• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > قریب قریب واقع دیہات میں جمعہ کا حکم

قریب قریب واقع دیہات میں جمعہ کا حکم

Published by Admin2 on 2013/11/22 (765 reads)

New Page 1

مسئلہ۱۳۷۷: از ضلع ڈھاکہ ڈاکخانہ نہروی مدرسہ حافظ پور مخلص الرحمان

بخدمت شریف جناب مولانہ مولوی احمد رضا خاں صاحب دام ظلہ، السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،، عرض یہ ہے کہ ہمارے ملک بنگالہ میں ایسی بستیاں ہوا کرتی ہیں کہ ہر ایک میں متعدد  پارہ یعنی حصے ہوتے ہیں اور ہر ایک پارہ جُدا جُدا نام سے موسوم ہے، ایک پارہ سے دوسرے پارہ علیحدہ اور اس قدر فاصلہ سے بسا ہے کہ گویا قریہ صغیرہ مستقلہ کے درمیان مواضع منفصلہ میں مزارع اور میدان اور کہیں کہیں بانس اور دیگر ادنٰی  جنگل ہوا کرتے ہیں موسم برسات میں ایک پارہ سے دوسرے پارہ میں جانے کے لئے کشتی کی ضرورت کم ہوتی ہے مگر جوتی پہن کر نہیں جاسکتے کہیں کہیں درمیانی فاصلہ میں زانوں تک پانی ہوتا ہے اور اکثر جگہ میں اس سے کچھ کم ایک پارہ سے دوسرے پارہ میں جانے کےلئے سوائے کھیتوں کی حدبندی اور چھوٹے چھوٹے راستوں کے اور کوئی بڑا راستہ نہیں ہے یعنی دو آدمی محاذی ہو کر ایسے راستہ سے چلنا دشوار ہے ہاں کہیں کہیں مواشی کے چلنے کے لئے '' گوپاٹ'' یعنی کچھ زمین افتادہ مثل بڑے راستے کے فراخ چھوٹی ہوئی ہے وہ بھی مثل سڑک کے اونچے نہیں، ہر ایک پارہ کے ابنیہ بھی متصل نہیں بالکل غیر منظم حالت پر ہیں، ان پاروں کاایک بڑا نام ہواکرتا ہے جس سے وہ خط وکتابت وتمسک وقبالہ وگورنمنٹی کاغذات میں مشہور ہوتا ہے اکثر ان گاؤں میں ڈاکخانہ ہے نہ تھانہ وسکک واسواق، روزانہ بالکل نہیں ہاں ہفتہ میں دو ایک مرتبہ بعض گاؤں کے کنارے میں بازار (ہاٹ) لگتا ہے جس میں لوگ اشیائے خوردنی بیچتے اور خریدتے ہیں مگر بازار کے معین وقت کے سوا وہاں شاذو نادر ہی کچھ ملتا ہے مگر ایسے دکان دو ایک سے زیادہ نہیں ہوتا، ایسے گاؤں کے پاروں میں نماز جمعہ کے لئے مسجدیں بنی ہیں ان مسجدوں میں جو نہایت بڑی ہوتی ہے اس میں بمشکل چالیس آدمی سما سکتے ہیں، ہر ایک گاؤں یعنی( مجموعہ چندپاروں میں) دو ڈھائی ہزار لوگ ہند ومسلمان بستے ہیں اس تعداد میں بالغ نابالغ مردو زن سب شامل ہیں ، الحاصل سوائے کثرت مردم کے شہر محکمے کی دوسری کوئی علامت ان پاروں میں نہیں ہے، نماز پنجگانہ کی جماعت نہیں ہوتی، اتفاقیہ دو چار آدمی کہیں جمع ہوتے ہیں تو جماعت پڑھتے ہیں ورنہ کچھ جماعت راتبہ نہیں اب سوال یہ ہے کہ ایسے گاؤں میں نماز جمعہ پڑھنی مطابق مذہب حنفی کے درست ہے یانہیں، بر تقدیر ثانی پڑھنے والے گنہگار ہوں گے یا نہیں، ایسے گاؤں کو جو متعدد پار ہائے منفصلہ سے بنا ہے اور جس میں دو ڈھائی ہزار لوگ بستے ہیں قریہ کبیرہ کہہ سکتے ہیں یانہیں؟ بینوا توجروا عند اﷲ اجرا حسنا۔ زیادہ والسلام

الجواب

صورت مذکور میں وہ چھوٹے پارے اور ان کا مجموعہ سب گاؤں ہیں اور ان میں جمعہ ناجائز ہے اور پڑھنا گناہ ۔ درمختار میں ہے :صلٰوۃ العید فی القری تکرہ تحریما ای لانہ اشتغال بمالا یصح ۱؎۔

دیہاتوں میں نماز عید مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ ایسے کام میں مشغول ہونا ہے جودرست ہی نہیں۔(ت)

 (۱؎ درمختار    باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۴)

اور اگراس کے سبب ظہر ترک کریں گے تو تارک فرض ہوں گے اور ظہر احتیاطاً تنہا پڑھی تو تارک واجب ہوں گے بہر حال متعدد گناہ ان پر لازم ہیں باینہمہ جہاں لوگ پڑھتے ہوں انھیں نہ روکا جائے

کما افادہ فی الدرالمختار فی الصلٰوۃ عند الشروق ۱؎ ( جیسا کہ در مختار میں طلوع آفتاب کے وقت نماز ،کے بارے میں بیان کیا ہے ۔ت) اور خود ہر گز نہ پڑھیں، نہ نئی جگہ قائم کریں گناہ سے بچنا لازم ہے اور پاروں کے مجموعے کو اگر چہ مجموعی طور پر قریہ کبیرہ کہہ سکیں مگر قریہ کبیرہ بمعنی بلدہ صغیرہ ہر گز نہیں جس میں جمعہ جائز ہوسکے واﷲ تعالٰی  اعلم

 (۱؎ درمختار     کتاب الصلٰوۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۶۱)


Navigate through the articles
Previous article خطبہء جمعہ کے دوران سنتیں پڑھنا کیسا؟ جمعہ کے پہلے خطبہ کی بجائے وعظ و نصیحت کرنا کیسا؟ Next article
Rating 2.69/5
Rating: 2.7/5 (245 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu