• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > عید کی نماز پہلے دن کی بجائے دوسرے دن پڑھنا کیسا؟

عید کی نماز پہلے دن کی بجائے دوسرے دن پڑھنا کیسا؟

Published by Admin2 on 2013/11/29 (825 reads)

New Page 1

مسئلہ۱۴۲۳: سائل مذکورہ بالا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر بلاعذر عید روز اول نہ پڑھیں تو روز دوم مع الکراہت جائزہے جیسا کہ بعض خطبوں میں لکھا ہے یا اصلاً صحیح نہیں ؟ بینوا توجروا

الجواب

نماز عید الفطر میں جو بوجہ عذر ایک دن کی تاخیر روا رکھی ہے وہاں شرط عذر صرف نفی کراہت کے لئے نہیں بلکہ اصل صحت کے لئے ہے یعنی اگر بلا عذر روز اول نہ پڑھے تو روز دوم اصلاً صحیح نہیں، نہ یہ کہ مع الکراہت جائز ہو، عامہ معتبرات میں اس کی تصریح ہے مصنف خطبہ کہ شخص مجہول ہے قابل اعتماد نہیں اُسے نماز عیدالاضحی سے اشتباہ گزرا کہ وہاں دو  روز کی تاخیر  بوجہ عذر بلاکراہت اور بلا عذر بروجہ کراہت روا ہے ۔

فی الدرلمختار وتأخر کمطر الی الزوال من الغد فقط واحکامھا احکام الاضحی لکن یجوز تاخیرھا الی اٰخرثالث ایام النحر بلا عذر مع الکراھۃ وبہ ای بالعذر بدونھا فالعذر ھنا النفی الکراھۃ وفی الفطر للصحۃ ۱؎ اھ ملخصا

درمختار میں ہے کہ عذر مثلاً بارش کی وجہ سے فقط دوسرے دن زوال تک مؤخر کی جا سکتی ہے اور عید الفطر کے احکام عید الاضحی کی طرح ہیں لیکن عید الاضحی کو بلا عذر ایامِ نحر کے تیسرے دن تک مؤخر کیا جاسکتا ہے ، ہاں کراہت ہے اور عذر ہوگا تو کراہت نہیں ہوگی، یہاں عذر کا ہونا نفی کراہت کے لئے ہے اور عید الفطر میں صحت کے لئے اھ تلخیصا

 (۱؎درمختار            باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱ /۱۱۶)

وفی نورالایضاح وشرحہ مراقی الفلاح کلاھما للعلامۃ الشرنبلالی تؤخر صلٰوۃ عید الفطر بعذر الی الغد فقط و قید العذر للجواز لالنفی الکراھۃ فاذا لم یکن عذر لاتصح فی الغد ۲؎اھ ملتقطا

نورالایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں علامہ شرنبلالی فرماتے ہیں کہ عذر کی وجہ سے عید الفطر کو دوسرے دن تک مؤخر کیا جاسکتا ہے، عذر کی قید جواز کے لئے ہے نفی کراہت کے لئے نہیں، تو جب عذر نہ ہو تو دوسرے دن میں نماز صحیح نہ ہوگی اھ ملتقطاً،

 (۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    باب احکام العیدین    مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی  ۳۹۳)

وفی مجمع الانھر للفاضل شیخی زادہ العذر فی الاضحی لنفی الکراھۃ وفی الفطر للجواز ۳؎

مجمع الانہر میں فاضل شیخی زادہ کہتے ہیں کہ اضحی میں عذر نفی کراہت اور فطر میں جوا ز کے لئے ہے ،

 (۳؎مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر    باب صلوٰۃ العیدین      مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۱۷۵)

وفی شرح النقایۃ للشمس القھستانی لوترکت بغیر عذر سقطت کما فی الخزانۃ ۴؎ اھ

شرح نقایہ للشمس قہستانی میں ہے کہ اگر نمازِ عید بغیر عذر کے چھوڑدی تو ساقط ہوجائے گی، خزانہ میں بھی اسی طرح ہے اھ

 (۴؎ جامع الرموز        فصل فی العیدین     مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۱۷۵)

ففی شرح المنیۃ الکبیر للعلامۃ الحلبی صلٰوۃ عید الاضحٰی تجوز فی الیوم الثانی والثالث سواء اخرت بعذر اوبدونہ اماصلٰوۃ الفطر فلاتجوز الافی الثانی بشرط حصول العذر فی الاول ۵؎ اھ

شرح منیہ کبیر للعلامہ حلبی میں ہے کہ عید الاضحی کی نماز  دوسرے اور  تیسرے دن بھی جائز ہے خواہ عذر کی وجہ سے موخر ہوئی یا بلاعذر، لیکن نماز عید الفطر اگر پہلے دن کسی عذر کی وجہ سے ادا نہ کی جاسکی تو فقط دوسرے دن پڑھی جاسکتی ہے اھ

 (۵؎غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    باب العیدین        مطبوعہ  سہیل اکیڈمی لاہور        ص ۵۷۱)

وفی الفتاوی الخانیۃ ان فاتت صلٰوۃ الفطر فی الیوم الاول بعذر یصلی فی الیوم الثانی وان فاتت بغیر عذر لا یصلی فی الیوم الثانی فان فاتت فی الیوم الثانی بعذر اوبغیر عذر لایصلی بعد ذلک واماعید الاضحی ان فاتت فی الیوم الاول بعذر او بغیر عذر یصلی فی الیوم الثانی فان فاتت فی الیوم الثانی بعذر او بغیر عذر یصلی فی الیوم الثالث فان فاتت فی الیوم الثالث بعذر او بغیر عذر لایصلی بعد ذلک ۱؎

فتاوٰی خانیہ میں ہے کہ اگر کسی عذر کی وجہ سے عید الفطر  پہلے دن رہ گئی تو دوسرے دن  ادا کی جائے اور اگر عذر نہ تھا تو دوسرے دن نہیں پڑھی جاسکتی، اور اگر دوسرے دن بھی نہ پڑھی جاسکی خواہ عذر تھا یا نہیں، تو اس کے بعد نہیں پڑھی جاسکتی، باقی نماز عید الاضحی اگر عذر  یا بغیر عذر  پہلے دن رہ گئی تو دوسرے دن پڑھ لی جائے ، اگر دوسرے دن فوت ہوگئی عذرتہا یا نہ تھا تو تیسرے دن پرھ لی جائے، اور اگر تیسرے دن بھی رہ گئی خواہ عذر تھا یا نہ تھا تو اس کے بعد ادا نہیں کی جاسکتی،

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    باب صلوٰۃ العیدین    مطبوعہ منشی نولکشور لکھنؤ    ۱/۸۸)

وفی الھندیۃ عن تبیین الامام الزیلعی، العذر ھھنا لنفی الکراھۃ حتی لواخروھا الی ثلاثہ ایام من غیر عذرجازت الصلٰوۃ وقد اساؤ اوفی الفطر للجواز حتی لو اخروھا الی الغد من غیر عذر لایجوز۲؎انتھی ومثلہ فی رمزالحقائق للعلامۃ العینی۔

ہندیہ میں امام زیلعی کی تبیین سے ہے کہ یہاں عذر نفی کراہت کے لئے ہے، حتی کہ اگر بغیر عذر کے تین دن نماز موخر کردی تو اب بھی نماز جائز  البتہ تاخیر کرکے بُرا کیا اور فطر میں عذر جواز کے لئے ہے حتی کہ اگر بغیر عذر کے نماز دوسرے دن تک مؤخر کی تو اب اس کی ادائیگی جائز نہ ہوگی انتہی، علامہ عینی کی رمز الحقائق میں اسی طرح ہے ۔(ت)

 (۲؎فتاوٰی ہندیہ    باب صلوٰۃ العیدین               نوری کتب خانہ پشاور              ۱ / ۱۵۳ )

بالجملہ اس کا خلاف کتب متداولہ میں فقیر کی نظر سے کسی روایت ضعیفہ میں بھی نہ گزرا۔

اللھم الا ما رأیت  فی جواھر الاخلاطی من قولہ اذافاتت صلٰوۃ عید الفطر فی الیوم الاول بعذر اوبغیرہ صلی فی یوم الثانی و لم یصل بعدہ اھ

مگر یہ کہ میں نے جواہر اخلاطی میں یہ عبارت دیکھی کہ جب نماز عید الفطر  پہلے دن فوت ہو خواہ عذر تھا یا نہ تھا دوسرے دن ادا کی جائے اور اس کے بعد نہیں پڑھی جاسکتی اھ

فیظن ان یکون خلطا من الاخلاطی فانی رأیت لہ غیر  ما مسئلۃ خالف فیھا الکتب المعتمدۃ والاسفار المعتبرۃ اویکون من خطأ الناسخ ۔  واﷲ تعالٰی اعلم

تو گمان یہ ہے کہ اخلاطی کا خلط ہے کیونکہ میں نے متعدد مسائل میں دیکھا ہے کہ وہ کتب معتمدہ اور اسفار معتبرہ کے خلاف لکھتے ہیں یا یہ کاتب کی غلطی ہوسکتی ہے، واﷲ تعالٰی اعلم (ت)


Navigate through the articles
Previous article جمعہ کے پہلے خطبہ کی بجائے وعظ و نصیحت کرنا کیسا؟ اعلانِ عید کےلئے تین بنگولہ یعنی پٹاخہ چلانا کیسا Next article
Rating 2.79/5
Rating: 2.8/5 (211 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu