• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > جنازہ کے آگے میلاد پڑھنے کا حکم

جنازہ کے آگے میلاد پڑھنے کا حکم

Published by Admin2 on 2013/12/14 (1499 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۲۳: ازپنجاب ضلع جہلم ڈاکخانہ وریلوے اسٹیشن ترقی موضع غازی ناڑہ مرسلہ محمد مجید الحسن صاحب۔   ۵ ذی القعدہ ۱۳۳۹ھ

مشہور خدمت جناب صاحب حجتِ قاہرہ مجددِ ماتہ حاضرہ مولٰنا مولوی احمد رضاخان صاحب دام ظلمکم علٰی  راس المستر شدین بعد سلام سنتہ  الاسلام عرض ہے کہ اس ملک میں جنازہ کے آگے مولود خوانی میں اختلاف اور جھگڑا ہے ایک طائفہ بحرالرائق ومراقی الفلاح و قاضی خان و عالمگیری وغیرہا کی عبارات سے مکروہ تحریمی کہتے ہیں، اوردوسری جماعت جائز و مستحب کہتی ہے، آپ کی تحریر پر جملہ مسلمانوں کا فیصلہ ہے کئی ماہ کے تنازع کا فیصلہ ہوگا۔ عبارات فریق قائل کراہت ۔ردالمحتار :قیل تحریما وقیل تنزیھا کمافی البحرعن الغایۃ وفیہ عنھا وینبغی لمن تبع الجنازۃ ان یطیل الصمت وفیہ عن الظھیریۃ فان ارادان یذکراﷲتعالٰی یذکرفی نفسہ لقولہ تعالٰی انہ لایحب المعتدین ای الجاھرین بالدعاء قلت اذاکان ھذافی الدعاء والذکر فماظنک بالغناء الحادث فی ھذاالزمان ۱؎ ۔کہا گیا کہ مکروہِ تحریمی ہے اور کہاگیا کہ تنزیہی جیساکہ بحر میں غایہ سے منقول ہے، اور اُس میں اسی سے یہ بھی ہے : جنازہ کے پیچھے چلنے والے کو برابر سکوت رکھنا چاہئے ،اور اسی میں ظہیریہ سے ہے : اگر اﷲ تعالٰی  کا ذکر کرنا چاہے تو دل میں کرے اس لئے کہ باری تعالٰی  کا ارشاد ہے : وُہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا--یعنی دُعامیں جہر کرنے والوں کو-- میں کہتاہوں یہ جب دعاوذکر کا حکم ہے تواُس نغمہ اور گانے کا کیا حال ہوگا جواس زمانے کی پیداوار ہے--

(۱؎ ردالمحتار     باب صلٰوۃ الجنائز    مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۱ /۵۹۸)

بحرالرائق ینبغی لمن تبع الجنازۃ ان یطیل الصمت ویکرہ رفع الصوات بالذکر وقراءۃ القراٰن ۱؂ الخالبحرالرائق میں ہے جنازہ کے پیچھے چلنے والے کو طول سکوت اختیار کرنا چاہئے اور بلند آواز سے ذکر وتلاوت قرآن مکروہ ہے الخ(ت)

 (۱؎ بحرالرائق    کتاب الجنائز     فصل السلطان احق بصلٰوتہ   مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۲ /۱۹۲)

عبارت فریق قائل بحلت عن ابن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہما لم یکن یسمع من رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم وھو یمشی خلف الجنازۃ الاقول لا الٰہ الااﷲ اخرجہ ابن عدی فی ترجمۃ ف براہیم بن ابی حمید وضعفہ، تخریج احادیث الھدایۃ لابن حجر۲؎ ۔حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی  عنہ سے مروی ہے: جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم جنازہ کے پیچھے چلتے تو حضورسے کلمہ لا الٰہ الااﷲکے سوا کچھ نہ سُنا جاتا --ابن عدی نے ابراہیم بن ابی حمید کے حالات میں اس کی تخریج کی ہے اور اسے ضعیف کہا ہے ۔تخریج احادیث ہدایہ ازعلامہ ابن حجر (ت)یعنی اس سے ادنٰی  جہر ثابت ہوتا ہے  وغیرہ ۔ بینواتوجروا

 (۲؎ الکامل فی ضعفاء الرجال   ترجمہ ابراہیم بن احمد کے تحت    مطبوعہ  دارالفکر بیروت        ۱/۲۶۹

صحیح بخاری     کتاب الحیض   مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/۴۴)

ف:ھو ابراھیم بن احمد الحرانی الضریر،انظر حاشیۃ نصب الرایۃ        ۲/ ۲۹۲

ابراہیم الحرانی ھوابن ابی حمید متہم بوضع الحدیث، انظر اللسان    ۱/۲۸    نذیر احمد سعیدی

الجواب:و علیکم السلام ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،ہاں کتبِ حنفیہ میں جنازے کے ساتھ ذکرِ جہر کومکروہ لکھا ہے جس طرح خود نفسِ ذکرِ جہر کو بکثرت کتب حنفیہ میں مکروہ بتایا حالانکہ وہ اطلاعات قرآن عظیم واحادیثِ حضور سید المرسلین صلی تعالٰی  علیہ وسلم سے ثابت ہے اور عندالتحقیق کراہت کا عروض نظر بعوارض خارجہ غیر لازمہ ہے جیسا کہ علامہ خیرالدین رملی استاد صاحبِ درِمختار وغیرہ محققین نے تحقیق فرمایا اور ہم نے اپنے فتوٰی  میں اُسے منقح کیا، یہاں بھی اُس کا منشاء عوارض ہی ہیں قلب ہمراہیاں کا مشوش ہونا یادِموت سے دوسری طرف توجہ کرنا انصاف کیجئے تو یہ حکم اس زمانِ خیر کے لئے تھا جبکہ ہمراہیانِ جنازہ تصوّرِ موت میں ایسے غرق ہوتے تھے کہ گویا میّت ان میں ہر ایک کا  خاص اپنا کوئی جگر پارہ ہے بلکہ گویا خود ہی میت ہیں، ہمیں کو جنازہ پر لئے جاتے ہیں اور اب قبر میں رکھیں گے ،ولہذا علماء نے سکوتِ محض کو پسند کیا تھا کہ کلام اگرچہ ذکر ہی ہو اگرچہ آہستہ ہو، اس تصور سے کہ(بغایت نافع اور مفید اور برسوں کے زنگ دل سے دھودینے والا ہے) روکے گا یا کم از کم دل بٹ تو جائے گاتو اس وقت محض خاموشی ہی مناسب تر ہے، ورنہ خاموش ﷲ ذکر ِخدا ورسول نہ کسی وقت منع ہے۔

ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی  عنہ فرماتی ہیں:کان رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم یذکراﷲتعالٰی علٰی کل احیانہ ۱؎ ۔ رواہ مسلم وابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ وَعَلَّقَہُ البخاری۔رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم ہر وقت خدا کا ذکر کیا کرتے۔اسےمسلم، احمد، ابوداؤد، ترمذی ، ابن ماجہ نے روایت کیا اور بخاری نے تعلیقاً روایت کیا۔(ت)

 (۱؎ صحیح مسلم    کتاب الحیض   مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱/ ۱۶۲)

نہ کوئی چیز اس سے بہتر ،قال اﷲ عزوجلولذکر اﷲ اکبر۲؎(اﷲ عزوجل نے فرمایا اور اﷲ کاذکر سب سے بڑا ۔ت)

 (۲؎ القرآن  ۴۵/۲۹  )

اب کہ زمانہ منقلب ہُوا، لوگ جنازہ کے ساتھ اور دفن کے وقت اور قبروں پر بیٹھ کر لغویات وفضولیات اور دنیوی تذکروں بلکہ خندہ ولہو میں مشغول ہوتے ہیں توانہیں ذکرِخدا و رسول جل وعلا وصلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم کی طرف مشغول کرنا عین صواب وکارِ ثواب ہے معہذا جنازہ کے ساتھ ذکرِ جہر کی کراہت میں اختلاف ہے کہ تحریمی ہے یا تنزیہی ہے، اور ترجیح بھی مختلف آئی۔قنیہ میں کراہت تنزیہ کو ترجیح دی اور اسی پر فتاوٰی  تتمہ میں جزم فرمایا اور یہی تجرید و مجتبی و حاوی و بحرالرائق وغیرہا کے لفظ ینبغی کامفاد ہے اور ترک ادنی اصلاً گناہ نہیںکما نصو اعلیہ وحققناہ فی جمل مجلیۃ(جیسا کہ علماء نے اس کی صراحت فرمائی اور ہم نے رسالےجُمَل مجَلِّیَۃ ان المکروہ تنزیھا لیس بمعصیۃ ۱۳۰۴ھمیں اس کی تحقیق کی ہے۔ت) اور عوام کواﷲ عزوجل کے ایسے ذکر سے منع کرنا جو شرعاً گناہ نہ ہو محض بدخواہی عام مسلمین ہے اور اس کا مرتکب نہ ہوگا مگر متقشف کہ مقاصدِ شرع سے جاہل وناواقف ہو یا متصلف کہ مسلمانوں میں اختلاف ڈال کر اپنی رفعت وشہرت چاہتا ہو،بلکہ ائمہ ناصحین تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ منع کرنا اُس منکر سے ضرور ہے جو بالاجماع حرام ہو، بلکہ تصریحیں فرمائیں کہ عوام اگر کسی طرح یادِخدا میں مشغول ہوں ہرگز منع نہ کئے جائیں اگرچہ وہ طریقہ اپنے مذہب میں حرام ہو، مثلاً سُورج نکلتے وقت نماز حرام ہے اور عوام پڑھتے ہوں تو نہ روکے جائیں کہ کسی طرح وہ خدا کا نام تو لیں اسے سجدہ تو کریں اگر چہ کسی دوسرے مذہب پر اس کی صحت ہوسکے

امام علّامہ عارف باﷲ ناصح الامہ سید عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی کتاب مستطاب الحدیقۃ الندیۃ فی شرح الطریقۃ المحمدیۃ میں فرماتے ہیں:قال فی شرح الطحطاوی علی مشیع الجنازۃ الصمت وعبرفی المجتبی والتجدید والحاوی ینبغی ان یطیل الصمت وسنن المرسلین الصمت معھاکذافی منیۃ المفتی ویکرہ لھم رفع الصوت کراھۃ تحریم وقیل تنزیہ، قنیۃ ، وھویکرہ علی معنی انہ تارک الاولی کماعزاہ فی التتمۃ الی والدہ وفی شرح شرعۃ الاسلام المسمی بجامع الشروح یستکثرمن التسبیح والتھلیل علی سبیل الاخفاء خلف الجنازۃ ولایتکلم بشیئ من امرالدنیا لکن بعض المشائخ جوزوا الذکر الجھری ورفع الصوت بالتعظیم بغیر التغییر بادخال حرف فی خلالہ قدام الجنازۃ وخلفھا لتلقین المیت والاموات والاحیاء وتنبیہ الغفلۃ والظلمۃ و ازالۃ صداء القلوب وقساوتھا یجب الدنیا وریاستھا وفی کتاب العھود المحمدیۃ للشیخ الشعرانی قدس اﷲ تعالٰی سرہ ینبغی لعالم الحارہ ان یعلم من یرید المشی مع الجنازۃ عدام اللغو فیھا وذکر من تولٰی وعزل عن الولاۃ اوسافر ورجع من التجار ونحوذلک کان السلف الصالح لایتکلمون فی الجنازۃ الابماورد وکان الغریب لایعرف لغلبۃ الحزن علی الحاضرین کلھم وکان سیدی علی الخواص رضی اﷲ تعالٰی عنہ یقول اذاعلم من الماشین مع الجنازۃ انھم لایترکون اللغوفی الجنازۃ ویشتغلون باحوال الدنیا فینبغی ان یامرھم بقول لا الٰہ الااﷲمحمدرسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فان ذلک افضل من ترکۃ ولاینبغی لفقیہ ان ینکر ذٰلک الابنص او اجماع فان مع المسلمین الاذن العام من الشارع بقول لاالٰہ الااﷲ محمدرسول اﷲ فی کل وقت شاؤا  ویاﷲالعجب من عمی قلب من ینکر مثل ھذا و ربماعزم عند الحکام الفلوس حتی یبطل قول المؤمنین لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فی طریق الجنازۃ وھویری للحشاش حرم علیک بل رأیت فقیھا منھم یاخذ معلوم امامۃ من فلوس بائع الحشیش فنسأل اﷲالعافیۃ ۔

شرح طحطاوی میں ہے: جنازہ کے ساتھ چلنے والے پر خاموشی لازم ہے--مجتبی ، تجرید اور حاوی کے الفاظ یہ ہیں کہ: اسے طول سکونت اختیار کرنا چاہئے حضرت رُسل علیہم السلام کی سنت یہی ہے کہ جنازہ کے ساتھ خاموش رہیں۔ اسی طرح منیۃ المفتی میں ہے--لوگوں کا آواز بلند کرنا مکروہ تحریمی ہے اور کہا گیا کہ تنزیہی ہے،مبتغی--کراہت تنزیہ ہے اور کہا گیا کہ کراہت تحریم ہے، قنیہ --آواز بلند کرنا مکروہ ہے یعنی ترک اولٰی  ہے، جیسا کہ تتمہ میں اسے اپنے والد کے حوالے سے ذکر کیا۔ اورشرعۃ الاسلام کی جامع الشروح نامی شرح میں یہ ہے کہ: جنازہ کے پیچھے سرّی طور پر زیادہ سے زیادہ تسبیح وتہلیل کرے، کوئی دنیاوی بات نہ بولے، لیکن بعض مشائخ نے جہری ذکر کو بھی جائز کہا ہے اس طرح کہ درمیان میں کوئی بات ڈالے بغیر جنازہ کے آگے اور پیچے تعظیم کے ساتھ بآوازِ بلند ذکر کریں تاکہ میت اور دوسرے زنداں کو تلقین ہو، غافلوں ظالموں کو تنبیہ ہو، دنیا کی محبت وریاست سے دلوں میں جو زنگ اور درشتی ہے وہ دور ہو--علامہ شعرانی قدس سرہ، کی کتاب العہود المحمدیہ میں ہے کہ عالمِ محلہ کو چاہئے کہ جولوگ جنازہ کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں انہیں تعلیم دے کر لغو سے پرہیز کریں اس طرح کی باتوں میں نہ پڑیں کہ فلاں حکمران بنا، فلاں والی معزول ہوا، فلاں تاجر سفر میں گیا، فلاں واپس آیا۔ سلف صالحین کی روش یہ تھی کہ جنازہ میں کچھ نہ بولتے مگر وُہ جو حدیث میں وارد ہے۔ سارے حاضرین پر حزن وغم کا ایک ایساغلبہ رہتا کہ اجنبی اور پردیسی شخص کو جب تک بتایا نہ جائے یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ میّت کا قریبی کون ہے--سیدی علی خواص رضی اﷲ تعالٰی  عنہ فرماتے ہیں کہ جب جنازہ کے ساتھ چلنے والوں کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ لغو سے باز نہ آئیں گے اوردنیا کی باتوں میں مشغول رہیں گے تو انہیں لاالٰہ الااﷲ محمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم پڑھنے کا حکم دینا چاہئے کیونکہ ایسی حالت میں اسے پڑھنا نہ پڑھنے سے افضل ہے۔ اور کسی فقیہ کو بغیرنص اجماع کے اس سے انکار مناسب نہیں-- اس لئے کہ مسلمانوں کے لئے شارع کی جانب سے وُہ جب بھی چاہیں لا الٰہ الااﷲ محمدرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم پڑھنے کو باطل کہہ کے حکام کے یہاں مال حاصل کرنا چاہتاہو، دُوسری طرف یہ حال ہوکہ بھنگ بکتی دیکھے تو بھنگ فروش سے یہ کہنے کی زحمت گوارا نہ ہو یہ تجھ پر حرام ہے-- بلکہ اس طبقے کے فقیہ کو میں نے دیکھا کہ وہ بھنگ فروش کے مال سے اپنی امامت کی تنخواہ وصول کرتا --تو خداہی سے عافیت کا سوال ہے۔

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article آدمی مرنے کے قریب ہو تو کیا کرے جنازہ کے ساتھ نعتیہ غزلیں پڑھنے کا حکم Next article
Rating 2.87/5
Rating: 2.9/5 (243 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu