• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > بارش کے باعث عید کی نماز دوسرے دن پڑھ سکتے ہیں؟

بارش کے باعث عید کی نماز دوسرے دن پڑھ سکتے ہیں؟

Published by Admin2 on 2013/11/29 (818 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۴۲۷: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں اگر ہلال شوال دن چڑھے تحقیق ہو اور بارش شدید ہو بعض اہل شہر نماز عید پڑھیں بعض بسبب بارش نہ پڑھیں توجماعت باقیما ندہ دوسرے دن اداکریں یا اب انھیں اجازت نہ دی جائے گی کہ نماز ہوچکی،

اور قہستانی میں ہے:اذا صلی الامام صلٰوتہ مع بعض القوم لایقضی من فاتت تلک الصلٰوۃ عنہ لافی الیوم الاول ولامن الغد ۱؎ انتھی بینوا توجروا۔

جب امام نے کچھ لوگوں کو نماز پڑھادی تو جن کی نماز فوت ہوگئی وہ اسے قضا نہیں کرسکتے ، نہ پہلے دن اور نہ دوسرے دن ۔ انتہی ( ت) بینوا توجروا

 (۱؎ جامع الرموز        فصل فی صلوٰۃ العیدین    مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۲۷۴)

الجواب

اللھم ھدایۃ الحق والصواب

 ( اے اﷲ !حق اور صواب کی توفیق عطا فرما ۔ ت) صورۃ مستفسرہ میں جماعت باقیماندہ بیشک دوسرے دن ادا کرے عید الفطر میں بوجہ عذر ایک دن کی تاخیر جائز ہے اور بارش عذر شرعاً مسموع،

فی الدرالمختار و توخربعذر کمطرالی الزوال من الغد فقط ۲؎ انتہی

درمختار میں ہے عذر کی وجہ سے نماز فطر فقط دوسرے دن تک مؤخر کی جائے گی جیسے بارش۔ انتہی (ت)

 (۲؎ درمختار        باب العیدین         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۱۱۶)

اور صلوٰۃ عید میں جواز تعدد متفق علیہ ہے بخلاف جمعہ کہ اس میں خلاف ہے اور راجح جواز ،

فی الدرالمختار تؤدی بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقا ۳؎  اھ

درمختار میں ہے کہ ایک شہر میں بالاتفاق متعدد مقامات پرنماز عید ادا کی جاسکتی ہے اھ (ت)

 (۳؎ درمختار        باب العیدین         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی       ۱/ ۱۱۶)

تو ادائے بعض اہل شہر سے بعض دیگر کو دوسرے روز پڑھنا کیونکر ممنوع ہوسکتا ہے ، کلام قہستانی وغیرہ اس صورت میں ہے جب عامہ اہل بلد پڑھ لیں اور ایک آدمی باقی رہ جائے کہ نماز عید بے جماعت مشروع نہیں ناچار پڑھنے سے باز رہے گا، ہدایہ کی تعلیل اس پر صاف دلیل،

قال من فاتتہ صلٰوۃ العید مع الامام لم یقضہا لان الصلٰوۃ بھذہ الصفۃ لم تعرف قربۃ الا بشرائط لا تتم بالمنفرد ۴؎ اھ

فرمایا جس کی نمازِ عید امام کے ساتھ فوت ہوگئی وہ اسے قضا نہیں کرسکتا کیونکہ اس طرح کی نماز شرائط کے ساتھ مشروع ہے اور وہ شرائط تنہا ہونے کی صورت میں پوری نہیں ہوتیں اھ (ت)

 (۴؎ الہدایۃ           باب العیدین     المکتبہ العربیۃ کراچی        ۱/ ۱۵۴)

اور عبارت تنویر الابصار مورث تنویر الابصار  امام  ابو عبداﷲ محمد بن عبداﷲ غزی رحمۃ اﷲ تعالٰی نے ابتداء اس مسئلہ کو ایسے  پیرا میں ادا فرمایا وہم واہم، راہ نہ پائے،

حیث یقول ولایصلیھا وحدہ ان فاتت مع الامام ۱؎ اھ

یہاں انھوں نے کہا تنہا نماز نہ پڑھے جب امام کے ساتھ فوت ہوگئی اھ (ت)

 (۱؎ درمختار         باب العیدین            مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۱۱۶)

یونہی امام حافظ الدین ابوالبرکات نسفی رحمہ اﷲ تعالٰی کا اپنے متن و شرح وافی و کافی میں ارشاد ازالہ اوہام ایقاظِ افہام کے لئے کافی ووافی،

لم یقض ان فاتت مع الامام ای صلی الامام العید وفاتت من شخص فانھا لاتقضی لانھا ماعرفت قربۃ الابفعلہ علیہ الصلٰوۃ و السلام وما فعلھا الابالجماعۃ فلا تؤدی الابتلک الصفۃ ۲؎اھ ملخصا

نہ قضا کی جائے اگر امام کے ساتھ رہ گئی ہو یعنی امام نے نماز عید پڑھادی اور ایک شخص کی فوت ہوگئی تو وہ اسے قضا نہ کرے کیونکہ یہ نماز حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معمول کے مطابق ہی مشروع ہے اور آپ نے اسے جماعت ہی سے ادا فرمایا لہذا اب اس صفت کے علاوہ اسے ادا نہیں کیا جاسکتا اھ ملخصاً (ت)

 (۲؎ کافی شرح وافی)

علامہ بدرالدین محمود عینی رمز الحقائق میں فرماتے ہیں:صلاھا الامام مع الجماعۃ ولم یصلھا ھو لایقضیھا الا فی الوقت ولابعدہ لانھا شرعت بشرائط لاتتم بالمنفرد ۳؎ اھ

امام نے جماعت کروادی لیکن اس شخص نے نہیں پڑھی تو اب وہ قضا نہ کرے نہ وقت کے اندر نہ بعد میں کیونکہ یہ کچھ شرائط کے ساتھ مشروع تھی اور  وہ اکیلا ہونے کی صورت میں پوری نہیں ہوتیں اھ (ت)

 (۳؎ رمزا لحقائق    باب فی احکام صلوٰۃ العیدین    مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱/۵۸)

مستخلص میں زیر قول کنز، لم تقض ان فاتت مع الامام ( قضا نہ کی جائے اگر امام کے ساتھ رہ گئی ہو ۔ت) لکھتے ہیں:معناہ لو لم یصل رجل مع الامام لم یقضھا منفردا ۴؎  ۔

معنٰی اس کا یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے امام کے ساتھ نمازِ عید نہیں پڑھی تو  وہ اب تنہا قضا نہ کرے (ت)

 (۴؎ مستخلص الحقائق     باب فی احکام صلوٰۃ العیدین  کانشی رام پر نٹنگ پریس ،لاہور    ۱/۲۹۹)

یا تویہ معنی ہیں کہ امام معین ماذون من السلطان ادا کرچکا اور ان باقیما ندہ میں کوئی مامور نہیں، اقامت کون کرے ، فاضل محقق حسن شرنبلالی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کا کلام مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں اس طرف ناظر

ۤاذ قال من فاتتہ الصلٰوۃ فلم ید رکھا مع الامام لا یقضیھا لانھا لم تعرف قربۃ  الابشرائط لاتتم بدون الامام ای السلطان اومامورہ ۱؎۔

کیونکہ انھوں نے کہا ہے کہ جو نماز  امام کے ساتھ نہ پڑھ سکا وہ اب قضا نہ کرے کیونکہ یہ نماز شرائط کے ساتھ مشروع ہے اور وہ اما م یعنی سلطان یا اس کے نائب کے بغیر پوری نہیں ہوسکتیں(ت)

 (۱؂ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    باب احکام العیدین    مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۲۹۲)

اس لئے فاضل سید احمد مصری اس کے حاشیہ میں فرماتے ہیں:

ای وقد صلاھا الامام اومامورہ فان کان مامور ا باقامتھا لہ ان یقیمھا ۲؎اھ

یعنی امام یا اس کے نائب نے نماز پڑھادی پس اگر وہ امامتِ عید کے لئے مامور تھا تو وہ اسے پڑھا سکتا ہے (ت)

 (۲؎حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب احکام العیدین    مطبوعہ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص ۲۹۲)

اقول وقد یشیر الیہ تعریف الامام فی عبارۃ النقایۃ المذکورۃ وغیرھا کما لا یخفی علی العارف باسالیب الکلام۔

اقول اس کی طرف عبارت نقایہ وغیرہ میں ہیں جو امام نے تعریف کی ہے وہ بھی اشارہ کرتی ہے جیسا کہ کلام کے اسالیب کے ماہر  پر مخفی نہیں ۔(ت)

بہر طور عبارت جامع الرموز سے بدیں وجہ کہ نماز ایک بار  ہوچکی باقیماندہ لوگوں کے لئے ممانعت تصور کرنا محض خطا اقول بلکہ اگر نظر سلیم ہو تو وہی عبارت بعینہا مانحن فیہ میں جواز پر دال ، کہ اس میں صرف دوسرے ہی دن کی نسبت ممانعت نہیں بلکہ جب امام جماعت کر چکے تو اس روز بھی نہ پانے والے كو منع کرتے ہیںحیث قال لافی الیوم الاول ولا من الغد( نہ پہلے اور دوسرے دن ۔ت) اور اول بیان ہوچکا کہ تعدد جماعت عیدین میں بالاتفاق جائز  اور  معلوم ہے کہ یہ تعدد تاخر سے خالی نہیں ہوتا اگر عبارت مفرح، نقایہ کے یہ معنی ہوتے کہ جب ایک جماعت پڑھ لے تو دوسروں کو مطلقاً اجازت نہیں تو یہ تعدد کیونکر روا ہوتا اور نماز عیدکا بھی حکم اس امر میں اُس کے مذہب پر جو تعددِ جمعہ روا نہیں رکھتا،مانند نماز جمعہ ہوجاتا یعنی جماعت سابقہ کی تو نماز ہوگئی باقی سب کی ناجائز

کما فی الدرالمختار علی المرجوح فی الجمعۃ لمن سبق تحریمتہ( جیسا کہ درمختار میں مرجوح قول کے مطابق ہے کہ جمعہ ان لوگوں کا ہے جن کی تحریمہ پہلے ہو ۔ ت) تو بالیقین معنی کلام وہی ہیں جو ہم نے بیان کئے اور قاطع شغب یہ ہے کہ درمختار میں درصورت فوات مع الامام تصریح کی:

لو امکنہ الذھاب الی الامام الاخر فعل لانھا تؤدی بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقا ۱؎ ۔اگر دوسرے امام کی طرف جانا ممکن ہو تو چلا جائے کیونکہ ایک شہر میں بالاتفاق متعدد جگہوں پر نماز عید ادا کی جاسکتی ہے (ت)

(۱؎ درمختار            باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۱۱۶)

حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :لوقدر بعد الفوات مع الامام علی ادراکھا مع غیر فعل للاتفاق علی جواز  تعددھا ۲؎ اھ

اگر ایک امام کے ساتھ فوت ہونے کے بعد دوسرے امام کے ساتھ نماز ادا کی جاسکتی ہے تو نمازی وہاں چلاجائے کیونکہ متعدد مقامات پر عید کے جواز پر اتفاق ہے اھ (ت)

 (۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی     باب احکام العیدین    مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۲۹۲)

دیکھو نص فرماتے ہیں کہ امام کے پیچھے نہ پڑھے تو دوسرے اما م کے پیچھے پڑھے اور حالِ عذر میں روز اول و دوم یکساں، آج پڑھے تو کل کون مانع، مگر یہ ضرور ہے کہ جوامام عیدین وجمعہ کے لئے مقرر ہو اسے بھی فوت ہوئی ہو کہ امامت کے لئے امام معین مل سکے اور اگر مقرر کردہ امام سب پڑھ چکے اور بعض لوگ رہ گئے تو یہ بیشک نہیں پڑھ سکتے نہ آج نہ کل واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب والیہ المرجع والماٰب۔


Navigate through the articles
Previous article جمعہ کے پہلے خطبہ کی بجائے وعظ و نصیحت کرنا کیسا؟ اعلانِ عید کےلئے تین بنگولہ یعنی پٹاخہ چلانا کیسا Next article
Rating 2.71/5
Rating: 2.7/5 (224 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu