• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > دیہات والوں پر جمعہ لازم ہے یا نہیں؟

دیہات والوں پر جمعہ لازم ہے یا نہیں؟

Published by Admin2 on 2013/11/18 (1064 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۳۵۱: از کلکتہ دھرم تلہ اسٹریٹ مرسلہ مولوی عبدالمطلب صاحب ۳جمادی الآخرہ ۱۳۳۶ھ

حامدا ومصلیا، ماقولکم ایھا العلماء الکرام من الاحناف العظام فی ھذہ المسئلۃ ان صلٰوۃ الجمعۃ واجبۃ علی اھل القری ام لا بینوابجواب شاف  توجروا  بثواب واف۔

اﷲ تعالٰی  کی حمد اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خدمت میں سلام عرض کرتے ہوئے، حنفی علماء کرام کا اس مسئلہ میں کیا فرمان ہے کہ اہل دیہات پر جمعہ لازم ہے یا نہیں؟ جواب کافی سے نواز رثوابِ کامل حاصل کریں۔ (ت)

الجواب

الجمعۃ علی اھل القری لیست بواجبۃ لقولہ علیہ الصلٰوۃ ف والسلام لا جمعۃ ولاتشریق ولا صلٰوۃ فطر ولااضحی الا فی مصر جامع اوفی مدینۃ عظیمۃ ۱؎ ۔

جمعہ اہل دیہات پر لازم نہیں کیونکہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جمعہ تکبیرات تشریق، عید الفطر، عید الاضحی کی نماز  صرف جامع شہر یا بہت بڑے شہر میں ہی ہوسکتی ہے،

 (۱؎ مصنف ابن ابی شیبہکتاب الصلٰوۃ  مطبوعہ اداراۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۲/۱۰۱)

ف: مصنف ابن شیبہ میں یہ حدیث حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے موقوفاً منقول ہے ۔ نذیراحمد

وفی فتح القدیر ان قولہ تعالٰی فاسعوا الی ذکر اﷲ لیس علی اطلاقہ اتفاقا بین الامۃ اذلا یجوز اقامتھا فی البراری اجماعا ولا فی کل قریۃ عندہ فکان خصوص المکان مرادافیھا اجماعا فقدر الشافعی القریۃ الخاصۃ وقدرنا المصر وھو اولی لحدیث علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولو عورض بفعل غیرہ کان علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ مقدما علیہ فکیف ولم یتحقق معارضۃ ماذکرنا ایاہ ولھذا لم ینقل عن الصحابۃ انھم حین فتحوا البلاد اشتغلوا بنصب المنابر و الجمع الافی الامصار دون القری ولوکان النقل ولواحادا ۱؎

فتح القدیر میں ہے اﷲ تعالٰی  کا فرمان '' پس تم اﷲ تعالٰی  کے ذکر کی طرف بھاگو'' ائمہ کے ہاں بالاتفاق مطلق نہیں کیونکہ جمعہ کا قیام جنگلوں میں بالاتفاق جائز نہیں اورامام شافعی کے نزدیک دیہات میں جمعہ نہیں ہوسکتا تو یہاں بالاتفاق جگہ کہ تخصیص کرنا ہوگی، امام شافعی نے دیہات کی تحقیق کی اور ہم نے شہر کی، اور شہر حدیث علی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کی وجہ سے اولٰی  ہے اور اس کا معاوضہ اگر دوسرے کے عمل سے ہے تو حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کو اس پر تقدیم ہوگی اور یہ تقدیم کیوں نہ ہو کہ ہمارے مـذکور معنی کے خلاف معارضہ ثابت ہی نہیں اسی لئے صحابہ سے یہی منقول ہے کہ جب انھوں نے علاقے فتح کئے تو فقط شہروں میں جامع مسجد اور منبر بنائے نہ کہ دیہاتوں میں، اور اگر وہ دیہاتوں میں بناتے تو ان کا یہ عمل منقول ہوتا خواہ کوئی ایک ہی روایت ہوتی،

(۱؎  فتح القدیر       باب صلٰوۃ الجمعۃ       مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۲۳)

وایضا ان الجمعۃ فرضت علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو بمکۃ قبل الھجرۃ ۲؎ کما اخرجہ الطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہ فلم یکن اقامتھا من اجل الکفار فلما ھاجرالنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ومن ھاجرمعہ من اصحابہ الی المدینۃ لبث رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فی بنی عمر وبن عوف اربعہ عشر ایام ولم یصل الجمعۃ فھذا دلیل علی عدم الجمعۃ فی القری والا لصلی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الجمعۃ ومع ان البخاری روی فی صحیحہ کان الناس یتنابون وفی روایۃ یتناولون الجمعۃ من منازلھم والعو الی فیأتون فی الغبار فیصیبھم الغبار والعرق ویخرج منھم العرق ۱؎  الحدیث

اور یہ بھی مسلم ہے کہ جمعہ حضور علیہ السلام پر مکہ میں قبل از ہجرت فرض ہوا جیساکہ امام طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی  عنہما سے نقل کیا ہے لیکن وہاں کفار کی وجہ سے آپ نے جمعہ قائم نہ فرمایا جب آپ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مدینہ طیبہ ہجرت کی تو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم چودہ دن تک قبیلہ بنو عمر وبن عوف کے ہاں ٹھہرے رہے مگر آپ نے وہاں جمعہ قائم نہ فرمایا، یہ دلیل ہے اس پر کہ دیہات میں جمعہ نہیں ورنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم وہاں جمعہ قائم فرماتے اور باوجود یکہ امام بخاری نے صحیح روایت کیا کہ لوگ جمعہ پاتے تھے، اور ایک روایت میں ہے کہ لوگ اپنے اپنے گھر اور عوالی سے جمعہ کے لئے آتے پس وہ غبار میں آتے تو انھیں غبار پہنچتی اور پسینہ آتا،

(۲؂  فتح القدیر    باب صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲ /۲۳)

(۱؎صحیح البخاری        با ب من این تؤتی الجمعۃ الخ        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۲۳)

وفی القدوری ولاتصح الجمعۃ الافی مصر جامع اوفی مصلی المصر ولاتجوز فی القری ۲؎

اور قدوری میں ہے کہ جمعہ کے لئے شہر کی جامع یاشہر کی عیدگاہ کا ہونا ضروری ہے دیہاتوں میں جمعہ جائز نہیں،

(۲؎ المختصر للقدوری    باب صلٰوۃ الجمعۃ         مطبوعہ مطبع مجیدی کانپور    ص ۳۹)

قال مولنا بحرالعلوم فی ارکانہ تحت قولہ تعالٰییایھا الذین اٰمنوا اذا نودی للصّلٰوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الٰی ذکر اﷲ وذروا البیع

 (ای یحرم البیع ویجب السعی الی الجمعۃ بعد سماع  الندأ) ثم ان البیع قد یطول الکلام فیہ فیفوت الخطبۃ اوالجمعۃ لان التجار یترکون صفقا تھم فی ھذا الزمان ولذامنع من النداء الاول ۳؎ فالبیع والشراء فی المصر ظاہر وقال ایضا فیہ ویکرہ للمریض وغیرہ من المعذورین ان یصلوا الظھر یوم الجمعۃ بجماعۃ، ولاباس بالجماعۃ للظھر للقروی لان الجمعۃ جامعۃ للجماعت فی المصر ۴؎۔

مولٰنا بحرالعلوم '' ارکان الاسلام'' میں اﷲ تعالٰی  کے اس ارشاد گرامی '' اے ایمان والو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لئے ندادی جائے تو اﷲ کے ذکر کی طرف دوڑ کر آؤ اور بیع ترک کردو'' کے تحت لکھتے ہیں یعنی اذان کے بعد بیع حرام ہے اور جمعہ کی طرف سعی لازم ہے پھر بیع میں گفتگو طویل ہوجانے کی وجہ سے جمعہ اور خطبہ فوت ہوجاتا ہے کیونکہ ایسے وقت تاجر سودا ختم نہیں کرتے اور اسی لئے ندا اوّل کے وقت ہی سے اس سے منع کردیاگیا پس بیع وشراء کا شہر میں ہونا ظاہر ہے ،اور وہاں یہ بھی فرمایا کہ مریض اور دیگر معذور لوگوں کے لئے جمعہ کے دن جماعت کے ساتھ ظہر ادا کرنا مکروہ ہے البتہ دیہاتی لوگوں کے لئے ظہر کی جماعت میں کوئی حرج نہیں کیونکہ شہر میں جمعہ تمات جماعتوں کا جامع ہوتاہے

 (۳؎ رسائل الارکان    فصل فی الجمعۃ         مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۱۱۸)

(۴؎ رسائل الارکان    فصل فی الجمعۃ         مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۱۱۸)

فعلم ان شرط المصر لوجوب الجمعۃ مشروع لا نہ جری التوارث من لدن رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الی ھذا الاٰن ان لایصلی الجمعۃاھل البدو والقرٰی  فالعمل علی قول صاحب القدوری لازم علی المقلدین لانہ قولہ مطابق لمذہب الحنفی واتبعوہ ورجحوہ جمہور فقہاء المحققین ولم ینکرہ احد من علماء الحنفیین کما فی الدرالمختار فعلینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لو افتونا فی حٰی وتھم ۱؎ الحق احق بالاتباع والمقلد الذی یخالفہ فحکم غیر جائز کما فی الدرالمختار واما المقلد فلا ینفذ قضائہ بخلاف مذھبہ اصلا ۲؎ فشرط المصر لصحۃ الجمعۃ محقق عند الجمھو ر الحنفیۃ بلاانکار احدلکن البتتۃ فقال الامام الشافعی موضع فیہ بنیان غیر منتقلۃ ویکون المقیمون اربعون رجلا من اصحاب المکلفین فاذا کان کذلک لزمت الجمعۃ واختلف الروایات فی مذہبنا ففی ظاھر الروایات بلدۃ لہا امام اوقاضی یصلح الاقامۃ الحدود ۔

اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وجوب جمعہ کے لئے شہر کا شرط ہونا مشروع ہے کیونکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی ظاہری حیات سے لے آج تک یہی متوارث ہے کہ اہل دیہات جمعہ نہیں پڑھتے ، تو صاحب قدوری کے قول پر مقلدین کے لئے عمل لازم ہے کیونکہ ان کا قول مذہب حنفی کے مطابق ہے اور جمہور فقہاء محققین نے اسی کی اتباع کرتے ہوئے اسے ہی راجح قراردیا ہے اور علماء احناف میں سے کسی نے اس کا انکار نہیں کیا جیسا کہ درمختار میں ہے تو ہم پر اس کی اتباع لازم ہے جسے انھوں نے راجح کہا اور اس کی تصحیح کی جیسا کہ وہ اپنی زندگی میں اس پر ہمیں فتوٰی  دیتے تو اسی کی اتباع کی جاتی اور حق ہی اتباع کے لائق ہےاور وہ مقلد جو اس کی مخالفت کرے اس کاحکم جائز نہیں جیسا کہ درمختا ر میںہے بہر حال اپنے مذہب کے خلاف مقلد کی قضاء اصلاً نافذ ہوگی صحت جمعہ کے لئے شہر کا شرط ہونا جمہور احناف کے ہاں ثابت ہے اور اس میں کسی کوانکار نہیں، ہاں تعریف شہر میں ان کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے ،امام شافعی فرماتے ہیں کہ ہروہ جگہ جہاں نہ منتقل ہونے والی آبادی ہو اور وہاں چالیس مکلف آدمی مقیم ہوں تو وہاں جمعہ لازم ہوجاتاہے ، ہمارے مذہب میں اس بارے میں روایات مختلف ہیں ، ظاہرالروایت میں ہے کہ ایسا شہر ہو جس میں کوئی ایسا امام یا قاضی ہو جواقامتِ حدود کی طاقت رکھتا ہو ،

(۱؎ درمختار    مقدمۃ الکتاب    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۵)

(۲؎ درمختار    مقدمۃ الکتاب    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۵)

و فی فتح القدیر قال الامام ابوحنیفۃ المصر کل بلدۃ فیھا سكک واسواق وبھا رساتیق ووال ینصف المظلوم من الظالم وعالم یرجع الیہ من الحوادث ۱ ؎

فتح القدیرمیں ہے کہ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں شہر وہ ہوگا جس میں محلے اور بازار ہوں اور ایسا والی ہو جو مظلوم کی فریاد رسی کر سکے اور ايسا عالم ہو جس کی طرف لوگ مختلف پیش آنے والے واقعات میں رجوع کرسکیں،

 (۱؎ فتح القدیر    باب الجمعۃ    مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۲/۲۴)

وروایۃ عن الامام ابی یوسف المصر موضع یبلغ المقیمون فیہ عدد الایسع اکبر مساجد ایاھم فی الھدایۃ وھوا ختار البلخی۲؎ وبہ افتی اکثر المشائخ لما رأوا فساد اھل الزمان والولاۃ وعنہ ایضا کل موضع فیہ یسکن عشرۃ الاٰف رجل، و عنہ ایضا ان کل موضع لہ امیر وقاض ینفذ الاحکام ویقیم الحدود وھو اختیار الکرخی۳؎

امام ابویوسف سے روایت ہے کہ شہر وہ جگہ ہے جہاں کے رہائشی اتنے ہو ں کہ وہاں کی سب سے بڑی مسجد ان کے لئے ناکافی ہو، ہدایہ میں ہے یہ امام بلخی کا مختار ہے اور فساد زمانہ اور امراء کافتنہ دیکھتے ہوئے اکثر مشائخ نے اسی پرفتوی دیا ،اور امام ابویوسف سے یہ روایت بھی ہے کہ ہر وہ جگہ شہر ہے جہاں دس ہزار مرد مقیم ہوں یہ بھی روایت ہے کہ ہروہ مقام  جہاں ایسا امیر یا قاضی ہو جواحکام کو نافذ اور اقامت حدود کا اختیار رکھتا ہو، امام کرخی نے اسی کو اختیار فرمایا

 (۲؎ الہدایۃ    باب الجمعۃ    مطبوعہ مکتبہ عربیہ کراچی        ۱/۱۴۸)

(۳؎ الہدایۃ    باب الجمعۃ    مطبوعہ مکتبہ عربیہ کراچی        ۱/۱۴۸)

کذافی الھدایۃ وقال بعضھم ھو ان یعیش کل محترف بحرفتہ من سنۃ الی سنۃ من غیر ان یحتاج الی حرفۃ اخری  وقال بعضھم ھوان یکون بحال لوقصد ھم عدو یمکنھم دفعہ وقال بعضھم ان یولد فیہ کل یوم ویموت فیہ انسان،  وقال بعضھم ھو ان لایعرف عدد اھلہ الابکلفۃ ومشقۃ فمختار اکثر الفقھاء مراعۃ لضرورۃ زماننا والمفتی بہ عند جمھور المتاخرین فی تعریف المصر الروایۃ المختارۃ للبخی ای مالا یسع اکبر مساجدہ اھلہ المکلفون بھا، وقال ابوشجاع ھذا حسن ماقیل فیہ وفی الولوالجیہ وھو صحیح ۱؎ بحر وعلیہ مشی فی الوقایۃ ومتن المختار وشرحہ وقدمہ فی متن الدرر علی قول الاٰخر وظاہرہ ترجیحہ وایدہ صدر الشریعۃ بقولہ لظھور التوانی فی احکام الشرع لاسیما فی اقامۃ ۤالحدود فی الامصار ۲؎ وکل موضع يصدق علیہ التعریف المذکور فھو مصر تجب الجمعۃ علی اھلہ والافلا تجب سواء ذلک الموضع یتعارف بلفظ القریۃ اودونھا غیر المصر، فالاٰن ھو لاحق فی حکم المصر شرعا لا عرفا لتطبیق تعریف المتاخرین وھذا احسن ومالایصدق عیہ التعریف المذکور فھو لیس بمصر شرعا وعرفا ففی لفظ القریۃ اعتبار ان شرعا بحیث ترسم بہ وبحیث لاترسم بہ ففی الاول تصح الجمعۃ وھی مدینۃ عظمۃ اوقریۃ کبیرۃ وفی الثانی لا تصح الجمعۃ وھی قریۃ صغیرۃ ومفازۃ ومثلھا کما یدل علیہ عبارۃ القھستانی وتقع فرضا فی القصبات والقری الکبیرۃ فیھا اسواق ۳؎۔

ہدایہ، بعض کی رائے یہ ہے کہ وہاں ہر صاحب صنعت سالہاسال سے اس طرح رہتاہو کہ اسے دوسری صنعت کی محتاجی نہ ہو،بعض کی رائے یہ ہے کہ اگر وہاں دشمن حملہ آور ہوتو ان سے دفاع ممکن ہوبعض نے کہا کہ وہاں ہر روز کوئی نہ کوئی پیدا ہو اور کوئی نہ کوئی مرے،بعض نے کہا کہ وہاں کے رہائشی لوگوں کی تعداد کا علم بغیر مشقت کے نہ ہو سکے، ہمارے زمانے کی ضرورت کے پیش نظر تعریف شہر میں اکثر فقہاء کا مختار اور متاخرین کا مفتی بہ قول وہی روایت ہے جو امام بلخی کی مختار ہے وہ مقام شہر ہے جس کی سب سے بڑی مسجد وہاں کے مکلف لوگوں کی گنجائش نہ رکھتی ہو شیخ ابوشجاع کہتے ہیں کہ ان تعریفات میں یہ حسن ہے، ولو الجیۃ میں ہے کہ یہی صحیح ہے، بحر، وقایہ ، متن مختار اور اس کی شرح میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے،اور متن درر میں اسے ہی دوسرے قول پر مقدم کیا اور ظاہراً ترجیح اسی کو ہے ، صدر الشریعۃ نے اپنے اس قول سے تائید کی ہے کہ کیونکہ احکامِ شرع خصوصا اقامتِ حدود میں سستی واقع ہو چکی ہے، ہر وہ جگہ جس پر تعریف صادق آرہی ہو وہ شہر ہے اور وہاں کے رہنے والوں پر جمعہ لازم ہوگا اور اگرتعریف صادق نہ آئے تووہاں جمعہ نہیں ہوگاخواہ وہ قریہ کے نام سے متعارف ہو یا کسی اور نام سے، تو اب وہ مقام متاخرین کی تعریف کے مطابق حکم مصر میں شرعا ہوگا نہ کہ عرفاً اور یہی احسن ہے ، اورجس پر تعریف مذکور صادق نہ ہو وہ شرعاً شہر ہے نہ عرفاً لفظ قریہ میں شرعاً دو ۲  اعتبار ہیں ایک وہ جس کی یہ تعریف کی گئی ، دوسری وہ جس کی یہ تعریف نہ ہوسکے، پس پہلے میں جمعہ صحیح ہے اور بڑا شہر یا قصبہ ہے اور درسرے میں جمعہ صحیح نہیں اور یہ دیہات ہے اور جنگل کا بھی یہی حکم ہے جیسا کہ اس پر قہستاتی کی عبارت دال ہے کہ قصبات اور بڑے دیہاتوں جن میں بازار ہوں جمعہ فرض ہوتا ہے، اور بحر میں ہے کہ قریہ اور جنگل میں جمعہ نہیں ہوسکتا

 (۱؎ بحرالرائق        باب صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۴۰)

(۲؎ شرح الوقایۃ    باب الجمعۃ        مطبوعہ المکتبہ الرشید یہ دہلی        ۱/۲۴۰)

(۳؎ جامع الرموز    فصل صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۲۶۱)

وفی البحر لاتصح فی قریۃ ولامفازۃ لقول علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ لا جمعۃ ولا تشریق ولاصلٰوۃ فطر ولااضحی الا فی مصر جامع او مدینۃ عظیمۃ ثم قال فلا تجب علی غیر اھل المصر۱؎ کذا فی الطحطاوی فبینھما عموم وخصوص فثبت بالد لائل المذکورہ فرضیۃ الجمعۃ مخصصۃ بالاجماع فان صلی الجمعۃ اھل قریۃ لایقال لھا مصرشرعا لایسقط الظھر عن ذمتہ وان صلی الظھر فرادی یعصو بکبیرۃ لترک الواجب ای الجماعۃ الظھر باداء جماعۃ النفل وھذا من قباحۃ عظیمۃ،

کیونکہ حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کا قول ہے کہ جمعہ، تکبیرات تشریق، نماز عیدالفطر اور اضحی مصر جامع یا بڑے شہر کے سوا نہیں ہوسکتیں، پھر کہا اہل شہر کے علاوہ یہ کسی پر لازم نہیں طحطاوی میں اس طرح ہے ، تو ان دونوں کے درمیان عموم وخصوص کی نسبت ہے تو دلائل مذکورہ سے واضح ہوگیا کہ بالاتفاق فرضیت جمعہ مخصوص ہے تو اگر ایسے اہل دیہات جمعہ قائم کریں جسے شرعاً شہر نہیں کہا جاسکتا تو ان کے ذمّے سے ظہر ساقط نہ ہوگی، اور اگروہ تنہا ادا کریں گے تو انھوں نے کبیرہ کا ار تکاب کیا کیونکہ واجب کا ترک ہوا یہی نوافل جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی وجہ سے ظہر کی جماعت ترک کردی اور یہ عظیم قباحت ہے۔

(۱؎ بحرالرائق        باب صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۴۰)

اعلم ان الجمعۃ جامعۃ للجماعات وفی اداء الظھر بالجماعۃ تفریق الجماعۃ عن الجمعۃ وتقلیلھا فیھا بخلاف اھل القرٰی  اذلا جمعۃ علیھم، ولا یفضی اداء الظھر بالجماعۃ الٰی تفریق الجمعۃ و تقلیلھا فیکون ذلک فی حقھم کسائرالایام فی جواز اداء الظھر بالجماعۃ من غیر کراہۃ مجالس الابرابر فقول من یقول ما الفرق بین الجمعۃ والظھر غیر الخطبتین وصحت الجمعۃ بلاکراھۃ فی کل موضع مثل الظھر سواء کان ذلک الموضع مصرا اوقریۃ اوغیر ہ وتارکھا بلاعذر فاسق و عاص، مردود وقائلہ ضال مضل لیس منا المقلدین وعلی المقلدین اجتناب عن اقوالہ وافعالہ واحتراز عن مصاحبتہ ومخالطتہ واﷲ اعلم وعلمہ احکم کتبہ احقرالوری ابوالفیض محمد حبیب الرحمٰن عفا اﷲ عنہ۔

واضح رہے کہ جمعہ تمام جماعتوں کا جامع ہے ، ظہر کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا جمعہ کی جماعت کو متفرق اور کم کرنا ہے بخلاف اہل دیہات کے کہ وہاں جمعہ لازم نہیں تو وہاں ظہر کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا جمعہ کے لئے تفریق وتقلیل کا سبب نہیں ان کے لئے تو یہ دن جماعت کے ساتھ بلاکراہت ظہر ادا کرنے کے لحاظ سے دیگر دنوں کی طرح ہی ہے مجالس الابرار ، تو وہ شخص جو کہتا ہے کہ جمعہ اور ظہر کے درمیان خطبوں کے علاوہ کوئی فرق نہیں ،جمعہ ہرجگہ ظہرکی طرح ادا ہوجاتا ہے خواہ شہر ہو یا دیہات یا اور کوئی مقام ہو، اس کا تارک فاسق اور مردود ہے تو ایسے قول کا قائل گمراہ ہے اور گمراہ کرنے والا ہے اور اس کا تعلق مقلدین سےنہیں ، اس کے اقوال وافعال، اس کی محبت و مخالطت سے مقلدین کو احتراز کرنا لازم ہے، اﷲ تعالٰی  کا علم کامل واکمل ہے،

کتبہ احقرالوری ابوالفیض محمد گحبیب الرحمٰن عفا اﷲ عنہالجواب

الذی یدعي عموم الجمعۃ کل محل ولا یخصہ بمصر ولاقریۃ فقد خالف الاجماع وھو ضلال بلاتزاع وقد اجتمع ائمتنا علی  اشتراط المصرلھا وان الاشتغال بہ فی القری تکرہ تحریما لکونہ اشتغالا بمالا یصح کما فی الدر۱؎ وغیرہ

جو شخص یہ دعوٰی  کرتا ہے کہ جمعہ ہر مقام پرہوجاتاہے اس کے لئے کسی شہر اور دیہات کی تخصیص نہیں، وہ بالاتفاق اجماع کے مخالف اورگمراہ ہے ہمارے ائمہ کااس پراتفاق ہے کہ جمعہ کے لئے شہر کا ہونا شرط ہے دیہاتوں میں جمعہ کا قیام مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ نادرست کام میں مشغول ہونا ہے جیسا کہ درر وغیرہ میں ہے ،

 (۱؎ درمختار    باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۴)

وقد حققنا المسئلۃ فی رسالتنا لوامع البھا وغیرماموضع من فتاوٰنا واما المصر فالصحیح فی تعریفہ ماھو ظاہر الروایۃ عن امامنا الاعظم رضی اﷲ تعالٰی کما بیناہ فی فتاوٰنا بمالا مزید علیہ واماما لایسع اکبر مساجدہ اھلہ فغیر صحیح عند المحقیقن کما نص علیہ فی الغنیۃ و کفی قاضیا علیہ بالبطلان ان مکۃ والمدینۃ تخرجان علیہ من المصر وتمنع الجمعۃ فیھما لان اتساع مسجدیھما لایوف مؤفۃ من یرد الیھما من الافاق مشاھد مرئی فضلا عن اھلھما خاصۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم

اس کی تحقیق ہم نے اپنے رسالہ لوامع البہا اور اپنے فتاوٰی میں متعدد جگہ کی ہے، شہر کی صحیح تعریف جو امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے ظاہر الروایت میں منقول ہے اور ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی وہ تفصیل دی جس پر اضافہ دشوار ہے، رہی یہ تعریف کہ ''جس جگہ کی سب سے بڑی سے بڑی مسجد اس کے باشندوں کی گنجائش نہ رکھتی ہو '' محققین علماء کے ہاں درست نہیں، جیسا کہ اس پر غنیہ میں تصریح ہے اور اس تعریف کے بطلان پر یہی دلیل کافی ہے کہ اس صورت میں مکۃ المکرمہ اور مدینہ طیبہ دونوں ہی شہر نہ ہوں اور ان میں جمعہ کی نماز منع ہو کیونکہ یہ مشاہدہ ہے کہ وہ تو مشرق تا مغرب آنے والے زائرین سے نہیں پر ہوتیں، چہ جائیکہ وہاں کے لوگوں کے لئے کافی نہ ہوں، واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)


Navigate through the articles
Previous article خطبہء جمعہ سے متعلق متفرق سوالات خطبہء جمعہ کے دوران سنتیں پڑھنا کیسا؟ Next article
Rating 2.72/5
Rating: 2.7/5 (257 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu