• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > ایک بیکارجگہ جمعہ پڑھنے والے کیا گہنگار ہیں؟

ایک بیکارجگہ جمعہ پڑھنے والے کیا گہنگار ہیں؟

Published by Admin2 on 2013/11/22 (777 reads)

New Page 1

مسئلہ۱۳۸۹: مسئلہ از کشن گنج ضلع پورنیہ مسئولہ ماسٹر محمدطاہر علی صاحب ہیڈ ماسٹر مدرسہ انجمن اسلامیہ ۲۴جمادی الاولٰی  ۱۳۳۹ھ

کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس جوار کا دستور ہے کہ اکثر لوگ احاطہ مکان میں ایک چار چھ ہا تھ کا مربع مکان دیوار یا ٹٹی کا بنام، اﷲ گھر یا مسجد  كے بلا لحاظ پابندی نماز بتاتے ہیں، یہ مکان ضرورتاً ادھر اُدھر ہٹا بھی دیاجاتا ہے اور کبھی کھود بھی ڈالتے ہیں غرض ایسی عرفی مسجدوں میں جو بڑی سے بڑی مسجدتھی اس میں لوگوں نے جمعہ جماعت تیار کرلی اور چلتے پھرتے واعظ لوگ آتے انھوں نے ان لوگوں کی شامل جمعہ بھی پڑھا اور پڑھتے ہیں تو ایسی حالت میں بتحقیق مقلدین احناف یہ خوانندہ جمعہ مصیب ٹھہریں گے یا خاطی ؟ جواب مدلل بادلہ حنیفہ ہو۔

الجواب

یہ مکانات مساجد البیوت کہتے ہیں یہ حقیقۃً مسجد نہیں ہوتے، نہ ان کے لئے حکمِ مسجد ہے ،

درمختا ر میں ہے :کرہ غلق باب المسجد والوطء فوقہ والبول والتغوط ولایکرہ ماذکر فوق بیت جعل فیہ مسجد بل ولا فیہ لانہ لیس بمسجد شرعا۱؎ ۔ ( ملخصاً)

مسجد کا دروازہ بند رکھنا، مسجد کی چھت پر وطی اور بول و براز مکروہ ہے لیکن یہ اس گھر کے اوپر مکروہ نہیں جس گھر میں مسجد ہو بلکہ اس کے اندر بھی مکروہ نہیں کیونکہ وہ شرعی مسجد نہیں ۔(ت)

 (۱؎ درمختار    باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۹۳)

مگر جمعہ کے لئے مسجد شرط نہیں مکان میں بھی ہوسکتا ہے جبکہ شرائط جمعہ پائے جائیں اور اذن عام دے دیا جائے لوگوں کو اطلاع عام ہو کہ یہاں جمعہ ہوگا اور کسی کے آنے کی ممانعت نہ ہو، کافی امام نسفی میں ہے:السلطان اذا اراد ان یصلی بحشمہ فی دارہ فان فتح بابھا و اذن للناس اذنا عاما جازت ۔۲؎

اگر سلطان چاہتا ہے کہ وہ اپنے گھر میں نماز جمعہ ادا کرے تو اگر اس نے دروازہ کھلا رکھا اور لوگوں کو اذنِ عام تھا تو جائز ہے۔ (ت)

 (۲؎ ردالمحتار بحوالہ الکافی    باب الجمعۃ       مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۶۰۱)

تو اگر صورت یہ تھی وہ لوگ مصیب ہوئے، ہاں اگر وہاں مسجد جمعہ موجود تھی اس میں نماز نہ ہوئی اور گھر میں قائم کی تو کراہت ہوئی،

درمختار میں ہے :لودخل الامیر قصرہ واغلق بابہ وصلی باصحابہ لم تنعقد ولوفتحہ واذن للناس بالدخول جاز وکرہ ۳؎ ۔

اگر امیر نے اپنے محل میں داخل ہوکر دروازہ بند کرکے اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز ادا کی تو جمعہ نہ ہوا اور اگر دروازہ کھلا رکھا اور لوگوں کے لئے اجازت عام تھی تو جائز ہوئی البتہ کراہت ہے۔ (ت)

 (۳؎ درمختار      باب الجمعۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱/۱۱۲)

ردالمحتار میں ہے :لانہ لم یقض حق المسجد الجامع زیلعی و درر ۴؎۔

مکروہ اس لئے  ہے کہ اس نے جامع مسجد کا حق ادا نہ کیا زیلعی درر (ت)

 (۴؎ ردالمحتار      باب الجمعۃ      مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۶۰۱)

اور اگر کوئی شرط جمعہ مفقود تھی مثلاً وہ جگہ مصر وفنائے مصر نہ تھی، یا امام امامِ جمعہ نہ تھا یا بعض نمازیوں کو بلا وجہ شرعی ، وہاں نماز کے آنے سے ممانعت تھی یا نمازیوں میں وہاں اقامتِ جمعہ مشہور نہ تھی بطور خود ان لوگوں نے پڑھ لی  اور عام اطلاع نہ ہوئی اگر چہ لوگوں نے اور مسجدوں میں پڑھی تو ان صورتوں میں ان کی نماز نہ ہوئی ،

خلاصہ میں شرح جامع صغیر امام صدر شہید سے ہے :من جملۃ ذلک الاذن العام یعنی الاداء علی سبیل الاشتہار ۔۱؎

ان سے ایک اذن عام بھی ہے یعنی اعلانیہ ادا کیا جائے ۔(ت)

 (۱؎ خلاصتہ الفتاوٰی  بحوالہ شرح الجامع الصغیر لصدر شہید ومنہا الجماعۃ  مطبوعہ مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ   ۱/۲۱۰)

بدائع وحلیہ وغیرہما میں ہے :السلطان اذا صلی فی دارہ و القوم مع امراء السلطان فی المسجد الجامع ان فتح باب دارہ واذن للعامۃ جاز وتکون الصلوۃ فی موضعین ولو لم یأذن للعامۃ وصلی مع جیش لا تجوز صلٰوۃ السلطان وتجوز صلٰوۃ العامۃ ۲؎ اھ و تمامہ فیما علقناہ علی ردالمحتار ۔واﷲ تعالٰی  اعلم

سلطان نے اپنی دار میں جمعہ پڑھا، باقی لوگوں نے بمع امراء سلطان جامع مسجد میں جمع پڑھا تواب اگر دار کا دروازہ کھلا تھا تو جائز ہے، اور نماز دونوں مقام پر ہوجائے گی اور اگر وہاں عام لوگوں کو اجازت نہ تھی بادشاہ نے صرف اپنے لشکر کے ساتھ نماز ادا کی تو اب سلطان کی نماز نہ ہوئی، ہاں عام کی ہوجائی گی اھ اسکی تفصیل ہمارے حاشیہ ردالمحتار میں ملاحظہ کیجئے.واﷲ تعالٰی  اعلم (ت)

 (۲؎ بدائع الصنائع بحوالہ النوادر        فصل فی بیان شرائط الجمعۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۶۹)


Navigate through the articles
Previous article خطبہء جمعہ کے دوران سنتیں پڑھنا کیسا؟ جمعہ کے پہلے خطبہ کی بجائے وعظ و نصیحت کرنا کیسا؟ Next article
Rating 2.79/5
Rating: 2.8/5 (229 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu