• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > فرض میںتمام رکعت میں سورت تلاوت کرے تو نماز کیسی

فرض میںتمام رکعت میں سورت تلاوت کرے تو نماز کیسی

Published by Admin2 on 2013/6/6 (967 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۲۳۰:    ۸ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ

چہ می فرمایند علمائے دین ومفتیان شرع متین اندریں صورت ( کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس صورت میں ۔ ت) کہ ایک شخص نماز فرض پڑھتا ہے اور اس نے سہواً پچھلی دورکعت میں بھی بعد الحمد کے ایک ایک سورت پڑھی بعدہ سلام پھیر ا اب اس کی نماز فرض ہوئی یا سنت ؟ جیسا ہو ویسا ہی ارقام فرمائے اور اگر وہ سجدہ سہو کرلیتا تو کیا اس کی نماز فرض ہوجاتی یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب

فرض ہوئی اور نماز میں کچھ خلل نہ آیا ، نہ اس پر سجدہ سہو تھا بلکہ اگر قصداً بھی فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملائی تو کچھ مضائقہ نہیں صرف خلاف اولٰی ہے، بلکہ بعض ائمہ نے اس کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی۔ فقیر کے نزدیک ظاہراً  یہ استحباب تنہا پڑھنے والے کے حق میں ہے امام کے لئے ضرور مکروہ ہے بلکہ مقتدیوں پر گراں گذرے تو حرام ۔

درمختار میں ہے:ضم سورۃ فی الاولیین من الفرض وھل یکرہ فی الاخر یین المختارلا۱؎ ۔ ملخصاً

فرض کی پہلی دو رکعات میں سورت کا ملانا، کیا آخری دو رکعتوں میں سورۃ ملانا مکروہ ہے ؟ مختار قول کے مطابق مکروہ نہیں ۔ ملخصاً (ت)

 (۱؎ درمختار    باب صضۃ الصلوٰۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۷۱)

ردالمحتار میں ہے ؛ای لایکرہ تحریما بل تنزیھا لا نہ خلاف السنۃ قال فی المنیۃ وشرحھا فان ضم السورۃ الی الفاتحۃ ساھیا یجب علیہ سجدتا السھو فی قولک ابی یوسف لتاخیر الرکوع عن محلہ وفی اظھر الروایات لایجب لان القرأۃفیھا مشروعۃ من غیر تقدیر والاقتصار علی الفاتحۃ مسنو ن لا واجب اھ

یعنی مکروہ تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے کیونکہ خلاف سنت ہے۔ منیہ اوراس کی شرح میں ہے اگر بھول کر فاتحہ کے ساتھ سورۃ ملائی تو امام ابویوسف کے قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو ہوگا کیونکہ رکوع اپنے مقام سے مؤخر ہوگیا ہے، اورا ظہر روایات کے مطابق اس پر سجدہ سہو لازم نہیں کیونکہ ان آخری رکعتوں میں بغیر مقرر کرنے کے قرأت مشروع ہے اور فاتحہ پر اکتفا سنت ہے واجب نہیں اھ

وفی البحر عن فخر الاسلام ان السورۃ مشروعۃ فی الاخریین نفلا وفی الذخیرہ انہ المختار وفی المحیط وھو الاصح اھ والظاھران المراد بقولہ نفلا الجواز ولامشروعۃ بمعنی عدم الحرمۃ فلا ینا فی کونہ خلاف الاولی کما افادہ فی الحلیۃ ۲؎ اھ ما فی ردالمحتار

اور بحر میں فخر الاسلام سے ہے کہ آخری رکعات میں سورۃ ملانا نفلی طور پر مشروع ہے۔ اور ذخیرہ میں ہے کہ مختار ہے۔ اور محیط میں اسی کو اصح کہا ہے اھ اور نفل سے واضح طور پر یہاں مراد جواز و مشروعیت بمعنی عدم حرمت ہے پس یہ اس کے خلافِ اولٰی ہونے کے منافی نہیں، جیسا کہ حلیہ میں ہے، ردالمحتار کی عبارت ختم ہوگئی۔

 (۲؎ ردالمحتار باب صضۃ الصلوٰۃ    مطبوعہ   مصطفی البابی مصر     ۱ /۳۳۸)

اقول لفظ الحلیۃ ثم الظاھر ابا حتھا کیف لاوقد تقدم من حدیث ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی صحیح مسلم وغیرہ انہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقرافی صلٰوۃ الظھر فی الرکعتین الاولین قدر ثلثین اٰیۃ وفی الآخریین قدر خمسۃ عشرۃ اٰیۃ اوقال نصف ذلک فلا جرم ان قال فخر الاسلام فی شرح الجامع الصغیر واما السورۃ فانھا مشروعۃ نفلا فی الاخریین حتی قلنا فی من قرأفی الاخریین لم یلزمہ سجدۃ سھو انتھی ثم یمکن ان یقال الاولٰی عدم الزیادۃ ویحمل علی الخروج مخرج البیان لذلک حدیث ابی قتادۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ( یرید ما قدم بروایۃ الصحیحین ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یقرأ فی الظھر فی الاولیین بام القراٰن وسورتین وفی الرکعتین الاخریین بام الکتاب الحدیث) وقول المصنف المذکور ( ای ولایزید علیھا شیأ) وقول غیر واحد من المشائخ کما فی الکافی وغیرہ ویقرأ فیھما بعدالاولیین الفاتحۃ فقط ویحمل علی بیان مجرد الجواز حدیث ابی سعید رضی اﷲ تعالٰی عنہ وقول فخر الاسلام فان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یفعل الجائز فقط فی بعض الاحیان تعلیما للجواز وغیرہ من غیر کراھۃ فی حقہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کما یفعل الجائز الاولی فی غالب الاحوال والفعل لاینا فی عدم الاولویۃ فیند فع بھذا ماعساہ یخال من المخالفۃ بین الحدیثین المذکورین و

وبین اقوال المشائخ واﷲ سبحٰنہ اعلم ۱؎اھ

اقول ( میں کہتا ہوں) کہ حلیہ کے الفاظ کہ پھر ظاہر سورت کا مباح ہونا ہے اور یہ کیسے نہ ہو کہ پیچھے صحیح مسلم وغیرہ کے حوالے سے گزرا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ظہرکی پہلی دورکعات میں تیس آیات اور آخری دو میں پندرہ آیات ( یا نصف) تلاوت فرماتے۔فخرالاسلام نے شرح الجامع الصغیر میں فرمایا آخری دورکعات میں سورت بطور نفل مشروع ہے حتی کہ اگر کسی نے سورت پڑھی تو ہم کہتے ہیں کہ اس پر سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا انتہی، پھر یہ کہنا ممکن ہے کہ عدم اضافہ (سورت) اولٰی ہے اور اس پر دلیل حدیث ابو قتادہ رضی اﷲ رتعالٰی عنہ ہے ( اس سے مراد وہ حدیث ہے جو بخاری و مسلم کے حوالے سے گزری کہ نبی اکرم صلی تعالٰی علیہ وسلم ظہر کی پہلی دو رکعات میں سورۃ فاتحہ اور دو سورتیں پڑھتے اورآخری دورکعتوں میں صرف فاتحہ پڑھتے ۔ الحدیث) اور مصنف کا قول مذکورہ ( یعنی اس (فاتحہ) پر اضافہ نہ کیا جائے) اور متعدد مشائخ کا قول جس طرح کافی وغیرہ میں ہے کہ پہلی دو رکعات کے بعد صرف فاتحہ پڑھی جائے اور حدیث ابو سعید رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو محض جواز بیان پر محمول کیا جائے، اورفخر الاسلام کاقول کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعض جائز افعال کو تعلیم جواز وغیرہ کے لئے بجا لائے جبکہ یہ آپ کے حق میں مکروہ نہیں جس طرح آپ جائز کو غالب اوقات بجالاتے تھے اور فعل عدم اولی کے منافی نہیں ہوتا، اس گفتگو سے وہ تمام معاملہ ختم ہوجاتا ہے جو خیال کیا گیا تھا کہ ان مذکورہ دونوں احادیث اور اقوالِ مشائخ میں مخالفت ہے اھ

 (۱؎ حلیہ المحلی شرح منیہ المصلی  )

ولعلک لایخفی علیک ان حمل المشروع نفلا علی مکروہ تنزیھا مستبعد جدا وقر أۃالسورۃ فی الاخر یین لیست فعلا مستحبا  مستقلا یعتریہ عدم الاولویۃ بعارض کصلٰوۃ نافلۃ مع بعض المکروھات وانما المستفاد من العلۃ ھھنا ھو  استحباب فعلھا فکیف یجامع عدم الاولویۃ والذی یظھر للعبد الضعیف ان سنیۃ الاقتصار علی الفاتحۃ انما تثبت عن المصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی الامامۃ فانہ لم یعھد منہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم صلٰوۃ مکتوبۃ الا اماما الانادرا فی غایۃ الندرۃ فیکرہ للامام الزیادۃ علیھا لا طالتہ علی مقتدین فوق السنۃ بل لو اطال الی حد الاستثقال کرہ تحریما اما المنفرد فقد قال فیہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلیطول ماشاء وزیادۃ خیر ولم یعرضہ مایعارض خیریتہ فلا یبعد ان  یکون نفلا فی حقہ فان حملنا کلام المشائخ علی الامام وکلام الا مام فخر الاسلام تصحیح الذخیرۃ والمحیط علی المنفرد حصل التوفیق وباﷲ التوفیق ھذا ماعندی واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔

شاید آپ  پر  یہ بات مخفی نہیں رہی کہ نفل مشروع کو مکروہ تنزیہی پر محمول کرنا نہایت ہی بعید ہے اور آخری رکعتوں میں سورت کا پڑھنا مستقل فعل مستحب نہیں کہ اسے کسی عارضہ کی وجہ سے عدم اولویت لاحق ہو جیسے کہ نفل نماز کسی مکروہ پر مشتمل ہو اور یہاں علت سے قرأت سورت کا استحباب ثابت ہو رہا ہے تو اب یہ عدم اولویت کے ساتھ کیسے جمع ہوسکتا ہے۔ اس عبد ضعیف پر  یہ چیز واضح ہوئی ہے کہ فاتحہ پر اکتفا کرنا نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے امامت کی صورت میں منقول ہے کیونکہ آپ کی فرض نماز جو بھی منقول ہے وہ امام ہونے کی صورت میں ہی ہے البتہ شاذونادر ہی کوئی فرض نماز اس کے علاوہ ہوگی لہذا امام کے لئے فاتحہ پر اضافہ مکروہ ہوگا کیونکہ یہاں مقتدیوں پر سنت سے بڑھ کر طوالت کی کہ مقتدیوں پر گراں گزری تویہ کراہت تحریمی ہوگی۔ اگر آدمی تنہا نماز ادا کررہا ہے تواس میں رسالتمآب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ نماز جتنی لمبی کرنا چاہے کرے، اور فاتحہ پر اضافہ خیر ہے اور اس کے خیر ہونے کے خلاف کوئی دلیل بھی نہیں تو منفرد کے حق میں اس اضافہ کا نفل ہونابعید نہیں ، اگر ہم کلام مشائخ کو امام پر اور امام فخر الاسلام اور تصحیح ذخیرہ اور محیط کو منفردپر محمول کرلیں تو موافقت پیدا ہوجائے گی اورتوفیق دینے والا اﷲ ہی ہے اور یہ میرے نزدیک ہے ۔ اﷲ تعالٰی ہی خوب جاننے والا ہے


Navigate through the articles
Previous article الحمد پڑھنے کےبعد اگلی سورت سوچنے تاخیر ہوجائےتو جسے بھولنے کا مرض ہو وہ نماز کیسے پڑھے Next article
Rating 3.05/5
Rating: 3.0/5 (232 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu