• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > میت کی طرف سے کفارہ کے متعلق حیلہ اور اسکا حکم؟

میت کی طرف سے کفارہ کے متعلق حیلہ اور اسکا حکم؟

Published by Admin2 on 2013/5/2 (1040 reads)

New Page 1

مسئلہ۱۲۱۴: از  دھولقہ ضلع احمد آباد گجرات     مسئولہ محمد یوسف صاحب ۲۲ ذی القعدہ ۱۳۳۶ھ

بخدمت ہادی برحق مولینٰا مولوی احمد رضا خان صاحب دام برکاتہ گزارش یہ ہے کہ ہم قصبہ دھولقہ کے رہنے والے ہیں ہم لوگ بالکل سیدھے سادھے لوگ اورصرف راہ حق کے تلاش کرنے والے ہیں ، کسی فریق پارٹی سے ہمیں کوئی لگاؤ یا تعلق نہیں، آپ کے حکم پر ہمیشہ گردن جھکانے کو تیار ہیں مگر ہم لوگوں اردو کی معمولی لیاقت کے اور علم نہیں ہے آپ کا ایک فتوی اول گجراتی کتاب میں چھپا ہے اور دوسری ایک تحریر مولوی علاء الدین صاحب پر آئی ہوئی چھپی ہے ، ان دونوں تحریروں کو سمجھنے کی ہم لوگ لیاقت نہیں رکھتے اس لئے خدمت والا میں عرض کرتے ہیں کہ ہمارے اس قصبہ میں چھبیس سیر گیہوں فی سیر ۸۰ روپیہ کے حساب سے اور نقد سوا روپیہ اور ایک کلام اﷲ شریف اتنی چیزوں کا حیلہ اس طرح کرتے ہیں کہ جنازہ کا امام کچھ پڑھتا ہے کیا پڑھتا ہے وہ ہمیں معلوم نہیں بعد پڑھنے کے حاضر فقیروں میں تین دور کرا دیتا ہے اور پھر وہ چیزیں امام وغیرہ بانٹ لیتے ہیں، یہ حیلہ شریعت کے مطابق ہے اور جائز ہے یا نہیں صرف مختصر جواب اردو آسان لفظوں میں ہوگا تو بھی ہماری کافی تسلی ہوگی۔

الجواب

امام جنازہ جو کچھ پڑھتا ہے اگر اس میں کوئی بات خلاف شرع نہ ہو ( مثلاً یہ نہ ہو کہ اس میت کے گناہ ہم نے اپنے سر لئے یا اس کا عذاب و ثواب ہمارے اوپر کہ ایسا کہنا شریعت میں حرام ہے) اور وہ لوگ جن پر ان چیزوں کا دور کراتاہے ، فقیر محتاج زکوٰۃ لینے کے قابل ہوں تو اس چھبیس سیر گیہوں کی جو قیمت وہاں اس وقت بازار کے بھاؤ سے ہو اور اس مصحف شریف کا جو ہدیہ وہاں اس وقت ہو اور وہ سوا روپیہ ان کے مجموعہ کو ان دور والے محتاجوں مصرف زکوٰۃ کے سہ چند میں ضرب دینے سے جو حاصل ہو یہ مال جتنے نمازوں کا کفارہ ہو اس قدر کا ہوگیا اگر میت پر زیادہ کفارہ تھا تو باقی اس کے ذمہ پر رہا مثلاً وہ گیہوں تین روپے کے ہوں اور وہ مصحف پونے تین روپے ہدیہ کا ہو تو یہ اور وہ سوا روپیہ مل کر سات روپیہ کا مال ہوا اب اگر دور میں اس فقیر میں اور ان پر تین بار دور ہوا  توگویا تیس فقیروں کو سات سات روپے دئے گئے مجموع دو سو دس روپے ہوئے ، میت پر نماز روزے وغیرہ کا مطالبہ اگر اس قدر یا اس سے کم تھا تو سب ادا ہوگیا اور زیادہ کا تھا تو جتنا زائد تھا باقی رہا مثلاً اس کے نماز روزوں کے حساب سے جتنے گیہوں کفارہ کے ہوتے ان کی قیمت وہاں سے وقت کے بھاؤ سے ہزار روپے تھی اور یہ دو سو دس روپے ہوئے تو سات سو نو روپے کا مطالبہ میت پر رہا اور اگر دور والوں میں بعض وہ ہوں کہ اگر چہ فقیر بنتے ہیں مگر مالدار ہیں حاجت اصلیہ کے علاوہ چھپن روپے کے مال کے مالک ہیں تو ان کے شامل ہونے سے دور میں حرج نہ آئے گا فقط اتنا ہو گا کہ دور میں ان کا شمار نہ ہوگا مثلاً دس فقیروں پر دور کیا اور ان میں تین غنی تھے سات ہی پر دور سمجھا جائے گا صورت مذکورہ میں تیس فقیروں کی جگہ اکیس ہی رکھے جائیں گے اور دو سو دس رو پے کی جگہ ایک سو سنتالیس روپے کا کفارہ ادا ہوگا ، ہاں اگر ان میں کوئی بھی محتاج نہ ہوا سب غنی تھے تو بیشک کفارہ بالکل ادا نہ ہوگا ، غرض یہ حیلہ یاتو بالکل کافی ہے جبکہ میت پر مطالبہ اسی قدر یا اس سے کم ہو ورنہ نافع ضرور ہے جبکہ ان دور والوں میں ایک بھی فقیر ہو کہ آخر کچھ نہ کچھ مطالبہ تو میّت پر سے کم ہوا، ہاں جیسے بہت عوام دور ہی نہیں کرتے ایک مصحف شریف دے دیا اور سمجھ لئے کہ عمر بھر کا کفارہ ادا ہوگیا یہ محض مہمل وباطل ہے ، یونہی یہاں جب پورے مطالبہ کے قدر نہ تو اس سے بالکل ادا سمجھ لینا غلط و باطل ہے پھر بھی اس سے اس حیلہ کا جتنا فائدہ ہے زائل نہیں ہوتا، بعض کو کل سمجھ لینا ان کی غلطی ہے جیسے کسی کے ہزار روپے زید پر قرض ہوں اور زید سو روپے ادا کرے اور سمجھ لے کہ سب ادا ہوگیا تو یہ اس کی غلطی ہے مگر اس غلطی کے سبب وہ سو روپیہ جو ادا کئے باطل نہ ہوجائیں گے وہ فائدہ اسے حاصل رہے گا کہ اب ۱۰۰۰ ہزار کی جگہ ۹۰۰ نو سو کا مطالبہ اس پر رہا ، بہر حال اس میں فائدہ ضرور ہے مگر اس طرح کی کوئی خلاف شرع بات نہ کہی جاتی ہو، جس کی مثال اوپر گزری ، بغیر اس کے اسے مطلقاً ناجائز بتانے والا محض غلطی پر ہے ، البتہ مسلمانوں کے مناسب یہ ہے کہ وہ طریقہ دور کا کریں جس سے میت پر سے باذنہٖ تعالٰی سب مطالبہ ادا ہوجائے اس کا بیان ہمارے فتوٰی میں مفصل موجود ہے اور اس پر یہ اعتراض کہ قرآن مجید کا صدقہ حرام بلکہ کفر ہے جہل وحماقت ہے ورنہ ۱؎ مسکین طالب علم کو قرآن مجید دینا حرام وکفر ہو، اسے صدقہ کہہ کر نہ دے ہبہ رکہے جب بھی تو صدقہ ہی ہوگا جیسا کہ فقہاء تصریح فرماتے ہیں ۔

درمختار میں ہے:الھبۃ للفقیر صدقۃ علی الغنی ھبۃ ۱؎ ۔ہبہ فقیر کے لئے صدقہ اور صدقہ غنی کے لئے ہبہ ہوجاتا ہے ۔ (ت)

 (۱؎ درمختار     کتاب الھبۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی  ۲/۱۶۱)

اور محقیقین کے نزدیک یہاں نفس قربت مؤ ثر وان کان الاثر اشد مع الا سقاط ( اگر چہ اثر اسقاط کے ساتھ اشد ہے ۔ ت)

فتح القدیر میں ہے:الذی نعقلہ ان کلامن التقرب و الاسقاط موثر  ۲؎۔ہم یہ سمجھے کہ تقرب اور اسقاط دونوں ہی مؤثر ہیں ۔( ت)

 (۲؎ فتح القدیر            نوریہ رضویہ سکھر     )

پھر قرآن مجید وقف کرنے کا جواز کتب مذہب میں مصرح ہے ۔

درمختار میں ہے :وفی الدرر  وقف مصحفا علی اھل مسجد للقرأۃ  ان یحصون جاز وان وقف علی المسجد جاز ویقرأ فیہ۳؎۔

درر میں ہے اگر کسی نے برائے تلاوت اہل مسجد کے لئے قرآن وقف کیا تو  وہ اسے محفوظ رکھیں تو جائز ہے اور اگر مسجد کے لئے وقف کیا تو بھی جائز ہے اور اس سے تلاوت بھی جائز  ہوگی ۔ (ت)

 (۳؎ درمختار    کتاب ا لوقف       مطبوعہ  مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۳۸۰)

ردالمحتار میں ہے :قولہ ان یحصون جاز ھذ االشرط مبنی علی ما ذکرہ شمس ا لائمۃ من الضابط و ھو انہ اذا ذکر للوقف مصرفا لا بد ان یکون فیھم تنصیص علی الحاجۃ حقیقۃ کا لفقراء اواستعمالا بین الناس کا لیتا می والزمنی لان الغالب فیھم الفقر فیصح للاغنیاء والفقراء منھم ان کانو ایحصون والا فلفقرائھم فقط ۴؎۔

ماتن کا قول'' اگر اسے  وہ محفوظ رکھیں'' یہ اس ضابطہ پر مبنی ہے جس کا تذکرہ شمس الائمہ نے کیا کہ جب واقف وقف کے لیے کوئی مصرف بیان کرے تو ضرور ہے کہ لوگوں میں اس کی حاجت و ضرورت بیان کرے خواہ وہ ضرورت حقیقۃً ہو مثلاً یتامی اور بے دست و پا لوگ کیونکہ ان میں اغلب طور  پر فقر ہوتا ہے پس اغنیاء و فقراء کے لئے یہ صحیح ہوگا جبکہ وہ اسے محفوظ رکھنے والے ہوں ورنہ فقط فقراء کیلئے ہوگا ۔ (ت)

 (۴؎ ردالمحتار     کتاب ا لوقف       مطبوعہ   مصطفی البابی مصر  ۳ /۴۱۱)

وقف بھی صدقہ ہی ہے بلکہ صدقہ جاریہ مستمرہ حتی کہ اگر خاص چند اغنیاء پر ہو جب بھی اس کا آخر فقراء کےلئے ہونا لازم ، صحیح بخاری وصحیح مسلم میں عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی:ان عمر  رضی اﷲ تعالی عنہ اصاب  ارضا بخیبر فاتی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یستا مرہ فیھا فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان شئت حبست اصلھا وتصدقت بھا قال فتصدق بھا عمر انہ لایباع ولا یوھب ولا یورث  و تصدق بھا فی الفقراء و فی القربی وفی الرقاب وفی سبیل اﷲ وابن السبیل والضیف  ۱؎ ۔

حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے خیبر میں کچھ زمین حاصل کی تورسالتمآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اس کے بارے میں آپ سے رہنمائی حاصل کی جائے ، تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ چاہیں تو اسے ( منتقل ہونے سے ) روک لیں اور صدقہ کردیں، حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اسے صدقہ کردیا اسی طرح کہ نہ اسے بیچا جائے گا نہ ہبہ کیا جائے گا ۔ اس میں وراثت جاری نہ ہوگی اور اسے فقرإ ، قریبی رشتہ دار ، غلاموں کی آزادی ، راہ خدا میں ، مسافروں اور مہمانوں کے لئے صدقہ کردیا ۔ (ت)

 (۱؎ صحیح مسلم     باب الوقف    مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی    ۲/۴۱)

یہ حدیث محرر المذہب سید نا امام محمد نے مبسوط میں یوں روایت فرمائی :اخبر نا صخر بن جویرۃ مولٰی عبد اﷲ بن عمران عمر بن الخطاب کان لہ ارض تدعی ثمغا وکان نخلا نفیسا فقال یا رسو ل اﷲ انی استفدت مالا ھو عندی نفیس افاصدق بہ فقال رسول اﷲ صلی علیہ وسلم تصدق با صلہ لایباع ولا یوھب ولا یورث ولکن تنفق ثمرتہ فتصدق بہ عمر فی سبیل اﷲ وفی الر قاب وللضیف وللمسافر و لابن السبیل ولذی القربی ۱؎ الحدیث۔

ہمیں صخر بن جویرہ جو کہ عبداﷲ بن عمر کے آزاد کردہ غلام تھے نے بیان کیا کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس ایک ثمغ نامی زمین کا ٹکڑا  تھا اور  وہاں نہایت اچھا کھجوروں کا باغ تھا انھوں نے حضور اکرم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کیا میں نے ایسا مال حاصل کیا ہے جو میرے نزدیک نہایت ہی قیمتی ہے کیا میں اسے صدقہ کردوں ؟ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا اصل صدقہ کردو اس طرح کہ نہ اسے بیچا جائے نہ ہبہ کیا جائے اور نہ ہی اس کا وارث بنایا جائے لیکن اس کا پھل خرچ کیا جائےحضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اسے راہ خدا غلاموں کی آزادی ،مہمان نوازی، مسافر ،ابن سبیل اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کردیا ۔ (ت)

 (۱؎ سنن الدارقطنی    باب کیف یکتب الحبس     مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان        ۴ /۱۹۳)

صحیح بخاری کے بھی بعض طرق میں بالفاظ امام محمد ہے : تصدق باصلہ لایباع  ۲؎ ۔ الحدیث (اس کا اصل صدقہ کردو  اسے فروخت نہ کیا جائے الحدیث ۔ ت)

 (۲؎ صحیح البخاری        باب الوقف وکیف یکتب    مطبوعہ      قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱۱ /۳۸۹)

مانعین ( ۳)  کیا کہتے ہیں اُس صورت میں جبکہ مثلاً کوئی اہل خیر سو (۱۰۰) مصحف شریف ان کے مدرسہ یا یتیم خانے میں بھیجے کہ ان میں غربا کے بچے اور یتامٰی پڑھاکریں اس کا یہ فعل حسن وباعث ثواب ہے  یا حرام وموجب عذاب بلکہ معاذ اﷲ کفر،  اور  (۴)اگر اس نے نذرمانی ہوکہ اﷲ تعالٰی کےلئے دس مصحف شریف فقرائے مسلمین کو دوں گا تو یہ نذر حلال ہے یا حرام وکفر، اور (۵)اگر  وصیت کی ہو کہ میری ملک کے مصاحف سب میرے بعد فقرائے مسلمین کے دے دئیے جائیں اور  وہ ثلث مال سے زائد نہ ہوں تو یہ وصیت صحیح  یا باطل اور یہ دینا وصی پر واجب ہے یا حرام، پھر یہ حکم صرف مصحف شریف کے لئے یا کتب حدیث وفقہ کے لئے بھی، طرفہ یہ کہ مانعین کے امام الطائفہ گنگوہی کے فتاوی حصہ  (۳)میں ہے :

سوال : خرید کر قرآن دینا درست ہے یا نہیں؟

جواب: زکوٰۃ کے روپے سے قرآن کتاب کپڑا وغیرہ جو کچھ خرید کر دے دیا جائے زکوٰۃ ادا ہوجاتی ہے اھ اور بات یہ ہے مانعین حقیقت امر سے غافل ہیں جو اس کی تحقیق بازغ کا طالب ہو  ہمارے فتاوی کی طرف رجوع کرے وباﷲ التوفیق واﷲ تعالٰی اعلم


Navigate through the articles
Previous article دیر تک جاگنے سے نماز قضا ہو تو کیا ادا کا ثواب ہے؟ الحمد پڑھنے کےبعد اگلی سورت سوچنے تاخیر ہوجائےتو Next article
Rating 2.83/5
Rating: 2.8/5 (265 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu