• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا جمعہ وعیدمیں جائزہے؟

مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا جمعہ وعیدمیں جائزہے؟

Published by Admin2 on 2013/11/18 (1231 reads)

New Page 1

مسئلہ۱۳۶۸: از شہر کانپور توپ خانہ بازار قدیم مسجد صوبیدار مرحوم معرفت مولانہ مولوی حافظ عبید اﷲ صاحب مرسلہ محمد جعفر ۶ ربیع الاول۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا نماز جمعہ و عیدین میں جائزہے یا نہیں؟ چونکہ اس خطبہ میں کچھ اشعار اردو کے بھی شامل ہیں اسی وجہ سے تمام ہندوستان کے لوگ جن کی زبان اردو ہے اس کو بہت شوق سے سنتے ہیں اور اکثر بزرگ اس خطبہ کو بکثرت نماز جمعہ وعیدین میں پڑھا کرتے ہیںسید محبوب علی شاہ صاحب سکندریہ حیدر آباد دکھن جومرید بھی کرتے ہیں اور وعظ بھی فرماتے ہیں انھوں نے بمبئی محلہ کماٹی پورہ گلی نمبر۵ میں بآواز بلند بعد نماز جمعہ یہ فرمایا کہ مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا اور سننا نماز جمعہ وعیدین میں ناجائز ہے اس سے نماز نہیں ہوتی ہے کیونکہ علمی کا مذہب رافضی تھا، لہذا بکمال ادب مستدعی ہوں کہ اس مسئلہ میں شرعا کیا حکم ہے، آیا مجموعہ خطب علمی کا پڑھنا اور سننا نماز جمعہ و عیدین میں ناجائز ہے یا نہیں، اور علمی کا مذہب کیا تھا؟ علمی نے خطبہ میں صحابہ کرام کی تعریف اور مدح بھی کی ہے مع حوالہ کتاب مطلع فرمائے، کہ نماز جمعہ وعیدین مجموعہ خطب مذکور بالا پڑھنے سے جائز ہوگی یا نہیں؟ اور درحقیقت اگر علمی کا مذہب اہلسنت والجماعت تھا تو جو شخص علمی کو رافضی کہے اس کے حق میں کیا حکم ہے اوراس کے پیچھے نمازپڑھنا جائز ہے یا نہیں، اور اس کا مرید ہونا کیساہے ؟ بینوا توجروا

الجواب

مولٰنا محمد حسن علمی بریلوی رحمۃ اﷲ علیہ سُنّی صحیح العقیدہ اور واعظ وناصح اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کے مداح اور میرے حضرت جد امجد قدس سرہ العزیز کے شاگرد تھے انھیں رافضی نہ کہے گا مگر کوئی ناصبی یا خارجی، دکھنی صاحب نے اگر کسی کی سُنی سنائی بے تحقیق کہہ دی تویہ آیۃ کریمہ:فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھا لۃ فتصبحوا علی مافعلتم نٰدمین ۱؎o

تحقیق کرلو کہیں جہالت کی وجہ سے کسی قوم پر حملہ آور نہ ہوجاؤ تو پھر تم اپنے کئے پر نادم ہوجاؤ۔ (ت)کاخلاف کیا

 (۱؎القرآن    ۴۹/۶)

صحیح حدیث:لاتذکروا موتاکم الابخیر ۲؎  رواہ البخاری وغیرہ۔اپنے فوت شدگان کو اچھائی سے یاد کیا کرو، اسے بخاری وغیرہ نے روایت کیا ۔(ت)

 (۲؎ اتحاف السادۃ المتقین    کتاب آفات اللسان  الافۃ الثامنۃ    مطبوعہ دارالفکر بیروت  ۷/۹۱ ۴۹۰)

اور حدیث صحیح :کفا بالمرء کذابا ان یحدث بکل ماسمع ۱؎ رواہ مسلم وغیرہ۔

کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ سنی سنائی بیان کردیتا ہے، اسے مسلم وغیرہ نے روایت کیا۔ (ت)

 (۱؎ صحیح مسلم    النہی عن الحدیث بکل ماسمع            مطبوعہ نورمحمد اصح المطابع کراچی   ۱/۸)

آیت کا ارشادیہ ہے کہ غیر ثقہ کی خبر خوب كی تحقیق کرلو کہیں کسی کو جہالت سے آزاردے بیھٹو پھر اپنے کئے پر پچھتاتے ہو، اور حدیث اول کا کہ اپنے اموات کو خیر ہی سے یاد کرو اور دوم یہ کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کو یہ بہت ہے کہ جو کچھ سنے اس پر اعتبار کرکے لوگوں سے بیان کردے اور اگر اپنی طرف سے کہا تو آفت سخت تر ہے:

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں :من ذکر امرأ بما لیس فیہ لیعیبہ بہ حبسہ اﷲ فی نارجھنم حتی یاتی بنفاذ ماقال فیہ ۲؎۔

جو کسی کے عیب لگالے کو وہ بات بیان کرے جو اس میں نہیں اﷲ اسے نار جہنم میں قید کرے گا یہاں تک کہ اپنے کئے کی سند لائے۔

(۲؎ معجم اوسط    حدیث ۸۹۳۱      مکتبۃ المعارف الریاض    ۹/۴۳۲)

دوسری روایت میں ہے :کان حقا علی اﷲ ان یذیبہ یوم القیٰمۃ فی النار حتی یاتی بانفاذ ماقال ۳؎ ۔ رواہ طبرانی بسند صحیح عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔

اﷲ پر حق ہے کہ جب تک اپنی اُس بات کا ثبوت پیش نہ کرے اُسے اتشِ دوذخ میں پگھلائے، اسے طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ ابی درداء رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے روایت کیا۔

 (۳؎معجم الاوسط     بحوالہ الطبرانی ا لکبیر    باب فی الشہود    دارالکتاب بیروت        ۴/۲۰۱)

اور بفرضِ غلط اگر معاذ اﷲ کوئی بد مذہب ہی خطبہ تصنیف کرے اور وہ صحیح ہو اس میں کوئی بد مذہبی نہ ہو تواس کے پڑھنے سے نماز کیوں ناجائز ہونے لگی۔ یہ دل سے مسئلہ گھڑنا اور شریعتِ مطہرہ پر افتراء کرنا ہے، ہاں اردو زبان خطبہ میں ملانا نہ چاہئے کہ خلاف سنت متوارثہ ہے یہ دوسری بات ہے اسے عدمِ جوازِ نماز سے کیا علاقہ ، شخص مذکور اگراپنی ان حرکات پر مصر  رہے اور تائب نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز نہ چاہئے نہ اس کے ہاتھ پر بیعت،

ویتوب اﷲ علی من تاب ( اﷲ تعالٰی  ہر تو بہ قبول کرنے والے پر کرم فرماتا ہے، ت) واﷲ تعالٰی  اعلم بالصواب


Navigate through the articles
Previous article جمعہ کے بارے امام اعظم و صاحبین کے اقوال جمعۃ الوداع کے خطبۃ الوداع سے متعلق سوالات Next article
Rating 2.53/5
Rating: 2.5/5 (169 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu