• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > عید گاہ کے علاوہ عیدین کی نماز کی تکرار کرنا کیسا

عید گاہ کے علاوہ عیدین کی نماز کی تکرار کرنا کیسا

Published by Admin2 on 2013/12/2 (777 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۴۴۱: از اُوجین مکان میر خادم علی اسسٹنٹ مرسلہ یعقوب علی خاں صاحب ۹ محرم الحرام ۱۳۰۹ھ

الحمد للہ رب العٰلمین والعاقبہ للمتقین والصلٰوۃ والسلام علی رسولہ محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین

چہ می فرمایند علما وفضلائے دین دریں مسئلہ کہ نماز عید ین درقصبہ خواہ شہر باشد بجز عیدگاہ بشرط تکرار یا ہمیں درمساجد دیگر بگزارد درست ست یا ممنوع وبرتقدیر قاضی فاسق نماز  را ملک خود قراردادہ نماز عید دیگر مساجد شہر را بجماعت حکام بند کنانیدہ دہدبدیں سبب کہ مرد مان شہر پس من نماز  ادا  نما یند پس باقتدائے فاسق نماز  درست ست یا نہ وحکم قضائے قاضی فاسق پیر وانِ او چیست بیان فرمایند بالتشریح بحوالہ کتب رحمہ اﷲ اجمعین۔

سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور آخرت متقین کی ہے اور صلوٰۃ وسلام ناز ل ہو اللہ کے رسول محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  پر اور آپ کی آل  واصحاب تمام پر ، علماء و فضلائے دین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ عید ین کی نماز قصبہ یا شہر میں عیدگاہ کے علاوہ بشرط تکرار یا انھیں دیگر مساجد میں ادا کی جاسکتی ہے یا ممنوع ہے ، اگر قاضی فاسق نماز کو اپنی ملک سمجھتے ہوئے شہر کی دوسری مساجد میں حکام کو جماعت سے منع کردیتا ہے تاکہ تمام لوگ میرے پیچھے ہی نماز ادا کریں تو فاسق کی اقتداء میں نماز درست ہوگی یا نہ؟ قاضی فاسق کی قضا کا حکم اور اس کی پیروی کرنے والوں کا کیا حکم ہے، بحوالہ کتب تفصیلاً جواب عطا کریں رحمہ اﷲ اجمعین۔ (ت)

الجواب

رفتن عیدگاہ سنت ست

فی الدرالمختار الخروج الیھا ای الجبانۃ لصلٰوۃ العید سنۃ وان وسعھم المسجد الجامع ھوا لصحیح ۱؎

اما واجب نیست اگربہ مسجد شہرنمازگزارند قطعادرست وبے خلل باشد اگر چہ ترک سنت کردہ باشند فی ردالمحتار الواجب مطلق التوجہ لاالتوجہ الی خصوص الجبانۃ۲؎

عید گاہ كی جانب جانا سنت ہے در مختار میں ہے  جماعت عید کے لئے جبانہ ( نماز کی وہ جگہ جو جنگل میں بنائی جائے )کی طرف نکلنا سنت ہے اگر چہ جامع مسجد میں لوگوں کی گنجائش ہو، اور  یہی صحیح ہے لیکن نکلنا واجب نہیں ، اگر چہ شہر کی مسجد میں نماز  پڑھ لی تو  یقینا درست ہے اس میں کوئی کمی نہیں اگر چہ سنت کا ترک ہوا ہے، ردالمحتار میں ہے کہ واجب مطلق نکلنا ہے نہ کہ مخصوص عیدگاہ کی طرف نکلنا،

 (۱؎ درمختار            باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱/۱۱۴)

(۲؎ ردالمحتار              باب العیدین        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۶۱۲)

وتکرار نماز عید درمصر واحد بمواضع کثیرہ بالاتفاق جائز ست فی الدرالمختار تؤدی بمصر واحد بمواضع کثیرۃ اتفاقا۳؎ واقتداء بفاسق معلن مکروہ تحریمی قریب بحرام ست وھو الذی یقتضیہ الدلیل ولایعدل عن درایۃ ما وافقتہا روایۃ،

اور ایک شہر میں تکرارِ نماز عید بالا تفاق جائز  ہے، درمختار میں ہے کہ ایک شہر میں بالاتفاق متعدد مقامات پر عید ادا کی جاسکتی ہے، فاسق معلن کی اقتداء مکروہ تحریمی حرام کے قریب ہے، اور دلیل کا تقاضا بھی یہی ہے اور اس درایت سے عدول مناسب نہیں جو روایت کے موافق ہو،

 (۳؎ درمختار              باب العیدین        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۱۶)

علامہ ابراھیم حلبی درغنیہ فرمودہ یکرہ تقدیم الفاسق کراھۃ تحریم وکذا المبتدع۴؎

علامہ ابراہیم حلبی غنیہ میں فرماتے ہیں فاسق کی تقدیم مکروہ تحریمی ہے اور اسی طرح بدعتی کی،

 (۴؎ غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی    فصل الامامۃ        سہیل اکیڈمی لاہور    ۱/۵۱۳)

پس تاوقتیکہ نماز پس مصالحے صحیح القراء ۃ سلیم العقیدہ  زنہار اقتدا بانکنند اما اگر ظلما نماز دیگر مساجد بند کردہ شود وجز باقتدائے اور اہے نیابند مجبورباشند ومعذو ر و  وبال ایں ظلم  و جبر برگردن  آں فاسق مغرور لایکلف اﷲ نفسا الاوسعھا ۵؎

جب تک کسی صالح صحیح القرأۃ سلیم العقیدہ کی اقتداء میسر  ہو ہر گز کسی فاسق کے  پیچھے نماز نہ پڑھی جائے اگر ظلماً دیگر مساجد نماز کے لئے بند کردی گئی ہیں اور اس کی اقتداء کے علاوہ اورکوئی راستہ نہیں تو  اب  مجبوری اور    معذوری ہے ، اس کا وبال بھی اس فاسق  پر ہی ہوگا اور اللہ تعالٰی کسی نفس کو اس کی طاقت سے بڑھ کر حکم نہیں دیتا،

 (۵؎ القرآن      ۲/ ۲۸۶)

نماز عید از اعظم شعائر اسلام ست بایں علت عارضہ ترکش نتواں گفت فی ردالمحتار عن المعراج قال اصحابنا لا ینبغی ان یقتدی بالفاسق الا فی الجمعۃ لانہ فی غیرھا یجد اماما غیرہ اھ

نماز عید اسلام کے عظیم شعائر میں سے ہے ، اس عارضہ کی وجہ سے اسے ترک نہ کیا جائے، ردالمحتار میں معراج کے حوالے سے ہے کہ ہمارے اصحاب نے فرمایا جمعہ کے علاوہ فاسق کی اقتداء نہ کی جائے کیونکہ دوسری نمازوں میں کسی دوسرے کی اقتداء ہوسکتی ہے اھ

قال فی الفتح وعلیہ فیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد المفتی بہ لانہ بسبیل الی التحول ۱؎

وایناکہ برنکاح وامامت جمعہ واعیاد ازجانب نصاری   وغیرہم حکام زمانہ مقرر باشند از عہدہ قضا جز  اسم بے مسمی ولفظ بے معنی بہرہ ندارند پس حکم قضائے  ایشاں  چہ گفتہ آید حکم برموجود باشد و قضائے ایشاں خود معدوم ست کہ حقیقت درکنار صورت قضاہم ندار دآرے اگر مراد آنست کہ فساق رابایں کار ہا معین کر دن جواب آنست کہ ہر گز نشاید حال امامت خود حالے شدو غرض از تولیت انکحہ توثیق و اشہاد ست وآں خود از فاسق حاصل نباشد۔ واﷲ تعالٰی اعلم

فتح میں ہے کہ اس بنا پر جمعہ میں بھی اقتداء مکروہ  ہے کیونکہ امام محمد کے مفتٰی بہ قول کے مطابق شہر میں متعدد جگہ جمعہ ہوسکتا ہے تو دوسرے مقام کی طرف چلے جانا ممکن ہوا اور  یہ جو نصارٰی کی طرف سے نکاح ، امامتِ جمعہ واعیاد کے لئے عہدہ قضاء پر مقرر لوگ ہیں، یہ اسم بے مسمی اور لفظ بے معنی ہیں، ان کی قضا کیا حقیقت رکھتی ہے حکم موجود پر ہوگا اور ان کی قضا خود معدوم ہے جو درحققیت قضا ہی نہیں، اگر سوال یہ ہے کہ ایسے فاسق لوگوں کو اس عہدہ پر مقرر کرنا کیسا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ ہرگز جائز نہیں، اور امامت کا معاملہ خود اہم ہے ، والی بنانے سے مقصد ان کی توثیق واشہاد ہے جو فاسق سے حاصل نہیں ہوتی۔ واﷲ تعالٰی اعلم

 (۱؎ ردالمحتار    باب الامامۃ        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۱۴)


Navigate through the articles
Previous article خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا حکم
Rating 2.96/5
Rating: 3.0/5 (228 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu