• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz-e-Musafir/ قصر نماز / مسافر کی نماز > ایک ماہ کے ارادہ سے جائے تو نماز قصر ہو گی؟

ایک ماہ کے ارادہ سے جائے تو نماز قصر ہو گی؟

Published by Admin2 on 2013/10/28 (1901 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ ۱۲۶۶: ازپیلی بھیت مرسلہ حبیب احمد صاحب رضوی برکاتی۳۰ ذی الحجۃ الحرام ۱۳۳۶ھ

ایک شخص جنگل یا اسٹیشن پر جو جنگل میں واقع ہو ملازم ہے اور اس کو آقا جب بھیجتے ہیں تو کم از کم ایک ماہ

کے ارادہ سے بھیجتے ہیں تو اس ملازم پر نماز قصر ہے یا پوری؟ اور مندرجہ ذیل دلیلوں میں زید حق پر ہے یا عمرو؟

زید کا قول ہے کہ ملازم کو ہر حالت میں نماز کرنا چاہئے اگر چہ آقا ایک ماہ کے ارادے سے بھیجے کیونکہ اگر آقا چاہے تو آٹھ روز میں دُوسری جگہ منتقل کردے، دوسرے جنگل ہونے کی وجہ سے ہر حالت میں قصر واجب ہے کیونکہ واہاں آبادی نہیں ہے جو اقامت کی جگہ ہے، عمرو کی دلیل ہے کہ کل کام  ارادے کے لحاظ پر ہوتے ہیں یعنی جس وقت آقا بھیجتا ہے تو ایک ماہ کے ارادے سے بھیجتا ہے پر وہ چاہے ایک روز میں بلالے اس حالت میں ارادے کی وجہ سے نماز قصر نہیں ہوئی ، دوسرے جس جنگل میں اقامت نہیں ہوتی وُہ دوسرے جنگل ہیں اور ایسے جنگل یا اسٹیشن جو جنگل میں ہوں جہاں بیس پچیس انسان ہر وقت ہوں نیز ریلوے کے ملازم بھی اسٹیشن پر کام کرتے ہوں ( اگر آبادی گاؤں وہاں سے دوچار کوس پر ہوں) اقامت کو باطل نہیں کرتی ایسی جگہ ان میں قول کس کا درست ہے؟

الجواب

یہاں چند امور پر اطلاع لازم جن سے بعونہ تعالٰی انکشاف حکم ہو:

اول : اسٹیشن اگر چہ ابادی سے کچھ فاصلے پر ہوں وہاں عمارت ہوتی ہے سامان اقامت مہیا ہوتا ہے، ہاں اگر آبادی سے کوسوں دوری  ہے جنگل میں متعین ہوں جیسے بن کی لکڑی لینے والے، تو وہ محل اقامت0 نہیں اگر چہ خیمے ڈیرے ساتھ ہوں مگر ان کے لئے جن کی طرز معیشت ہی یہ ہو، جیسے سانسیے، درمختار میں ہے: اوینوی اقامۃ نصف شھر بموضع صالح لھا اوقریۃ اوصحراء دارناوھو من اھل الاخبیۃ ۱؎۔

یا وہ نصف ماہ اقامت کی نیت کسی ایسی جگہ کرے جو اقامت کی صلاحیت رکھتی ہو یا قریہ ہو یا ہمارے ملک کا صحرا ہو او رنیت کرنے والا خانہ بدوش ہو ( ت)

(۱؎ درمختار    باب صلٰوۃ المسافر    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۰۷)

علمگیری میں ہے :قال شمس الائمۃ الحلوانی عسکرالمسلمین اذا قصدوا موضعا ومعھم اخبیتھم وخیامھم وفساطیطھم فنزلوا مفازۃ فی الطریق ونصبوا الاخبیۃ والفساطیط وعزموا فیھا علی اقامۃ خمسۃ عشر یوما لم یصیروا مقیمین لانھا حمولۃ ولیست بمساکن کذافی المحیط ۱؎

شمس الائمہ حلوانی نے فرمایا کہ مسلمانوں کالشکر اگر کسی جگہ جائے او ران کے خیمے کا سامان ان کے ساتھ ہو، انھوں نے راہ جنگل میں پڑاؤ ڈالا اور وہاں خیمے وغیرہ نصب کئے او رپندرہ دن ٹھہرنے کا ارادہ کرلیا تو وہ مقیم نہیں ہوں گےکیونکہ وہ سامان اٹھانے والے ہیں وہاں ان کے گھر نہیں المحیط ۔ (ت)

(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ        باب الخامس عشر فی صلٰوۃ السافر     مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور   ۱ /۱۳۹)

دوم : نرے جنگل میں کہ نیت اقامت صحیح نہیں، مدت سفر چل لینے کے بعد ہے کہ تین منزل قطع کرچکا ہو، اب کسی جنگل میں ۱۵ دن یا زائد قیام کی نیت کرے تو مسافر رہے گا لیکن مدت سفر پوری ہونے سے پہلے جنگل میں بھی نیت اقامت صحیح ہے، مثلاً تین منزل کے ارادے پر چلا تھا ایک یا دو منزل چل کر نیت سفر قطع کی اور وہاں اقامت کی نیت کرلی مسافر نہ رہا نماز پوری پڑھے گا اگر چہ بن میں ہو،

درمختارمیں ہے :صلی الفرض الرباعی رکعتین حتی یدخل موضع مقامہ ان سار مدۃ السفروالا فیتم بمجرد نیۃ العود لعدم استحکام السفر ۲؎۔

 (مسافر) اپنے مقام پر واپسی تک چار فرض کے دو فرض اداکرے او رجب مدت سفر ہو ورنہ محض رجوع کی نیت سے پوری نماز ادا کرے کیونکہ سفر کا اثبات نہ ہوا ۔ (ت)

(۲؎ درمختار        باب صلٰوۃ المسافر         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی       ۱ /۱۰۷)

ردالمحتار میں ہے :ینوی بموضع صالح لھا ان سار ثلثۃ ایام والا فیتم ولوفی المفازۃ والحاصل ان نیۃ الا قامۃ قبل تمام المدۃ تکون نقضا للسفر کنیۃ العود الی بلدہ والسفر قبل استحکامہ یقبل النقض ۳؎ اھ ملتقطا

اگر ایسی جگہ نیتِ اقامت کی جو اقامت کی صالح تھی بشرطیکہ تین دن کا سفر طے کیا ہو ورنہ پوری نماز پڑھے اگر چہ جنگل میں ہو، حاصل یہ ہے کہ تمام مدت سے پہلے اقامت کی نیت سفر کو ختم کردیتی ہے جس طرح اپنے شہر کی طرف لوٹنے کی نیت سے سفر ختم ہوجاتا ہے جبکہ سفر اپنی مدت مکمل ہونے سے قبل کالعدم ہوسکتا ہے اھ ملتقطا (ت)

 (۳؎ ردالمحتار     باب صلٰوۃ المسافر      مطبوعہ  مصطفی البابی مصر   ۱ /۵۸۱)

معراج الدرایہ پھر علمگیریہ میں ہے :اذالم یسر ثلثۃ ایام فعزم علی الرجوع اونوی الاقامۃ یصیر مقیما وان کان فی المفازہ ۴؎ ۔

جب تین دن کا سفر طے نہ کیا اور رجوع کا عزم کرلیا یا اقامت کی نیت کرلی تو مقیم ہوجائے گا اگر چہ جنگل میں ہو۔ (ت) (۴؎ فتاوی ہندیۃ     باب الخامس عشر فی صلٰوۃ المسافر    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور   ۱/۱۳۹)

[pagebrek]

سوم: نوکر کی اپنی نیت معتبر نہ ہونی بلکہ نیت آقا کا تابع ہونا اُس حالت میں ہے کہ آقا کے ساتھ ہو ورنہ خود اس کی نیت معتبر ہے ،

تنویر الابصار وردالمحتار میں ہے :المعتبر نیۃ المتبوع لاالتابع کامرأۃ وفاھا مھرھا المعجل وعبد وجندی اذاکان یرتزق من الامیر اوبیت المال واجیر، مشاھرۃ اومسانھۃ، تارتار خانیہ واسیر و غریم وتلمیذ مع زوج ومولی وامیرو مستاجرو اٰسر ودائن واستاذ فقید المعیۃ ملاحظ فی تحقیق التبعیۃ ۱؎ اھ ملتقطا

سربراہ کی نیت کا اعتبار ہے تابع کا نہیں جیسا کہ وہ خاتوں جس کا مہر معجل ادا کردیا گیا اور غلام ، سپاہی اس وقت جب امیر سے یا بیت المال سے روزی لیتا ہویا ماہانا یا سالانہ مزدوری پر ہو تار تار خانیۃ۔ قیدی مقروض اور شاگرد جب یہ لوگ اپنے متبوع خاوند ،مولٰی ، مستاجر ، قید کرنے والا، قرض خواہ او راستاذ کے واتھ ہوں او رتانع ہونے کے اثبات کے لئے معیت کی قید ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا اھ ملتقطاً (ت)

 (۱؎ردالمحتار شرح الدرالمختار    باب صلٰوۃ المسافر       مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۵۸۷)

چہارم : مجرد احتمال کہ شاید آج چلاجانا ہو منافی اقامت نہیں اور اپنے وطن کے سوا آدمی کبھی کہیں مقیم نہ ہو اگر چہ سال بھر اقامت کی نیت کرے کہ کیا معلوم شاید آج ہی کوئی ضرورت سفر کی پیش آئے بلکہ اس کے لئے غلب گمان درکار ہے یقین کی حاجت نہیں کہ بے اعلام بنی غیب پر یقین کی کوئی صورت نہیں ،

تبیین الحقائق امام ز یلعی پھر ہندیہ میں ہے :لابد للمسافر من قصد مسافۃ ثلثۃ ایام ویکفی غلبۃ الظن یعنی اذا غلب علی ظنہ انی یسافر قصرو لایشترط فیہ التیقن ۲؎۔

مسافر کے لئے تین دن کی مسافت کا ارادہ ضروری ہے او رغلبہ ظن کافی ہوگا یعنی جب اس کا ظن غالب یہ ہو کہ سفر کرے گا تو قصر کرے کیونکہ یقین شرط نہیں۔ (ت)

(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    باب الخامس عشرفی صلٰوۃ المسافر      مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۳۹)

پنجم : نیت سچے عزم قلب کا نام ہے، پندرہ دن ٹھہر نے کا ارادہ کرلے ، اور جانتا ہے کہ اس سے پہلے چلے جانا ہے تو یہ نیت نہ ہوئی محض تخیل ہوا، یوں ہی دل میں عزم دوہی منزل کا ہے اور گھر سے تین منزل کا ارادہ کرلیا کہ آبادی سے نکل کر راہ میں قصر کی اجازت مل جائے ہر گز اجازت نہ ہوگی کہ یہ نیت نہیں وہی خیال بندی ہے، البتہ اگر دو۲  ہی منزل پر جاتا ہے اور سچّا ارادہ تین منزل کا کرلیا اورتین منزل جاکر ایک منزل اپنے محل مقصود کوواپس آیا اور یہاں پندرہ دن سے کم ٹھہر نا ہے تو جانے اور آنے اور ٹھہرتے قصر کرے گا کہ یہ سچی نیت ہوئی اگر چہ وہاں جانے سے کوئی کام نہ تھا ،

درمختار میں ہے:لودخل الحاج مکۃ ایام العشر لم تصح نیتۃ لانہ یخرج الٰی منٰی وعرفۃ ۱؎۔

اگر حاجی مکہ میں ذوالحج کے عشرہ میں داخل ہوا تو اس کی نیت اقامت درست نہ ہوگی کیونکہ اس نے منٰی اور عرفہ کی طرف نکلنا ہے ۔(ت)اگر حاجی مکہ میں ذوالحج کے عشرہ میں داخل ہوا تو اس کی نیت اقامت درست نہ ہوگی کیونکہ اس نے منٰی اور عرفہ کی طرف نکلنا ہے ۔(ت)

معراج الدرایہ پھر علمگیریہ میں ہے:قال اصحا بنا رحمھم اﷲ تعالٰی فی تاجردخل مدینۃ لحاجۃ نوی ان یقیم خمسۃ عشریوما لقضاء تلک الحاجۃ لایصیر مقیما لانہ متردد بینا ان یقضی حاجتہ فیرجع وبین ان لا یقضی فیقیم فلا تکون نیتہ مستقرۃ وھذا الفصل حجۃ علی من یقول من اراد الخروج الی مکان ویرید ان یترخص برخص السفرینوی مکانا ابعد منہ وھذاغلط ۲؎۔

ہمارے اصحاب رحمہم اﷲ تعالٰی نے فرمایا کہ وہ تاجرجوکسی شہرمیں کسی ضرورت کے لئے گیا اس نے حصول حاجت کے لئے پندرہ دن اقامت کی نیت کرلی تو وہ مقیم نہ ہوگا کیونکہ وہ متردد ہے اس بارے میں کہ اگر ابھی کام ہوجاتا ہے تو لوٹ جائے اور اگر نہیں ہوگا تو اقامت کرے تواس کی پختہ نیت نہ ہوئی، یہ صورت اس شخص کے خلاف حجت ہے جو کہتا ہے کہ جو کوئی کسی جگہ کی طرف نکلنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اسے سفر کی سہولت میسر ہو( حالانکہ وہ جگہ اتنی دور نہیں) تو وہ کسی دور جگہ کی نیت کرکے نکل پڑتا ہے تاکہ رخصت حاصل ہوجائے تو یہ غلط ہے ۔ (ت)

 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    باب الخامس عشر فی صلٰوۃ المسافر    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۱۴۰)

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article ملازمت کے لئے مختلف سفر کرنے والے کی نماز کے احکام
Rating 2.76/5
Rating: 2.8/5 (255 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu