• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > کیا رمضان کے آخری جمعہ کو قضائے عمری پڑھ سکتے ہیں؟

کیا رمضان کے آخری جمعہ کو قضائے عمری پڑھ سکتے ہیں؟

Published by Admin2 on 2012/11/20 (1715 reads)

مسئلہ ۱۲۰۱: از اوجین علاقہ گوالیار مکان میر خام علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ محمد یعقوب علی خان رمضان المبارک ۱۳۰۷ھ

چہ می فرمایند علمائے محقق دین ومفتیان مدقق پابند شرع متین دریں مسئلہ کہ اکثر عوام الناس درآخرر جمعہ رمضان المبارک نماز قضائے عمری پنجوقتہ متخلف امام می خوانند درست است یا ممنوع زیرا کہ نماز قضا بدون ادا ساقط و دورنمی شوداگرکسے بروز جمعہ آخری رمضاب شریف قضائے نماز تمام عمر بہ نیت قضائے عمری بخواہد کہ اداشود تعجب ست انتہی و نیز صورت نماز قضائے روز متفرقہ چیست یعنی قضائے عصریکے روز سہ شنبہ ونماز قضائے عصر دوم چہارشنبہ اگر ایں ہر دومردم نماز قضائے عصر جداگانہ بجماعت ادا نماز ینددرست ست یا منع چراکہ نماز ہر دومردم روز یکے نیست علاوہ بریں امام صاحب ترتیب ست و مقتدیان ازیں خوبی عاری پس چنیں امام قضائے یقینی مقتدیان کہ اکثر قضائے نماز ذمہ اوست فارغ الذمہ میشوند یا حکم آں چہ ۔اعنی پس ادا کنندہ نفل نماز فرض بچہ طور ادامی شودبشرح بسیط بیان فرمایند بحوالہ عبارت کتب رحمۃ ﷲ علیکم اجمعین۔

علمائے دین ومفتیان شرع میتن اس مسئلہ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ میں عوام الناس امام کی اقتداء میں پانچ وقتی نماز قضا عمری پڑھتے ہیں یہ درست ہے یا ممنوع؟ کیونکہ قضا نماز جب تک ادا نہ کی جائے ساقط نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی شخص رمضان کے آخری جمعہ کو تمام عمر کی قضا نمازوں کی نیت سے قضا عمری پڑھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ تمام عمر کی نمازیں ساقط ہوجائیں گی اس پر تعجب ہے انتہی ، مختلف دنوں کی نمازوں کی قضاء کی صورت کیا ہے؟ مثلاًایک آدمی کی منگل کی عصر اور دوسرے کی بدھ کی عصر قضا ہوگئی ہے اگر دونوں عصر کی قضا آپس میں باجماعت ادا کرتے ہیں تو یہ درست ہے یا ممنوع ؟ کیونکہ دونوں کی نماز ایک دن کی نہیں۔ علاوہ ازیں امام صاحب ترتیب ہے لیکن مقتدی صاحب ترتیب نہیں اس طرح کے امام کے پیچھے  مقتدیوں کی قضا نمازیں ساقط ہوجائینگی یا ان کا حکم کیا ہے یعنی نفل ادا کرنے سے فرض کس طرح ساقط ہوسکتے ہیں ؟ عبارت کتب کے حوالہ جات سے تفصیلاً بیان فرمائیں تم پر اﷲ کی رحمت ہو۔ (ت)

الجواب

ایں طریقہ کہ بہر تکفیر صلوات فائتہ احداث کردہ اند بدعت شنیعہ دردین نہادہ اند حدثیش موضوع و فعلش ممنوع وایں نیت واعتقاد باطل ومدفوع، اجماع مسلمین بربطلان ایں جہالت شنیعہ وضلالت فظیعہ قائم ست

حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمودہ اند : من نسی صلوٰۃ فلیصلہا اذا ذکرھا لا کفارۃ لھا الا ذلک۱؎

ہر کہ نمازے فراموش کردچوں یادآید آں نماز بازگزا ردجزایں مر اورا کفارہ نیست

اخرجہ احمد والبخاری ومسلم واللفظ لہ والتر مذی والنسائی وغیر ھم عن انس بن مالک رضی اﷲ عنہ۔

فوت شدہ نمازوں کے کفارہ کے طور پر یہ جو طریقہ ( قضائے عمری) ایجاد کرلیا گیا ہے یہ بد ترین بدعت ہے اس بارے میں جو روایت ہے وہ موضوع ( گھڑی ہوئی) ہے یہ عمل سخت ممنوع ہے ، ایسی نیت و اعتقاد باطل و مردود، اس جہالت قبیحہ اور واضح گمراہی کے بطلان پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے، حضور پر نور سید المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا رشاد گرامی ہے: جو شخص نماز بھول گیا تو جب اسے یاد آئے اسے ادا کرلے، اس کا کفارہ سوائے اس کی ادائیگی کے کچھ نہیں اسے امام احمد ، بخاری ، مسلم ( مذکورہ الفاظ بھی اس کے ہیں ) ترمذی ، نسائی اور دیگر محدثین نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔

(۱؎ صحیح البخاری    کتاب موقیت الصلوٰۃ    باب من نسی صلوٰۃ الخ    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۸۴)

(صحیح مسلم                باب قضاء الصلوٰۃ الفائتہ     نور محمد اصح المطابع کراچی        ۱/ ۲۴۱)

حدیث ''من قضی صلوٰۃ من الفرائض فی اخر جمعۃ من رمضان کان ذلک جابرا لکل صلوٰۃ فائتۃ فی عمرہ الی سبعین سنۃ'' باطل قطعا لانہ مناقض للاجماع علی ان شیأ من العبادات لاتقوم مقام فائتۃ سنوات ۱؎ الخ

امام ابن حجر مکی درتحفہ شرح منہاج الامام النووی باز علامہ زرقانی درشرح مواہب امام قسطلانی رحمہم اﷲ تعالٰی فرمایند:

علامہ قاری علیہ رحمۃ الباری موضوعات کبیر میں کہتے ہیں: حدیث '' جس نے رمضان کے آخری جمعہ میں ایک فرض نماز ادا کرلی اس سے اس کی ستر سال کی فوت شدہ نمازوں کا ازالہ ہوجاتا ہے '' یقینی طور پر باطل ہے کیونکہ اس اجماع کے مخالف ہے کہ عبادات میں سے کوئی شئی سابقہ سالوں کی فوت شدہ عبادات کے قائم مقام نہیں ہوسکتی الخ،

 (۱؎ الاسرار الموضوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ    حدیث ۹۵۳        مطبوعہ دارالکتب العربیۃ بیروت    ص ۲۴۲)

امام ابن حجر کی تحفہ شرح منہاج للامام النووی میں پھر علامہ زرقانی شرح مواہب امام قسطلانی رحمہم اﷲ تعالٰی میں فرماتے ہیں:اقبح من ذلک مااعتید فی بعض البلاد من صلوٰۃ الخمس فی ھذہ الجمعۃ عقب صلٰوتھا زاعمین انھا تکفر صلٰوۃ العام اوالعمر المتروکۃ و ذلک حرام لوجوہ لا تخفی ۲؎ ۔

اس سے بھی بدتر وہ طریقہ ہے جو بعض شہروں میں ایجاد کر لیا گیا ہے کہ جمعہ کے بعد پانچ نمازیں اس گمان سے ادا کرلی جائیں کہ اس سے سال یا سابقہ تمام عمر کی نمازوں کا کفارہ ہے اور یہ عمل ایسی وجوہ کی بنا پر حرام ہے جو نہایت ہی واضح ہیں۔

 (۲؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ    واما حفیظۃ رمضان    دارالمعرفۃ بیروت        ۷ /۱۱۰)

واقتدائے قاضی عصر امروز بقاضی عصر  دیرروز نارواست زیر اكہ اتحاد نماز شرط صحت اقتدا ست وہمچناں اقتدائے مفترض بمتنفل نیز کہ زنہار درست نباشدپس بدیں صورتہاذمہ از نماز فارغ نشود۔

باقی آج کی عصر قضا کرنے والے کی اقتداء میں کل کی عصر قضا کرنے والا نماز ادا نہیں کرسکتا کیونکہ اقتداء کے لئے نماز کاایک ہونا شرط ہے اور اسی طرح فرض پڑھنے والے کا نفل پڑھنے والے کی اقتداء کرنا ہر گز درست نہیں لہٰذا اس صورت میں نمازوں کا ذمہ ساقط نہیں ہوگا۔

فی نور الایضاح وشرحہ مراقی الفلاح شرط صحۃ الاقتداء ان لایکون الا مام مصلیا فرضا  غیرفرض الماموم کظھر وعصر وظھر ین من یومین ۱؎ اھ ملخصا

نورالایضاح اور اس کی شرحہ مراقی الفلاح میں ہے اقتدا کے لئے یہ شرط ہے کہ امام اور مقتدی کے فرائض الگ الگ نہ ہوں مثلاً ایک ظہر اور دوسرا عصر  یا دونوں دو (۲) دنوں کی ظہر ادا کر  رہے ہوں ( تو  پھر اقتداء جائز نہ ہوگی ) تلخیصا ،

 (۱؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    باب الا مامۃ        مطبوعہ نور محمد کا رخانہ تجارت کتب  کراچی     ص ۱۵۸)

وفی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمحتار لا مفترض بمتنفل ومفترض فرضا آخر کمصلی ظھر أ مس بمصلی ظھر الیوم، لان اتحاد الصلوتین شرط۲؎ انتھت ملخصۃ واﷲ تعالٰی اعلم

تنویر الابصار، درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ فرض ادا کرنے والا نفل پڑھنے والے کی اقتدا نہیں کرسکتا اسی طرح ایک اور فرض پڑھنے والا ہے دوسرا دوسرے فرض والا ہے ان کا ایک دوسرے کی اقتداء کرنا بھی جائز نہیں مثلاً کل کی ظہر  پڑھنے والے کی آج کی ظہر  پڑھنے والا اقتدا کرے کیونکہ دونوں کی نمازوں کا ایک ہونا شرط ہے انتہت تلخیصاً واﷲ تعالٰی اعلم

(۲؎ ردالمحتار معہ الدرالمختار         باب الا مامۃ         مطبوعہ  مصطفٰی البابی مصر        ۱/ ۴۲۹)


Navigate through the articles
Previous article مردے کی نماز کے کپڑے سے کرتا بنوانا کیسا؟ قضاعمری ادا کرنے کی حالت میں نفل قبول ہوں گے؟ Next article
Rating 2.78/5
Rating: 2.8/5 (252 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu