• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Qir'at/ Reciting / قراءت > کتب نظم و نثر میں آیت سجدہ لکھی ہو تو کیا سجدہ کریں؟

کتب نظم و نثر میں آیت سجدہ لکھی ہو تو کیا سجدہ کریں؟

Published by Admin2 on 2013/6/13 (1611 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ ۱۲۴۹: از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ مرسلہ جناب سيد محمد ابراہیم صاحب ہشتم ربیع الاول ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثر کتب نظم ونثر میں آیات سجدہ لکھی ہوتی ہےان کا کیا حکم ہے آیا سجدہ کرنا چاہئے یا نہیں؟ جیسے منقبت میں جناب مولوی عبدالقادر صاحب خصصہم اﷲ بالمواہب کا شعر ہے : ؂

                راہ حق میں کردیا سجدہ میں قربان اپنا سر

                ایسی واسجد واقترب کی کس نے کی تفسیر ہے

بینوا توجروا۔

الجواب

وجوب سجدہ تلاوت ، تلاوت کلمات معینہ قرآن مجید سے منوط ہے۔ وہ کلمات جب تلاوت کئے جائیں گے سجدہ تالی وسامع پر واجب ہوگا کسی نظم یا نثر کے ضمن میں آنے سے غایت یہ ہے کہ اول وآخر کچھ غیر عبارت مذکور ہوئی جسے ایجاب سجدہ میں دخل نہ تھا ، نہ یہ کہ حکم سجدہ کی رافع ومزیل ہو اُس کا ہونا نہ ہونا برابر ہوا جس طرح حرف اسی قدر کلمات تلاوت کریں اور اول وآخر کچھ نہ کہیں سجدہ تلاوت واجب ہوگا، ایسے ہی یہاں بھی کہ جس عبارت کا عدم وجودیکساں ہے وہ نظر سے ساقط اور حکم سکوت میں ہے وھذا ظاھر جدا (اور یہ نہایت واضح ہے ۔ت) ہاں قابل غور یہ بات ہے کہ سجدہ تلاوت کس قدر قرأت سے ہوتا ہے اصل مذہب وظاہرالروایہ میں ہے کہ ساری آیت بتما مہااس کا سبب ہے یہاں تک کہ اگر ایک حرف باقی رہ جائے گا سجدہ نہ آئے گا مثلاً اگر حج میں الم تر ان اﷲ سے ان اﷲیفعل ما تک پڑھ گیا سجدہ نہ ہوا جب تک یشاء بھی نہ پڑھے ، اور یہی مذہب آثار صحابہ عظام وتابعین کرام سے مستقاد اور ایسا ہی امام مالک وامام شافعی وغیرہما ائمہ کا ارشاد بلکہ ائمہ متقدین سے اس بارے میں اصلاً خلاف معلوم نہیں کتب اصحاب سے متون کہ نقل مذہب کے لئے موضوع ہیں قاطبۃً اسی طرف گئے اور دلائل وکلمات عامہ شروح کہ تحقیق وتنقیح کی متکفل ہیں اسی پر مبنی ومتبنی ہوئے اور اکابر اصحاب فتاوٰی بھی ان کے ساتھ ہیں ۔

وقایہ ونقایہ و ملتقی الابحر میں ہے:تجب علی من تلا آیۃ ۱؎ ۔ ( سجدہ آیت کی تلاوت کی وجہ سےواجب  ہوتا ہے۔ ت)

 (۱؎ شرح الوقایۃ      باب سجود التلاوۃ     مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی        ۱ /۲۲۹ )

کنز و وافی میں ہے:تجب باربع عشر آیۃ ۲؎ ( سجدہ تلاوت چودہ آیات کی وجہ سے لازم ہوتا ہے

 (۲؂ کنز الدقائق   باب سجود التلاوۃ  مطبوعہ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۵)

تنویر میں ہے :تجب سبب تلاوۃ آیۃ۳؎(سجدہ آیات کی تلاوت کی وجہ سے واجب ہوجاتا ہے ۔ 

 (۳؎ درمختار              باب سجود التلاوۃ  مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/۱۰۴)

غنیہ میں ہے :اذاقرأ  اٰیۃ السجدۃیجب علیہ ان یسجد ۴؎ اھ ملخصاجب کسی نے آیت سجدہ پڑھی تو اس پر سجدہ تلاوت کرنا لازم ہے اھ ملخصا (ت)

 (۴؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    باب سجود التلاوۃ  مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص ۴۹۸)

خانیہ میں ہے :سجدۃ التلاوۃ تجب علی من تجب علیہ الصلوۃ اذا قرأ السجدۃ اوسمعھا ۵؎۔

سجدہ تلاوت اس شخص پر واجب ہوتا ہے جس پر نماز واجب ہے جبکہ اس نے آیت سجدہ پڑھی یا سنی ۔ (ت)

 (۵؎ فتاوٰی قاضی خاں        فصل فی قرأۃ القرآن خطأ       مطبوعہ نولکشور لکھنؤ        ۱/۷۵)

برجندی شرح نقایہ فتاوٰی ظہیریہ امام ظہیر الملہ والدین مرغینانی سے ہے :المرادبالاٰیۃ اٰیۃ تامۃ حتی لوقرأ  اٰیۃ السجدۃ کلھا الا الحرف الذی فی اٰخرھا لا یسجد ۶؎ الخ

آیت سے مراد پوری آیت ہے حتی کہ کسی نے آیت پڑھی مگر اس کا اخری حرف نہ پڑھا تو سجدہ لازم نہیں الخ (ت)

 (۶؎ شرح نقایہ برجندی        فصل فی سجدۃ التلاوۃ          مطبوعہ نولکشور       ۱/۱۵۵)

ہدایہ میں ہے :موضع السجدۃ فی حم السجدہ عند قولہ تعالٰی لایسأ مون فی قول عمر رضی اﷲ تعالی عنہ وھوالماخوذ للاحتیاط ۱؎۔

حم السجدۃ میں حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے فرمان کے مطابق لایسأمون پر سجدہ ہے ۔احتیاط کی

بناء پر اسی پر عمل ہے۔ (ت)

 (۱؎ الہدایہ    فصل فی سجدۃ التلاوۃ     مطبوعہ نو لکشور لکھنؤ    ۱/۱۴۳)

فتح القدیر میں ہے :وجہہ انہ ان کان السجود عند تعبدون لایضرہ التاخیر الی الاٰیۃ بعدہ وان کان عند لایسامون  لم یکن السجود قبل مجز ئا۔ ۲؎

اس کی وجہ یہ ہے اگر سجدہ تعبدون پر لازم ہوجاتا ہے تو اس کے بعد آیت اسے نقصان دہ نہیں اور اگر سجدہ لایسأمون پر ہو تو اب پہلے ہونے کی وجہ سے کافی نہ ہوگا۔ (ت)

 (۲؎ فتح القدیر     فصل فی سجدۃ التلاوۃ مطبوعہ    نوریہ رضوریہ سکھر    ۱/۴۶۵)

کافی میں ہے :موضع السجدۃ فی حم عند قولہ لایسأمون وھو مذھب ابن عباس وقال الشافعی عند قولہ ان کنتم ایاہ تعبدون  وھو مذھب علی رضی اﷲ تعالی عنہم لان الامر بالسجود فیھا والاحتیاط فیما قلنا لیخرج عن الواجب بیقین فانھا ان کانت عند الاٰیۃ الثانیۃ والسجود قبلھا غیر جائز فلو سجد عند تعبدون لایخرج عن العھدۃ الخ ۳؎

سورہ حم میں سجدہ لایسأمون کے الفاظ پر ہے اور یہ حضرت ابن عباس کا مذہب ہے امام شافعی کے مطابق سجدہ ان کنتم ایاہ تعبدون کے الفاظ پر ہے اور حضرت علی رضی اﷲعنہ کا یہی مذہب ہے کیونکہ سجدہ کاحکم اسی میں ہے، اور احتیاط ہمارے قول میں ہے تاکہ مکلف سے واجب کی ادائیگی بالیقین ہوجائے کیونکہ اگر سجدہ دوسری آیت پر ہے تو اس سے پہلے سجدہ جائزنہیں لہذا اگرسجدہ تعبدون پر کیا تو مکلف اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآنہ ہوگا الخ (ت)

(۳؎ کافی شرح وافی)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article اگر یرزقکم کو یرزکم پڑھا جائے تو کیا خرابی ہے؟
Rating 2.67/5
Rating: 2.7/5 (258 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu