• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > کیا میاں بیوی بعد انتقال ایک دوسرے کو نہیں چھوسکتے

کیا میاں بیوی بعد انتقال ایک دوسرے کو نہیں چھوسکتے

Published by Admin2 on 2013/12/6 (1062 reads)

New Page 1

مسئلہ نمبر ۸: مرسلہ محمد اکرم حسین ازہردوئی بوساطت مولٰنا حامد حسین صاحب مدرس اوّل مدرسہ اہلسنت     ۲۵ جمادی الاولٰی ۱۳۲۲ ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک صاحب نے رو برو  یہ مسئلہ بیان کیا کہ اگر کسی شخص کی عورت یا عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے تو شوہر عورت کو اور عورت شوہر کو غسل نہیں دے سکتی ہیں،غسل کیا معنی بلکہ چھو نہیں سکتے ہیں خواہ غسل دینے والے موجود ہوں یا نہ ہوں،کیونکہ نکاح دنیا تک ہے جب دو۲ میں سے کسی کا انتقال ہوگیا نکاح فسخ ہوگیا۔جب نکاح فسخ ہوگیا تو عورت مرد کو اور مرد عورت کو نہیں چھو سکتا ہے اُس پر چھونا حرام ہوگیا، آیا ایسا ہوسکتا ہے؟مکلف ہوں کہ بہت جلد جواب سے سرفراز فرمایا جاؤں ۔بینوا توجروا

الجواب

یہ مسئلہ مرد کے بارہ میں صحیح ہے کہ وُہ بعد وفاتِ زن اُسے غسل نہیں دے سکتا،نہ اُس کے بدن کو ہاتھ لگا سکتا ہے کہ موت سے عورت اصلاً محلِ نکاح نہ رہی۔چھُونے کا جواز صرف بر بنائے نکاح تھا ورنہ زن وشوہر اصل میں اجنبی محض ہوتے ہیں ،اب کہ نکاح زائل ہوگیا،چھونے کا جواز بھی جاتا رہا۔اور عورت کے بارے میں بھی صحیح ہے اُس حالت میں کہ وقتِ غسل عورت زوجیتِ زوج میں نہ ہو۔مثلاً مرد نے طلاق بائن دے دی تھی یا بعدِ وفات شوہر عدت گزر گئی، مثلاً عورت حاملہ تھی شوہر کے انتقال ہوتے ہی بچہّ پیدا ہوگیا کہ اب عدّت نہ رہی اور زوجیت سے یکسر نکل گئی ،اسی طرح عورت معاذاﷲ بعد وفات شوہر مرتدہ ہوگئی،پھر اسلام لے آئی یا پسرِ شوہرکو شہوت کے ساتھ چھو لیا کہ ان سب صورتوں میں نکاح زائل ہوگیا، بخلاف اس کے کہ شوہر مرگیا اور عورت عدّتِ وفات میں ہے، یا شوہر نے طلاق رجعی دی تھی اور ہنوز عدت باقی تھی کہ اس کا انتقال ہوا، ان صورتوں میں عورت اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہےکہ ہنوز حکمِ زوجیّت  باقی ہے۔

فی الدرالمختار یمنع زوجھا من غسلہا ومسھا لامن النظر الیھا علی الاصح وھی لاتمنع من ذلک ولو ذمیۃ بشرط بقاء الزوجیۃ والمعتبر فی الزوجیۃ صلاحیتھا لغسلہ حالۃ الغسل لاحالۃ الموت فتمنع من غسلہ لوبانت قبل موتہ او ارتدت بعدہ ثم اسملت اومست ابنہ بشہوت لزوال النکاح وجازلھا غسلہ لو اسلم زوج المجوسیۃ فمات فاسلمت بعدہ فحل مسہا حینئذٍ اعتبارا  بحالت الحیٰوۃ ۱؎ اھ مختصراً۔درمختار میں ہے شوہر کے لئے عورت کو غسل دینا اور چھُونا منع ہے، دیکھنا منع نہیں۔ یہی اصح ہے، اور عورت کے لئے یہ سب ممنوع نہیں اگرچہ ذمّیہ ہو بشرطیکہ زوجیت باقی ہو۔ اور اعتبار اس کا ہے غسل دینے کے وقت اس قابل ہو، مرنے کے وقت کا اعتبار نہیں۔ تو اسے شوہر کو غسل دینا منع ہوگا اگر اس کے مرنے سے پہلے بائن ہوگئی یا مرنے کے بعد مرتد ہوگئی پھر اسلام لائی یا اس کے بیٹے کو شہوت سے چُھودیا کیونکہ ان صورتوں میں نکاح باقی نہ رہا۔ اور اگر مجوسیہ کا شوہر مسلمان ہوکر مر گیا اس کے بعد عورت مسلمان ہوئی تو شوہر کو غسل دینا جائز ہے اس وقت اس کو چھونے کا جواز حالتِ حیات کا اعتبار کرکے ہے اھ مختصراً

 (۱؎ درمختار        باب صلٰوۃ الجنائز        مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۱۲۰)

ردالمحتار میں ہے :طلقہا رجعیاثم مات فی عدتھافانھاتغسلہ لانہ لایزل ملک النکاح بدائع۲ ؎۔واﷲ تعالٰی اعلمعورت کو طلاق رجعی دی  پھر عدت میں انتقال کرگیا تو عورت اُسے غسل دے سکتی ہے اس لئے کہ اس سے ملکِ نکاح ختم نہیں ہوتی،بدائع (ت) واﷲ تعالٰی  اعلم۔

 (۲؎ ردالمحتار       باب الصلوۃ الجنازہ        ادارۃ العٰباعۃ المریۃ مصر      ۱ /۵۷۶)


Navigate through the articles
مرتے وقت صرف لا الہ الا اللہ کہنا کافی ہے؟ Next article
Rating 2.70/5
Rating: 2.7/5 (230 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu