• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > کیا نماز عید صحرا میں پڑھنا سنت ہے؟

کیا نماز عید صحرا میں پڑھنا سنت ہے؟

Published by Admin2 on 2013/11/29 (905 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۴۱۴تا ۱۴۱۵: بنارس محلہ کنڈی گڑ تولہ مسجد بی بی راجی شفا خانہ از مولوی عبدالغفور صاحب

۶ جمادی الآخر  ۱۳۱۲ھ

 بخدمت لازم البرکۃ جامع معقول ومنقول حاوی فروع واصول جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب مداﷲ فیضانہ از جانب خادم الطلبہ عبدالغفور سلام علیک قبول باد، کچھ مسائل میں یہاں درمیان علما کے اختلاف ہے لہذا مسئلہ ارسال خدمت لازم البر کۃ ہے امید ہے کہ جواب سے مطلع فرمائیں

(۱)  زید کہتا ہے نماز عیدین صحرا میں پڑھنی سنت ہے لیکن شہر میں بھی جائز ہے جس شخص نے نماز مذکور شہر میں پڑھی نماز  اس کی ضرور ادا ہوئی البتہ ترکِ سنت اس نے کیا اور ثواب سنّت سے محروم رہا، عمرو کچھ روز تک قائل تھا نماز عیدین شہر میں جائز نہیں مگر چند روز سے بذاتِ خود یا بوجہ تعلم کسی غیر کے کہتاہے گو نماز مذکور شہر میں جائز ہے لیکن پڑھنے والے گنہگار ہوں گے۔

(۲) زید کہتاہے نمازِ عیدین مسجد پختہ چھت دار کے اندر جو صحرا میں واقع ہے پڑھنے سے ثواب صحرا میں پڑھنے کا نہ ملے گا عمرو کہتا ہے گو مسجد پختہ چھت دار ہے مگر چونکہ صحرا میں واقع ہے لہذا ثواب صحرا میں پڑھنے کا ملے گا، ان سب مسائل میں قول زید کا صحیح ہے یا عمرو کا؟ بینوا توجروا

الجواب

(۱) قولِ زید صحیح ہے عامہ کتبِ مذ ہب متون وشروح وفتاوٰی میں تصریح ہے کہ نماز عیدین بیرون شہر مصلی یعنی عیدگاہ میں پڑھنی مندوب ہے، مستحب ہے، افضل ہے، مسنون ہے ، فرض نہیں کہ شہر میں ادا ہی نہ  ہو ،  واجب نہیں کہ شہر میں پڑھنا مطلقاً گناہ ہو، نقایہ وکنز و وافی و غرر واصلاح و ملتقی وغیرہا متون میں بلفظ ندب ۱؎ ،

 (۱؎  کنز الدقائق        باب العیدین        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۴۹)

وقایہ بکلمہ حبب۲؎ ،

 (۲؎  شرح وقایہ           باب العیدین     مطبوعہ مکتبہ رشیدیہ دہلی      ۱/ ۲۴۵)

ہدایہ میں بلفظ یستحب۳؎ ،

 (۳؎  الہدایہ          باب العیدین          مطبوعہ المکتبہ العربیہ کراچی        ۱ /۱۵۱)

تعبیر فرمایا۔ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں علامہ ابن ملک سے ہے:الافضل اداؤھا فی الصحراء فی سائر البلدان وفی مکۃ خلاف ۴؎۔

تمام شہرو ں میں میدان میں عید ادا کرنا افضل ہے لیکن مکہ میں اختلاف ہے ۔(ت)

 (۴؎  مرقاۃ شرح المشکوٰۃباب صلوٰۃ العیدین         مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان       ۳/۲۹۸)

متنِ تنویر  و فتح القدیر و درر  و ہندیہ و مضمرات وبزازیہ و غنیہ و خانیہ و خلاصہ وخزانۃ المفتین و فتاوٰی ظہیریہ وغیرہا میں ہے:الخروج الیھا سنّۃ۵؎ ۔ ( عیدگاہ کی طرف نکلناسنّت ہے ۔ت)

 (۵؎  تنویر الابصار مع الدرالمختار     باب العیدین        مطبوعہ  مطبع مجتبائی دہلی       ۱/۱۱۴)

بحرمیں ہے:التوجہ الی المصلی مندوب کما افادہ فی التجنیس وان کانت صلٰوۃ العید واجبۃ حتی لوصلی العید فی الجامع ولم یتوجہ الی المصلی فقد ترک السنۃ ۶؎ ۔

عید گاہ کی طرف جانا مندوب ہے جیساکہ تجنیس میں ہے اگر چہ نماز عید واجب ہے حتی کہ اگر کسی نے جامع مسجد میں عید پڑھی اور عیدگاہ کی طرف نہیں گیا تو اس نے سنّت کو ترک کیا ۔(ت)

 (۶؎  بحرالرائق      باب العیدین       مطبوعہ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی       ۲/۱۵۹)

شرح نقایہ قہستانی میں ہے :الخروج الیہ یندب وان کان الجامع یسعھم فالخروج لیس بواجب ۷؂ ۔

عید گاہ کی طرف نکلنا مندوب ہے اگر جامع مسجد میں لوگوں کی گنجائش ہو البتہ نکلنا واجب نہیں ۔(ت)

 (۷؎ جامع الرموز     فصل صلوٰۃ العیدین      مطبوعہ  مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران   ۱/۲۷۱)

غنیہ میں جامع الفقہ ومنیہ المفتی وذخیرہ سے ہے :یجوز  اقامتھا فی المصر و فنائہ و موضعین فاکثرو بہ قال الشافعی واحمد ۱؎۔

شہر اور فنائے شہر میں عید دو یا زیادہ مقامات پر ادا کی جاسکتی ہے، امام شافعی اور امام احمد کی یہی رائے ہے ۔ (ت)

 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی    فروع خروج الی المصلی    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص  ۵۷۲)

ہاں جو سنت مؤکدہ ہو اور کوئی شخص بلاضرورت بے عذر براہ تہاون وبے پروائی اس کے ترک کی عادت کرے اُسے ایک قسم اثم لاحق ہوگی نہ ترکِ سنت بلکہ اس کی کم قدری وقلت مبالات کے باعث،

فی شرح المنیۃ للعلامۃ ابراھیم الحلبی لا یترک رفع الیدین عند التکبیر لانہ سنۃ مؤکدۃ ولو ا عتاد ترکہ یا ثم لالنفس الترک بل لانہ استخفاف و عدم مبالاۃ بسنۃ واظب علیھا النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مدۃ عمرہ امالو ترکہ بعض الاحیان من غیر اعتداد لا یا ثم وھذا مطرد فی جمیع السنن المؤکدۃ  ۲؎ اھ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

شرح منیۃ میں علامہ ابراھیم حلبی کہتے ہیں کہ تکبیر کے وقت ہاتھ اٹھانا ترک نہ کیا جائے کیونکہ یہ سنت مؤکدہ ہے اور اگر ترک کو عادت بنا لیتا ہے تو گناہ گار ہوگا مگر نفسِ ترک کی وجہ سے نہیں بلکہ ایسی سنت کو ہلکا سمجھنے اوراس سے لاپروائی کی وجہ سے ہوگا جس پر نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تمام عمر ہمیشگی فرمائی، ہا ں بغیر عادت کے بعض اوقات ترک کردے تو گنہگار نہ ہوگا اور  یہی اصول تمام سنن مؤکدہ میں جاری ہوتا ہے اھ واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم  (ت)

 (۲؂غنیۃ المستملی شرح منیہ المصلی  باب صفۃ الصلوٰۃ     مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور      ص ۳۰۰)

 (۲) عمرو کا قول صحیح ہے اور زید کا دعوٰی بھی وجہِ صحت رکھتا ہے اگر صحرا سے اُس کی مراد فضائے خالی ہو۔

اقول وبا ﷲ التوفیق تحقیق یہ ہے کہ یہاں دو (۲) چیزیں ہیں ایک اصل سنت کہ نمازی عیدین بیرونِ شہر جنگل میں ہو شارع علیہ الصلاۃ والسلام نے اُس میں حکمت اظہار شعار اسلام وشوکت وکثرت مسلمین رکھی ہے یہ بات نفس خروج واجتماع سے حاصل اگر چہ صحرا میں کوئی عمارت بنالیں پس قولِ عمرو کہ جب مسجد صحرا میں ہے تو  بیرونِ شہر جانے جنگل میں پڑھنے کا ثواب حاصل  بلاشبہ صحیح  ہے۔ دوم سنت،  سنت کہ تکمیل و تاکید  اصل سنت کے لئے ہے یعنی فضائے خالی بے عمارت میں پڑھنا کہ اس میں زیادت اظہار شعار و شوکت ہے، مسجد عیدگاہ واقع صحرا میں پڑھنے سے اگر چہ اصل اظہار شعار  و صلوٰۃ فی الصحرا کا ثواب حاصل، مگر صلوٰۃ فی الفضا میں اتباع اتم پر جو ثواب ازید ملتا وہ نہ ہوا جبکہ  جانب تعمیر کسی مصلحتِ شرعیہ سے مترجح نہ ہوا، اس معنی پر قول زید بھی روبصحت ہے زمانہ اکرم حضور  پر نور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں مصلائے عید کفِ دست میدان تھا جس میں اصلاً تعمیر نہ تھی مدینہ طیبہ کے شرقی دروازے پر ،

کما فی المقصد التاسع من المواھب (جیسا کہ مواہب اللدنیہ کے نویں مقصد میں ہے ۔ت) مسجد اطہر کے باب السلام سے ہزار قدم کے فاصلے  پر ،

کما فی الزرقانی عن فتح الباری عن عمر بن شبھۃ فی الاخبار المدینۃ عن ابن غسان الکتانی صاحب مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ

(جیسا کہ زرقانی میں فتح الباری سے ہے کہ عمر بن شبہ نے اخبار المدینہ میں ابوغسان الکتانی جو صاحب مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہیں سے روایت کیا ہے ۔ت) سنن ابن ماجہ و صحیح ابن خزیمہ و مستخرج اسمٰعیل میں عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ہے :ان  رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان یغد والی المصلی فی یوم عید والعنزۃ تحمل بین یدیہ فاذا بلغ المصلی نصبت بین یدیہ فصلی الیھا وذلک ان المصلی کان فضاء لیس فیہ ما یستربہ ۱؎ ۔

بلا شبہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عید کے دن صبح سویرے عیدگاہ کی طرف نکلتے آپ کے آگے آگے کسی کے ہاتھ میں نیزہ اٹھایا ہوتا ، جب آپ عیدگاہ میں تشریف فرما ہوتے تو آپ کے سامنے نیزہ گاڑ دیا جاتا آپ اس کے سامنے ہو کر نماز پڑھاتے اور  یہ عیدگاہ میدان میں تھی وہاں کوئی دیوار  وغیرہ نہ تھی (ت)

 (۱؎  السنن لابن ماجہ     باب ماجاء فی الحربۃ یوم العید    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ص ۹۳)

اب صدہا سال سے اس کا احاطہ بن گیا، علامہ سید نورالدین سمہودی قدس سرہ استظہار فرماتے ہیں کہ یہ عمارت زمانہ امیر المومنین عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالٰی عنہ میں تعمیر ہوئی،

کما فی کتابہ قدس سرہ فی تاریخ طیبہ الطیّبۃ صلی اﷲ تعالٰی علی طیب اطیب طیبہا بطیبہ واٰلہ الطائب وبارک وسلم

 (جیسا کہ ان کی کتاب تاریخ طیبہ میں ہے تمام پاکوں سے پاک پر صلوٰۃ وسلام ہو، اُن کی آلِ  پاک پر  ہو  اور برکات و سلام ہو، ت) اور  واقعی جب امیر المومنین ممدوح نے مسجد اقدس حضور  پر نور صلوات اﷲ وسلامہ علیہ کی تجدید تعمیر فرمائی ہے جہاں جہاں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا نماز پڑھنا معلوم ہو اُن سب کی بھی تعمیر جدید، خواہ تجدید فرمائی

کما یستفاد من عمدۃ القاری للعلامۃ الامام البدر محمود العینی عن عمر بن شبہۃ عن ابی غسان عن غیر  واحد من اھل العلم

(جیسا کہ عمدۃ القاری علامہ بدرالدین محمود العینی نے عمر بن شبہہ سے انھوں نے ابو غسان سے اور انھوں نے متعدد اہل علم سے بیان کیا ہے۔ ت) علمائے کرام کو عیدین کے لئے مصلی کو جانا مسنون ومستحب بتاتے ہیں وہی یہ بھی بحث فرماتے ہیں کہ مصلائے عید جمیع احکام میں مسجد ہے یا صرف بعض میں، اور اس میں بول وبراز  و  وطی جائز ہیں یا نہیں کہ اگر چہ وہ سب احکام میں مسجد نہ سہی مگر بانی نے یہ عمارت اس لئے نہ بنائی،

بحرالرائق میں ہے :اختلفوا  فی مصلی الجنازۃ والعید فصحح فی المحیط فی مصلی الجنائز انہ لیس لہ حکم المسجد اصلا وصحح فی مصلی العید کذلک الا فی حق جواز الاقتداء وان لم تتصل الصفوف وفی النھایۃ وغیرھا والمختار للفتوی فی المسجد الذی اتخذ لصلٰوۃ الجنازۃ والعید انہ مسجد فی حق جواز الاقتداء  وان انفصل الصفوف رفقا بالناس وفیما عد اذلک لیس لہ حکم المسجد اھ وظاھر ما فی النھایۃ انہ یجوز الوطئ والبول والتخلی فی مصلی الجنائز و العید ولا یخفی ما فیہ فان البانی لم یعدہ لذلک فینبغی ان لا تجوز ھذہ الثلثۃ وان حکمنا بکونہ غیر مسجد وانما تظھر فائدتہ فی بقیۃ الاحکام التی ذکرناھا وفی حل دخول للجنب والحائض ۱ ؎ اھ

جنازہ گاہ اور عیدگاہ میں اختلاف ہے محیط میں اسے صحیح کہا کہ جنازہ گاہ کا حکم بالکل مسجد والا نہیں اور عیدگاہ کے بارے میں یہی صحیح ہے مگر جو از اقتدا کے حق میں مسجد والا ہے اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں، عنایہ وغیرہ میں ہے کہ لوگوں کی رعایت کی وجہ سے فتوٰی میں مختار یہ ہے کہ عیدگاہ اور جنازہ گاہ جوازِ اقتدا کے حوالے سے مسجد کے حکم میں ہیں اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں اورا ن کے علاوہ میں مسجد کا حکم نہیں اھ نہایہ کی عبارت سے یہی ظاہر ہے کہ عیدگاہ اور جنازہ گاہ کے اوپر وطی اور بول وبراز جائز ہے اور یہ محل نظر ہے کیونکہ بانی نے اسے اس لئے نہیں بنایا لہذا اگر چہ انھیں ہم مسجد کا حکم نہیں دیتے مگر  یہ تینوں چیزیں ( وطی، بول و براز ) اس کے اوپر جائز نہیں اور اس کا فائدہ بقیہ احکام میں ظاہر ہوگا جو  ہم ذکر کر رہے ہیں اور جنبی وحائضہ کا داخلہ بھی ہوسکتا ہے اھ (ت)

 (۱؎  بحرالرائق        باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/ ۳۶)

جواہر الاخلاطی فصل فی العیدین میں ہے:لوکان محراب المصلی عشرۃ اذرع وصف القوم مائۃ ذراع ولایتصل الصفوف جازت صلٰوۃ الکل۲؎۔

اگر عید گاہ کا محراب دس ذراع تھا اور لوگوں کی صف سَو ذراع، صفیں متصل نہ  ہوں تو تب بھی تمام کی نماز جائز ہوگی ۔(ت)

 (۲؎  جواہر الاخلا طی    فصل فی العیدین         غیر مطبوعہ نسخہ            ص ۵۱)

جامع الرموز میں ہے :المصلی محوط بالفناء۱؎( عیدگاہ وہ ہے جو میدان میں احاطہ بنا ہو ۔ت)

 (۱؎  جامع الرموز        فصل صلوٰۃ العیدین    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱ /۲۷۱)

صحیح بخاری شریف میں ایک باب وضع فرمایا : باب العلم بالمصلی ۲ ؎ یعنی مصلائے عید میں شناخت کے لئے کوئی علامت امام بدر محمودنے اس علامت میں عمارت مصلے کو بھی داخل فرمایا :

 (۲؎ صحیح بخاری        کتاب العیدین    مطبوعہ  قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/ ۱۳۳)

عمدۃ القاری میں ہے:ص باب العلم الذی بالمصلی ش ای ھذا باب فی بیان العلم الذی ھو بمصلی العید والعلم بفتحتین ھو الشیئ الذی عمل من بناء او وضع حجر او نصب عمود ونحو ذلک یعرف بہ المصلی ۳؎ ۔

باب عیدگاہ کی علامت کے بیان میں ہے ش یعنی یہ باب اس علامت کے بیان میں ہے کہ یہ جگہ عیدگاہ ہے العلم عین  اور لام دونوں پر زبر ہے اس سے مراد علامت ہے خواہ بنا کی صورت میں ہو یا پتھر ولکڑی وغیرہ نصب کرنے سے ہو جس سے اس کے عیدگاہ ہونے کا پتا چل سکے ۔(ت)

 (۳؎ عمدۃ القاری شرح البخاری    باب العلم بالمصلی    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ بیروت    ۶ / ۲۹۸)

بالجملہ تعمیر عیدگاہ جواز ظاہر ، اگر افضل فضائے خالی ہوبلکہ امام تاج الشریعۃ کی تصحیح پر نظر کیجئے ( کہ انھوں نے فرمایا صحیح یہ ہے کہ مصلائے عید جمیع احکام میں مسجد ہے ) جب تو اس کی تعمیر ضروری ہوگی خصوصا بلاد ہندوستان میں جہاں کفار کا غلبہ ہے کہ یوں ہی رکھیں تو آدمی جانور، جنب، حائض سب اس میں چلیں گے، پیشاب کریں گے، مسجد کی بے حرمتی ہوگی،

علامہ شرنبلالی غنیہ ذوی الاحکام میں فرماتے ہیں:ذکر الصدر الشھید المختار للفتوی فی الموضع الذی یتخذ لصلٰوۃ الجنازۃ و العیدانہ مسجد فی حق جواز الاقتداء و ان انفصل الصفوف رفقا بالناس و فیما عدا ذلک لیس لہ حکم المسجد کذا ذکرہ الامام المحبوبی اھ ذکرہ الکاکی و مثلہ فی فتح القدیر ویخالفہ ماقالہ تاج الشریعۃ والاصح انہ ای مصلٰی العید یاخذ حکمھا ای المساجد لانہ اعد لاقامۃ الصلٰوۃ فیہ بالجماعۃ لاعظم الجموع علی وجہ الاعلان الا انہ ابیح ادخال الدواب فیھا ضرورۃ الخشیۃ علی ضیا عھا وقد یجوز ادخال الد واب فی بقعۃ المساجد لمكان  العذر  والضرورة اھ فقد اختلف التصحیح فی مصلی العید واتفق فی مصلی الجنازۃ ۱؎  ۔

صدر الشہید نے فرمایا کہ لوگوں کی رعایت کی وجہ سے فتوٰی کے لئے مختار یہ کہ وہ جگہ جو جنازہ یا عید کی نماز کے لئے بنائی گئی ہو اسے جواز اقتدا میں مسجدکا حکم دیا جائے گا اگر چہ صفیں متصل نہ ہوں اور اس کے علاوہ اس کا حکم مسجد والا نہ ہوگا، امام محبوبی نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اھ اسے کاکی نے ذکر کیا اور اسی کی مثل فتح القدیر میں ہے اور تاج الشریعۃ نے اس کی مخالفت کی ہے اور اصح یہ ہے کہ عیدگاہ مسجد والا حکم رکھتی ہے کیونکہ عیدگاہ جماعتِ اعظم کے ساتھ اجتماعی صورت میں بطور اعلان اقامتِ نماز کے لئے بنائی گئی ہوتی ہے البتہ اس میں چار پایوں کا داخلہ مباح اس لئے قرار دیا گیا ہے تاکہ ان کا ضیاع نہ ہو اور عذر وضرورت کے  پیش نظر مساجد کی جگہ میں چوپایوں کا داخلہ جائز ہوتاہے، عیدگاہ میں تصحیح اقوال میں اختلاف ہے مگر جنازہ گاہ میں اتفاق ہے ۔(ت)

 (۱؎  ٖغنیہ ذوی الاحکام حاشیہ دررغرر    باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا    مطبوعہ احمد کامل الکائنہ دارسعادت بیروت      ۱/۱۱۰)

اس قول پر زمانہ اقدس میں عمارت نہ ہونا وارد نہ ہوگا کہ مدینہ طیبہ میں رو ز اول سے بحمد اﷲ تعالٰی اسلام ہی حاکم اسلام ہی غالب ہے عہد اطہر کے حضرات میں آداب شریعت کا جو تحفظ تھا روشن ہے ۔ جمہور ائمہ ترجیح اگر چہ اس تصحیح کے خلاف پر ہیں تاہم قول مصحح ہے اور خلاف علماء کا لحاظ بالاجماع مستحب اگر چہ غیر مذہب میں ہو نہ کہ خود اپنے مذہب میں خلاف قوی باختلاف تصحیح ، بہر حال اس قدر میں شک نہیں کہ اس تعمیر سے وہ جگہ صحرا سے نکل کر آبادی نہ ہوجائے گی اور اس میں نماز صحرا ہی میں نماز  رہے گی اور نماز صحرا کا ثواب ہاتھ سے نہ جائے گا، تو قولِ عمرو  واضح الصحۃ ہے

ھذا کلہ ماظھر لی والعلم بالحق عند العلیم العلی( مجھ پر یہی واضح ہوا ہے اور حقیقت کا علم اللہ تعالٰی کے  پاس ہے ۔ت) واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم ۔


Navigate through the articles
Previous article جمعہ کے پہلے خطبہ کی بجائے وعظ و نصیحت کرنا کیسا؟ اعلانِ عید کےلئے تین بنگولہ یعنی پٹاخہ چلانا کیسا Next article
Rating 3.02/5
Rating: 3.0/5 (244 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu