• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz-e-Musafir/ قصر نماز / مسافر کی نماز > غلام،آقا سفر کریں نماز قصر ہو گی یا حضر؟

غلام،آقا سفر کریں نماز قصر ہو گی یا حضر؟

Published by Admin2 on 2013/10/28 (997 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۲۶۴: از درؤ ضلع نینی تال ڈاک خانہ کچھا مرسلہ عبدالعزیز خاں۴ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص دو آدمیوں کا غلام تھا ہر دو مع غلام کے سفر کے گئے راستے میں دونوں نے قیام کیا ، ایک نے نیت اقامت کی دوسری نے نہ کی، اب وہ عبدِمشترک نماز قصری ادا کرے یا حضری، بینوا تو جروا

  الجواب

اگر وہ ان دونوں سے صرف ایک کے قبضہ میں ہے تو جس کے قبضہ میں ہے اسی کی نیت کا اعتبار ہے

لانہ حٍ لیس تابعا الالہ وسیاتیک مایفیدہ۔

کیونکہ وہ جس کا ہے اسی کا تابع ہوگا اور عنقریب اس پر مقید گفتگو آرہی ہے ۔(ت)

اور اگر دونوں کے قبضہ میں ہے تو اگر ان میں اس کی خدمت نوبت بہ نوبت قرار پائی ہے مثلاً ایک دن اِس کی خدمت کرے اور دوسرے دن اُس کی، تو ہر ایک کی نوبت میں اس کی نیت پر عمل کرے یعنی جس دن خدمت کی باری ہو غلام بھی اپنے آپ کو  مقیم سمجھے اور جس دن خدمت مسافر کی باری ہو اپنے آپ کو مسافر جانے، اور اگر باہم نوبت نہ قرار دی بلکہ یوں ہی دونوں کی خدمت میں ہے وہ من وجہ مقیم او رمن وجہ مسافر ہے قصر اصلاً نہ کرے اس لحاظ سے کہ اس کے ایک مولٰی نے نیت اقامت کی اور قعدہ اولٰی بھی اپنے اوپر فرض جانے اس نظر سے کہ دوسرے مولٰی کی نیتِ سفر ہے اور اس کے حق میں افضل یہ ہے کہ جہاں تک مل سکے کسی مقیم کی اقتداء وقت میں کرے ،

درمختار میں ہے :عبد مشترک بین مقیم ومسافران تھايأ  قصر فی نوبۃ المسافر والا یفرض علیہ القعود الاول ویتم احتیاطا ولا یأتم بمقیم اصلا وھو مما یلغز ۱؎۔

ایک غلام مقیم مسافر کے درمیان مشترک ہے، او ردونوں کی خدمت نوبت بہ نوبت قراردی گئی ہے تو مسافر کی نوبت میں قصر کرے ورنہ ( اگر باری نہ ٹھہرائی ہو) تو قعدہ اولٰی اس پر فرض ہوگا اور وہ نماز کا اتمام احتیاطاً کرے ( کیونکہ جب اس کے مالک دو ہیں تو وہ ایک لحاظ سے مقیم اور دوسرے کے اعتبار سے مسافر ) اور وہ کسی مقیم کے ساتھ اقتداء بالکل نہ کرے یہ غلام کے مسائل میں سے  پیچیده  مسئلہ ہے (ت)

 (۱؎ درمختار    باب صلٰوۃ المسافر    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۰۸)

ردالمحتار میں ہے :قولہ ولایأتم الخ فی شرح المنیۃ وعلی ھذا فلا یجوزلہ الاقتداء بالمقیم مطلقا فلیعلم ھذا اھ ای لا فی الوقت ولابعدہ ولا فی الشفع الاول ولافی الثانی ولعل وجھہ کما افادہ شیخنا ان القعدۃ  الاولی فرض علیہ ایضا الحاقہ بالمسافر فاذا اقتدی بمقیم یلزم اقتداء المفترض بالمتنفل فی حق القعدۃ الاولٰی اھ ۲؎۔

قولہ'' اور نہ اقتداء کرے الخ''شرح المنيہ میں ہے اور اس بنا پر لازم آتا ہے کہ اس کے لئے مقیم کی اقتداء کسی حال میں جائز نہ ہو، پس اسے اچھی طرح جان لینا چاہئے اھ یعنی نہ وقت میں اورنہ وقت کے بعد ، نہ شفع اول میں نہ ثانی میں ، شاید اس کی وجہ وہ ہی ہو جو ہمارے شیخ نے فرمائی کہ قعدہ اولٰی الحاق مسافر کی وجہ سے اس پر فرض تھا، پس جب اس نے مقیم کی اقتداء کی تواب قعدہ اولٰی کے لحاظ سے لازم آئے گا کہ ایک فرض ادا کرنے والا نفل ادا کرنے والے کی اقتداء کررہا ہے۔

( ۲ ؎ ردالمحتار     باب صلٰوۃ المسافر     مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۸۹)

اقول:لكن  قول شارح المنیۃ و علی ھذا الخ  يظہر منہ انہ تفریع من عندہ علی وجہ البحث  والافالذی رأیتہ فی التاترخانیۃ عن الحجۃ انہ ان لم یکن بالمھا یاۃ وھو فی ایدیھما فکل صلٰوۃ یصلیھا وحدہ یصلی اربعا و یقعد علی راس الرکعتین ویقرأ فی الاخريین وکذا اذا اقتدی بمسافر یصلی معہ رکعتین وفی قرأتہ فی الرکعتین اختلاف واما اذا اقتدی بمقیم فانہ یصلی اربعا بالا تفاق ۱؎ اھ مافی ردالمحتار ۔

اقول ( میں کہتا ہوں ) شارح المنیہ کے قول'' اور اس بنا پر الخ'' سے ظاہر ہوتا ہے کہ بطور   بحث یہ ان کی اپنی طرف سے تفریع ہے ورنہ میں نے جو تارتار خانیہ میں حجہ کے حوالے سے دیکھا ہے اگر وہ باری باری پابند نہیں اور وہ دونوں کے قبضہ ہے تو وہ ہر نماز تنہا چار رکعات ادا کرے اور ہر دو کے بعد بیٹھے اور آخری دورکعتوں میں قرأت کرے او راسی طرح جب کسی مسافر کی اقتداء کرے تو اس کے ساتھ دو رکعات اداکرے اور اس کے بعد دو رکعات میں قرأت کرنے میں اختلاف ہے لیکن جب وہ کسی مقیم کی اقتداء کرے تو وہ بالاتفاق چار رکعتیں ادا کرے گا ( ردالمحتار کی عبارت ختم ہوئی)

 (۱؎ ردالمحتار    باب صلٰوۃ المسافر    مطبوعہ مصطفی البابی مصر     ۱/۵۸۹)

فقیر کہتا ہے:غفر اﷲ تعالٰی لہ رأیتنی کتبت علی ھامش قولہ فاذا اقتدی بمقیم یلزم اقتداء المفترض الخ مانصہ اقول ھذا مما لست احصلہ فان المسافر من کل وجہ القعدۃ الاولی فریضۃ علیہ من کل وجہ، مع ذلک یجوز لہ الاقتداء بالمقیم اجماعا ولا یعد بذلک مفترضا خلف متنفل اذا اقتدی فی الوقت بل یقال ان فرضہ تحول بالقدوۃ رباعیا فلم تبق للقعدۃ الاولٰی فریضۃ علیہ لمصادفۃ المغیر محلہ القابل لہ حیث اتصل بالسبب اعنی الوقت بخلاف مااذا اقتدی بعد انقضا ءہ فاذاکان ھذا فی حقہ فکیف بمن لیس مسافرا من کل وجہ ولا القعدۃ  فریضۃ علیہ وجھا واحد ا فھذا ینبغی ان یومرباقتداء المقیم فی الوقت مھما وجد کی یخرج عن احتمال الاتمام فی السفر ۱؎ اھ ماحررتہ ولشدۃ وضوحہ وثبوت الروایۃ بل نقل الاتفاق علی جواز اقتدائہ با لمقیم جزمت بہ فان کان صوابا فمن ربی اﷲ وارجوان لایکون الا ایاہ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

اﷲ تعالٰی ان کی بخشش فرمائے، مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے ان کی اس عبارت'' جب اس نے کسی مقیم کی اقتداء کی تو فرض والے کی اقتداء لازم آئیگی ''الخ پر حاشیہ تحریر کیا اقول یہ ایسی چیز ہے جس سے مجھے کچھ اتفاق نہیں ہورہا ہے ، کیونکہ جو شخص ہر لحاظ سے فرض سے مسافر ہے اس پر بھی قعده اولٰی ہر لحاظ سے فرض ہے حالانکہ وہ بالاتفاق مقیم کی اقتداء کرسکتا ہے جب وقت میں ادا کرے تو اسے فرض والے کا نفل والے کی اقتداء کرنا شمار نہیں کیا جاتا بلکہ یہ کہا جائے گا کہ اقتدا کی وجہ سے اس پر فرض دو۲ کے بجائے چارہوگئے ہیں تو اب قعدہ اولٰی اس پر فرض نہیں رہا کیونکہ یہاں تبدیلی کے قابل محل میں تبدیلی پیدا کرنے والا پایا گیا ہےوہ ایسے کہ یہاں سبب ( وقت سے) متصل ہے بخلاف اس صورت کے کہ جب اقتداء وقت گزرنے کے بعد ہو، جب یہ معاملہ ہر لحاظ سے مسافر کا ہے تو اس کا حال کیا ہوگا جو ہر لحاظ  سے مسافر نہیں اور اس پر قعدہ کے فرض   ہونے کی ایک وجہ متعین نہیں لہذا اسے حکم دیا جائے کہ وہ مقیم کا ساتھ جب بھی پائے اس کی اقتداء کرے تاکہ سفرمیں احتمال اتمام سے خارج ہو جائے ( جو میں نے وہاں لکھا ختم ہوا) شدت وضوح ثبوت روایت بلکہ مقیم کی اقتدا کے جواز پر اتفاق منقول ہونے کی وجہ سے میں نے اسی پر جزم اختیار کیا ہے، پس اگر صواب ہے تو اﷲ تعالٰی کی طرف سے ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ صواب ہی ہوگا۔ (ت)

(۱؎ جدالممتار علی ردالمحتار    باب صلٰوۃ المسافر    المجمع الاسلامی بیروت    ۱ /۳۶۶)


Navigate through the articles
Previous article ملازمت کے لئے مختلف سفر کرنے والے کی نماز کے احکام
Rating 2.89/5
Rating: 2.9/5 (254 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu