• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > نماز جمعہ کی بابت سوال و جواب

نماز جمعہ کی بابت سوال و جواب

Published by Admin2 on 2013/10/28 (1666 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ ۱۲۸۰ و ۱۲۸۱ : از کلکتہ دھرم تلہ نمبر۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۲۶ صفر ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں:

(۱) قلعہ کلکتہ میں دروازوں پر پہرہ چوکی رہتا ہے اور دس پانچ کیا سو پچاس آدمی بغرضِ سیر جائیں یا دوسری غرض سے مثلاً کسی کے ملاقات کو ، تو کوئی مانع ومزاحم نہیں ہوتا، تین چار ہزار مزدور اندر کام کرتے ہیں جو صبح کو بے روک ٹوک اندر جاتے اور باہر آتے ہیں، ہاں شب کے ساڑھے نو بجے سے عام لوگ پانچ بجے تک اندر نہیں جاسکتے اند ربازار بھی ہے جوچاہے باہر سے اشیاء خریدنے کو جائے کچھ ممانعت نہیں ، انگریزی جو تا قلعہ میں عمدہ بنتا ہے اکثر لوگ اس کے خرید نے کو جاتے اور خرید کرلاتے ہیں، ہاں یہ قاعدہ ہے کہ باہر سے جو چاہے جو چیز چاہے اند رلے جائے مگر اند رسے بغیر پاس کے کوئی چیز باہر نہیں لاسکتا، مسجد اندر نہیں ہے، جماعت اذان کے ساتھ ہوتی ہے ، پیشترکی پلٹن میں مسلمان بکثرت تھے، نماز باجماعت ہوتی تھی اب جو پلٹن ہے اس میں ہندو بہت ہیں، مسلمان قریب ستر کے ہوں گے ، انھوں نے کرنیل سے درخواست کی کہ ہم اپنا مولوی نماز پڑھانے کی غرض سے رکھنا چاہتے ہیں اس نےاجازت دی اور انھوں نے رکھ لیا، ایک وقت میں ایک مسلمان صاحب نے جو پلٹن کے سپاہیوں میں نہیں بلکہ ایک جرنیل کے ملازم ہیں بعض مسائل میں دوسرے مسلمان سےحجت کی اور مارپیٹ ہوئی، کرنیل نے اُن تنہا مسلمان کو ان کی جماعت میں شریک ہونے سے ممانعت کردی اور ان سب سے کہہ دیا اگر یہ شخص تمھاری نماز کی جگہ آئے تو اس کو قید کرلو اور ہمارے پاس پہنچادو، ایسی حالت میں نماز جمعہ قلعہ کے اندر اداہوجائے گی یا نہیں؟

(۲) جمعہ کے دو رکعت فرضوں کے سوا کَے(کتنے) رکعت نماز سنت پڑھنا چاہئے ؟ فرضوں سے پہلے کَے رکعت اور بعد فرضوں کے کَے رکعت ؟ اور احتیاطی ظہر پڑھنے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب

اللھم ھدایۃ الحق والصواب( اے اﷲ! حق اور صواب کی ہدایت دے ۔ت) اذن عام کہ صحتِ جمعہ کے لئے شرط ہے، اُس کے یہ معنی کہ جمعہ قائم کرنے والوں کی طرف سے اُس شہر کے تمام اہل جمعہ کے لئے وقت جمعہ حاضری جمعہ کی اجازت عام ہو تووقت جمعہ کے سوا باقی اوقات نماز میں بھی بندش ہو تو کچھ مضرنہیں نہ کہ صرف رات کے ساڑھے نو بجے سے صبح پانچ بجے تک ، کتب مذہب میں تصریح ہے کہ بادشاہ اپنے قلعہ یا مکان میں حاضری جمعہ کا اذنِ عام دے کر جمعہ پڑھے تو صحیح ہے حالانکہ قصرو قلعہ شاہی عام اوقات میں گزرگاہ عام نہیں ہوسکتے ،

کافی شرح وافی میں ہے :السلطان اذا اراد ان یصلی بحشمہ فی دارہ فان فتح بابھا واذن للناس اذنا عاماجازت صلٰوتہ شھدتھا العامۃ اولا ۱؎۔بادشاہ اپنے دبدبہ کی وجہ سے اپنے دار میں نماز ادا کرنا چاہتاہو اگر اس دار کا دروازہ کھول دیا جائے اور لوگوں کو وہاں داخل ہونے کا اذن عام ہوگیا تو اس کی نماز درست ہوجائے گی خواہ عوام شریک ہوں یا نہ ہوں (ت)

 (۱؎ ردالمحتاار بحوالہ الکافی    باب الجمعۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۶۰۱)

اور بے پاس کسی چیز کی باہر لانے کی ممانعت تو یہاں سے کچھ علاقہ ہی رکھتی ہے کہ وہ خروج سے منع ہے نہ دخول سے یونہی مزدوروں یا سیر والوں یا خریداروں کو اجازت عام ہونا کچھ مفید نہیں کہ وقت نماز بہر نماز اہل نماز کو اجازت چاہیے اوروں کو ہونے نہ ہونے سے کیا کام ، اور اذن اگر چہ انھیں لوگوں کا شرط ہے جو اس جمعہ کی اقامت کرتے ہیں ،

ردالمحتار میں ہے :المراد الا ذن من مقیمھا۲؎ ( جمعہ قائم کرنے کی اجازت مراد ہے ۔ت)

 (۲؎ ردالمحتاار بحوالہ الکافی    باب الجمعۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۶۰۱)

مگر پر ظاہر کہ تحقق معنی اذن کے لئے اُ س مکان کا صالح اذن عام ہونا بھی ضرور ، ورنہ اگر کچھ لوگ قصر شاہی یاکسی امیر کے گھر میں جمع ہو کر اذان واعلان جمعہ پڑھیں اور اپنی طرف سے تمام اہل شہر کو آنے کی اجازت عامہ دے دیں

مگر بادشاہ امیر کی طرف سے دروازہ پر پہرے بیٹھے ہوں عام حاضری کی مزاحمت ہو تو مقیمین کا وہ اذن عام محض لفظ بے بمعنی ہوگا وہ زبان سے اذن عام کہتے اور دل میں خود جانتے ہوں گے کہ یہاں اذن عام نہیں ہوسکتا ۔ پس مانحن فیہ میں دو باتیں محلِ نظر رہیں :

اوّلا اُس قلعہ کا صالح اذن عام ہونا یعنی اگرتمام اہل شہر اُسی قلعہ میں جمعہ پڑھنا چاہیں تو کوئی ممانعت نہ کرے،

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
بعد جمعہ چار رکعت کی ہر رکعت میں سورت ملائیں؟ Next article
Rating 2.84/5
Rating: 2.8/5 (257 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu