• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > خطبہء جمعہ کا اردو میں ترجمہ کرنا کیسا ہے؟

خطبہء جمعہ کا اردو میں ترجمہ کرنا کیسا ہے؟

Published by Admin2 on 2013/10/31 (1600 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ۱۳۰۳: از کانپور محلہ جرنیل گنج مسجد حاجی فرحت مرسلہ شیخ محمد سہول ۱۸ محرم الحرام ۱۳۱۶ھ

ماقولکم ایھا العلماء لکرام ( اے علمائے کرام ! تمھارا قول کیا ہے ۔ت) اس مسئلہ میں کہ خطبہ یا عیدین کو عربی میں پڑھ کر اُردو ترجمہ کرنا یا صرف اردو میں بطور وعظ کے خطبہ ادا کرنا یا بعض حصہ عربی و بعض اردو میں پڑھنا یا چند اشعار ترغیباً و ترہیباً عربی یا غیر عربی میں پڑھنا مع النثراولاجائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب

یہ سوال چند امور پر مشتمل :

اوّل :جمعہ یا عیدین کا خطبہ پڑھ کر اُردو ترجمہ کرنا۔ اقول وباﷲ التوفیق( میں اﷲ کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ت) قضیئہ نظر فقہی یہ ہے کہ یہ امر عیدین میں بہ نیت خطبہ ہو تو ناپسند اور اس کا ترک احسن اور بعد ختم خطبہ ، نہ بنیت خطبہ بلکہ قصدپند و نصیحت جداگانہ ہو تو جائز وحسن اور جمعہ میں مطلقاً مکروہ ونامستحسن ، دلیل حکم ووجہ فرق یہ کہ زبانِ برکت نشان رسالت سے عہد صحابہ کرام وتابعین عظام وائمہ اعلام تک تمام قرون و طبقات میں جمعہ وعیدین کے خطبے ہمیشہ خالص زبانِ عربی مذکور وماثور اور با آنکہ زمانہ صحابہ میں بحمد اﷲ تعالٰی اسلام صدہا بلاد عجم میں شائع ہوا، جوامع بنیں، منابر نصب ہوئے، باوصف تحقیق حاجت کبھی کسی عجمی زبان میں خطبہ فرمانا یا دونوں زبانیں ملانا مروی نہ ہوا تو خطبے میں دوسری زبان کا خلط سنت متوارثہ کا مخالف ومغیر ہے اور وہ مکروہ ،

کما بیناہ فی فتاوٰنا وذکرنا ثم الفرق بین الکف والترک فتثبت ولاتتخبط۔جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی  میں بیان کیااور وہاں ہم نے کف اور ترک کے درمیان فرق واضح کردیا ہے اس پر ثابت رہو اور انتشار کا شکار نہ ہوں۔ (ت)

مگر عیدین میں خطبہ بعد نماز ہے تو وہ مستوعد وقت نہیں ہوسکتا نیت قطع اپنا عمل کرے گی اور بعد فراغ خطبہ کہ تمام امور متعلقہ نما ز عید منتہی ہوگئے، مسلمان کو تذکیر وتفہیم ممنوع نہیں بلکہ مندوب ،اور خود سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہے، بخاری و مسلم و دارمی و ابوداؤد ونسائی وابن ماجہ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی سے راوی :  قال خرجت مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم فطر اواضحی فصلی ثم خطب ثم اتی النساء فوعظھن وذکرھن وامرھن بالصدقۃ ۱؎۔

میں حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحٰی  کے دن نکلا آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ ارشاد فرمایا اس کے بعد آپ خواتین کے اجتماع میں تشریف لے گئے انھیں وعظ ونصیحت فرمائی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ (ت)

(۱؂ صحیح البخاری کتاب العیدین باب خروج الصیبان الی المصلی مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱ /۱۳۳)

صحیحین میں حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے:ثم خطب الناس بعد فلما فرغ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نزل فاتی النساء فذکرھن۲؎۔

پھر اس کے بعد آپ  نے خطبہ دیا، جب بنی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فارغ ہوئے تو آپ منبر سے نیچے تشریف لائے، اس کےبعد خواتین کے اجتماع میں تشریف لاکر انھیں نصیحت و تلقین فرمائی۔ (ت)

 (۲؎ صحیح البخاری کتاب العیدین باب المشی والرکوب الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۳۱ )

امام نووی منہاج میں فرماتے ہیں :انما نزل الیھن بعد فراغ خطبۃ العید ۳؎ ( آپ خواتین کے اجتماع میں خطبہ عید سے فراغت کے بعد تشریف لے گئے۔ت) بخلاف جمعہ کہ اس میں خطبہ قبل نماز ہے اور شروع تذکیر سے اغازِ تکبیر تک اُسی تکبیر تک اُسی کا وقت ہے ولہذا فصل بہ اجنبی ناجائز، یہاں تک کہ اگر فصل طویل حاصل ہوخطبہ زائل اور اعادہ لازم، ورنہ نماز باطل ہو، اور غیر اجنبی سے بھی فصل پسندیدہ نہیں اور اعادہ خطبہ اَوْلٰی۔

 (۳؎ شرح مسلم للنووی مع مسلم کتاب صلٰوۃ العیدین باب المشی والرکوب الخ  مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۲۸۹)

فی الدرالمختار لو خطب جنبا ثم اغتسل وصلی جاز۴؎ ( ای ولا یعد الغسل فاصلا لانہ من اعمال الصلٰوۃ ولکن الاولی اعادتھا کما لو تطوع بعد ھا کما فی البحر، ۵؎ ش)درمختار میں ہے اگر کسی نے جنبی حالت میں خطبہ دیا پھر غسل کیا اور نماز پڑھائی تو جائز ہے ( یعنی غسل کو( خطبہ اور نماز کے درمیان ) فاصل نہ شمار کیا جائے گا کیونکہ وُہ بھی نماز کے اعمال میں سے ہے لیکن اعادہ خطبہ بہتر ہے جیسا کہ اگر خطبہ کے بعد نوافل ادا کئے، جیسا کہ بحر میں ہے ش)

 (۴؎ درمختار        باب الجمعہ          مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت   ۱ /۱۱۱)

(۵؎ ردالمحتار         باب الجمعہ                   مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۶۰۰)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article دیہات میں جمعہ کا حکم خطبہء جمعہ سے متعلق سوالات Next article
Rating 2.56/5
Rating: 2.6/5 (248 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu