• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > مال چوری ہونے کا ڈر ہو تو کیا جمعہ چھوڑ سکتے ہیں؟

مال چوری ہونے کا ڈر ہو تو کیا جمعہ چھوڑ سکتے ہیں؟

Published by Admin2 on 2013/11/22 (765 reads)

New Page 1

مسئلہ۱۳۹۵: از پیلی بھیت محلہ پنجابیاں مسئولہ محمد یونس صاحب ۲۷ شعبان۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک مقام پر دریا شہر میں واقع ہے اور ایک آگبوٹ یہاں مدام کھڑا رہتا ہے اور جہاز والے چند جہازوں کو اس آگبوٹ میں لاکر جوڑ تے ہیں مال اور سواریاں جہازوں کی آگبوٹ اُتارتے ہیں اور آگبوٹ کے اگے ایک پُل لوہے کا بنا ہوا ہے سواریاں شہر کواسی پُل سے پار ہوکر جاتی ہيں اور اس آگبوٹ اور جہازوں میں تین گز کا فاصلہ ہے اور جہازوں والے بوجہ خوف چوری کے شہر میں جاکر نماز ادا کرنے سے منع کرتے ہیں توازرُوئے شرع نماز ان کی جائز ہوتی ہے یا نہیں؟

الجواب

دریا میں نماز جمعہ وعیدین نہیں ہوسکتی ، اگر سمندر ہے جب تو ظاہر ہے کہ وہ حکم دارالحرب میں ہے اور دارالحرب میں جمعہ وعیدین باطل ۔

ردالمحتار میں ہے :فی حاشیۃ بی السعود عن شرح النظم الھاملی سطح البحرلہ حکم دارالحرب ۲؎ ۔

حاشیہ ابوسعود میں شرح النظم الہاملی کے حوالے سے ہے کہ سطح سمندر کا حکم دارالحرب کا ہے (ت)

 (۲؎ ردالمحتار     باب استیلاء الکفار    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۲/ ۶۷ ۔۲۶۶)

اسی میں دُرمنتقی شرح الملتقی سے ہے:البحر الملح ملحق بدارالحرب ۳۳؎( نمکین سمندر، دارالحرب سے ملحق ہے ۔ت)

 (۳؎ردالمحتار     باب استیلاء الکفار    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۲/ ۶۷ ۲)

اور اگر دریا ہو تو دریا نہ مصر ہے نہ فنائے مصر، یہاں تک کہ شہر کے دوحصے کہ اس کے دو پہلوں پر آباد ہوں دوشہر کے مثل ہیں کہ دریا ایک جداومستقل چیز بیچ میں فاصل ہے۔

فتح القدیر میں ہے :اصلہ عندابی حنیفہ لایجوز تعدد ھافی فی مصر وکذاروی اصحاب الاملاء عن ابی یوسف انہ لا یجوز فی مسجد ین فی مصر الا ان یکون بینھا نھر کبیر حی یکون کمصرین وکان یامر بقطع الجسر ببغداد کذلک ۱؂ ۔

اس کی اصل امام ابو حنیفہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کے نزدیک یہی ہےکہ ایک شہرمیں متعدد جگہ جمعہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح اصحاب الاملاء نے امام ابویوسف سے روایت کیا کہ شہر میں دومساجد میں جمعہ نہیں ہوتا، ہاں جب ان کے درمیان بڑی نہر ہو تو وہ اس وقت دوشہروں کی طرح ہوجائیں گے، اسی لئے انھوں نے بغداد میں پل ختم کرنے کا حکم جاری فرمایا تھا ۔ (ت)

(۱؎ فتح القدیر    باب صلٰوۃالجمعہ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/ ۲۵)

ظاہر ہے کہ فنا تابع ہے نہ کہ قاطع، اور جمعہ وعیدین نہیں ہوسکتے مگر مصر یا فنائے مصر میں، یہ  سب اس صورت میں ہے کہ خوف صحیح ہو اترنا متعذر ہو ورنہ نماز پنجگانہ ووتر وسنت فجر بھی ان جہازوں میں نہیں ہوسکتے کہ ان کا استقراء پانی پر ہے اور ان نمازکی شرطِ صحت استقرار علی الارض مگر بحال تعذر،

فتح القدیر میں ہے :فی الایضاح ان کانت موقوفہ فی الشط وھی علی قرار الارض فصلی قائما جاز لانھا اذا استقرت علی الارض فحکمھا حکم الارض فان کات مربوطۃ ویمکنہ الخروج لم تجز الصلٰوۃ فیھا، لانہا اذا لم تستقم فھی کالدابۃ انتھی بخلاف مااذا استقرت فانھا حنیئذ کالسریر ۲؎

ایضاح میں ہے اگر وہ کشتی کنارے پر کھڑی ہے اور زمین پر برقرار ہے تو نماز کھڑے ہو کر ادا کرے تونماز جائز ہے کیونکہ اب زمین پر قرار پکڑنے کی وجہ سے زمین کے حکم میں ہی ہے ، اور اگر کشتی باندھی ہوئی تھی اور اس سے نکلنا ممکن تھا تو اب اس پر نماز نہ ہوگی کیونکہ جب وہ مستقر نہیں تو وہ چارپایہ کے حکم میں ہے بخلاف اس صورت کے جب وہ مستقر ہے تواس وقت وہ چار پائی کی طرح ہوتی ہے ۔(ت)

(۲؎ فتح القدير    باب صلٰوۃ المریض  مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۴۶۲)

اسی صورت میں اگر جبراً نہ اترنے دیتے ہوں پنجگانہ پڑھیں اور اترنے کے بعد سب کا اعادہ کریں

لان المانع من جھۃ العباد

( کیونکہ رکاوٹ بندوں کی طرف سے ہے ۔ت) واﷲ تعالٰی  اعلم


Navigate through the articles
Previous article خطبہء جمعہ کے دوران سنتیں پڑھنا کیسا؟ جمعہ کے پہلے خطبہ کی بجائے وعظ و نصیحت کرنا کیسا؟ Next article
Rating 2.71/5
Rating: 2.7/5 (222 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu