• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > بعد جمعہ چار رکعت کی ہر رکعت میں سورت ملائیں؟

بعد جمعہ چار رکعت کی ہر رکعت میں سورت ملائیں؟

Published by Admin2 on 2013/10/31 (916 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۲۸۲: از بٹھورہ کلاں پر گنہ ضلع پیلی بھیت مرسلہ شیخ سالار بخش ۲۱جمادی الاولٰی  ۱۳۰۹ھ

کیا فرما تے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد نمازجمعہ چار رکعت فرض ظہر مثل نفل یعنی چاروں رکعتوں میں سُورت ملا کر پڑھنا چاہئے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب

وہ شہر وقصبات جن میں شرائط جمعہ کے اجتماع میں اشتباہ  واقع  ہو یا جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہو اور آج کل ہندوستان کے عام بلاد ایسے ہی ہیں ایسی جگہ ہمارے علمائے کرام نے حکم دیا ہے کہ بعد جمعہ چار رکعت فرض احتیاطی اس نیت سے ادا کرے کہ پچھلی وہ ظہر جس کا وقت میں نے پایا اور اب تک ادا نہ کی یہ چار رکعتیں چاروں سنت بعد یہ جمعہ کے بعد پڑھے اور جس پر ظہر کی قضائے عمری نہ ہو وہ چاروں میں سورت بھی ملائے  پھر جمعہ کی دو سنتیں ان رکعتوں کے بعد بہ نیت سنت وقت ادا کرے جمعہ پڑھتے  وقت نیت صحیح وثابت رکھے جمعہ کو صحیح سمجھ کر خاص فرض جمعہ کی نیت کرے اگر بہ نیت فرض ادا نہ کیا تو جمعہ یقینا نہ ہوگا اور اب یہ چار رکعتیں نری احتیاطی نہ رہیں گی بلکہ ظہر پڑھنی فرض ہوجائے گی، اور جب یوں نیتِ صحیحہ سے ادا کرچکا تو ان چار رکعتوں میں یہ نیت نہ کرے کہ آج کی ظہر پڑھتا ہوں بلکہ وہی گول نیت رکھے کہ جو پچھلی ظہر میں نے پائی اور ادا نہ کی اسے اداکرتا ہوں خواہ وہ کسی دن کی ہو اس سے زیادہ خیالات پریشان نہ کرے، یوں پڑھنے میں یہ نفع پائے گا کہ اگر شاید علم الہٰی  میں بوجہ فوت بعض شرائط جمعہ صحیح نہ ہوا ہوگا تو یہ رکعتیں آج ہی کی ظہر ہوجائیں گی کہ اس صورت میں یہی ظہر وہ پچھلی ہے جس کا وقت اُسے ملا اور ابھی ذمّہ سے ساقط نہ ہوئی اور اگر جمعہ صحیح واقع  ہوا تو آج سے پہلے کی جو ظہر اس کے ذمہ رہی ہوگی (خواہ یوں کہ سرے سے پڑھی ہی نہ تھی یا کسی وجہ سے فاسد ہوگئی ) وہ ادا ہوجائے گی اور اگر  کوئی ظہر نہ رہی ہوگی تو یہ رکعتیں نفل ہوجائیں گی ، اسی لحاظ سے جس پر قضائے عمری ظہر کی نہ ہو یہ چاروں رکعتیں بھری پڑھیں کہ اگر نفل ہوئیں اور سُورت نہ ملائی تو واجب چھوٹ کر نماز مکروہ تحریمی ہوگی، ہاں جس پر قضائے عمری ہے اسے پچھلی دو میں سورت ملانے کی حاجت نہیں کہ اس کے ہرطرح فرض ہی ادا ہوں گے، جمعہ نہ ہوا تو آج کے اور ہواتو آج سے پہلے کے یہ سب تفصیل واقع کے اعتبار سے ہے نمازی کو نیت میں اس شک وتردد کا حکم نہیں کہ نیت وتردد باہم منافی ہیں اگر یونہی مذبذب نیت کی تو وہ مقصود واحتیاط ہر گز حاصل نہ ہوگا لہذا اسی طرح گول نیت سے بے خیال تردد بجالائے اور واقع کا معاملہ علمِ الہٰی  پر چھوڑدے، پھر ایسی تصحیح نیت نرے جاہلوں کو ذرا دشوار ہے اور ان سے یہ بھی اندیشہ کہ اس کے سبب کہیں یہ نہ جاننے لگیں کہ جمعہ سرے سے خدا کے فرضوں  میں ہی نہیں سمجھنے لگیں کہ جمعہ کے دن دوہرے فرض ہیں دو رکعتیں الگ چار الگ اسی لئے علماء نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو ان رکعتوں کا حکم نہ دیا جائے ان کے حق میں یہی بہت ہے کہ بعض روایات پر اُن کی نماز ٹھیک ہوجائے انھیں ایسی احتیاط کی حاجت نہیں، ہاں خواص یعنی جو لوگ اس طرح کی نیت کرسکتے ہوں اور اُن سے وہ اندیشے نہ ہوں وہ یہ احتیاط بجالائیں تا کہ یقینا فرض خدا  ادا ہوجائے اور شبہ و احتمال کی گنجائش نہ رہے، فقیر اپنے فتاوٰی  میں یہ مسئلہ مفصل ومدلل لکھ چکا ہے یہاں صرف دوتین عبارات پر اقتصار ہوتا ہے،

فتاوٰی  علمگیری میں ہے :فی کل موضع وقع الشک فی جواز الجمعۃ لوقوع الشک فی المصرا وغیرہ  واقام اھلہ الجمعۃ ینبغی ان یصلوا بعد الجمعۃ اربع رکعات وینووا بھا الظھر حتی لو لم تقع الجمعۃ موقعھا یخرج عن عھدۃ فرض الوقت بیقین کذافی الکافی وھکذافی المحیط ثم اختلفوا فی نیتھا قیل ینوی اٰخرظھر علیہ وھو الاحسن والاحوط ان یقول نویت اٰخرظھر ادرکت وقتہ ولم اصلہ بعد کذا فی القنیۃ وفی فتاوی آھ و ینبغی ان یقرء الفاتحہ والسورۃ فی الاربع التی تصلی بعد الجمعۃ فی دیارنا کذا فی التاتار خانیۃ۱؎ ۔ہر وہ مقام جہاں پر جمعہ ہونے یا نہ ہونے میں شک کی وجہ سے جوازِ جمعہ میں شک ہوجائے وہاں جمعہ کے بعد

چار رکعات بہ نیت ظہر ادا کی جائیں تاکہ اگر جمعہ نہ ہوا تو وقتی فرض کی ادائیگی بالیقین ہوسکے ، الکافی، اور محیط میں بھی اسی طرح ہے ، پھر ان رکعات کی نیت کے بارے میں اختلاف ہے، بعض نے کہا کہ وہ ارادہ کرے کہ وہ اپنے ذمّے آخری ظہر ادا کررہا ہے اور یہی احسن ہے ، اور احوط یہ ہے کہ یوں ارادہ کرے میں آخری ظہر پڑھ رہا ہوں جس کا وقت میں نے پایا اور اسے ابھی تک ادا نہیں کیا، جیسا کہ قنیہ میں ہے، اور فتاوٰی  آہو میں ہے کہ ہمارے علاقے میں جمعہ کے بعد جو چار رکعات پڑھی جاتی ہے ان میں فاتحہ اور سورت پڑھنی چاہئے، جیساکہ تاتار خانیہ میں ہے۔(ت)

 (۱؎ فتاوٰی  ہندیۃ        الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعہ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۴۵)

حلیہ میں ہے  :قد یقع الشک فی صحۃ الجمعۃ بسبب فقد بعض شروطھا ومن ذلک مااذا تعددت فی المصروھی واقعۃ اھل مروفیفعل ما فعلوہ وقال المحسن امرائمتھم باداء الاربع بعد الجمعۃ حتما احتیاطا۲؎۔بعض شرائط جمعہ کے فقدان کی وجہ سے بعض اوقات صحتِ جمعہ میں شک ہوجاتا ہے ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہو اور اہل مرو کا واقعہ ہے، پس وہاں وہی کچھ کیا جائے گا جو انھوں نے کہا، محسن نے کہا کہ انھیں ائمہ نے احتیاطاً حتمی طور پر جمعہ کے بعد چار رکعات ادا کرنے کا حکم دیا۔ (ت)

(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

طحطاوی میں ہے :قال الحلبی الاولی ان یصلی بعد الجمعۃ سنتھا ثم الاربع بھذہ النیۃ ثم رکعتین سنۃ الوقت فان صحت الجمعۃ کان قد ادی سنتھا علی وجھہا والا فقد صلی الظھر مع سنتہ ابوالسعود ۱؎حلبی کہتے ہیں کہ اولٰی  یہ ہے کہ جمعہ کے بعد اس کی سنن ادا کرے پھر اس نیت سے چار رکعات پھر وقتی سنتیں دو رکعات ادا کرے ، پس اگر اب جمعہ صحیح ہوا تو اس کی سنن اپنے طریقے پر ہوئیں، اور اگر جمعہ نہ ہوا تو اس نے ظہر سنن کے ساتھ ادا کرلی ، ابوالسعود ۔ (ت) ( ۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار    باب الجمعۃ    مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۱ /۳۴۱)

مراقی الفلاح میں ہے  :بفعل الاربع مفسدۃ اعتقادالجھلۃ عدم فرض الجمعۃ اوتعدد المفروض فی وقتھا ولایفتی بالاربع  الا الخواص یکون فعلھم ایاھا فی منازلھم ۲؎ اھ  وبمثلہ صرح المحققون الآمرون کالمقدسی وغیرہ ۔ واﷲ تعالٰی  اعلم۔ان چار رکعات کی ادائیگی جاہل لوگوں کے اعتقاد میں فساد برپا کرے گی کہ جمعہ فرض ہے یا نہیں، یا ایک ہی وقت میں متعدد فرائض ہوسکتے ہیں، لہذا چار رکعات ظہر کا فتوٰی  صرف خواص کے لئے ہے اور ان کا فعل ( رکعات کی ادائیگی) بھی اپنے گھروں میں ہوگی اھ اسی کی مثل اس کا حکم دینے والے محققین مثلاً امام مقدسی وغیرہ نے کہا ہے ، (ت) واﷲ تعالٰی  اعلم

 (۲؎مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی     باب الجمعۃ    مطبوعہ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی   ص ۷۶۔۷۵ ۲)


Navigate through the articles
Previous article دیہات میں جمعہ کا حکم خطبہء جمعہ سے متعلق سوالات Next article
Rating 2.62/5
Rating: 2.6/5 (233 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu