• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > خطبہء جمعہ سے متعلق سوال

خطبہء جمعہ سے متعلق سوال

Published by Admin2 on 2013/11/11 (2060 reads)
Page:
(1) 2 3 4 »

New Page 1

مسئلہ ۱۳۰۵: از چھاونی فیروز پور صدر پنجاب محلہ لال ڈگی مرسلہ مولوی فضل الرحمان صاحب ۲۱ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۶ھ

بخدمت حضرت مخدوم ومعظم مقبول السبحان حضرت مولیٰنا مولوی احمد رضا خاں صاحب ادام اﷲ فیضہ القوی، السلام علیکم وعلی لدیکم مصدع خدمت خدام والا ہوں کہ ایک مسئلہ کی دوصورتیں ارسال خدمت شریف کرکے گزارش کہ بتفضلات کریما نہ جوا ب باصواب سے معزز وممتاز فرمائیں جزاکم اﷲ خیر الجزاء ( اﷲ تعالٰی آپ کو بہتر جزا عطا فرمائے۔ ت) نیازمند قدیمی فقیرمحمد فضل الرحمن۔

مبسلا وحامد اومصلیا ومسلما اما بعد پس واضح رہے کہ

بحدیث آمدہ بخطبہ جمعہ ہر کہ دیگرے رامی گوید کہ خاموش باش یاسنگریزہ رامس کرو اور اثواب جمعہ نباشد کہ اوعبث ولغو کرد۔

حدیث شریف میں ہے کہ خطبہ جمعہ میں اگر ایک دوسرے کو کہے خاموش ہوجا یا سنگریزے کو مَس کر دیا تو اسے جمعہ کا ثواب حاصل نہ ہوگا کیونکہ اس نے ایک عبث ولغو کام کیا ہے ۔(ت)

نیز خطبہ جمعہ میں حاضرین نے آپ سے کہا کہ بارش کی دُعا کیجئے ، آپ نے ہاتھ اٹھا کے دعا کی تھی اور تمام حاضرین نے بھی ہاتھ اٹھائے تھے تو آئندہ جمعہ کو تمام حاضرین نے کہا کہ بند ہونے بارش کی دعا کیجئے ، آپ کے دعا کرنے سے فوراً مینہ بند ہوگیا تھا ،بخاری ومسلم(عہ۱)، تو دونوں مقاموں سے معلوم ہوا کہ عبث کام کےلئے بولنا، ہاتھ کا ہلانا جمعہ کےخطبہ میں مکروہ ہے اور نیک کار کے لئے مکروہ ہرگز نہیں،اس استدلال کی اگر سمجھ نہ آئے عہ۱ :باب خطبہ جمعہ وباب استسقاء کے دیکھنے سے یہی حاصل ہے ۔ (م)

 تو بفتاوی علمگیریہ نقلاً عن المحیط وغیرہ موجود ہیے کہ بخطبہ جمعہ:

اذالم یتکلم بلسانہ لکنہ اشار بیدہ او برأسہ اوبعینہ نحوان رأی منکرا من انسان فنھاہ بیدہ (عہ۲)  اواخبر بخبر فاشار برأسہ الصحیح انہ لاباس بہ اما دراسۃ الفقہ وکتابتہ عند البعض مکروہ وقال البعض لاباس ۱؎ بہ ( ملخصا تقدماً وتاخراً ) انتھی۔اگر اس نے زبان سے کلام نہیں کیا لیکن ہاتھ یا سر آنکھ سے اشارہ کیا مثلاً کوئی بُرا کام دیکھا اور اسے ہاتھ سے روکا یا اسے کسی نے خبردی تو اس نے سر سے اشارہ کیا تو صحیح یہی ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں لیکن فقہ کی تدریس وکتابت بعض کے ہاں مکروہ ہے اور بعض کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں انتہی (ت)

عہ۲: مثلاً اگر دیکھے کسی کو کہ دوسرے کو کہتا ہے چپ کر یا سنگریزہ کو مس کر تاہے تردیکھنے والا اس کو ہاتھ یا سر یا آنکھ کے اشارے سے منع کرے کہ یُوں نہ کر تو منع کنندہ لاباس بہ میں داخل ہے اور جس کو اس نے منع کیا ہو لغو و عبث کنند گان سے شمار کیا جائے گا ۔ فتدبر (م)

 (۱؂فتاوی ہندیہ        الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۱۴۷)

پس ان سب روایتوں کے استدلال سے جو کوئی خطبہ اولٰی بقدر سنت سن کے باقی کو سنتا رہے اور حاضرین کو جوگرمی میں ہوا کی حاجت وضرورت ہوتی ہے سب کو ہوا کرنے لگے تاکہ اطمینان سے خطبہ سنیں لا باس بہ ( اس میں کوئی حرج نہیں۔ ت) بیشک یہ شخص ثوابِ جمعہ سے محروم نہ رہے گا۔

اذا  المقصود من الانصات ملا حظۃ معنی الخطبۃ واشتغال قلوب السامعین بالحر یفوت ذلک کذا یستفاد من فتاوی حموی۔کیونکہ خطبہ کی طرف کان لگانے سے مقصود یہی ہے کہ معانی خطبہ سے اگاہی ہو، لیکن سامعین کے دلوں کا گرمی کی وجہ سے پریشان ہونا اسے فوت کرنے کا ذریعہ ہے فتاوٰی  حموی سے یہی مستفاد ہے ۔(ت)

دیکھو جنت میں بروز جمعہ سب مومنوں کو ایک مکان میں جمع کرکے باری تعالٰی بھی ہوا شمالی چلائے گا تاکہ باطمینان دیدار حق سبحانہ تعالٰی سے مشرف ہواکریں گے، اس ہو اکا نام میثرہ ہے کہ کستوری کی خوشبوئی کا اثر رکھتی ہوگی کما فی مسلم ( جیسا کہ مسلم شریف میں ہے۔ ت)

ثانیاً اس ہواکنندہ قوم کو بخطبہ جمعہ گرمی کے مارے خود ہوا کی سخت حاجت وضرورت ہوتی ہے تو اُس نے اپنی اس راحت پر راحت کو مقدم کیا

ویؤثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ ۲؎

 ( وہ اپنی ذاتوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگر چہ وہ خود بھوکے ہوتے ہیں ۔ت)

 (۲؎ القرآن         ۵۹ /۹)

کے گروہ میں داخل ہوکے درجہ مفلحون کا پایا ،یہ آیت سورہ حشر کی بخاری و اشباہ وفتاوٰی  حموی میں موجود ہے اور کتاب وسنت کا حکم عام ہے۔

لان العبرۃ لعموم اللفظ لالخصوص المورد کما قرر فی الاصول۔کیونکہ اعتبار عموم لفظ کا ہو تا ہے مخصوص واقعہ کا اعتبار نہیں کیا جاتا جیسا کہ اصول میں مسلمہ ہے ۔(ت)

خطبہ جمعہ بقدر ایک تسبیح کے فرض اور تین آیات قصیرہ یا ایک آیت طویلہ پڑھنا وشہادتین و درود پڑھنا اور پند و نصیحت قوم کو کرنا خطیب پر سنت اور خطبہ ثانیہ نیز سنت ہے اور بعضوں کے نزدیک خطبہ اولٰی بقدر تمام التحیات کے فرض ہے فتدبر۔ راقم دعاگوخیر  خواہ فقیر غلام النبی عنہ باسمہ سبحٰنہ وتعالٰی شانہ،۔

الجواب

ھو الموفق بالحق والصواب ( وہ حق اور درستی کے ساتھ توفیق  دینے والا ہے ۔ت) برضمائر اربابِ صدق و صفاد اصحاب فطنت وذکا مخفی ومحتجب نہ رہے کہ جو افعال اثنائے نماز میں حرام ہیں وہی خطبہ میں بحالتِ استماع خطبہ گفتگو کرنا یابادکشی کرنا جو مضر اور مخالف استماع خطبہ ہے ممنوع اور غیر مشروع ہے ہرگز درست نہیں مرتکب اس کا خاطی وسخت گناہ گار ہے ،

علمگیریہ میں ہے :ویحرم فی الخطبۃ مایحرم فی الصلٰوۃ حتی لا ینبغی ان یاکل او یشرب والامام فی الخطبۃ ھکذا فی الخلاصۃ۱؎ ص ۵۳۔خطبہ کے دوران ہر وہ شئ حرام ہے جو نماز میں حرام حتی کہ امام کے خطبہ کے وقت کھانا وپینا مناسب نہیں اسی طرح خلاص ص ۵۳ میں ہے ۔(ت)

 (۱؎ فتاوی ہندیہ        الباب السادس عشر فی صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۱۴۷)

درمختار میں ہے : (وکل ماحرم فی الصلٰوۃ حرم فیھا) ای فی الخطبۃ خلاصۃ وغیرھا فیحرم اکل وشرب وکلام ولو تسبیحا اوردسلام او امرا بمعروف بل یجب علیہ ان یستمع ویسکت ۲؎۔ ( جو کچھ نماز میں حرام ہے اس ( خطبہ ) کے دوران بھی حرام ہے) خلاصہ وغیرہ ،پس کھانا پینا، کلام کرنا اگر چہ سبحان اﷲ کہنا ، سلام کا جواب دینا یا نیکی کا حکم ہو اس دوران ناجائز ہے بلکہ واجب ہے کہ خطبہ سنا جائے اور خاموشی اختیار کی جائے ۔(ت)

(۲؎ درمختار        باب الجمعۃ      مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی بھارت    ۱ /۱۱۳)

شامی میں ہے:قولہ بل یجب علیہ ان یستمع ظاھرہ انہ یکرہ الاشتعال بما یفوت السماع وان لم یکن کلاما وبہ صرح القھستانی حیث قال اذا الاستماع فرض کما فی المحیط اوواجب کما فی صلٰوۃ المسعودیۃ اوسنۃ ۳؎ الخ۔قولہ'' بلکہ خطبہ کا سننا واجب ہے '' کا ظاہر واضح کررہا ہے ہر وہی شیئ پڑھنا جس سے سماع خطبہ فوت ہو وہ مکروہ ہے اگر چہ وہ کلام نہ ہو، اسی کی تصریح کرتے ہوئے قہستانی نے کہا کیونکہ خطبہ کا سننا فرض ہے جیسا کہ محیط میں یا واجب ہے جیسے کہ صلٰوۃ المسعودیہ میں یا سنت ہے الخ (ت)

 (۳؂ردالمحتار          باب الجمعۃ             مطبوعہ مصطفی البابی مصر        ۱/۶۰۶)

شرح وقایہ میں ہے :واذا خرج الامام محرم الصلٰوۃ والکلام حتی یتم خطبتہ ۱؎۔جب امام (خطبہ کے لئے نکل آئے تو نماز و کلام حرام ہوجاتی ہے یہاں تک کہ خطبہ مکمل ہوجائے ۔(ت)

 (۱؂شرح وقایہ            باب ا لجمعۃ            مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی بھارت    ۱/ ۲۴۴)

شرح نووی میں ہے :قولہ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم ومن مس الحصا فقد لغافیہ النھی عن مس الحصا وغیرہ من انواع العیث فی حال الخطبۃ و فیہ اشارۃ الی اقبال القلب والجوارح علی الخطبۃ ۲؎۔حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: اور جس نے سنگریزے کو مس کیا اس نے لغو کام کیا، اس فرمان میں سنگریزے وغیرہ کومس کرنا جیسے کاموں سے حالت خطبہ میں آپ نے منع فرمایا ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دل اور اعضاء کو خطبہ کی طرف لگا یا جائے۔ (ت)

 (۲؎ شرح مسلم مع مسلم        کتاب الجمعۃ         مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی   ۱/ ۲۸۳)

لُب اور خلاصہ عبارات متذکرہ بالا کا یہ ہے کہ اثنائے خطبہ میں بادکشی وغیرہ لغو افعال جو مانع استماع خطبہ وتوجہ قلب اور اعضائے انسانی کے ہیں ناجائز ہیں اور فاعل اس کا بجائے اس کے کہ مستحق ثواب کا ہو مرتکب گناہ کا ہوگا۔ المجیب محمد فضل الرحمن ساکن صدر بازار کیمپ فیروز پنجاب۔

الجواب

تحریر ثانی صحیح ہے اور رائے نجیح فی الواقع فعل مذکور گناہ وحرام، او راس کا فاعل مرتکب آثار، اور اُس میں ثواب طمع خام، او رتحریر اول سراسر اوہام، خلاصہ وبزازیہ وخزانۃ المفتین و مجتبی وجلابی وحلیہ و جامع الرموز وبحرالرائق ونہر الفائق ومراقی الفلاح وتنویر الابصار ودرمختار وطحطاوی علی المراقی ومنحۃ و ہندیہ ومنحۃ الخالق وغیرہا عامہ کتب مذہیب میں صاف تصریح ہے کہ جو فعل نماز میں حرام ہے خطبہ ہونے کی حالت میں بھی حرام ہے، خلاصہ و علمگیریہ ومتن و شرح تنویر کی عبارات کلام مجیب میں گزریں اورعبارت خزانۃ المفتین بعینہا عبارت خلاصہ ہے اور اُسی سے بحر و حاشیہ البحر للعلامۃ الشامی میں یہ نقل نہر ماثور۔

وجیز امام کردری میں ہے :مایحرم فی الصلٰوۃ یحرم فی الخطبۃ کالا کل والشرب حال الخطبۃ۳؎۔جو کچھ نماز میں حرام ہے خطبہ میں بھی حرام ہے مثلاً خطبہ کے دوران کھانا پینا۔ (ت)

 (۳؎ فتاوی بزازیہ علٰی ہامش الفتاوٰی الہندیہ    الثالث والعشرون فی الجمعۃ    مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۷۴)

شرح منیہ امام محمد محمد ابن امیر الحاج حلبی میں ہے :کما یکرہ الکلام بانواعہ یکرہ مایجراہ من کتابۃ ونحوھا مما یشغل عن ساعھا حتی ان فی شرح الزاھدی ویکرہ لمستمع لخطبۃ مایکرہ فی الصلٰوۃ کالا کل والشوب والعبث والا لتفات ۱؎۔جیسے ہر طرح کی گفتگو منع ہے ویسے ہی اس کے قائم مقام مثلاً کتابت وغیرہ جو خطبہ کے سماع میں خلل ڈالے حتی کہ شرح الزاہدی میں ہے کہ خطبہ کے سامع کے لئے ہو وہ شیئ مکروہ ہے جو نماز میں مکروہ ہے مثلاً کھانا پینا، عبث فعل اور کسی طرف متوجہ ہونا وغیرہ (ت)

(۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح بحوالہ النہر عن البدائع  مفہوماً باب الجمعہ   مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۲۸۲)

اسی طرح علامہ سید احمد مصری نے حاشیہ شرح نورالایضاح میں بحوالہ شرح الکنزللعلامۃ عمر بن نجیم وشرح القدوری لمختار بن محمود سے نقل کیا ۔                                                                                                                                               شرح نقایہ علامہ محمد قہستانی میں ہے:کما منع الکلام منع الاکل والشرب العبث والالتفات والتخطی وغیرھا مما منع فی الصلٰوۃ کما فی جلابی ۲؎۔جس طرح گفتگو منع ہے اسی طرح کھانا پینا عبث کام ، کسی اور طرف متوجہ ہونا اور خط وغیرہ کھینچنا جو کہ نماز میں ممنوع ہیں منع ہیں جیسا کہ جلابی میں ہے ۔(ت)

(۲؎ جانع الرموز       فصل فی صلٰوۃ جمعہ    مطبوعہ گنبدقاموس ایران        ۱/ ۲۶۸)

متن وشرح علامہ حسن شرنبلالی میں ہے :( کرھہ لحاضر الخطبۃ الاکل والشرب)وقال الکمال یحرم ( والعبث والالتفات) فیجتنب ما یحتنبہ فی الصلٰوۃ ۳؎ اھ باختصار۔(خطبہ میں حاضر شخص کے لئے کھانا پینا مکروہ ہے ) کمال نے کہا حرام ہے ( بے فائدہ کام کسی اور طرف متوجہ ہونا) پس ہر شے سے اجتناب کرنا چاہئے جس سے نماز میں اجتناب کیا جاتا ہے اھ اختصاراً (ت)

(۳؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی      مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص ۲۸۳)

غنیہ شرح منیہ للعلام ابراہیم الحلبی میں ہے :الاستماع والانصات واجب عندنا وعند الجمہور حتی انہ یکرہ قراء ۃ القراٰن ونحوھا وردالسلام تشمیت العاطس وکذاالاکل والشرب وکل عمل۴؎۔خطبہ سننا اور اُس کی طرف متوجہ ہونا ہمارے اور جمہور کے نزدیک واجب ہے حتی کہ اس کے دوران قراءتِ قران وغیرہ، سلام کا جواب ، چھینک کا جواب مکروہ ہے اور اسی طرح کھانا پینا اور ہر عمل کا یہی حکم ہے (ت)

(۴؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی   فصل فی صلٰوۃ الجمعہ      مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور  ص ۵۶۰)

Page:
(1) 2 3 4 »

Navigate through the articles
Previous article ایک مسجد میں تین بار جمعہ کا حکم جمعہ کے بارے امام اعظم و صاحبین کے اقوال Next article
Rating 2.73/5
Rating: 2.7/5 (267 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu