• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > بعد جمعہ پندرہ آدمی جمع دوبارہ جمعہ پڑھ سکتے ہیں؟

بعد جمعہ پندرہ آدمی جمع دوبارہ جمعہ پڑھ سکتے ہیں؟

Published by Admin2 on 2013/10/31 (1472 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ ۱۳۰۱: از ریاست رامپو  ر محلہ ملا ظریف گھیر    منشی عبدالرحمن خاں مرحوم             مرسلہ مولوی عبدالرؤف صاحب  ۱۲ذیقعدہ ۱۳۱۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد میں آج جمعہ کے دن امام صاحب جمعہ مع خطبہ پڑھا کہ فارغ ہوئے، اب اُس  وقت پندرہ سولہ آدمی اسی مسجد میں بعد نمازِ جمعہ آگئے اب یہ آیندگان اسی مسجد میں پھر جمعہ پڑھیں یا ظہر، برتقدیر ثانی جماعت سے پڑھیں یا منفرد؟ عبدالحی صاحب مرحوم نے اپنے مجموعہ فتاوی میں لکھا ہے کہ وہ لوگ جمعہ پڑھیں گے دوسری مسجد میں افضل لکھا ہے اگر اسی مسجد میں پڑھیں کچھ حرج نہیں کرکے تحریر کیا ہے، مگر عالمگیری کی عبارت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دُوسرا جمعہ جائز نہیں بلکہ وہ لوگ فرادی فرادی نماز پڑھیں اس کی تحقیق کیا ہے؟ بینوا توجروا

الجواب

عالمگیری میں یہ مسئلہ خانیہ سے ماثور ہے اور اسی کی مثل فتاوی ظہیریہ وبحرالرائق و درمختار وغیرہا میں مذکور،

قال فی البحر قال فی الظھیریۃ جماعۃ فاتتھم الجمعۃ فی المصر فانھم یصلون الظھر بغیر اذان و لااقامۃ ولاجماعۃ ۲؎۔

بحر میں ہے کہ ظہیریہ میں فرمایا کہ اگر کسی شہر میں سے جماعت فوت ہوگئی تو بغیر اذان ، تکبیر اور جماعت کے ظہر ادا کریں۔ (ت)

(۲؎ بحرالرائق شرح کنز الدقائق       مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۵۴)

تصویر مسئلہ فوت جمعہ سے ہے اور وہ قول تو حّد پر تو ظاہر،وعلیہ یبتنی تعلیل الھدایۃ لمسألۃالمعذورین بقولہ لما فیہ من الاخلال بالجملۃ اذھی جامعۃ الجماعات ۱؎ اھ قال فی الفتح وتبع فی البحر ھذا الوجہ مبنی علی عدم جواز تعدد الجمعۃ فی المصر الواحد ۲؎ الخ زاد فی البحر وھو خلاف المنصوص علیہ روایۃ ودرایۃ ۳؎ اھ

اور ہدایہ میں مسئلہ معذورین کی ان الفاظ میں علّت بیان کرنا بھی اسی پر مبنی ہے کہ اس صورت میں جمعہ میں خلل آتا ہے حالانکہ وہ تمام جماعتوں کا جامع ہے اھ فتح میں کہا اور اسی کی اتباع بحر میں ہے کہ یہ وجہ ایک شہر میں متعدد جگہ جمعہ کے عدم جواز پر مبنی ہے الخ بحر میں اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ روایت ودرایت کے لحاظ سے یہ نص کے خلاف ہے اھ ______

 (۱؎ الہدایۃ            باب صلٰوۃالجمعۃ    ۱/ ۱۵۰)

(۲؎ فتح القدیر شرح الہدایۃ        باب صلٰوۃ الجمعۃ   ۲ /۳۵)

(۳؂ بحرالرائق شرح کنز الداقائق     باب صلٰوۃ الجمعۃ    ۱ /۱۵۴)

اقول : عللہ فی لھدایۃ بتعلیلین الاول ماذکر والثانی ماعولتم علیہ حیث قال بعدہ والمعذور قد یقتدی بہ غیرہ ۴؎ اھ ولا غر وتعلیل المسأالۃ علی کل من القولین علی ان قول التوحد ایضا قول قول فی المذھب کما یظھر مما علقنا علی ردالمحتار وقد اور دناہ فی فتاوٰنا والاعتراض بمثل ھذا علی مثل ھذا الامام من مثل ھذا الفاضل العلام مما بقضی الی العجب وقد تبع فیہ الفتح ولکن الفتح انما اقتصر علی ما قدمت ثم قال وعلی الروایۃ المختارۃ عند السرخسی وغیرہ من جواز تعدد ھا فوجھہ انہ ربما یتطرف غیر المعذور الی الاقتداء بھم ۵؎ الخ ولم یذکر ماذکر ھذا البحر فھو لیس بجرح بل شرح بتوزیع الدلیلین علی القولین واﷲ الموفق۔

اقول : ہدایہ میں اس کی دو علتیں بیان ہوئی ہیں ایک یہ جو مذکور ہے اور دوسری وہ جس پر تم نے اعتماد کیا وہاں اس کے بعد انھوں نے کہا کہ کبھی معذور کی غیر اقتداء کرلیتا ہے اھ اور کوئی حرج نہیں کیونکہ مسئلہ کی علت دونوں قولوں پر ہے ____ علاوہ ازیں قولِ توحد بھی مذہب میں قوی قول ہے جیسا کہ ہمارے حاشیہ ردالمحتار کی تحریر سے ظاہر ہوجاتا ہے اور ہم نے اسے اپنے فتاوٰی  میں ذکر کیا ہے ، اس طرح کا اعتراض ایسے امام پر اس طرح کے فاضل علام سے تعجب دارد، اورانہوں نے اس میں فتح کی اتباع کی ہے لیکن فتح نے اسی پر اکتفاء کیا ہے جو پچھے گزر چکا ہے، پھر کہا سرخسی وغیرہ کے نزدیک مختار روایت پر تعدد جمعہ کا جواز ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات معذور کو غیر معذور کی اقتداء لاحق ہوجاتی ہے اھ اور انہوں نے ذکر نہیں کیا جو بحر نے کیا ہے پس وہ جرح نہیں بلکہ دو اقوال کی دلیلوں کی تقسیم طور شرح ہے اور اﷲ ہی توفیق دینے والا ہے ۔(ت)

 (۴؂ الہدایۃ             باب صلٰوۃ الجمعۃ            ۱ /۱۵۰)

(۵؎ فتح القدیر        باب صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۳۵ )

اور قول معتمد تعدد پر بھی اُس میں صور متصور، ازانجملہ یہ کہ سب جگہ نماز ہوچکی اور باقی صرف تین آدمی ہیں اور جمعہ کے لئے کم سے کم چار درکار، بہر حال یہ مسئلہ عدم جواز تعدد جمعہ بمسجد واحد میں نص نہیں، اب سوال پر نظر کیجئے فتاوٰئے لکھنؤ بعض احباب سے منگا کر دیکھا گیا اُسی حکم پر نہ کوئی سند پیش کی ہے نہ کسی کتاب کا حوالہ دیا صرف  صحت تعدد فرضیت جمعہ پر بنائے کار کرکے لکھ دیا کہ اس وجہ سے لازم ہے اُن لوگو کو کہ جماعت سے خطبہ اور جمعہ ادا کریں مگر دوسری مسجد میں ہو تو اولٰی  ہے اور اگر اُسی مسجد میں ہو تو بھی کچھ حرج نہیں۔

اقول :  وباﷲ التوفیق ( میں اﷲ تعالٰی  کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ ت) صحتِ جمعہ کے لئے صرف جواز تعدد ہی کافی نہیں

 ع                    ہزار نکتہ باریک ترز مو اینجاست

( یہاں ہزار تکتہ ہے جو بال سے بھی زیادہ باریک ہے )

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article دیہات میں جمعہ کا حکم خطبہء جمعہ سے متعلق سوالات Next article
Rating 2.82/5
Rating: 2.8/5 (272 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu