• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Juma & Eid Prayer / جمعہ و عیدین > ایک کی بجائے دو عیدگاہ بنانے کا حکم

ایک کی بجائے دو عیدگاہ بنانے کا حکم

Published by Admin2 on 2013/12/2 (888 reads)

New Page 1

مسئلہ ۱۴۴۲:  از دمن خرد ملک پرتگال محلہ کھارا موڑ مرسلہ مولوی محمد ضیاء الدین صاحب۱۰ محرم الحرام ۱۳۱۸ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک عید گاہ ایک چھوٹی سی بستی میں ۱۲۲۶ھ سے بنی ہوئی ہے، بعض مسلمان اہل شہر کو  اپنے محلہ سے ربع میل کے قریب مسافت طے کر کے جانا پڑتا ہے اور بعض اہل محلہ ربع میل سے بھی کم چل کر داخل عیدگاہ ہوجاتے ہیں، سال مذکور سے جملہ اہل شہر اُسی عیدگاہ میں برابر نماز عید ادا کرتے رہے، حال میں ان اشخاص نے جن سے بہت نزدیک عیدگاہ تھی بباعث نفسانیت دنیوی کے عیدگاہ میں نماز عید پڑھنا ترک کردیا حالانکہ ان کو کسی نے عیدگاہ سے ممانعت بھی نہیں کی، آخر صرف اسی نفسانیت کی بنا پر  یا کسی مفسد کے بہکانے سے یہ بات اپنی طبیعت سے گھڑلی کہ ہم بانیانِ عیدگاہ کی طرف والے عیدگاہ میں داخل ہونے سے منع کرتے ہیں بایں وجہ ہم نے عیدگاہ میں دوگانہ ادا کرنا ترک کردیا، دو تین سال سے میدان میں جو عیدگاہ کے قریب ہے نماز عید پڑھتے تھے امسال ان کا ارادہ اسی میدان میں دوسری عیدگاہ کی تعمیر کا ہے، تو آیا ان چند اشخاص کو صورتِ مذکورہ بالا میں اپنی جدید گاہ کا ایسے مختصر شہر میں تعمیر کرنا ازرُوئے شرع شریف درست ہے یا نا درست؟ اگر درست ہے تو اب دو (۲) عیدگاہوں کے ہوجانے سے قلت جماعت عیدگاہ سابق موجب کمی ثواب ہے یانہیں؟ اور باعث قلت ثواب کے ایسی حالت میں بانیانِ عیدگاہ جدید ٹھہریں گے یا نہیں؟ اگر یہ لوگ ٹھہرے تو عیدگاہ سابق کو محض نفسانیتِ دنیوی کے سبب ترک کردینے والوں کی نیت اور ثواب کثیرکو قلیل کرنے والوں کی بابت ہماری شریعتِ مطہرہ کیا حکم کرتی ہے؟  بینوا توجروا

الجواب

نماز عید ایک شہر میں متعدد جگہ اگر چہ بالاتفاق روا ہے مگر ایک شہر کے لئے دو عیدگاہ بیرون شہر مقرر کرنا زمان برکت نشان حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اب تک معہود نہیں نہ زنہار اس میں شرع مطہر ودین منور کی کوئی مصلحت خصوصاً ایسی چھوٹی بستی میں تو اگر اس میں اس کے سوا کوئی حرج نہ ہوتا تو اسی قدر اس فعل کی کراہت کو بس تھا کہ محض بے ضرورت شرعی ومصلحتِ دینی خلاف متوارث مسلمین ہے اور ایسا فعل ہمیشہ مکروہ ہوتا ہے،

درمختار باب العیدین میں ہے:لان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم ۱؎( کیونکہ یہ مسلمانوں کے ہاں متوارث ہے لہذا ان کی اتباع لازم ہے ۔ت)

 (۱؎ درمختار    باب العیدین         مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی   ۱/۱۱۷)

ردالمحتار کتاب  الذبائح میں غایۃ البیان سے ہے:توارثہ الناس فیکرہ ترکہ بلا عذر۲؎ ( لوگوں کے ہاں متوارث ہے لہذا اس کا ترک بلاعذر مکروہ ہوگا ۔ت)

 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الذبائح     مطبوعہ  مصطفی البابی مصر    ۱/ ۲۰۸)

اور یہیں سے ظاہر کہ تعدد مساجد پنجگانہ پر اس کا قیاس نہیں ہوسکتا کہ وہ خود متوارث ومطلوب فی الشرع ہے،

سنن ابوداؤد و ترمذی وابن ماجہ میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے ہے:امر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ببناء مساجد فی الدور وان تنظف و تطیب ۱؎ ۔

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ہر علاقے میں مسجد کی تعمیر اور ان کی نظافت وطہارت کا حکم دیا ۔ (ت)

 (۱؎ سنن ابن ماجہ    اتخاذ المساجد فی الدو ر        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص ۶۶)

جب یہ تعمیر مصلحت دینی سے خالی ہوئی اور اس میں کوئی مصلحت دنیوی نہ ہونا بدیہی ، تومحض عبث ہوئی اور ایسا ہر عبث ناجائز و ممنوع ہے ،

ہدایہ میں ہے:العبث خارج الصلٰوۃ حرام فما ظنک فی الصلٰوۃ۲؎ ۔عبث کام نماز سے باہر حرام تو نماز میں کیا حال ہوگا ۔(ت)

 (۲؎ الھدایۃ        باب مایفسد الصلوٰۃ ومایکرہ فیہا     مطبوعہ  المکتبہ العربیۃ کراچی       ۱/۱۱۹)

حلیہ میں ہے:الفرق بین العبث والسفہ علی ماذکرہ بدر الدین الکردی ان السفہ مالا غرض فیہ اصلا والعبث فعل فیہ غرض لکن ،لیس بشرعی وعبارۃ غیرہ العبث مالیس فیہ غرض صحیح لفاعلہ۳؎ ۔

عبث اور سفہ میں فرق بقول علامہ بدرالدین الکردی کے یہ ہے کہ سفہ وہ عمل جس میں کوئی غرض نہ ہو اور عبث وہ فعل جس میں غرض ہو لیکن شرعی نہ ہو، دیگر لوگوں کے الفاظ میں عبث وہ فعل ہے جس کے فاعل کی غرض صحیح نہ ہو ۔(ت)

 (۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

یہ عمارت بے حاجت کی تعمیر ہوئی اور ہر عمارت بے حاجت اپنے بنانے والے پر روز قیامت وبال ہے

کما وردت بہ احادیث عند البیھقی عن انس والطبرانی عن واثلۃ وفیہ عن غیرھما رضی اﷲ تعالٰی عنہم ۔

جیسا کہ اس پر بیہقی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ، طبرانی نے حضرت واثلہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور اس سلسلہ میں ان کے علاوہ صحابہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے مرویات ہیں ۔(ت)

جنگل میں بے حاجت شرعی ایک عمارت بنا کر کھڑی کردینا اسراف ہوا ا ور اسراف حرام ہے

قال اﷲ ولا تسرفوا انہ لایحب المسرفین۴؎ ( اللہ تعالٰی کا فرمان ہے : اور اسراف نہ کرو کہ اﷲ تعالٰی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ ت)

 (۱؎ القرآن                ۶/ ۱۴۱ و ۷/ ۳۱)

صورت مستفسرہ میں یہ سب شناعتیں خود اس فعل بے معنی میں موجود تھیں اگر چہ اس کی تعمیر براہٖ نفسانیت نہ ہو اور جبکہ یہ بناء براہٖ نفسانیت ہے جیسا کہ بیان سوال سے ظاہر، تواس کا مذموم و مردود ہونا خود واضح و روشن ہے کما لا یخفی، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم


Navigate through the articles
Previous article خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کا حکم
Rating 2.69/5
Rating: 2.7/5 (224 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu