• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > خطبہء جمعہ کے دوران سنتیں پڑھنا کیسا؟

خطبہء جمعہ کے دوران سنتیں پڑھنا کیسا؟

Published by Admin2 on 2013/11/18 (898 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۳۵۳: از نصیر آباد محلہ تیلیان مرسلہ محمد عمر صاحب  ۲۶شوال ۱۳۳۶ھ

داود ولد محمد علی عرف پیر جی پیش امام مسجد دودھیان نصیر آباد مورخہ ۵ جولائی ۱۹۱۸ ء بروزجمعہ خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور جب خطبہ اول ختم کر کے دعا کے لئے بیٹھے اُس وقت دو شخصوں نے کھڑے ہو کر سنت پڑھنا شروع کی تب مسمی داود مذکور بالا نے کچھ خطبہ ثانی پڑھ کر فرمایا کہ سنتوں کا خطبہ اول وثانی میں پڑھنا ناجائز ہے اور جب خطبہ میں نام محمد مقتدی سنیں تو صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کہنا ناجائز ہے، آیا یہ مسئلہ جو مسمی داود نے بیان کیا قرآن شریف و حدیث کے مطابق ہے یا نہیں؟ اور ایسے شخص کی نسبت جو خطبہ میں محمد صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کانام پاک سن کر صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کہنا جائزنہ جانتا  ہو اس کے حق میں ازروئے شرع شریف میں کیا حکم ہے آیا خارج اسلام ہے یا نہیں؟ اور مسلمانوں کو ایسے عقیدہ والے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے جائز ہے یا نہیں؟ شیخ محمد عمر نصیر آباد  رسول بخش اوو رسیر، محمد اکبر خان، قمرالدین کلر ک۔نور محمد مستری۔ لعل محمد

الجواب

اطراف واقطار سے ہمارے معزز اہلسنت بھائی حفظہم اﷲتعالٰی  بعض سوالات بعض مسائل فقہیہ کی نسبت بھیجتے ہیں ان سوالوں میں جوقول کسی کانقل کرتے ہیں اسے وہابیت وغیرہ ضلالتوں سے کچھ علاقہ نہیں ہوتا خط میں تحریر فرماتے ہیں کہ یہ شخص چنین وچناں ہے جواب استفتا ءمیں یہاں خط ملحوظ نہیں ہوتا خصوصاً بارہا وہ بات جو اس شخص کی طرف نسبت کی فی نفسہٖ صحیح ہوتی ہے اب اس کی تصحیح کیوں نہ کیجئے ، کہ بات صحیح ہے اور تصحیح کیجئے تو عوام ذہن میں وہابی وغیرہ ضالین کی باتوں کا صحیح ہونا آتا ہے جس سے اندیشہ ہے کہ وہ اس کی اور باتوں کو بھی صحیح یا مشکوک ہی سمجھنے لگیں، اور یہ ان کے دین کا نقصان ہے، وہابی ہویا کوئی کافر، یہودی، مجوسی، بت پرست وغیرہم کسی کی سب باتیں جھوٹی نہیں ہوتیں کوئی نہ کوئی بات ہر شخص سچ کہتاہے، فقہ حنفی تو متعدد اشخاص مثل زمخشری وزاہدی ومطرزی معتزلہ گزرے ہیں ان کے اقوال فروعِ فقہ میں نقل ومسلم ہوتے ہیں اور عقائد میں وہ لوگ گمراہ بددین ہیں یہ نکتہ ہمیشہ ملحوظ رکھنا چاہئے ، بلاشبہ صحیح مذہب یہی ہے کہ دونو ں خطبوں کا سننا فرض ہے اور کسی خطبے کے وقت نہ سنتیں پڑھنے کی اجازت ، نہ اﷲ عزوجل کا نام پاک سن کر عز شانہ وغیرہ نہ حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کا نام پاک سن کر صلی اﷲتعالٰی  علیہ وسلم وغیرہ زبان سے کہنے کی اجازت کہ بحالت خطبہ سلام وکلام مطلقاً حرام ہے، ہاں دل میں جل جلالہ ، وصلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کہیں،

درمختار میں ہے :اذا خرج الامام فلا صلٰوۃ ولاکلام الی تمامھا خلاقضاء فائتۃ لم یسقط الترتیب بینھا و بین الوقتیۃ، فانھا لاتکرہ سراج وغیرہ لضرورۃ صحۃ الجمعۃ والا لا فیحرم کلام ولو تسبیحا اوامر بمعروف بل یجب علیہ ان یسمع ویسکت ۱؎ ۔ ( ملخصا)

جب امام آجائے تو اب اتمام تك نہ کلام نہ نماز جو فوت شدہ نمازکی قضاء کے علاوہ ہوجبکہ اس میں اور وقتی نماز میں ترتیب ساقط نہ ہوئی ہو، لہذا قضاء میں کراہت نہیں تاکہ جمعہ صحیح ہو، سراج وغیرہ ، اور اگر ایسی صورت نہیں توکلام حرام خواہ ایک تسبیح ہی کیونہ ہو، اسی طرح امر بالمعروف بھی، بلکہ اس پرلازم ہے کہ خطبہ سنے اور خاموش رہے ۔(ت)

 (۱؎ درمختار    باب الجمعہ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۳)

اسی میں ہے :ینصت ان قرأ الامام آیۃ ترغیب اوترھیب کذا الخطبۃ فلا یاٰتی بمایفوت الاستماع لو کتابۃ اوردسلام وان صلی الخطیب علی البنی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الااذاقرأ اٰیۃ صلوا علیہ فیصلی علیہ المستمع سرا بنفسہ وینصت بلسانہ عملا بامری صلوا وانصتوا ۲؎ ۔ ملخصاً واﷲ تعالٰی اعلمجب امام کوئی آیت ترغیب یا ترہیب پڑھے تو مقتدی خاموش رہے، اسی طرح خطبہ کا معاملہ ہے، پس ایسا کام نہ کرے جس سے سماع فوت ہوتا ہو اگر چہ کتابت ہی کیونہ ہو یا سلام کا جواب دینا ہو اگر چہ خطیب نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم پر درود شریف پڑھ رہا ہو البتہ جب خطیب آیت صلوا علیہ کہے تو سننے والا دل میں آہستہ درود شریف پڑھ لے اور زباں سے خاموش رہے تاکہ دونوں حکموں درود شریف پڑھو اور خاموش رہو پر عمل ہوجائے۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)

 (۲؎ درمختار    فصل ویجہر الامام الخ     مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۸۱)


Navigate through the articles
Previous article جمعہ کے بارے امام اعظم و صاحبین کے اقوال جمعۃ الوداع کے خطبۃ الوداع سے متعلق سوالات Next article
Rating 2.97/5
Rating: 3.0/5 (232 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu