• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > بعد نماز جمعہ انحرافِ قبلہ پھر کر مناجات کرنا؟

بعد نماز جمعہ انحرافِ قبلہ پھر کر مناجات کرنا؟

Published by Admin2 on 2013/11/4 (832 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۳۲۱: از ضلع کمرلہ موضع پانسیر مرسلہ مولوی عبدالغفور صاحب غرہ ربیع الاول ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز جمعہ انحرافِ قبلہ یعنی جانب ایمن وایسر کو پھر کر مناجات کرنا جائز ہے یا نہیں باوجود یکہ فقہ کی کتابوں میں بھی یہ ہے کہ جس نماز کے بعد سنتِ موکدہ ہو نہ پھرے بالدلائل تحریر فامائیے۔بینوا توجروا

الجواب

امام کا بعد سلام قبلہ سے انحراف تو مطلقاً سنت ہے اور اس کا ترک یعنی بعد سلام رو بقبلہ بیٹھا رہنا امام کے لئے بالاجماع مکروہ ہے، جمعہ وغیرہ سب نمازیں اس حکم میں برابر ہیں اور بعد سلام دعا ومناجات بھی بالاجماع جائز ہے مگر جس نماز کے بعد سنت ہے یعنی ظہر وجمعہ ومغرب وعشاء ، اس کے بعد تاخیر طویل کسی کو بہتر نہیں اور اگر کرے تو منع بھی نہیں مگر اس قدر نہ ہو کہ مقتدیوں پر گراں گزرے، عادت مسلمین یوں جاری ہے کہ امام بعد سلام جب تک دعا سے فارغ نہ ہو مقتدی شریک دعا رہتے ہیں اور اس سے قبل اُسے چھوڑ کر نہیں اٹھتے اوریہ اگر چہ شرعا واجب نہیں مگر حُسن ادب سے ہے۔

اقول : ویمکن الاستناس لہ بقولہ عزوجل ''واذاکانوا معہ علی امرجامع لم یذھبوا حتی یسأذنوہ'' فان فراغہ من الدعاء یعد اذنامنہ دلالۃ بذلک العرف جار۔

اقول  :  اس پر اﷲ تعالٰی  کے اس ارشاد گرامی سے استدلال ممکن ہے'' اور جب وہ حضورعلیہ السلام کے ساتھ کسی معاملہ میں جمع ہوتے ہیں تو آپ کی اجازت کے بغیر جاتے نہیں'' کیونکہ دُعا سے فراغت اذن ہی تصور ہوتا ہے اور اس پر عرف جاری ہے ۔ (ت)

تو ایسی حالت میں اتنی دعائے طویل کہ بعض مقتدیوں پر ثقیل ہو مطلقاً نہ کرنی چاہئے اگر چہ اس کے بعد سنت نہ ہو جیسے فجر وعصر۔

ھذا ماظہرلی تفقھا وارجو ان یکون صوابا ان شاء اﷲ تعالٰی  واذا امر الامام بالتخفیف فی الصلوۃ ای عدم الزیادہ علی القدر المسنون اجمعوا علی انہ لا یمکث فی مکانہ مستقبل القبلۃ سائر الصلوات فی ذلک علی السواء۔

غور وفکر میں یہ مجھ پر واضح ہوا اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ ان شاء اﷲ درست ہوگا اور جب امام کو نماز میں تخفیف کا حکم ہے یعنی قدرمسنون پر اضافہ کرے تو اس پر اجماع ہے کہ امام اپنی جگہ پر قبلہ رُخ ہو کر نہ ٹہرے تمام نمازیں اس حکم میں برابر ہیں، (ت)

حلیہ میں ہے :وقد صرح غیر واحد بانہ یکرہ لہ ذلک ۱؎۔متعدد علماء نے اس کے مکروہ ہونے کی تصریح کی ہے ۔(ت)

درمختار میں ہے :یکرہ تاخیر السنۃ الابقدر اللھم انت السلام الخ قال الحلوانی لاباس بالفصل بالاوراد واختار ہ الکمال، قال الحلبی ان ارید باالکراھۃ التنزیھیۃ ارتفع الخلاف قلت فی حفظی حملہ علی القلیلۃ ۱؎اھ

سنتوں میں تاخیر اللھم انت السلام الخ کی مقدار سےزیادہ مکروہ ہے، حلوانی نے فرمایا اذکار کے ساتھ فرائض وسنن میں فاصلے میں کوئی حرج نہیں، کمال نے اسی کو اختیار کیا ہے، حلبی کہتے ہیں کہ اگر کراہت سے کراہت تنزیہی ہے تو اختلاف ختم ہوجاتا ہے قلت اور مجھے یہاں تک یاد ہے کہ یہ ( تنزیہی) قلیل فصل پر محمول ہے اھ (ت)

 (۱؎درمختار  فصل واذا ارادالشروع فی الصلٰوۃمطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱/۱۶۶)

حلیہ میں ہے :تحمل الکراھۃ علی التنزیھیۃ بعد دلیل التحریمیۃ ۲؎۔

جب تحریمی پر دلیل نہ ہو تو مکروہ کو تنزیہی پر محمول کیا جاتا ہے۔ (ت)

 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

غنیہ میں ہے :قول عائشہ رضی اﷲ تعالٰی  عنھا مقدار مایقول الھم انت السلا الخ یفید ان لیس المراد انہ کان یقول ذلک بعینہ بل کان یقعد زمانا یسع ذلک المقدار ونحوہ من القول تقریبا فلا ینافی ماروی مسلم وغیرہ عن عبداﷲ بن الزبیر رضی اﷲ تعالٰی  عنہما کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اذا سلم من صلٰوتہ قال بصوتہ الا علی لاالہ الا اﷲ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر ولا حول ولا قوۃ الاّ باﷲ ولا نعبد ولہ الثناء الحسن، لا الہٰ الا اﷲ مخلصین لہ الدین ولوکرہ لاالکفرون، لان المقدار المذکور من حیث التقریب دون التحدید، قدیسع کلو احد من نحو ھذہ الاذکار لعدم التفات الکثیر بینھا ۱؎ اھ مختصرا۔

حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہا کا یہ فرمان کہ آپ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اللھم انت السلام الخ کی مقدار پڑھتے ، فائدہ دے رہاہے کہ ان کی مراد بعینہٖ یہی الفاظ نہیں بلکہ اتنی دیر بیٹھنا جس میں یہ یا اس کی مقدار تقریباً پڑھا جائے ۔ لہذا یہ روایت مسلم وغیرہ کی اس روایت کے منافی نہیں جو حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ تعالٰی  عنہماسے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم جب نماز سے سلام پھیرتے تو بلند آواز سے کہتے '' اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے، اسی کی حمد ہے، اور وہ ہر شیئ پر قادر ہے ، برائی سے پھرنے اور نیکی کی طرف آنے کی طاقت وتوفیق اﷲ تعالٰی  ہی عطا فرماتاہے ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں ، نعمت اسی کی ہے اور اُسی کا فضل ۱ہے، اعلٰی  تعریف اسی کی ہے۔ اﷲ تعالٰی  کے سوا کوئی معبود نہیں، ہماری تابعداری اسی کے لئے خالص ہے، اگر چہ کافر اسے ناپسند کریں'' کیونکہ مقدار مذکور تقریباً ہے تحدیداً نہیں وہ وقت ان تمام اذکار کی گنجائش رکھتا ہے کیونکہ ان میں بہت زیادہ تفاوت نہیں ہے اھ مختصرا (ت)

 (۱؎غنیۃالمستملی شرح منیۃ المصلی بیان صفۃ الصلٰوۃ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور  ص ۳۴۲)

بلکہ شیخ محقق مولنٰا عبدالحق قدس سرہ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف میں فرماتے ہیں:

تعجیل قیام بہ سنت مغرب منافی نیست مرخواندن آیۃ الکرسی وامثال آنرا چنانکہ درحدیث وارد شدہ است کہ بخواند بعد از نمازِ فجر و مغرب دہ بار لا الٰہ الا اﷲ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی علی کل شیئ قدیر ۲؎۔

مغرب کی سنتوں کے لئے جلدی قیام آیۃ الکرسی وغیرہ پڑھنے کے منافی نہیں کیونکہ حدیث صحیح میں وارد ہے کہ نماز فجر و مغرب کے بعد دس مرتبہ یہ پڑھا جائے لا الٰہ الا اﷲ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک لہ الحمد وھو علی کل شیئ قدیر۔ (ت)

 (۲؎ اشعۃ اللمعات        باب الذکر بعد الصلٰوۃ     مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۱/ ۴۱۸)

فقہ کی کسی کتاب معتمد میں یہ نہیں کہ جس نماز کے بعد سنت ہے اُس کے امام کو قبلہ سے پھرنا ہی منع، ہاں فصل طویل کو ناپسند فرماتے ہیں اور اُس کے معنی ان کلماتِ علماء سے کہ فقیر نے نقل کئے ظاہر ہوگئے، واﷲ تعالٰی  اعلم


Navigate through the articles
Previous article خطبہء جمعہ سے متعلق سوالات چار سو افراد کی بستی ہو تو جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ Next article
Rating 2.70/5
Rating: 2.7/5 (223 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu