• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا حکم

خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا حکم

Published by Admin2 on 2013/11/29 (2097 reads)
Page:
(1) 2 3 »

New Page 1

مسئلہ ۱۴۰۹: از ہیل کتور ضلع اوٹکنڈ مکان سومار سیٹھ صاحب مرسلہ سید حیدر شاہ صاحب ۲۸ربیع الاول شریف ۱۳۱۵ھ

جناب فیض مآب جامع علوم نقلیہ وحاوی فنون عقلیہ علامۂ دہر فہامۂ عصر مولانا مولوی احمد رضاخاں صاحب ادام اﷲ فیوضہ، ادائے آداب کے بعد بندہ  حیدرشاہ عرض رساں ہے کہ ایک مسئلہ کی ضرورت ہے چونکہ آپ مشاہیر علمائے انام سے ہیں اور آپ کے اخلاق و اوصاف بے نہایت ہیں اور بہت لوگوں سے سنا ہے کہ آپ حنفی المذہب سنی المشرب ہیں ونیز جوابِ سوال جلد ترسیل فرماتے ہیں، لہذا التماس خدمت فیض درجت میں یہ ہے کہ احقر کو جواب سے سرفراز فرمائیں، مذہب حنفی وشافعی میں بین الخطبتین ہاتھ اٹھا کے دعا مانگنی مشروع ومسنون ہے یا نہیں؟ مترجم اردو الدرالمختار ، ایک جگہ لکھتا ہے کہ ایک مرتبہ بریلی کے علماء سے اسی مسئلہ میں استفتا ء طلب کیا گیا تھا چنانچہ وہاں علماء کافتوٰی  یہی ہوا کہ ہاتھ اٹھا کے دعامانگنی بین الخظبتین بدعت سیئہ وغیر مشروع ہے،پس آیا یہ بات صحیح ہے یا غلطْ چونکہ آپ متوطن بریلی کے ہیں آپ کو حقیقت اس کی کما ینبغی معلوم ہوگی پس آپ اطلاع دیجئے کہ مترجم نے ٹھیک لکھا ہے یا محض دھوکا دہیٔ عوام الناس ہے ۔ بینواتوجروا

الجواب

مسنونیت مصطلحہ کہ تارک،مستوجب عتابِ الہٰی  یا آثم ومستحق عذاب الہٰی  ہو والعیاذ باﷲ یہ نہ کسی کا مذہب نہ دُعا کرنے والوں میں کوئی ذی فہم اس کا قائل بلکہ وقت مرجوالاجابۃ جان کر دُعا کرتے ہیں اور بیشک وہ ایسا ہی ہے اور دعا مغزِ عبادت وانحائے ذکر الہٰی عزوجل سے ہے جس کی تکثیر پر بلا تقیید وتحدید نصوص قرآن عظیم و احادیث متواترہ نبی رؤف رحیم علیہ وعلٰی  آلہٖ افضل الصلٰوۃ والتسلیم ناطق اورہاتھ اٹھانا حسبِ تصریح احادیث و تظافر ارشادات علمائے قدیم وحدیث سُنن و آدابِ دُعا سے ہے خطیب کے لئے اُس کی اجازت ومشروعیت تو باتفاق مذہبین حنفی وشافعی ہے یونہی سامعین کے لئے جبکہ دُعا دل سے ہو  نہ زبان سے اور سامعین کا اُس وقت زبان سے دُعا مانگنا جس طرح ان بلادمیں مروج ومعمولی ہے،مذہبِ شافعیہ میں تو اُس کی اجازت و مشروعیت ظاہر کہ ائمہ شافعیہ رحمہم اﷲ تعالٰی  میں خطبہ ہوتے وقت بھی کلام سامعین ناجائز وحرام نہیں جانتے صرف مکروہ مانتے ہیں اور کراہت کلام شافعیہ میں جب مطلق بولی جاتی ہے اس سے کراہت تنزیہی مراد ہوتی ہے بخلاف کلمات ائمتنا الحنفیہ رحمھم اﷲ تعالٰی

فان غالب محملھا بھا مطلقۃ فیھا کراہۃ التحریم ( بخلاف ہمارے ائمہ احناف رحمہم اﷲ تعالٰی  کی عبارات کے کیونکہ ان میں غالب یہی ہے کہ مطلقاً کراہت مکروہ تحریمی ہے ۔ت) علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ آذات الید مسئلۃ الشطرنج میں فرماتے ہیں:الکراہۃ عند الشافعیۃ اذا اطلقت تنصرف الی التنزیھیۃ لا التحریمیۃ بخلاف مذہبنا ۱؎۔

شوافع کے نزدیک مطلقاً کراہت کااطلاق مکروہ تنزیہی پر ہوتا ہے نہ کہ تحریمی پر بخلاف ہمارے مذہب کے (اس میں تحریمی پر ہے )۔ (ت)

(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ    الصنف الخامس من الاصناف التسعۃ فی بیان آفات الید    مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد        ۲ /۴۴۰)

اور سکوتِ  خطیب کے وقت جیسے قبل و بعد خطبہ وبین الخطبتین اصلاً کراہت بھی نہیں مانتے۔ امام ابویوسف اردبیلی شافعی کتاب الانوار میں فرماتے ہیں:لایجب الاستماع وھو شغل السمع بالسماع۲؎۔

استماع واجب نہیں اور استماع سے مراد کانوں کو سماع میں مشغول کرنا ہے ۔(ت)

(۲؎ الانوارلاعمال الابرار     فصل لصحۃ الجمعۃ الخ            مطبعۃ جمالیہ مصر        ۱ /۱۰۱)

اسی میں ہے:لایحرم الکلام حال الخطبۃ لاعلی الخطیب ولا علی المامومین السامعین وغیر ھم لکن یکرہ الا لغرض مھم کاندارمن یقع فی بئراو عقرب ویتعلم خیرا اونھی عن شیئ ۱؎ ۔

خطبہ کے دوران کلام حرام نہیں نہ خطبہ پر نہ مقتدیوں پر،ہاں بغیر غرض کے مکروہ ہے ، مثلاکنویں میں گرنے والے کو متنبہ کرنا یا بچھو سے بچانا یا خیر کا حکم دینا اور برائی سے روکنا جائز ہے (ت)

(۱؎ الانوار لاعمال الابرار        فصل لصحۃ الجمعۃ الخ    مطبعۃ جمالیۃ مصر     ۱/ ۱۰۱)

اسی میں ہے :لایکرہ الکلام حال الاذان ولابین الخطبتین ولابین الخطبۃ والصلٰوۃ ۲؎۔

اذان، دونوں خطبوں کے درمیان اور خطبہ اور نماز کے درمیان کلام مکروہ نہیں ۔(ت)

(۲؎ الانوار لاعمال الابرار        فصل لصحۃ الجمعۃ الخ    مطبعۃ جمالیۃ مصر     ۱/ ۱۰۱)

علامہ زین الدین شافعی تلمیذ امام ابن حجر مکی فتح المعین بشرح قرۃ العین میں فرماتے ہیں:یکرہ الکلام ولایحرم حالۃ الخطبۃلا قبلھا ولو بعد الجلوس علی المنبر ولابعدھا ولابین الخطبتین ویسن تشمیت العاطس والردعلیہ ورفع الصوت من غیر مبالغۃ بالصلٰوۃ والسلام علیہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عند ذکر الخطیب اسمہ او وصفہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال شیخنا ولا یبعد ندب الترضی عن الصحابۃ بلارفع صوت وکذا التامین لدعاء الخطیب ۳؎ اھ مختصرا۔

دورانِ خطبہ کلام مکروہ ہے، خطبہ سے پہلے اگر چہ خطیب منبر پر بیٹھ چکاہو اور دو خطبوں کے درمیان کلام حرام نہیں ہے، چھینک مارنے والے کا جواب دینا اور اس کے بدلہ میں دعا دینا سنت ہے اور جب خطیب نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کا اسم یا وصف ذکر کرے تو صلٰوۃ وسلام عرض کیا جاسکتا ہے البتہ آواز بلند نہ کی جائے، ہمارے شیخ نے فرمایا کہ صحابہ کے نام پر رضی اﷲ تعالٰی  عنہ اور دعاء خطیب کے وقت آمین آواز بلندکئے بغیر کہنا مستحب ہونا بعید نہیں اھ اختصاراً (ت)

(۳؎ فتح المعین شرح قرۃ العین فصل فی صلوۃ الجمعۃ  عامر الاسلام  پورپرس ترونگاری انڈیا  ص ۱۴۶)

Page:
(1) 2 3 »

Navigate through the articles
Previous article جمعہ کے پہلے خطبہ کی بجائے وعظ و نصیحت کرنا کیسا؟ اعلانِ عید کےلئے تین بنگولہ یعنی پٹاخہ چلانا کیسا Next article
Rating 2.64/5
Rating: 2.6/5 (275 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu