• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > دیہات میں جمعہ جاری رکھیں یا ترک کر دیں؟

دیہات میں جمعہ جاری رکھیں یا ترک کر دیں؟

Published by Admin2 on 2013/11/4 (861 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۳۱۰: از مخدوم پور ڈاکخانہ نرہٹ ضلع گیا مرسلہ مولوی سید رضی الدین صاحب غرہ جمادی الآخرہ ۱۳۱۷ھ   جناب مستطاب مخدومنا مولنٰا مولوی احمد رضا خاں صاحب زاد مجد ہم بعد ہدیہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ، کے مکلف خدمت ہوں کہ اس موضع مخدوم پور قاضی چک میں اورنیز قرب وجوار میں اس کے نماز جمعہ و عیدین ہم لوگ مقلدین حنفی پڑھا کرتے ہیں اور جماعت جمعہ کی خاص اس موضع میں پندرہ بیس آدمی او ر کبھی کم بھی ہوا کرتی ہے اب بعض معترض ہیں کہ جمعہ دیہات میں نزدامام ابو حنیفہ صاحب جائز نہیں ہے پڑھنا بھی نہ چاہئے مخدومنا پڑھا کروں یا ترک کردوں، حضور کے نزدیک جو جائز ہو مطع فرمائیں تا مطابق اس کے کار بند ہوں اور نمازِ عیدین بھی دیہات میں ہویا نہ ہو؟ شہر صاحب گنج یہاں س کوس پر ہے۔ زیادہ حد نیاز۔ احقر رضی الدین حسین عفی عنہ

الجواب

جناب مکرم ذی المجد والکرم اکرمکم اﷲ تعالٰی السلام علیکم وحمۃ اﷲ وبرکاتہ، فی الواقع دیہات میں جمعہ وعیدین باتفاق ائمہ حنفیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم ممنوع وناجائز ہے کہ جونماز شرعا صحیح نہیں اس سے اشتغال روا نہیں،

فی الدرالمختار وفی القنیۃ صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بما لایصح ۱؎ اھ فی ردالمحتار ومثلہ الجمعۃ ۲؎ح ۔درمختار میں ہے کہ قنیہ میں ہے دیہاتوں میں عید کی نماز مکروہ تحریمی ہے یعنی یہ ایسے کا م میں مشغول ہونا ہے جو درست نہیں اھ ردالمحتار میں ہے اور اسی کی مثل جمعہ ہے ، ح ۔(ت)

 (۱؎ درمختار    باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۱۴)

(۲؎ ردالمحتار     باب العیدین        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۶۱۱)

جمعہ میں اس کے سوا اور بھی عدمِ جواز کی وجہ ہے کما بیناہ فی فتاوٰنا ( جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی  میں بیان کیا ہے ۔ت) ہاں ایک روایت نادرہ امام ابویوسف رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ سے یہ آئی ہےکہ جس آبادی میں اتنے مسلمان مرد عاقل بالغ ایسے تندرست جن پر جمعہ فرض ہوسکے آباد ہوں کہ اگر وہ وہاں کی بڑی سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں یہاں تک کہ انھیں جمعہ کے لئے مسجد جامع بنانی پڑے وہ صحتِ جمعہ کےلئے شہر سمجھی جائے گی ،

امام اکمل الدین بابرتی عنایہ شرح ہدایہ میں فرماتے ہیں: (وعنہ) ای عن ابی یوسف ( انھم اذا اجتمعوا) ای اجتمع من تجب علیھم الجمعۃ لاکل من یسکن فی ذلک الموضع من الصبیان والنساء والعید لان من تجب علیھم مجتمعون فیہ عادۃ قال ابن شجاع احسن ماقیل فیہ اذاکان اھلھا، بحیث لو اجتمعوا ( فی اکبر مساجد لم یسعھم ذلک )حتی احتاجوا الی بناء مسجد آخر للجمعۃ ۱؎ الخ ( اور ان سے ) یعنی امام ابویوسف سے ہے ( جب وہ جمع ہوں) یعنی وہ لوگ جن پر جمعہ لازم ہے نہ کہ تمام وہ لوگ جو وہاں سکونت پذیر ہیں مثلاً بچے، خواتین اور غلام، ابنِ شجاع نے کہا کہ اس بارے میں سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جب جمعہ کے اہل وہاں جمع ہوں ( سب سے بڑی مسجد میں ، اور اس میں ان کی گنجائش نہ ہو) حتی کہ وہ جمعہ کے لئے ایک اور مسجد بنانے پر مجبور ہوں الخ (ت)

 (۱؎ عنایہ شرح ہدایہ علی ہامش فتح القدیر    باب صلٰوۃالجمعۃ    مطبوعہ نوریہ رضوریہ سکھر ۲ /۲۴)

جس گاؤں میں یہ حالت پائی جائے اس میں اس روایت نوادر کی بنا پر جمعہ وعیدین ہو سکتے ہیں اگر چہ اصل مذہب کے خلاف ہے مگر اسے بھی ایک جماعتِ متاخرین نے اختیار فرمایا اور جہاں یہ بھی نہیں وہاں ہر گز جمعہ خواہ عید مذہب حنفی میں جائز نہیں ہو سکتا بلکہ گناہ ہے،

واﷲ یقول الحق وھویھدی السبیل واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم۔اﷲ تعالٰی کا فرمان حق ہے اور وہی راستہ کی ہدایت دیتا ہے اور اﷲکی ذات پاک ، بلند اور خوب جاننے والی ہے ۔(ت)


Navigate through the articles
Previous article خطبہء جمعہ سے متعلق سوالات چار سو افراد کی بستی ہو تو جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ Next article
Rating 2.81/5
Rating: 2.8/5 (288 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu