• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > احتیاطی ظہر ادا کرنا کیسا ہے؟

احتیاطی ظہر ادا کرنا کیسا ہے؟

Published by Admin2 on 2013/11/4 (903 reads)

New Page 2

مسئلہ ۱۳۰۹: از موضع کڑہ ڈاک خانہ اوبرہ ضلع گیا مرسلہ مولوی سید کریم رضا صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں چار رکعت احتیاطی ظہر کا ادا کرنا مستحب ہے یا واجب یا فرض قطعی؟ بصورتِ اولٰی وثانیہ یہ نماز احتیاطی قائم مقام فرض کے ہوسکتی ہے یا نہیں؟ اور صورتِ ثانیہ میں صلٰوۃ ظہر وجمعہ کا لزوم بطریق اجتماع لازم آتا ہے یا نہیں؟ اور ایسی  صورت میں تارک ِ احتیاطی تارکِ فرض ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا

الجواب

جہاں جمعہ بحسبِ مذہب بلا شبہہ ناجائز باطل ہے جیسے وہ کو ردِہ جو کسی روایت مذہب پر مصر نہیں ہوسکتے وہاں ظہر آپ ہی عیناً فرض ہے اور جمعہ پڑھوانے اور چار رکعت احتیاطی بتانے کی اصلاً گنجائش نہیں

فان الشرع لا یأمر بارتکاب الاثم والاشتغال بما لا یصح اصلا ( شریعت کسی ایسی چیز کا حکم نہیں دیتی جس پر گناہ ہو اور نہ ہی ایسی شیئ میں مشغول ہونے کی اجازت دیتی ہے جو بالکل صحیح نہ ہو ۔ت) ان کا محل وہاں ہے کہ صحتِ جمعہ میں اشتباہ وتردّد قوی ہو مثلاً وہ مواضع جن کی مصریت میں شک ہے یا با وصفِ اطمینان صحت جانبِ خلاف کچھ وقعت رکھتی ہو مثلاً جہاں جمعہ متعدد جگہ ہوتا ہواور سبقت نامعلوم ہو کہ اگر چہ دربارہ تعدد  قول جواز ہی معتمد وماخوذ ومفتی بہ ہے مگر عدمِ جواز بھی ساقط وناقابل التفات نہیں

کما بینہ فی ردالمحتار ( جیسا کہ ردالمحتار میں بیان کیا گیا ہے ۔ت) صورتِ اولٰی میں ان چار رکعت کا حکم ایجاباً وتاکیداً ہوگا

لوقوع الشبۃ فی برائۃ لعھدۃ ( ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے میں شبہہ ہوگیا ہے ۔ ت) اور ثانیہ میں استحباباً وترغیباً

لان الخروج عن الخلاف مستحب اجماعا مالم یلزم محذور ( بالاتفاق اختلاف سے نکلنا مستحب ہے بشرطیکہ وہاں کسی ممنوع کاارتکاب نہ ہو۔ ت)

ردالمحتار میں ہے :نقل عن المقدسی عن المحیط کل موضع وقع الشک فی کونہ مصرا ینبغی لھم ان یصلوا بعد الجمعۃ اربعا بنیۃ الظھر احتیاطاً ومثلہ فی الکافی وفی القنیۃ امرأئمتھم بالاربع بعدھا حتما احتیاطا اھ ونقلہ کثیر من شراح الہدایۃ وغیرھا وتد اولوہ وفی الظھریۃ واکثر مشائخ بخارا علیہ لیخرج عن العھدۃ بیقین ثم نقل المقدسی عن الفتح انہ ینبغی ان یصلی اربعا ینوی بھا اٰخرفرض ادرکت وقتہ ولم أودئہ ان تردد فی کونہ مصرا اوتعددت الجمعۃ وذکر مثلہ عن ا لمحقق ابن جرباش قال ثم قال وفائدتہ الخروج عن الخلاف المتوھم اوالمحقق وذکر فی النھر انہ لا ینبغی التردد فی ندبھا علی القول بجواز التعدد خروجا عن الخلاف اھ وفی شرح الباقانی ھوالصحیح بقی الکلام فی تحقیق انہ واجب اومندوب قال المقدسی ذکر ابن شحنۃ عن جدہ التصریح بالندب وبحث فیہ بانہ ینبغی ان یکون عند مجرد التوھم اما عند قیام الشک والاشتباہ فی صحۃ الجمعۃ فالظاھر الوجوب ونقل عن شیخہ ابن الھمام مایفیدہ ویؤید التفصیل تعبیر التمرتاشی بلابد وکلام القنیۃ المذکور۱؎ اھ مختصرا۔مقدسی نے محیط سے نقل کیا کہ ہر وہ مقام جس کے شہر ہونے میں اختلاف ہو وہاں جمعہ کے بعد احتیاطاً نیت ظہر سے چار رکعت ادا کی جائے، کافی میں بھی اسی طرح ہے۔ قنیہ میں ہے کہ ائمہ نے جمعہ کے بعد لوگوں کو حتماً چار رکعات احتیاطاً بجالانے کا حکم دیا ہے اھ اسے اکثر شارحین ہدایہ وغیرہ نے نقل کیا ہے اور اسی کو متد اول کیا ۔ ظیہریہ میں ہے کہ مشائخ بخارا کی اکثریت کا عمل اسی پر ہے تاکہ بالیقین ذمہ داری سے عہدہ برآہوسکیں، پھر فتح سے منقول ہے کہ جب شہر ہونے میں شک ہو یا جمعہ متعدد جگہ ہورہا ہو تو چاہئے کہ چاررکعات اس نیت سے ادا کی جائیں کہ میں آخری فرض ادا کررہا ہوں جن کا وقت میں نے پایا مگر انھیں ادا نہیں کیا ، اسی طرح محقق ابن جرباش سے نقل کرکے کہا اس کا فائدہ ثابت یا متوہم اختلاف سے نکلنا ہے۔ نہر میں مذکور ہے کہ اختلاف سے نکلنے کے لئے جواز تعدد جمعہ کے قول پر بھی احتیاطاً ظہر کے مستحب ہونے میں تردد نہیں کرنا چاہئے اھ شرح الباقانی میں ہے کہ یہی صحیح ہے اس تحقیق میں گفتگو کہ یہ واجب ہے یا مستحب ، ابھی باقی ہے ، مقدسی کہتے ہیں کہ ابن شحنہ نے اپنے دادا سے ندب پر تصریح نقل کی اور اس پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس وقت ہے جب محض توہم ہو۔ مگر اس صورت میں جب صحتِ جمعہ میں شک واشتباہ ہو تو پھر اس کا واجب ہو نا ظاہر ہے اور اپنے شیخ ابن ہمام کی عبارت کو اپنی تائید میں نقل کیا اور اس کی تفصیل کی تائید تمرتاشی کے الفاظ '' لابد'' اور قنیہ کے مذکور کلام سے بھی ہوتی اھ مختصرا (ت)

 (۱؎ ردالمحتار    باب الجمعہ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۵۹۶)

رہایہ اشتباہ کہ مستحب یا واجب قائم مقام فرض کیونکر ہوں گے ان رکعات کی نیت پر نظر کی جائے تو بنگاہِ اولین اندفاع پائے، ابھی فتح القدیر وغیرہ سے گزرا کہ یہ رکعات بہ نیت آخریں فرض ہی پڑھی جاتی ہیں نہ کہ بہ نیت مستحب یا واجب مصطلح توفرض بہ نیت فرض ادا ہوجانے میں کیا تردّد ہے یعنی عنداﷲ اگر صحت نہ تھی تو نفس الامر میں ظہر فرض تھا، جب اُس نے اُس پچھلے فرضِ ظہر کی نیت کی جس کا وقت پایا اور ابھی ادا نہ کی تو یہی ظہر ادا ہوجائے گا ورنہ اگر پہلے کوئی ظہر ذمّہ پر تھا وہ ادا ہوگا ورنہ یہ رکعات نفل ہوجائیں گی اور نفل بہ نیت فرض ادا ہونا خود واضح ہے واﷲ سبحنہ وتعالٰی  اعلم


Navigate through the articles
Previous article خطبہء جمعہ سے متعلق سوالات چار سو افراد کی بستی ہو تو جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ Next article
Rating 2.62/5
Rating: 2.6/5 (242 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu