• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > ایک مسجد میں دو دفعہ جمعہ کا حکم

ایک مسجد میں دو دفعہ جمعہ کا حکم

Published by Admin2 on 2013/10/31 (953 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۳۰۲: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسجد میں دو امام درمیان میں پردہ ڈال کر جمعہ پڑھانا جائز ہوگا یا نہیں ؟

(۲) ایک مسجد میں دو دفعہ جمعہ پڑھنا جائز ہوگا یانہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب

عدمِ جواز بمعنی گناہ تو جمیع فرائض میں ہے صورتِ سوال سے ظاہر کہ دیدہ ودانستہ دو جماعتیں بالقصد اس طرح کیں اور کسی فرض کی دوجماعتیں ایک مسجد ایک وقت میں بالقصد قائم کرنا ہر گز جائز نہیں، دونوں فریق  یالاقل دونوں میں سے ایک ضرور گنہگار ہوگا کہ جماعت فرائض کی ایسی تفریق صراحۃً بدعت سئیہ شنیعہ ہے، اگر دونوں امام میں صرف ایک صالح امامت بلا کراہت ہے، مثلاً دُوسرا فاسق معلن یا بد مذہب ہے جب تو کراہت صرف اس دوسرے پر ہے، اور اگر دونوں صالح تو جس کی نیت پہلے بندھ گئی اس پر الزام نہیں دوسرے پر ہے ، اور معاً باندھیں تو دونوں پر ۔

خلاصہ و ہندیہ میں ہے : قوم جلوس فی المسجد الداخل وقوم فی المسجد الخارج اقام المؤذن فقام امام من اھل الخارج وأمھم وقام امام من اھل الداخل فأمھم من  یسبق بالشروع فھو والمقتدون بہ لاکراھۃ فی حقھم۔ ۲؎

کچھ لوگ مسجد داخل میں اور کچھ لوگ مسجد خارج میں بیٹھے تھے مؤذن نے تکبیر کہی ، اہلِ خارج میں سے امام نے اور اہل داخل میں سے بھی امام نے جماعت کرائی، ان میں سے جس نے پہلے شروع کی وہ امام اور اسی کے لوگ مقتدی ہوں گے اور ان کے حق میں کوئی کراہت نہیں ۔ (ت)

 (۲؎ فتاوٰی  ہندیۃ    الباب الخامس فی الامامت    فصل ثانی    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۸۴)

ردالمحتار باب ادراک الفریضہ میں ہے : لوکان مقتد ئابمن یکرہ الاقتداء بہ ثم شرع من لا کراھۃ فیہ ھل یقطع ویقتدی بہ استظھر ط ان الاول لوفاسقا لا یقطع ولو مخالفا وشک فی مراعاتہ یقطع اقول والاظھر العکس لان الثانی فی کراھۃ تنزیھیۃ کالاعمی والاعرابی بخلاف الفاسق ۱؎ الخ

اگر کسی نے ایسے شخص کی اقتداء کی جس کی اقتدامکروہ تھی پھر ایسے امام نے جماعت شروع کی جس میں کراہت نہ تھی تو کیا وہ مقتدی قطع کر کے دوسرے کی اقتداء کرئے، ط نے اس کو ظاہر کہا کہ اول اگر فاسق ہے تو قطع نہ کرے اور اگر مخالف مسلک رکھتا ہے اور اس سے دوسرے مسلک کی رعایت مشکوک ہے تو پھر قطع کرے، اقول اس کا عکس اظہر ہے کیونکہ دوسرے میں کراہت تنزیہی ہے جیسا کہ نابینا یا اعرابی میں ہے بخلاف فاسق کے الخ۔ (ت)

 (۱؎ ردالمحتار    باب ادراک الفریضہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱ /۵۲۵)

اور جمعہ میں تو جواز بمعنی صحت ہی نہیں کم سے کم ایک فریق کا جمعہ سرے سے ادا ہی نہ ہوگا، صحتِ جمعہ کی شرائط سے ایک یہ بھی ہے کہ بادشاہِ اسلام یا اس کامامور اقامت کرے یعنی سلطان خود یا اُس کا ماذون خطبہ پڑھے، امامت کرے اور جہاں یہ صورت متعذر ہو جیسے ان بلادِ ہندوستان میں کہ ہنوز دارالاسلام ہے وہاں بضرورت نصب عامہ کی اجازت یعنی عام مسلمین جسے امام مقرر کرلیں۔

فی التویر والدر یشترط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا وقالوا یقیمھا امیر البدر ثم الشرطی ثم القاضی ثم من ولاہ قاضی القضاۃ ونصب العامۃ غیر معتبرمع وجود من ذکر امامع عدمھم فیجوز للضرورۃ ۲؎ اھ ملتقطا

تنویر اور در میں ہے کہ صحت جمعہ کے لئے سلطان یا اس کی اقامت کے لئے سلطان کا مامور ہونا شرط ہونا ضروری ہے ، فقہا نے فرمایا ہے کہ جمعہ شہر کا امیر، پھر محاسب پھر قاضی پھر وہ شخص قائم کرسکتا ہے جس کو قاضی القضاۃ نے مقرر کیا ہو، ان لوگوں کی موجودگی میں عوام کا تقرر معتبر نہیں البتہ جب ان میں سے کوئی نہ ہو تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا اھ ملتقطا (ت)

 (۲؎ درمختار    باب الجمعہ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱/ ۱۱۰۔ ۱۰۹)

پر ظاہر کہ کسی مسجد کے لئے دواماً جمعہ علٰی وجہ الاجتماع کہ دونوں امامت جمعہ واحدہ کریں مقرر نہیں ہوتے خصوصاً ہمارے بلاد میں امر اور بھی اظہر کہ نصب عامہ صرف بضرورت اقامت شعار معتبر، اور یہ ضرورت امام واحد سے مرتفع ، تو ایک جمعہ میں ایک مسجد میں دو امام کا جمع باطل ومتدفع، پس صورتِ مستفسرہ میں اُن دونوں میں جو اُس مسجد کا امام معین جمعہ نہ تھا اُس کا اور اس کے مقتدیوں کا جمعہ ادا نہ ہوا، اور اگر دونوں نہ تھے تو کسی کانہ ہوا، یہیں سے صورتِ اخیرہ کا جواب بھی ظاہر، اور اگر بفرض باطل صورت صحت تسلیم بھی ہو جو ہرگز لائق تسلیم نہیں تو اس کے سخت مخالف مقصود شرع وبدعت شنیعہ سیسہ ہونے میں کلام نہیں، جمعہ میں ایک مذہب قوی یہ ہے کہ شہر بھر میں ایک ہی جگہ ہوسکتا ہے اور بعض نے دوجگہ اجازت دی اور بعض نے بیچ میں نہر فاصل ہونے کی شرط کی، مفتی بہ جواز تعدد ہے مگر یہ تعدد کہ ایک ہی دن ہی مسجد میں دس بار امامتِ جمعہ ہو کہ جیسے دو۲  ویسی ہی سو ۱۰۰، یہ بلاشبہ ابتداع فی الدین ہے واﷲ تعالٰی اعلم


Navigate through the articles
Previous article دیہات میں جمعہ کا حکم خطبہء جمعہ سے متعلق سوالات Next article
Rating 2.64/5
Rating: 2.6/5 (242 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu