• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > مسجد سے باہر اذان کی جگہ نہیں تو کیا کریں؟

مسجد سے باہر اذان کی جگہ نہیں تو کیا کریں؟

Published by Admin2 on 2013/11/8 (1477 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ ۱۳۴۷: مولوی نعیم الدین صاحب ازمراد آباد ۲۸ صفر ۱۳۳۲ھ

حضور عالی سلامِ نیاز، میں جمعہ کی نماز قلعہ کی مسجد میں پڑھاتا ہوں اس مسجد کا وسیع صحن ہے مسجد سے باہر راستہ ہے جو ایک بانس کے قریب مسجد کے فرش سے نیچا ہے کوئی جگہ ہی نہیں جہاں مؤذن کھڑا ہو سکے سخت حیرانی ہے یا بعض ایسی مسجدیں ہیں کہ ان میں بعد صحن کے کسی دوسرے شخص ہندو وغیرہ کی دیواریں ہیں کہ ان دیواروں پر میذنہ نہیں بنایا جاسکتا اسی صورت میں کیا کیا جائے ؟ بینوا توجروا

الجواب

اللھم ھدایۃ الحق والصواب (اے اﷲ!حق اور صواب کی ہدایت عطا فرما ۔ت) یہاں دو سنتیں ہیں ، ایک محاذات خطیب،دوسرے اذان کا مسجد سے باہر ہونا،جب ان میں تعارض ہو اور جمع ناممکن ہو تو ارجح کو اختیار کیا جائے گا

کما ھوا لضابطۃ المستتمرۃ الغیر المنخرمۃ ( جیسا کہ دائمی اور نہ ٹوٹنے والا ضابطہ ہے ۔ ت) یہاں ارجح واقوی سنت ثانیہ بوجوہ اولاّ مسجد میں اذان سے نہی ہے، قاضی خاں  وخلاصہ وخزانۃ المفتین وفتح القدیر وبحرالرائق وبرجندی وعلمگیری میں ہے :لایؤ ذن فی المسجد ۳؎۔(مسجدمیں اذن نہ دی جائے ۔ت)

 (۳؎ فتاوٰی ہندیۃ    فصل فی کلمات الاذان والاقامۃ     مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۵۵)

نیز فتح القدیر ونظم وطحطاوی علی المراقی وغیرہا میں مسجد کے اندر اذان مکروہ ہونے کی تصریح ہے اور ہر مکروہ منہی عنہ ہے ، ردالمحتار میں قبیل احکام مسجد ہے:

لا یلزم منہ ان یکون مکروہا الابنہی خاص لان الکراھۃ حکم شرعی فلا بدلہ من دلیل ۱؎۔اس سے مکروہ ہونا لازم نہیں آتا مگر یہ کہ نہی خاص وارد ہو کیونکہ کراہت حکم شرعی ہے،لہذا اس کے لئے دلیل کا ہونا ضروری ہے (ت)

(۱؎ ردالمحتار         باب مایفسد الصلٰوۃ وما یکرہ فیہا    مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۴۸۳)

اور اجتنابِ ممنوع،ایتان مطوب سے اہم واعظم ہے،

اشباہ میں ہے :اعتناء الشرع بالمنھیات اشد من اعتنائہ بالمامورات،ولذا قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا امرتکم یشیئ فاتوا منہ مااستطعتم وان نھیتکم عن شیئ فاجتنبوہ وروی فی الکشف حدیثا لترک ذرۃ مما نھی اﷲتعالٰی عنہ افضل من عبادۃ الثقلین ومن ثم جاز ترک الواجب دفعا للمشقۃ ولم یسامح فی الاقدام علی المنھیات۲؎۔شریعت کے ممنوعات کا اہتمام اس کے مامورات سے زیادہ ہے اسی لئے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی شیئ کا حکم دوں تو اس کو استطاعت کے مطابق بجالاؤ او ر اگر میں تمھیں کسی شیئ سے منع کرو ں تو اس سے بچو۔الکشف میں یہ حدیث منقول سے ایک ذرہ کے برابر اس کام سے رک جانا جس سے اﷲ تعالٰی  نے منع فرمایا جِن وانس کی عبادت سے بہتر ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ رفع مشقت کے لئے واجب کا ترک جائز ہوتا ہے لیکن ممنوعات پر عمل کی اجازت نہیں۔(ت)

 (۲؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ    مطبوعہ ا دارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/۱۲۵)

ثانیاً محاذاتِ خطیب ایک مصلحت ہے ، اور مسجد کے اندر اذان کہنا مفسدت اور جلبِ مصلحت سے سلبِ مفسدت اہم ہے ۔ اشباہ میں ہے :درء المفاسد اولٰی من جلب المصالح ۳؎۔

مفاسد کا دفع کرنا مصالح کے حصول سے بہتر ہے ۔(ت)

 (۳؎ الاشباہ والنظائر    الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ    مطبوعہ ا دارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/۱۲۵)

وجہ مفسدت ظاہر ہے کہ دربار ملک الملوک جل جلالہ کی بے ادبی ہے شاہد اس کا شاہد ہے دربارشاہی میں اگر چوب دارعین مکانِ اجلاس میں کھڑا ہوا چلاّئے کہ درباریو چلو سلام کو حاضر ہو، ضرور گستاخی بے ادب ٹھہرے گا ، جس نے شاہی دربار نہ دیکھے ہوں وہ انھیں کچہریوں کو دیکھ لے کہ مدعی مدعا علیہ گواہوں کی حاضری کمرہ سے باہر پکاری جاتی ہے چپراسی خود کمرۂ کچہری میں کھڑا ہوکر چلاّئے او رحاضریاں پکارے تو ضرور مستحق سزا ہو اور ایسے امور ادب میں شرعاً عرف معہود فی الشاہدہی کا لحاظ ہوتا ہے محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں:یحال علی المعھود من وضعھا حال قصد التعظیم فی القیام والمعھود فی الشاھد منہ تحت السرۃ ۱؎۔

حالتِ قیام میں بقصد تعظیم جو معروف ہو اس کے مطابق ہاتھ باندھے جائیں گے اور جس معروف کا مشاہدہ ہے وہ یہی ہے کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا ہے ۔(ت)

 (۱؎ فتح القدیر        باب صفۃ الصلٰوۃ        مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۲۴۹)

اسی بناء پر علماء نے تصریح فرمائی کہ مسجد میں جوتا پہنے جانا بے ادبی ہے حالانکہ صدرِ اول میں یہ حکم نہ تھا، فتاوٰی سراجیہ و فتاوی عالمگیری میں ہے:

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article چار سو افراد کی بستی ہو تو جمعہ واجب ہے یا نہیں؟ خطبہء جمعہ سے متعلق متفرق سوالات Next article
Rating 2.88/5
Rating: 2.9/5 (268 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu