• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz / Salat / Prayer / نماز > جسے بھولنے کا مرض ہو وہ نماز کیسے پڑھے

جسے بھولنے کا مرض ہو وہ نماز کیسے پڑھے

Published by Admin2 on 2013/6/13 (998 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۲۴۶: ا زپنڈول بزرگ ڈاکخانہ رائے پور ضلع مظفر پور مسئولہ نعمت شاہ خاکی بوراہا  ۱۱محرم الحرام ۱۳۳۹

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کمال درجہ کا بھول رکھتا ہے نماز کے اندر وضو و تکبیر و رکوع وسجود وقیام بلکہ ہر رکعت نماز پنجوقتی میں بھول کے خوف سے بلند قرأت کے ساتھ پڑھتا ہے تاکہ ہم بھول نہ جائیں، کتنا ہی وہ شخص دل میں خیال وغور کرکے پڑھتاہے تاہم بھول جاتا ہے کچھ بھی خیال نہیں رہتا ہے اور وہ شخص جب نماز پڑھنے لگتا ہے تو ایک شخص کو اس غرض سے بٹھاتا ہے کہ جو کچھ سہو واقع ہو اس کوبتلاتا جائے اس شخص کو نماز کے اندر بہت پریشانی ہوتی ہے اس کے علاوہ وہ کہتا ہے کہ نماز چھوڑدوں پھر کہتا ہے کہ نماز کس طرح چھوڑوں، اور وہ شخص بہت تندرست اور مستقل مزاج ہے ،ایسی حالت میں اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔

الجواب

کسی شخص کو پاس بٹھا لینا اور اس کے بتانے پر نماز پڑھنا نماز باطل کرے گا، فجر و مغرب وعشاء میں منفرد کو بآواز پڑھنے کی اجازت ہے، ظہر و عصر میں صحیح مذہب پر اجازت نہیں، چارہ کار یہ ہے کہ وہ شخص جماعت میں مقتدی ہو کر پڑھے تو مقتدی کو قرا ت کرنی نہ ہوگی اور امام کے افعال اسے بتانے اور یاد دلانے والے ہوں گے، جماعت ویسے بھی واجب ہے، اور ایسے شخص پر تو نہایت اہم واجب ہے کہ بغیر اس کے اس کی نماز ٹھیک ہی نہیں، سنتیں اور نفل جو پڑھے ان میں کسی شخص کو امام کرلے کہ نفل محض میں تین  تك جماعت جائز ہے، اور جب کوئی شخص امامت کو نہ ملے اپنی یاد پر پڑھے رکعتوں میں اگر شبہہ ہو تو کم سمجھے، مثلاً ایک اور دو میں شبہہ ہو تو ایک سمجھے اور دو اور تین میں ہو تو دو، اور جہاں جہاں قعدہ اخیرہ کا شبہہ ہو تو وہاں بیٹھتا جائے اور اخیر میں سجدہ سہو کرے اور اگر کسی طرح اپنی یاد سے نماز ادا کرنے پر قادر ہی نہ ہو تو معاف ہے،

درمختار میں ہے: ( ولو اشتبہ علی مریض اعداد الرکعات والسجدات لنعاس یلحقہ لایلزمہ الادا ٕ) و لواداھا بتلقین غیرہ ینبغی ان یجزیہ کذافی القنیۃ ۱؎

 ( اگر کسی مریض پر بسبب اونگھ کے جو اسے لاحق ہوتی ہے رکعات وسجدوں کی تعداد میں اشتباہ  پیدا ہوگیا تو اس پر ادائے نماز لازم نہیں) اور اگر غیر کی تلقین کی بنا پر انھیں ادا کرلیا تو چاہئے کہ یہ اسے کافی ہو جیسا کہ قنیہ میں ہے،

 (۱؎ درمختار            باب صلوٰۃ المریض    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۰۴)

قال العلامۃ ط قد یقال انہ تعلیم وتعلم وھو مفسد کما اذا قرأمن المصحف او علمہ انسان القرأۃ  و ھو فی الصلاۃ ۲؎

علامہ طحطاوی نے فرمایا اس پر یہی اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ تعلیم وتعلم ہے جو کہ مفسد نماز ہوتا ہے جیسے کہ کسی آدمی نے مصحف سے  پڑھا یا اسے دوسرے آدمی نے قرأت سکھادی حالانکہ وہ نماز میں تھا،

 (۲؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار    باب صلوٰۃ المریض    مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت    ۱ /۳۱۹)

قال العلامۃ ش قالت وقد یقال انہ لیس بتعلیم وتعلم بل ھو تذکیر  او اعلام فھوکا علام المبلغ بانتقالا ت الامام فتأمل ۳؎ اھ

علامہ شامی نے فرمایا میں کہتا ہوں کہ کہا گیا ہے کہ تعلیم و تعلم نہیں بلکہ یاد دلانا اور اطلاع کرنا ہے پس یہ اسی طرح ہے جس طرح بڑے مجمع میں امام کے انتقالات کی اطلاع دینے والا ہوتا ہے فتامل اھ

 (۳؎ ردالمحتار            باب صلوٰۃ المریض    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۶۲)

و رأیتنی کتبت علیہ مانصہ اقول فیہ ان الفتح لایزید علی التذکیر بشیئ وقد قال قوم  وصح ان المقتدی اذا فتح علی امام بعد ما قرأ قدرالواجب تفسد صلٰوتہ لانہ تعلیم من دون ضرورۃ فان اخذبہ الامام فسدت صلٰوۃ الکل لانہ تعلم من دون ضرورۃ والقائلون بالجواز  ( وھو  المعتمد) انما اعتمد واعلی انہ للحاجۃ کما بینہ فی الحلیۃ مع الا اعتراف بانہ تعلیم وتعلم انی استشھد بخلافہ الیسوا قد اجمعوا أن لو فتح علی المصلی غیرہ فاخذ فسدت صلٰوتہ، وقد مرالتنصیص علی کل ذلک والاستشھادبالمبلغ لم یصادف محلہ فانھم جمیعا حینئذ فی صلٰوۃ واحدۃ فالصواب عندی الجواب بان ھذا لضرورۃ وھی تجلب التیسیر وبعد فیہ بعد کیف ولوجاز ( ھذا ) کان ینبغی ان یلزمہ الاداء کما یلزمہ التوجہ اذا وجد من یوجھہ ففی تجویزہ ابطال اصل المسئلۃ المنقولۃ فلا عبرۃ ببحث القنیۃ ۱؎

میں نے وہاں یہ حاشیہ تحریر کیا ہے اقول اس میں لقمہ دینا یاد دلانے سے زائد نہیں ہوتا اور ایک جماعت نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ مقتدی جب اپنے امام کو قدر واجب قرأت کے بعد لقمہ دے تو اس مقتدی کی نماز فاسد ہوجاتی ہے کیونکہ یہ بغیر ضرورت کے تعلیم ہے ایسی صورت میں اگر امام نے لقمہ لے لیا تو سب کی نماز فاسد ہوگی کیونکہ یہ بغیر ضرورت کے تعلم ہے اور جو جواز ( اور معتمد بھی یہی ہے ) کے قائل ہیں انھوں نے اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ضرورت کی وجہ سے ہے جیسا کہ حلیہ میں بیان کیا گیا ہے باوجود اس اعتراف کے کہ تعلیم وتعلم ہے، میں اس کے خلاف شہادت پیش کرتاہوں ، کیا فقہاء کا اس پر اجماع نہیں کہ اگر غیر نمازی نے نمازی کو لقمہ دیا اور اس نے قبول کرلیا تو نماز فاسد ہوجائیگی اور اس تمام گفتگو پر پہلے تصریحات گزر چکی ہیں اور مقتدی مکبر کو بطور استشہاد پیش کرتا ہے اپنے محل پر نہیں کیونکہ مذکور صورت میں تمام کی نماز ایک ہے لہذا میرے نزدیک درست جواب یہ ہے کہ یہ ضرورت ہے جو آسانی کا تقاضا کرتی ہے اور ابھی اس میں بُعد ہے ، کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ یہ جائز ہو تو مناسب تھا کہ اس  پر  ادا لازم ہو جس طرح تو جہ دلانے والے کی موجودگی میں توجہ کرنا لازم ہے لہذا اس کے جواز میں اصل منقول مسئلہ کا ابطال لازم آتا ہے اس لئے قنیہ کی بحث کا اعتبار نہیں ہوگا

 (۱؎ جدالممتار علٰی ردالمحتار    باب صلوٰۃ المریض    المجمع الاسلامی مبارك پور     ۱/۳۵۴)

وقد یقال عن ھذا الاخیرانہ قادر بقدرۃ غیرہ فلا یلزمہ وان فعل صح فلیتأمل حق التأمل۔ واﷲ تعالٰی اعلم

اور اس آخری مسئلہ ( جو اپنے آپ نماز درست نہیں کرسکتا ) کے بارے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ یہ دوسرے کی قدرت سے قادر ہوتا ہے اس لئے اس پر نماز کی صحت لازم نہیں اور اگر اس نے غیر سے اصلاح لے لی تو صحیح ہے، اس میں مکمل غور کرو، (ت) واﷲ تعالٰی اعلم


Navigate through the articles
Previous article پہلے قعدہ سے بھول کر کھڑا ہونے لگے تو کیا لوٹ آئے؟ ایک جھوٹ کی پکڑ Next article
Rating 2.76/5
Rating: 2.8/5 (213 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu