• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Namaz-e-Musafir/ قصر نماز / مسافر کی نماز > بغیر متعین مدت کسی جگہ جائے تو نماز قصر کرے؟

بغیر متعین مدت کسی جگہ جائے تو نماز قصر کرے؟

Published by Admin2 on 2013/10/28 (919 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۲۷۰: از پیلی بھیت محلہ شیر محمد خاں مسئولہ حبیب احمد بریلوی ۲۵ ذی الحجہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص علاقہ نیپال کے جنگل میں منجانب تاجران لٹھ ملازم ہے اور ایسی جگہ رہنا ہوتا ہے جہاں سے ایک یا دہ میل یا کم وزیادہ کے فاصلے پر آبادی اور زراعت ہوتی ہے تا انگریزی عملداری کے جنگلات میں ملازم ہے جو بصورت متذکررہ بالا ہے یا اسٹیشن ریلوے جنگل میں ہے وہاں سے بھی دو یاتین میل کے فاصلہ پر آبادی اور زراعت ہے، اور آقا جب بھیجتا ہے تو کچھ مدت مقرر نہیں کرتا تو ان صورتوں میں ملازم کو نمازِ قصر ادا کرنا واجب ہے یا پوری ؟ اور اگر خود مختار ہے تو اس کو قصر پڑھنا چاہئے یا پوری؟ زید کا قول کہ نمازِ قصر ادا کرنا واجب ہے کیونکہ اول عملداری ہندو کی ہے یعنی نیپال ، دوسرے جگہِ اقامت پر نہ آبادی ہے نہ زراعت ہوتی ہے یعنی کچھ فاصلےپر ہے ، تیسرے یہ صورت اوّل میں خود مختار نہیں، آقا جب چاہے منتقل یا علیحدہ کرسکتا ہے اور علمداری انگریزی میں بھی اگر چہ اسٹیشن ہے مگر زراعت نہیں ہوتی ہے نوکری پر بوجہ مذکورہ خود مختار پر بوجہ نہ ہونے زراعت کے قصر واجب ہے ، اقامت کی شرائط میں زراعت بھی ہے، عمر کی دلیل یہ ہے کہ صورت مذکورہ بالاجن مقامات اقامت سے ایک میل یا کم یا زیادہ پر زراعت ہوتی ہے مگر فراہمی غلّہ وغیرہ میں کوئی دقت پیش نہیں آتی ہے، دوسرے مقامِ اقامت گو جنگل میں ہے مگر دس بیس پچاس آدمی ہمراہ ہوتے ہیں جو عرصہ تک ایک جگہ مقیم رہتے ہیں، جانور درندہ وغیرہ کا بالکل خوف نہیں ہوتا ہے، تیسرے یہ کہ کوئی آقا ملازم کو جب بھیجتا ہے تو کام ختم کرکے آنے تک کے لئے درمیان میں اگر ضرورت ہوئی تو وہاں سے منتقل یا علیحدہ کردیا یہ معتبر نہیں، اس صورت میں ارادہ ملازم کا معتبر ہے، اگر پندرہ یوم کا ارادہ ہے تو پوری اداکرے تو دونوں کی اقتداء درست ہے یا نہیں ؟ بینوا تو جروا

الجواب

جو مسافر نہ تھا اور اُس جنگل تک جانے میں بھی اُسے سفر کرنا نہ پڑا کہ فاصلہ تین منزل سے کم تھا ، وہ تو ظاہر ہے کہ مقیم تھا اور مقیم رہا اسے قصر حرام ہے اور پوری پڑھنی فرض ہے اگر چہ وہ جگہ نرا بَن ہو۔ بحر الرائق و ردالمحتار میں ہے : ھذا ان سارثلثۃ ایّام والا فتصح ولو فی المفازۃ ۱؎۔

یہ اس وقت ہے جب تین دن کاسفر طے کرلیا ہو ورنہ وہ مقیم ہوگا اگر چہ وہ جنگل میں ہو ۔ ت)

 (؂۱ردالمحتار       باب صلوۃ المسافر  مطبوع مصطفی البابی مصر       ۱/۵۸۱)

اور جو مسافر تھا وہاں تک جانے سے مسافر ہوا کہ فاصلہ تین منزل یا زائد کا تھا وہ ضرور مسافر ہے، اگر عادت معلوم ہے کہ جس کام کے لئے بھیجا گیا وہ پندرہ دن یا زائد میں ہوگا اور جگہ ایسی ہو جہاں اقامت ممکن ہے اگر چہ آبادی وہاں سے دوتین میل فاصلہ پر ہو اور زراعت نہ ہو وہاں پہنچ کر مقیم ہوجائے گا اور پوری پڑھنی لازم ہوگی خاص وہاں زراعت ہونا کچھ ضرور نہیں، نہ ہندو کی علمداری ہونا کچھ مانع کہ یہ آمدورفت امان کے ساتھ ہے اس سے تعرض نہیں کیا جاتا۔

درمختار میں ہے :من دخلھا بامان فانہ یتم۲۲؎ ( جو امان کی بنا پر داخل ہُوا وہ نمازی پوری پڑھے ۔ت)

 (۲؎ دُرمختار      باب صلٰوۃ المسافر     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۰۷)

اور یہ احتمال کہ شاید کوئی ضرورت پیش آئے اور جس کا نوکر ہے وہ دوسری جگہ بھیجے معتبر نہیں، ایسا احتمال ہر شخص کو ہر حال میں ہے، اور جب نوکر کا یہ حکم ہے تو خود مختار تو بدرجہ اولٰی جبکہ پندرہ دن یا زائد کی نیت کی ہو۔ واﷲ تعالٰی اعلم


Navigate through the articles
Previous article ملازمت کے لئے مختلف سفر کرنے والے کی نماز کے احکام
Rating 2.59/5
Rating: 2.6/5 (263 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu