• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > نئی مسجد دنیاوی رنج پر بنا کر نماز پڑھنا کیسا؟

نئی مسجد دنیاوی رنج پر بنا کر نماز پڑھنا کیسا؟

Published by Admin2 on 2013/11/4 (762 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۳۲۲: از کھاتہ ضلع رامپور مرسلہ قاضی ضیاء الدین احمد صاحب ۳ محرم ۱۳۲۱

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک موضع میں عرصہ کثیر گزرا زمانہء پادشاہت اسلام میں قاضی شرع نے جو قاضی بااختیار تھے جامع مسجد قائم کی اور وہ مقام شرائط جمعہ کے موافق مناسب سمجھ کر نماز جمعہ ونماز عیدین اُسی مسجد میں ہوتی رہی اور مسلسل اُسی وقت سے حسبِ اجازت وہدایت اصل قاضی یا حاکم وقت مذکور کے اُسی خاندان میں امامت رہی اب ایک شخص نے بوجہ مخالفت چندامور دنیاوی کے امام سے رنج کرکے ایک دوسری مسجد میں جو تھوڑے زمانے سے تیار ہوئی ہے نماز عید ادا کی اور باشندگانِ دیہ کو جامع مسجد قدیم کو آنے سے روک کر بہکا کر بہت سے اشخاص کو اُس نماز میں شریک کیا اور نماز پڑھائی اور جامع مسجد قدیم میں بھی مثل قدیم نماز پڑھی گئی اور جماعت ہوئی تو اب دریافت طلب ہے کہ اُس مسجد جدید میں امام قدیم سے مخالفت کرکے نماز عید ہوئی یا نہیں؟ اور ایسے نماز پڑھوانے والے کے واسطے جو تفریق جماعت کا مرتکب ہواکیا حکم ہے اور آئندہ اس طریقہ سے نماز ہوگی یا نہیں؟

الجواب

جمعہ وعیدین وکسوف میں ہر شخص امامت نہیں کرسکتا بلکہ لازم ہے کہ سلطانِ اسلام کا مقرر کردہ یا اُس کا ماذون ہو، ہاں جہاں یہ نہ مل سکیں تو بضرورت عام اہل اسلام کسی کو امام مقرر کرلیں، صورتِ سوال میں جبکہ سلطنتِ اسلام سقی اﷲ تعالٰی  عھدھا ( اللہ تعالٰی  اس کی مدت کودراز فرمائے۔ ت) سے بحکم حاکم شرع وہاں جمعہ قائم اور امامت خاندان ایام قدیم میں مستمر ودائم ہے تو امام خود ماذون من جانب السلطان ہے ، اس کے ہوتے بلامجبوری شرعی عام مسلمانوں کو بھی امام جدید قائم کرنے کا اختیار نہیں۔

لان الخیرۃ لھم انما یکون عند الضرورۃ لفقد الماذون فاذا وجد فلا ضرورۃ فلا خیرۃ ۔

انھیں اختیار ضرورت کے وقت ہے جب مامور نہ ہو اور جب مامور ہے تو اب ضرورت نہیں لہذا اختیار بھی نہ ہوگا ۔ (ت)

یہاں مجبوری شرعی یہ کہ امام ماذون خود نہ رہے یا اُس میں مذہب وغیرہ کے فساد پیدا ہونے سے قابلیت امامت معدوم ہوجائے اور اس خاندانِ ماذون میں کوئی اور بھی صالح امامت نہ ہو، جب ان صورتوں میں سے کچھ نہ تھا اس دوسرے شخص کی امامت نہ ہوئی اُس کے پیچھے نماز عید وجمعہ محض باطل ہوں گی وہ سخت گناہوں کا خود بھی مرتکب ہوگا اور اُتنے مسلمانوں کو بھی شدید معصیتوں میں مبتلا کردے گا وہ دوسری مسجد کا جمعہ حرام ہوگا اور ظہر کا فرض سر پر رہے گا اور عیدین میں نماز عید باطل ہوگی ۔ اُس کا پڑھنا گناہ ہوگا واجبِ عید سر پر رہ جائے گا تفریق جماعت تو وہاں کہی جائے کہ نماز جمعہ یا عیدین اس کے پیچھے بھی صحیح ہوجائیں ، جب یہاں سرے سے ہوئی ہی نہیں تو تفریق کیسی، بلکہ ابطال نماز ہے کہ سب سے سخت تر ہے، اﷲ تعالٰی  توفیق توبہ بخشے، یہ مسئلہ نہایت واجب الحفظ ہے، آج کل جُہّال میں یہ بلا بہت پھیلی ہوئی ہے کہ جمعہ یا نماز عید نہ ملی کسی مسجد میں ڈھائی آدمی جمع ہوئے اور ایک شخص کو امام ٹہرا کر نماز پڑھ لی وہ نماز نہیں ہوتی اور اُس کے پڑھنے کا گناہ الگ ہوتا ہے عوام کے خیال میں یہ نمازیں بھی پنجگانہ کی طرح ہیں کہ جس نے چاہا امامت کرلی حالانکہ شرعاً یہاں امام خاص اس طریق معیّن کا درکار ہے اُس کے بغیر یہ نمازیں ہو نہیں سکتیں،

تنویر الابصار میں ہے:یشترط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا ۱؎۔

سلطان یااس کے مامورکاجمعہ کوقائم کرناصحت جمعہ کے لیے شرط ہے ۔(ت)

 (؂۱درمختار      باب الجمعۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱/۱۰-۱۰۹)

درمختار میں ہے :فی السراجیۃ لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز  ۱؎ الخ

سراجیہ میں ہے اگر اجازت خطیب کے بغیر کسی نے جمعہ پڑھا یا توجائز نہیں۔ (ت)

 (۱؎ درمختار    باب الجمعۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۰)

ردالمحتار میں ہے :حاصلہ انہ لاتصح اقامتھا الا لمن اذن لہ السلطان بواسطۃ اوبدونھا امابدون ذلک فلا ۲؎۔

اس کا حاصل یہ ہے کہ اقامت جمعہ درست نہیں مگر اس شخص کے لئے جسے سلطان نے اجازت دی خواہ یہ اجازت بالواسطہ ہو یا بلاواسطہ ، اگر بغیر اجازت کسی نے جمعہ قائم کیا تو درست نہیں ، (ت)

 (؎۲درمختار       باب الجمعۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی      ۱/۵۹۲)

تنویر ودر میں ہے :( ونصب العامۃ) الخطیب ( غیر معتبر مع وجود من ذکر) امامع عد مھم فیجوز للضرورۃ ۳؎۔

خطیب کو ( عوام کا مقرر کرنا) ( معتبر نہیں بشرطیکہ جب مذکورہ لوگ ہوں) لیکن اس صورت میں جب یہ لوگ نہ ہوں تو ضرورت کے لئے امام کا تقرر درست ہوگا (ت)

 (۳؎درمختار     باب الجمعۃ           مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی     ۱/۱۱۰)

اُنھیں کے باب العیدین میں ہے: ( تجب صلٰوتھما علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا) فانھا سنۃ بعدھا وفی القنیۃ صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح لان المصر شرط الصحۃ ۴؎ ملخصاً ۔ واﷲ تعالٰی  اعلم

 ( عیدین کی نماز شرائط جمعہ کے ساتھ ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر ج جمعہ واجب ہے) کیونکہ نماز عید ان شرائط کے بعد سنت ہے ۔ قنیہ میں ہے کہ دیہاتوں میں عید مکروہ تحریمی ہے یعنی یہ ایسے کام مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں کیونکہ شہر ہونا صحت کے لئے شرط ہے۔ واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)

 (؎۴درمختار     باب العیدین         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی      ۱/۱۱۴)


Navigate through the articles
Previous article خطبہء جمعہ سے متعلق سوالات چار سو افراد کی بستی ہو تو جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ Next article
Rating 2.78/5
Rating: 2.8/5 (230 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu