• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Masjid / Waqf / مسجد، وقف > مسجدکی توسیع میں ایک قبر بیچ میں آئےتوکیا کریں

مسجدکی توسیع میں ایک قبر بیچ میں آئےتوکیا کریں

Published by Admin2 on 2012/11/15 (1078 reads)

مسئلہ ۱۱۷۳: منشی مردان علی از بجنور محلہ قاضی خاں:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جامع مسجد بجنور جو محلہ قاضیان میں واقع ہے اس کا فرش موجودہ شرقاً وغرباً یعنی عرض میں بہت کم ہے کہ جو بعض جمعہ کو نمازیوں کے لئے کافی نہیں ہوتا لہٰذا اس کے فرش بڑھانے کی تدبیر درپیش ہے درصورت بڑھانے فرش کے ایک قبر پختہ جس کا حضیرہ زمین سے قریب بارہ گرہ کے اونچا بناہوا ہے بیچ فرش میں پڑگئی، صاحبِ قبر کے انتقال کو قریب سو سال کے گزری ہوں گی لہٰذا علمائے دین کی خدمت میں التماس ہے کہ اس قبر کو کیا کیا جائے تاکہ نماز میں کچھ حرج نہ ہو، یا فرش کے براب کردی جائے یا اونچی رہنے دی جائے؟ درصورت بحالت موجودہ رکھنے قبر کے ، نماز میں کچھ حرج ہوگا یا نہیں؟ ورثائے صاحبِ قبر سوائے ایک شخص کے قبر کو برابر کرنے کے لئے راضی ہیں اگر برابر کرنا درست ہو تو یہ بھی مع حوالہ کتبِ فقہ تحریر کیا جائے کہ کتنے میعاد کے بعد برابر کرنا درست ہے ؟ بینوا تواجروا

الجواب: صورت مستفسرہ میں قبر مسلمان کو برابر کردینا کہ لوگ اس پر چلیں پھریں، اٹھیں بیٹھیں، نماز پڑھیں، محض حرام ہے۔کما نطقت بہ احادیث جمۃ وقد صرح علمائنا ان المرور فی سکۃ حادثہ فی المقابر حرام۱؎کما فی فتح القدیر وردالمحتار وغیرھما۔

جیسے کہ اس پر تمام احادیث شاہد عادل ہیں اور ہمارے علماء نے یہ تصریح کی ہے کہ قبرستان میں نئے بنائے گئے رستے پر چلنا حرام ہے، جیسا کہ فتح القدیر اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے ۔(ت)

( ۱ ؂ ردالمحتار    فصل الاستنجاء ،   داراحیاء التراث العربی بیروت ، ۱ /۲۲۹)

پھر اس برابر کرنے سے نماز کا بھی کچھ آرام نہیں بلکہ نقصان ہے کہ قبر پر نماز پڑھنا حرام ، اور قبر کی طرف بے حائل نماز پڑھنا بھی مسجد صغیر میں مطلقاً حرام اور کبیر میں اتنے فاصلے تک حرام کہ جب نماز خاشعین کی پڑھی اور قیام میں موضع سجود پر نطر جمائے تو قبر تک نگاہ پہنچے ، اور عام مساجد صغیر ہیں، مسجد کبیر ایسی ہے جیسے جامع خوارزم کہ سولہ ہزار ستون پر ہے ، اور قبر اس جگہ کا نام ہے جہاں میت دفن ہے، اوپر کا بلند نشان حقیقت قبر میں  داخل نہیں تو اس کے برابر کردینے سے قبر قبر ہی رہے گی غیر قبر نہ ہوجائے گی۔

ردالمحتار میں ہے:تکرہ الصلوٰۃ علیہ والیہ لو رودالنھی عن ذلک۲؎۔

قبر پر اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے کیونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے (ت)

 ( ۲ ؂ ردالمحتار    باب صلوٰۃ الجنائز ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ،  ۱/ ۶۶۷)

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیںـ:لعنۃ اﷲ علی الیھود النصارٰی اتخذوا قبورا انبیاء ھم مساجد۳؎ ۔ رواہ الشیخان وغیرھما عن ام المؤ منین الصدیقۃ وعبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم ۔

اﷲ تعالٰی کی لعنت ہو یہود و نصارٰی پر جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبور کو سجدہ گاہ بنالیا۔ اسے بخاری ومسلم نے ام المومنین حضرت عائشہ صایقہ اور حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ہے۔(ت)

 (۳ ؎ صحیح البخاری        کتاب الصلوٰۃ             مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی            ۱ /۶۲)

( صحیح مسلم         کتاب المساجد     باب النہی عن بناء المسجد علی القبور مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی    ۱/۲۰۱)

بلکہ اس کا طریق یہ ہے کہ قبر کو فرش کے برابر کریں اور اگر فرش اونچا ہوکر آئے گا تو قبر جس قدر نیچی ہو رہنے دیں اور اس کے گرداگرد ایک ایک بالشت کے فاصلے سے ایک چار دیواری  اٹھائیں کہ سطح قبر سے پاؤ گز یا زیادہ اونچی ہو، ان دیواروں پر پتھر ڈال دیں یا لکڑیاں چن کر پاٹ دیں کہ چھت ہوجائے ۔ اب یہ ایک مکان ہوگیا جس کے اندر قبر ہے، اب اس کی چھت پر اور اسی کی دیوار کی طرف ہر طرح نماز جائز ہوگئی کہ یہ نماز قبر پر یا قبر کی طرف نہ رہی بلکہ ایک مکان کی چھت پر یا اس کی دیوار کی جانب ہوئی اور اس میں حرج نہیں۔

مسلک متقسط( ف )میں ہے:ان کان بین القبر والمصلی حجاب فلا تکرہ الصلٰوۃ ۱؎۔

اگر قبر اور جائے نماز کے درمیان پردہ ہو تو نماز مکروہ نہ ہوگی۔ (ت)

 ( ۱ ؎ مسلک متقسط فی المنسک المتوسط مع ارشاد الساری    فصل ولیغتنم الخ    مطبوعہ دارلکتاب العربی بیروت    ص۳۴۲)

ف: کتاب مذکور کے الفاظ یوں ہیں: بل لایکون بینہ وبینہ من جدارہ والا فلا تکرہ الصلٰوۃ۔ نذیر احمد

خلاصہ و ذخیرہ وغیرہما میں ہے:ھذا اذالم یکن بین المصلی وھذہ المواضع حائل کا لحائط وان کان حائطاً لا تکرہ ۲؎۔

یہ اس وقت ہے جب جائے نماز اور ان مقامات کے درمیان پردہ مثلاً دیوار وغیرہ حائل نہ ہو، اور اگر دیوار ہے تو کراہت نہیں۔

 ( ۲ ؎ خلاصۃ الفتاوی            کتاب الصلوٰۃ    مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ        ۱ /۶۰)

اور بہتر یہ ہے کہ ان مختصر دیواروں میں جنوباً شمالاً دیوار جانب قبلہ میں بھی باریک جالیاں رکھیں، اس سے دو(۲) فائدے ہوں گے : اوّلاً میت کی قبر تک ہواؤں کا آنا جانا کہ بحکم حدیث موجب نزول رحمت ہے۔ دوم جالیاں دیکھ کر ہر شخص سمجھ لے گا کہ یہ قبر نہیں اور اس پر یا اس کی طرف نماز پڑھنے میں اندیشہ نہ کرے گا ورنہ ناواقف اُسے بھی قبر جان کر احتراز کرے گا اور صحن مسجد کے اندر اتنی جگہ تین چار گرہ بلندی رہنے کو جاہل نادانوں کی طرح ناگوار نہ جانیں کہ اس میں میت واحیا ومسجد وقبر کی بھلائی ہےکما اشرنا الیہ ( جیسا کہ ہم نے اسکی طرف اشارہ کیا ہے) واﷲ تعالٰی اعلم


Navigate through the articles
Previous article شراب بنانے والوں کے ساتھ نماز کے احکام
Rating 2.66/5
Rating: 2.7/5 (248 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu