو بھی، اور عورتیں اگر چہ پارسااور بڑھیا ہوں مسجد سے ممنوع ہیں خصوصا زنا پیشہ فاحشات کہ ان کے باہمی وہ رسوم سنے گئے ہیں جن کا بعد ایمان قائم  رہنا سخت دشوار  ہے، قوال وغیرہ جو مسلمان مرے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاتا ہو چند صور استثنائی مذکورہ فقہیہ کے سوا  سب جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:الصلوٰۃ واجبۃ علیکم علی کل مسلم یموت برا کان او فاجر و ان  ھو  عمل الکبائر  ۱؎ ۔  رواہ ابوداؤد وابو یعلٰی والبیھقی بسند حسن صحیح عن ابی ھریرۃ ومعناہ لابن ماجۃ  عن  واثلثۃ بن الاسقع وللطبرانی فی الکبیری وابی نعیم فی الحیلۃ عن ابن عمر  رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین۔ واﷲ تعالٰی اعلم

ہر  مسلمان کے جنازہ کی نماز  تم  پر فرض  ہے وہ نیک ہو  یا بد، اگر چہ اس نے کبیرہ گناہ کئے ہوں۔

 (۱ ؎ سنن ابوداؤد        کتاب الجہاد         باب فی الغز مع ائمہ الجور        مطبوعہ آفتاب عالم  پریس لاہور    ۱ /۳۴۳)

( سنن الکبرٰی کتاب الصلوٰۃ    باب الصلوٰۃ خلف من لایحمد فعلہ    مطبوعہ دار صادر بیروت       ۳ /۱۱۲ و ۸ /۱۸۵)

اسے ابوداؤد ۔ابو یعلی اور بہقی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور معناً اسے ابن ماجہ نے حضرت واثلہ بن الاسقع رضی اﷲ تعالی عنہ سے اور طبرانی نے المعجم الکبیر میں اور ابو نعیم نے حلیہ میں حضرت ابن عمر  رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین سے روایت کیا ہے واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article جماعت کے وقت کسی کی تعظیم کے لئے کھڑے ہونے کا حکم مسجدکی توسیع میں ایک قبر بیچ میں آئےتوکیا کریں Next article
Rating 2.74/5
Rating: 2.7/5 (248 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu