• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz-e-Musafir/ قصر نماز / مسافر کی نماز > ملازمت کے لئے مختلف سفر کرنے والے کی نماز کے احکام

ملازمت کے لئے مختلف سفر کرنے والے کی نماز کے احکام

Published by Admin2 on 2013/8/29 (2474 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ ۱۲۵۶: خلیل پور تحصیل گنور اسٹیشن ببرالہ لشکر سید محمد حسن صاحب ڈپٹی کلکٹر مرسلہ عظیم اﷲ خاں صاحب ۱۴ جمادی الآخرہ ۱۳۱۳ھ

بندہ نے بتقریب ملازمت انگریزی دورہ شروع کیاہے دو ماہ دورہ ہوگا، اور اصلی مقام سے ۳۴ کو س کے فاصلہ تک جانے کا ارادہ ہے ليكن اب تک ۳۰ کوس سے کم فاصلہ  پر رہا اورہمیشہ درمیان میں مقام اصلی کی واپسی کا ارادہ رہا اور واپس ہوتا رہا، اب اصلی مقام سے چل کر ریل کی سواری میں ۳۰ کوس سے زیادہ پہنچنے کا ارادہ ہے اور دورہ کے طورپر کہیں دو روز کہیں چار روز ٹھہرنا ہوگا ایسی حالت میں باعتبار مسافت سفر نماز میں قصر کرنا چاہئے یا اہل خبا کی طرح پوری نماز پڑھنا چاہئے، جناب دورہ وغیرہ کے حال سے واقف ہیں اگر سوال میں کچھ اجمال اطلاق رہا ہو تو اس کو جواب میں رفع فرمادیں اور مفصل عام فہم جواب بواپسی ڈاک ارشاد ہو منزل دس ۱۰کوس کی شمار ہوتی ہے یا نہیں بارہ ۱۲ کوس کی اب تک جو پوری نماز پڑھی یہ صحیح کیا ياغلط؟ والسلام خیر ختام

الجواب

دورہ غالباً جس طور پر ہوتا ہے کہ آٹھ آٹھ دس دس کوس نیت سے چلتے اور ایک جگہ پہنچ کر پھر دوسرے کو روانہ ہوتے ہیں یہ حالت سفر نہیں اگر چہ اس میں سوکوس کا فاصلہ ہوجاتے ، یونہی اگر اُس موضع بعید سے واپسی بھی اسی طریق دورہ ہو کہ یکے بعد دیگرے قریب قریب مقامات کے قصدسے چلتے ہوئے محل اقامت کے نزدیک آکر پلٹ آئیں تو اس رجوع میں بھی قصر نہیں، ہاں اگر جانے خواه  آنے کیسی محل اقامت بالخصوص ایسی جگہ کے عزم پر چلیں جو وہاں سے مدّت سفر پر ہو تو سفر متحقق اور قصر واجب ہوگا اسی طرح اگر دورہ کسی ایسے مقام پر ختم ہوا جہاں سے محلِ اقامت تین منزل ہے اب بخطِ مستقیم وہاں کو پلٹے تو بھی وہاں سے یہاں تک حلات سفر ہے ،   فتح القدیر میں ہے:

الخلیفۃ ان کان انما قصدالطواف فی ولایتہ فالاظھرانہ حینئذ غیر مسافر حتی لایقصر الصلوۃ فی طوافہ کالسائح ۱؎ اھ ملخصا ذکرہ فی باب الجمعۃ مسئلۃ تمصر منی فی الموسم ۔

حاکمِ وقت اپنی مملکت میں دورہ کرنے کی نیت سے سفر کرے تو وہ مسافر نہ ہوگا حتٰی کہ وہ سیاحت کرنے والے کی طرح نماز میں قصر نہیں کرسکتا اھ ملخصا، اسے صاحبِ فتح القدیر نے باب الجمعہ مسئلہ ''منٰی موسم حج میں شہربن جاتا ہے'' کے تحت ذکر کیا ہے( ت)

 (۱؎ فتح القدیر     باب صلوۃ الجمعہ   مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھرسندھ    ۲/ ۲۶)

اختیار شرح مختار وخزانۃ المفتین میں ہے :الخلیفۃ اذا سافر یقصر الصلٰوۃ الا اذا  طاف فی ولایتہ ۲؎۔حاکم جب سفر کرے تو وہ قصر کرے گا مگر اس صورت میں جب و ہ اپنی مملکت دورہ میں کررہا ہو تو پھر قصر نہیں کرسکتا (ت)

(۲؎ خزانۃ المفتین )

فتاوٰی بزازیہ میں ہے : خرج الامیر مع الجیش الطلب العد ولایقصر وان طال سیرہ وکذا اذا خرج لقصد مصردون مدۃ سفر ثم منہ الٰی اٰخ کذلک لعدم نیۃ السفر۳؎۔

امیر لشکر کے ساتھ دشمن کی طلب کے لئے نکلا تو قصر نہ کرے اگر چہ اس کا سفر کتنا ہی طویل ہو اور اس طرح اس صورت میں بھی قصر نہیں، جب وہ مدت سفر سے شہر کے ارادے سے نکلاپھر وہاں سے درسے ایسے شہر کی طرف چلا جو مدت سفر سے کم مسافت تھا کیونکہ اس میں نیت سفر نہ تھی۔(ت)

 (۳؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ   الثانی والعشرون فی السفر مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۷۲)

اسی میں ہے :وفی الرضوع لومن مدۃ سفر قصروا ۴؎۔اور رجو ع کی صورت میں اگر مدت سفر ہے تو نما ز میں قصر کرلیں (ت)

 ( ۴؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ    الثانی والعشرون فی السفر    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور     ۴ /۷۲)

اقول وباﷲ التوفیق ( میں اﷲ تعالٰی کی مدد سے کہتا ہوں ۔ت) تحقیق مقام یہ ہے کہ تحقیق سفر شرعی کے لئے نہ مجرد سیر بے قصد کا فی نہ تنہا قصد بے سیر بلکہ دونوں کا اجتماع ضرور

کما تفیدہ الا سفارقا طبۃ وبینہ فی خزانۃ المفیتن وغیرھا( جیسا کہ اس پر عبارات کتب شاہد ہیں اور اسے خزانۃ المفتین وغیرہ میں بیان کیا ہے۔ت) اور قصدسے مراد فی الحال مستبع فعل مقارن سیر ہے جسے عزم کہتے ہیں

کما یدل علیہ تعبیرھم جیمعا بلفظۃ الحال فی حد المسافر بمن جاوز عمران موطنہ قاصدا مسیرۃ ثلاثۃ ایام۔

جیسے کہ تمام فقہاء کا لفظ حال سے تعبیر کرنا اس پر دال ہے لہذا مسافر کی تعریف یوں کی گئی ہے ہر وہ شخص جو تین دن کے سفر کے ارادے سے اپنی آبادی سے نکل جائے (ت)

نہ قصدفی الاستقبال کہ بالاجماع کافی نہیں

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
غلام،آقا سفر کریں نماز قصر ہو گی یا حضر؟ Next article
Rating 2.80/5
Rating: 2.8/5 (281 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu