• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > جمعہ کے لئے مصر شرط ہے اسکی تعریف کیا ہے؟

جمعہ کے لئے مصر شرط ہے اسکی تعریف کیا ہے؟

Published by Admin2 on 2013/11/4 (2120 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ ۱۳۲۷: از بنگالہ ضلع ڈھاکہ ڈاک خانہ بلابو قصبہ نیلو کھیا مرسلہ محمد نیاز حسین ۱۲ محرم الحرام ۱۳۲۳ھ

اگر قری میں جہاں مسلمان کثرت سے ہوں اور مکانات آپس میں متصل بلا فاصلہ ہیں اگر ہے تو پندرہ یا بیس گز اور نماز پنجگانہ کے لئے مقرر ہے اذان و جماعت ہوتی ہے وہاں کے لوگ متفق ہو کر ایک شخص کوامام جمعہ مقرر کرکے نماز جمعہ ادا کرلیں تو علیہ ماوجب لہ ( جوان پر لازم ہے ۔ت) سے بری ہوں گے یا نہیں، اور موافق مذہب امام اعظم وحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ صحیح ہوگا یا نہیں،اور بعد نماز جمعہ ظہر احتیاطی پڑھنا کیسا ہے او روہ لوگ بسبب اس جمعہ پڑھنے کے مستحق ثواب یا اثم، اور اگر اثم ہے تو کیسا؟

بینوا بالتفصیل مع الدلیل توجروا یوم الاخر والحساب اٰمین یا رب العٰلمین

 ( تفصیلا دلائل کے ساتھ بیان فرمادیجئے اﷲ تعالٰی  آخرت میں آپ کو اجر عطا فرمائے۔ اے رب العٰلمین ! دعا قبول فرما ۔ت)

صحتِ جمعہ کے لئے مصر شرط ہے پس مصر کی تعریف صحیح موافق مذہب امام اعظم رحمۃ اﷲ تعالٰی  علیہ کہا ہے اور تعریف قری جس میں جمعہ واجب نہیں اور نہ وہاں جمعہ پڑھنا جائز کیا ہے ، قری اور دیہات میں فرق ہے یا نہیں، اگر فرق ہے تو کس میں جمعہ جائز اور کس میں ناجائز ؟

الجواب

مذہب حنفی میں فرضیت جمعہ وصحت جمعہ وجوازِ جمعہ سب کے لئے مصر شرط ہے دیہات میں نہ جمعہ فرض نہ وہاں اس کی ادا جائز و صحیح، اگر پڑھیں گے ایک نفل نماز ہوگی کہ برخلاف شرح جماعت سے پڑھی ظہر کا فرض سرسے نہ اُترے گا پڑھنے والے متعدد گناہ کے مرتکب ہوں گے،

للاشتغال بما لایصح ۱؎ کما فی الدرالمختار وللتنفل بجماعۃ بالتداعی ولترک جماعۃ الظھر وان ترکوا الظھر فاشنع واخنع۔

یہ ایسے کام میں مشغول ہونا ہے جو صحیح نہیں ، جیسا کہ درمختار میں ہے۔ اور تداعی کے ساتھ نوافل کا جماعت کے ساتھ اداکرنا اور جماعت ظہر کا ترک لازم آتا ہے اور اگر وہ ظہر ترک کردیتے ہیں تو یہ نہایت ہی برا و قبیح عمل ہے۔(ت)

 (۱؎درمختار    باب العیدین    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۱۴)

قریہ زبانِ عرب میں شہر کوبھی کہتے ہیں،

قال تعالٰی  وما ارسلنک من قبلک الا رجالا نوحی الیھم من اھل القری ۲؎ ، ای الامصار لعلمھم وحلمھم دون البوادی لغلظھم وجفائھم وقال تعالٰی  علی رجل من القریتین عظیم ۳؎، ای مکۃ والطائف وقال تعالٰی  من قریتک التی اخرجتک ۴؎۔

اﷲ تعالٰی  کا فرمان ہے '' اور ہم نے نہیں بھیجا آپ سے پہلے مگر مردوں کو جن پر ہم نے وحی کی اہل قری میں سے'' یعنی شہروں سے کیونکہ شہر ی لوگ صاحب علم وحلم ہوتے ہیں۔ ( دوسرے مقام پر ) اﷲ تعالٰی  کا ارشاد ہے '' ان دو قریوں میں سے بڑے آدمی پر'' یعنی مکہ وطائف ۔ ( تیسرے مقام پر) اﷲ تعالٰی  نے فرمایا'' تیرے اس قریہ سے جس سے تجھے نکالا '' (ت)

اور جب اُسے مصر کے مقابل بولیں تو اس میں اور دِہ میں کچھ فرق نہیں ثم اقول وبہ التوفیق( پھر میں اﷲ تعالٰی  کی توفیق سے کہتا ہوں ۔ت) حق ناصع یہ ہے کہ مصر وقریہ کوئی منقولات شرعیہ مثل صلٰوۃ وزکوٰۃ نہیں جس کو شرع مطہر نے معنی متعارف سے جدا فرماکر اپنی وضع خاص میں کسی نئے معنی کے لئے مقرر کیا ہو ورنہ شارع صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم سے اس میں نقل ضرور تھی کہ وضع شارع  بے بیان شارع معلوم نہیں ہوسکتی اور شک نہیں کہ یہاں شارع صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم سے اصلاً کوئی نقل ثابت ومنقول نہیں تو ضرور عرف شرع میں دِہ اُنھیں معانی معروفہ متعارفہ پر باقی ہیں اور ان سے پھیر کر کسی دوسرے معنی کے لئے قرار دینا دِہ قرار دہندہ کی اپنی اصطلاح خاص ہوگی جو مناط ومدار احکام ومقصود ومراد شرع نہیں ہوسکتی۔

 (۲؎ القرآن     ۱۲/۱۰۹)

(۳؎ القرآن    ۴۳/۳۱)

(۴؎ القرآن        ۴۷/۱۳)

محقق علی الاطلاق رحمہ اﷲ تعالٰی  فتح القدیر میں فرماتے ہیں:واعلم ان من الشارحین من یعبر عن ھذا بتفسیرہ شرعا ویجب ان یراد عرف اھل الشرع وھو معنی الاصطلاح الذی عبرنابہ لاان الشارع صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نقلہ فانہ لم یثبت وانما تکلم بہ الشارع علی وفق اللغۃ ۱؎۔

واضح رہے کہ بعض شارحین نے اس تفسیر کو شرعی کہا ہے اور اس سے اہل شرع کا عرف مراد لینا واجب ہے اور اس اصطلاح کایہی معنی ہے جس کے ساتھ ہم نے اسے تعبیر کیا اس کایہ معنی نہیں کہ شارع صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے نقل کیا ہے کیونکہ یہ ثابت نہیں شارع نے اس میں لغت کے مطابق تکلم فرمایا ہے ۔(ت)

 (۱؎ فتح القدیر        باب الجمعۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/)

اور ظاہر کہ معنی متعارف میں شہر و مصر ومدینہ اُسی آبادی کو کہتے ہیں جس میں متعدد کوچے ، محلے متعدد ودائمی بازار ہوتے ہیں ، وہ پرگنہ ہوتا ہے اُس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہیں ، عادۃً اس میں کوئی حاکم مقرر ہوتا ہے کہ فیصلہ مقدمات کرے، اپنی شوکت کے سبب مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکے۔ اور جو بستیاں ایسی نہیں وہ قریہ و دِہ وموضع وگاؤں کہلاتی ہیں، شرعاً بھی یہی معنی متعارفہ مراد ومدار احکام جمعہ وغیرہا ہیں، ولہذا ہمارے امام اعظم وہمام اقدم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ نے شہر کی یہی تعریف ارشاد فرمائی،

علامہ ابراہیم حلبی غنیہ شرح منیہ میں فرماتے ہیں :

فی تحفۃ الفقہاء عن ابی حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ انہ بلدۃ کبیرۃ فیھا سکک واسواق ولھا رساتیق وفیھا وال یقدر علی انصاف المظلوم من الظالم بحشمتہ وعلمہ او علم غیرہ یرجع الناس الیہ فیما تقع من الحوادث وھذا ھو الاصح ۱؎۔

تحفہ میں امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے مروی ہے شہر وہ ہوگا جو بڑا ہو اس میں سڑکیں ، بازار ، سرائے ہوں وہاں کوئی ایسا والی ہو جو اپنے دبدبہ ، اپنے علم یا غیر کے علم کی وجہ سے ظالم سے مظلوم کو انصاف دلاسکیں، حوادثات میں لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور یہی اصح ہے ۔(ت)

 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ الصلی فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ  مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۵۵۰)

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article خطبہء جمعہ سے متعلق سوالات چار سو افراد کی بستی ہو تو جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ Next article
Rating 2.85/5
Rating: 2.9/5 (266 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu