• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > غیر مستحق کو امام لگا دیا جائے تو کیا کریں؟

غیر مستحق کو امام لگا دیا جائے تو کیا کریں؟

Published by Admin2 on 2013/11/26 (877 reads)

New Page 1

مسئلہ۱۴۰۶: ازاوجین گوالیار مرسلہ مولوی یعقوب علی خاں ۱۵جمادی الآخرہ۱۳۰۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید ایک قصبہ میں نسلاً بعد نسلٍ مسند قضا پر بحکم حاکم واتفاقِ جماعتِ مسلمانان مامور ہے اور امامت وخطابت اور نماز عیدین بلکہ تمام کاروبار متعلقہ عہدہ قضا کرتا ہے اور سوائے زید کے شوہرِ ہندہ نے تمام عمر امامت وخطیبی نہ کی باوجود ان وجوہات کے ہندہ نے بعد وفاتِ شوہر اپنے کے بشرارت چند کس زید کو بلاوجہ خدمتِ مذکور سے علیحدہ کرکے عمر و داماد اپنے کر بحکم حاکم قائم مقام زید کیا چاہتی ہے، ہندہ چچی زید ہے تو باجازت واعانت عورت بلا استرضا کے اقوام اہل اسلام عمر وامامت وخطابت کرسکتا ہے یا نہیں؟ بسند کتاب بیان فرمائیں.

الجواب

عورت کہ سلطنت نہ رکھتی ہو اورا سی طرح سلطانِ اسلام یا اس کے نائب ماذون کے سواکسی حاکم کا کسی شخص کو خطیب یا امام جمعہ مقرر کرنا اصلاً معتبر نہیں، نہ ایسے شخص کے خطبہ پڑھتے یا نماز پڑھانے سے جمعہ ادا ہوسکے کہ اس میں اذنِ سلطانِ اسلام شرط ہے جسے اس نے مقرر کیایا اس کے مقرر کئے ہوئے نے اذن دیا وہی خطیب وامام ہو سکتا ہے دوسرا نہیں،

درمختار میں ہے:الجمعۃ شرط لصحتھا السلطان اومامورہ باقامتھا قالوا یقیمھا امیر البلد ثم الشرطی ثم القاضی ثم من ولاہ قاضی القضاۃ ۱؎ اھ ملتقطا

صحتِ جمعہ کے لئے سلطان یا اس کے مامور برائے اقامتِ جمعہ کا ہونا ضروری ہے فقہاء نے فرمایاکہ جمعہ امیر یا شہر قائم کرے اس کے بعد محاسبہ پھر قاضی پھر وہ شخص جسے قاضی القضاۃ نے مقرر کیا ہو اھ اختصاراً (ت)

 (۱؎ درمختار    باب الجمعۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی  ۱/ ۱۰۔ ۱۰۹)

پس اگر آباء واجداد زید سلطنت اسلام سے اس عہدہ پر از جانبِ سلاطین اسلام مقرر تھے اور وہ خطباء و ائمہ یکے بعد دیگرے اپنی اولاد میں ایک دوسرے کو نائب کرتے آئے یہاں تک کہ یہ نہایت زید تک پہنچی تو زید خود سلاطین اسلام کی طرف سے اس عہدہ پر مامور گناجائے گا اوراس کے ہوتے ہوئے اگر تمام اہل شہر بے اس کے اذن کے دوسرے کوامام یا خطیب مقرر کرنا چاہیں گے ہرگز جائز نہ ہوگا نہ بغیر اس کی اجازت کے کسی کی خطبہ خوانی یا امامت صحیح ہوگی،

ردالمحتار میں ہے:

الاذن من السلطان انما یشترط فی اول مرۃ فاذا اذن باقامتھا لشخص کان لہ ان یأذن لغیرہ وذلک الغیرلہ ان یأذن لاخر وھلم جرا ولاتصح اقامتھا الا لمن اذن لہ السلطان بواسطۃ او بدونھا اما بدون ذلک فلا ۲؎ اھ ملخصا

سلطان کا اذن پہلی دفعہ شرط ہے جب سلطان کسی شخص کو اقامت جمعہ کا اذن جاری کر دے تو وہ شخص کسی دوسرے کو اجازت دے سکتا ہے اسی طرح وہ آگے ایسا کرسکتا ہے ، اقامتِ جمعہ وہ قائم کرسکتا ہے جس کو اذنِ سلطان حاصل ہو خواہ بلاواسطہ اذن ہو یا بالواسطہ ۔ لیکن اگر اذن نہیں تو جمعہ قائم نہیں کرسکتا اھ تلخیصاً (ت)

                      ۲۲؎ (۲؂ردالمحتار     باب الجمعۃ     مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۵۹۲)

اور اگر ایسا نہیں یعنی اس کے اجداد جانبِ سلاطین اسلام سے مامور نہ تھے یاا س کو انھوں نے نائب نہ کیا تاہم جبکہ یہ خود باتفاق مسلمین امامت وخطابت پر مامور ہے تو ہمارے اعصار وامصار میں بلاریب امام وخطیب صحیح شرعی ہے کہ جہاں سلطان نہ ہو اس امر کا اختیار عامہ مسلمین کے ہاتھ ہوتا ہے وہ جسے مقرر کردیں اسی کا تقرر ٹھیک ہے،

درمختار میں ہے:نصب العامۃ الخطیب غیر معتبر مع وجود من ذکر امامع عدمعھم فیجوز للضرورۃ ۳؎۔

عوام کا خطیب کو مقرر کرنا مذکورہ افراد کے ہوتے ہوئے معتبر نہیں اور اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو ضرورت کی وجہ سے جائز ہوگا (ت)

 (۳؎ درمختار     باب الجمعۃ       مطبوعہ  مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۱۱۰)

تواس صورت میں بھی دوسرا کوئی شخص بغیر اذن زید کے امامت وخطابت کا مجازنہیں کہ آخر یہ خطیب شرعی ہےاور خطیب شرعی کے بے اجازت دوسرا امامت یا خطابت نہیں کرسکتا،

ردالمحتار میں ہے :قولہ لوصلی احد بغیر اذن الخطیب لایجوز ظاہرہ ان لاخطیب خطب بنفسہ والاخر صلی بلا اذنہ ومثلہ مالو خطب بلااذنہ لما فی الخانیۃ وغیرھا خطب بلا اذن الامام والامام حاضر لم یجز ۱؎  اھ

قولہ '' اگرکسی نے اذنِ خطیب کے بغیر نماز پڑھائی تو جائزنہیں '' اس کا ظاہر بتارہا ہے کہ خطیب نے خود خطبہ دیا مگر نماز اس کی اجازت کے بغیر دوسرے نے پڑھادی اور اسی کی مثل وہ صورت ہے جب بلااجازتِ خطیب کسی نے خطبہ دے دیا، کیونکہ خانیہ وغیرہ میں ہے کہ اگر کسی نے بغیر اجازتِ امام خطبہ دیا اور امام حاضر تھا تویہ جائزنہیں اھ (ت)

 (۱؎ ردالمحتار    باب الجمعۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۹۴ ۔۵۹۳)

ہاں اس صورت میں اگر عامہ مسلمین جیسے آج تک تقرر زید پر متفق رہے اب بوجہ شرعی معزولی زید پر متفق ہوجائیں اور دوسرے شخص کو قائم کردیں تو اس صورت زید معزول اور دوسرے کا تعین صحیح ومقبول ہوگا صرف عورت کی جاہلانہ حرکت یا حاکم سلطنت غیر اسلامی کی شرکت واعانت محض بیکار وبے سود ہے کہ کسی منصب سے معزول کرنے کا اسی کو اختیار ہوتا ہے جسے مقرر کرنے کا اختیار تھا وہ اصالۃً سلطانِ اسلام ہے اور ضرورۃً جماعاتِ مسلمین نہ کہ عورت یا حکامِ سلطنت غیر اسلامکما لایخفی علی من لہ بالفقہ ادنی الالمام ( جیسا کہ یہ ہر اس شخص پر واضح ہو جو فقہ میں ادنٰی  سا درک رکھتا ہے۔ ت) واﷲ تعالٰی  اعلم۔


Navigate through the articles
Previous article جمعۃ الوداع کے خطبۃ الوداع سے متعلق سوالات خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا حکم Next article
Rating 2.85/5
Rating: 2.9/5 (261 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu