• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > دوران سنت امام خطبہ شروع کردےنماز پوری کرے یا نہیں

دوران سنت امام خطبہ شروع کردےنماز پوری کرے یا نہیں

Published by Admin2 on 2013/11/26 (845 reads)

New Page 1

مسئلہ۱۴۰۷: از بنارس محلہ کندی گڈھ ٹولہ مسجد بی بی راجی شفاخانہ مرسلہ مولوی عبدالغفور صاحب جمادی الاولی ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے بروز جمعہ نیت چار رکعت سنت کی باندھی، بعدہ، امام نے خطبہ شروع کیا اب وہ دورکعت پڑھ کر سلام کرے یا چار رکعت پوری پڑھے اس میں جو کچھ اختلاف درمیان علمائے حنفیہ سے ہے وہ جناب پر ظاہر ہے لیکن بطور نمونہ قدرے درج ذیل ہے:فی الدرالمختار فی باب الجمعۃ ولو خرج و ھو فی السنۃ اوبعد قیامہ لثالثۃ النفل یتم فی الاصح ویخفف القراءۃ ۲؎

درمختار کے باب الجمعہ میں ہے کہ اگرامام آگیا اور نمازی سنن اداکررہا تھا یا نفل کی تیسری رکعت کی طرف کھڑا ہو تو اصح قول کے مطابق اسے مکمل کرلے اورقراءت میں تخفیف کرے،

 ( ۲؎ درمختار   باب الجمعۃ   مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۱۳)

وایضا فیہ فی باب ادراک الفریضۃ وکذا سنۃ الظھروسنۃ الجمعۃ اذا اقیمت اما خطب الامام یتمھا اربعا علی القول الراجع لانہا صلٰوۃ واحد لیس القطع للاکمال،بل للا بطال خلا فالما رجحہ الکمال ۱؎۔

اس کے باب ادراک الفریضہ میں بھی یہی ہےاور اسی طرح سنتِ ظہر اور سنتِ جمعہ میں اگر تکبیر کہی جائے یا امام خطبہ شروع کردے تو قولِ راجح کے مطابق وہ چار رکعت مکمل کرے کیونکہ یہ ایک ہی نماز کے حکم میں ہے یہاں انقطاع ، اکمال نہیں بلکہ ابطال ہوگا، اس کے خلاف ہے جسے کمال نے ترجیح دی۔

 (۱؎ درمختار        باب ادراک الفریضۃ        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۹۹ )

وفی العلمگیریۃ ولوکان فی السنۃ قبل الظھر والجمعۃ فاقیم اوخطب یقطع علی راس الرکعتین یروی ذلک عنہ ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی  وقد قیل یتمھا کذافی الھدایۃ، وھو الاصح کذافی محیط السرخسی، وھو الصحیح ھکذا فی السراج الوھاج ۲؎۔

اور عالمگیری میں ہے اگر کوئی شخص ظہر اور جمعہ کی پہلی سنتوں میں تھا تکبیر کہی گئی یا خطبہ شروع ہوگیا تو دو رکعات ادا کرکے ختم کردے یہ امام ابویوسف رحمہ اﷲ تعالٰی  سے مروی ہے اور بعض نے کہا کہ تمام کرے اسی طرح ہدایہ میں ہے اور یہی اصح ہے، محیط سرخسی میں یہی ہے اور یہی صحیح ہے، اسی طرح سراج الوہاج میں ہے،

 ( ۲؎ فتاوٰی  ہندیۃ    الباب العاشرفی ادراک الفریضۃ     مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۲۰)

فی الصغیری شرح منیۃ اذا صعدالامام المنبر یجب علی الناس ترک الصلٰوۃ ۳؎ الٰی  اٰخرہ فی حاشیۃ ردالمحتار علی الدرالمختار متعلق، لمارجحہ الکمال حیث قال وقیلک یقطع علی رأس الرکعتین وھوالراجح لانہ یتمکن فی قضائھا بعدالفرض ولا ابطال فی التسلیم علی الرکعتین فلا یفوت فرض الاستماع والاداء علی الوجہ الاکمل بلاسبب اھ۔

صغیری شرح منیہ میں ہے جب امام منبر پر چڑھے تو لوگوں میں نماز کا ترک کردینا لازم ہے الخ حاشیہ ردالمحتار علی الدرالمختار میں کمال کی ترجیح کے بارے میں ہے کہ بعض نے کہا دو رکعتوں پر اختتا م کردے یہی راجح ہے کیونکہ فرائض کے بعد ان کی قضا ممکن ہے اور دو رکعات پر سلام ان کا ابطال بھی نہیں، پس اب خطبہ کا سننا جو فرض ہے وہ بھی فوت نہ ہوگا اور کامل طریقہ پر سنن کی ادائیگی بھی ہوجائے گی۔

 (۳؎ صغیری شرح منیۃ المصلی    فصل فی صلٰوۃ الجمعۃ    مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ص ۲۸۰)

اقول وظاھر الھدایۃ اختیارہ و علیہ مشی فی الملتقی  ونور الایضاح والمواھب وجمعۃ الدرر والفیض وعزاہ فی الشرنبلالیۃ الی البرھان  وذکر فی الفتح انہ حکی عن السغدی انہ  رجع الیہ لما راہ  فی النوادر عن ابی حنیفۃ وانہ مال  الیہ السرخسی والبقالی وفی البزازیۃ انہ رجع الیہ القاضی النسفی و ظاھر کلام  المقدسی المیل  الیہ ونقل فی الحلیۃ کلام شیخہ الکمال ثم قال وھو  کما قال ھذا۱؎ الخ فی شرح الوقایۃ اذا خرج الامام حرم الصلٰوۃ ۲؎

اقول ہدایہ کا ظاہر یہی کہ یہ ان کامختار ہے ، اس پر ملتقی ، نورالایضاح، المواہب، جمعۃ الدرر اور فیض میں ہے شرنبلالیہ میں اسے برہان کی طرف منسوب کیا گیا ہے، فتح میں ہے سغدی سے منقول ہے کہ اس کی طرف رجوع اس لئے کیا کہ نوادر میں امام ابوحنیفہ سے اسی طرح مروی ہے، اوراسی کی طرف سرخسی اور بقالی نے میلان کیا ہے او ربزازیہ میں ہے کہ اس کی طرف قاضی نسفی نے رجوع کیا، کلام مقدسی سے ظاہراً اسی طرف میلان معلوم ہوتا ہے، حلیہ میں کمال کا کلام نقل کر کے کہا کہ وہ اسی طرح ہے جو یہ کہا گیا ہے الخ شرح وقایہ میں ہے جب امام آجائے تو نماز حرام ہوجاتی ہے.

 (۱؎ ردالمحتار            باب ادراک الفریضہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۵۲۷)

(۲؎ شرح الوقایہ        باب الجمعۃ         مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی    ۱۱/۲۴۴ )

وفی عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ لمولٰنا واستاذنا مولوی عبدالحی صاحب مرحوم ومغفور واخرج اسحق بن راھویۃ فی مسندہ عن السائب کنا نصلی فی زمن عمر یوم الجمعۃ فاذا خرج عمر وجلس علی المنبر قطعنا الصلٰوۃ ۳؎ الخ

عمدۃ الرعایہ حاشیہ شرح وقایہ جو ہمارے استاذ مولوی عبدالحی کا ہے میں لکھا ہے کہ اسحاق بن راہویہ نے مسند میں حضرت سائب سے روایت کیا کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی  عنہ کے دور میں نماز پڑھتے تھے توجب حضرت عمر رضی اﷲ تعالٰی  عنہ منبر پر بیٹھتے تو ہم نماز ختم کردیتے تھے الخ (ت)

 (۳؎ عمدۃ الرعایۃ حاشیۃ شرح الوقایۃ    باب الجمعۃ         مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی    ۱/۲۴۴)

الجواب

دونوں قول قوی و نجیح ہیں اور دونوں طرف جزم و ترجیح اورمختارفقیر قول اخیر کہ اول روایت نوادر ہے اور ثانی مفاد

ظاہرالروایہ والفتوی متی اختلفت فالمصیر الی ظاھر الروایۃ

(جب روایات مختلف ہوں توظاہر الروایت کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔محرر المذہب سیّدنا امام محمد رحمہ اﷲ تعالٰی  نے مبسوط میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا وناھیک بہ حجۃ وقدوۃ (اس میں وہی مقتدا کافی ہیں، ت) فتح القدیر میں ہے :

الیہ اشارفی الاصل۴؎( اسی کی طرف اصل میں اشارہ ہے۔ت) (۴؎ فتح القدیر       باب ادراک الفریضۃ    مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۳۹۳)

معہذا کثرت تصحیح وافتائے صریح بھی اسی طر ف ہے:والقاعدۃ ان ا لعمل بما علیہ الاکثر کما نصوا علیہ فی غیر ماکتاب وبیناہ فی رسالتنا بذل الجوائز علی الدعاء بعد صلٰوۃ الجنائز۔

اور یہ قاعدہ ہے کہ عمل اس پر کیا جائے جس پر اکثریت ہو جیسا کہ فقہاء نے کتب میں متعدد جگہ اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اس کی تفصیل اپنے رسالے '' بذل الجوائز علی الدعاء بعد صلٰوۃالجنائز'' میں دی ہے۔ (ت)

اور یہ قاعدہ ہے کہ عمل اس پر کیا جائے جس پر اکثریت ہو جیسا کہ فقہاء نے کتب میں متعدد جگہ اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اس کی تفصیل اپنے رسالے '' بذل الجوائز علی الدعاء بعد صلٰوۃالجنائز'' میں دی ہے۔ (ت)

قولِ اول کی ترجیح صریح کتب معتمدہ مرجحین میں کہ اس وقت فقیر کے پاس ہیں خانیہ وفتح کے سوا کسی میں نظر سے نہ گزری

اما الحلیۃ فقد تبعت الفتح واما المراقی فانما تبع البرھان شرح مواہب الرحمٰن بشھادۃ غنیۃ ذوی الاحکام واما الطرابلسی فانما اقتفی اثر الکمال کما ھودابہ فی کل مقال قال الکلام الی الکمال مع ان الشرنبلالی خالف نفسہ فی جمعۃ غنیۃ کما یأتی۔

حلیہ نے فتح کی اتباع کی ہے، مراقی نے غنیہ ذوی الاحکام کے بیان کے مطابق برہان شرح مواہب الرحمٰن کی اتباع کی ہے، طرابلسی نے کمال کی اقتداء کی جیسا کہ ان کا ہر جگہ یہی طریقہ ہے اور کہا کہ کلام کمال کی طرف ہی ہے باوجود یکہ شرنبلالی نے جمعہ غنیہ میں خود اپنی مخالفت کی ہے جیسا کہ آرہا ہے ۔(ت)

اور قولِ اخیر کوصاحب محیط وامام عبدالرشید وامام ابوحنیفہ ولوالجی وامام عٰی سی بن محمد قرہ شہری صاحب مبتغی وامام ظہیر الدین مرغینانی صاحب ظہیر یہ وعلامہ شمسی وصاحبِ سراج وہاج نے فرمایا:ھو الصحیح۱؎(صحیح قول یہی ہے ۔ت)

 (۱؎ فتاوٰی  ہندیۃ بحوالہ السراج الوہاج  الباب العاشر فی ادراک الفریضۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۱۲۰)

امام شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا :xھوا لاصح ۲؎( اصح قول یہی ہے ۔ت )

 (۲؎ فتاوٰی  ہندیۃ بحوالہ محیط السرخسی الباب العاشر فی ادراک الفریضۃ مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۱۲۰)

درمختار میں ہے :فی الاصح ۳؎(اصح قول میں یہی ہے ۔ت )

 (۳؎ درمختار       باب الجمعۃ       مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۱۳)

متنِ تنویر میں ہے :علی الراجح۴؎ ( یہ راجح قول کے مطابق ہے۔ت )

 (۴؎ درمختار         باب ادراک الفریضۃ        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۹۹)

بحرالرائق میں ہے :صحح المشائخ۵؎( مشائخ نے اس کی تصحیح کی ہے ۔ت)

 (۵؎ بحرالرائق             باب صلٰوۃ الجمعۃ         مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۲/ ۱۴۸)

مجمع الانہر میں ہے :صححہ اکثر المشائخ ۶؎( اکثر مشائخ نے اس کی تصحیح کی ہے۔ت)

 (۶؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب ادراک الفریضۃ  مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/۱۴۱)

اسی طرح جامع الرموز وہندیہ ونہر وغیرہا میں اس کی تصحیح وترجیح مذکور یہاں تک کہ امام اجل مجہتد الفتوی حسام الدین عمر صدر شہید قدس سرہ نے فتاوٰی  صغری میں فرمایا:علیہ الفتوی۱؎ ( فتوٰی  اسی پر ہے ۔ت)

شرنبلالیہ میں ہے:اقول الصحیح خلافہ وھوانہ یتم سنۃ الجمعۃ اربعاوعلیہ الفتوی کما فی الصغری وھو الصحیح کما فی البحر عن الولوالجیۃ والمبتغی ۲؎ الخ۔

میں کہتا ہوں صحیح اس کے خلاف ہے اور وہ یہ ہے کہ جمعہ کی چار سنتیں مکمل کرے، اور اسی پر فتوٰی  ہے جیسا کہ صغری میں ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ بحر میں ولوالجیہ اور مبتغی سے ہے الخ ۔(ت)

لاجرم بحر میں قولِ اول کی نسبت فرمایا:ھو قول ضعیف وعزاہ قاضی خاں الی النوادر ۳؎

( یہ ضعیف قول ہے اور قاضی خاں نے اس کی نسبت نوادر کی طرف کی ہے ۔ت)

رہیں روایات قطع وترک وتحریم نماز بخروج امام للخطبہ انھیں اس مبحث سے علاقہ نہیں وہ فریقین کی منصوصہ ومتفق علیہا ہیں ان کے معنٰی  یہ ہیں کہ خروجِ امام کے بعد کوئی نماز (سوائے فائتہ واجب الترتیب کے ) شروع نہ کرے پہلے سے جو انتظارِ امام میں نوافل وغیرہا پڑھ رہاہے اس کا سلسلہ قطع کردے متمادی نہ رہے نہ یہ کہ جو نمازپڑھ رہاہے وہ حرام ہوگئی اسے قطع کردے نیت توڑدے یہ قطعاً باطل ہے ورنہ اگر ہنوز نیت ہی باندھی یاایک ہی رکعت پڑھی کہ امام خطبہ کے لئے خارج ہوا تو فوراً نیت توڑدینا واجب ہو یہ کسی کا قول نہیں نصوص عامہ کتب مذہب اس کے بطلان پر متظافر و متواتر ہیں کما لا یخفی ( جیسا کہ مخفی نہیں ہے ۔ت ) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی  اعلم


Navigate through the articles
Previous article جمعۃ الوداع کے خطبۃ الوداع سے متعلق سوالات خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا حکم Next article
Rating 2.73/5
Rating: 2.7/5 (241 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu