• Qur'an

    In Qur'an section, we will upload translations of Qu'an in different languages. The best Urdu translation of Qur'an is "Kanzul Iman", Alhamdulillah it has been translated in many languages of the world. In this section you can also read online the great Tafaseer (Commentary) of Qu'ran, including TAFSEER-E-NAEEMI and others.

    more »

     
  • Hadith

    In Hadith section, you will be able to read online the different collections of Hadith, translation and commentary on Hadith (Sharha). We will try to upload upload Hadith with Urdu translations and Urdu Sharha of Hadiths, in scanned and unicode format, In Sha Allah.

    more »

     
  • Fiqh

    Fiqh section contains big collection of Fatawa written by Sunni Ulema (Scholars of Islam). Alhamdulillah most of the fatawa collections are brought online for the first time. You can find solution of any issue as per the guidance of Qur'an and Sunnah. It includes, Fatawa Ridawiyyah, Fatawa Amjadiyyah, Fatawa Mustafviyyah and a lot more.

    more »

     
  • Dedication

    This website is particularly dedicated to the Revivalist of Islam in the 14th century, i.e. Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi Alaihir Rahmah. We want to bring online the uttermost research work being carried out over his personality and works around the globe. For further details visit "Works on Alahazrat" Section

    more »

     
  • Books of Alahazrat

    Books written by Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi contain extensive research on various branches of Islamic arts & sciences. This website gives you an opportunity to explore this hidden treasure. You can dip into this sea of knowledge by visiting this section

    more »

     
  • Fatawa Ridawiyyah

    Fatawa Ridawiyyah is one of the greatest writtings of Alahazrat Imam Ahmad Raza Khan Bareilvi. The new translated version of this historical Fatawa consists of 30 volumes and more than 21000 pages. Reading this fatawa with care and memorizing the principles mentioned therein, can take the reader to a big height in Islamic Jurisprudence.

    more »

     
  • Sunni Library

    - Sunni Library is a collection of core Islamic Literature. You can read online the great work and contribution of Sunni Islamic scholars worldwide in general and by the Scholars of Sub Continent in particular.

    more »

     
Login
Username:

Password:

Remember me



Lost Password?

Register now!
Main Menu
Themes

(2 themes)
Fiqh > Q. & Ans. > Death / Funeral / Graves / موت / جنازہ / قبر > جنازہ کے آٓگے نعتیہ اشعار پڑھنا کیسا؟

جنازہ کے آٓگے نعتیہ اشعار پڑھنا کیسا؟

Published by Admin2 on 2013/12/14 (1718 reads)
Page:
(1) 2 »

New Page 1

مسئلہ نمبر ۲۴ : ازاحمدا ۤبادگجرات محلہ جمال پور     مرسلہ مولوی حکیم عبدالرحیم    ۲۵ رمضان المبارک ۱۳۳۹ ھ

ہمارے یہاں شہر احمد آباد میں جنازہ کے ہمراہ کلمہ طیّب کا ذکر احبابِ اہلسنّت درمیانی آواز  سے کرتے ہیں اسے بعض مکروِ تحریمی و تنزیہی کہتے ہیں ان کی تردید میں علمائے اہلسنّت نے چار۴ رسالے تصنیف کرکے شائع کئے ہیں اور وُہ اہل حق کے  پاس موجود ہیں، الحمدﷲ علٰی  ذلک، اب ضرورت اس مسئلہ کی اہلسنّت کو ہے، حضرت خواجہ بہاءالدین نقشبند قدس سرہ العزیز نے اپنے جنازہ میں فارسی کے اشعار اور حضرت شاہ غلام علی صاحب دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنے جنازہ میں عربی اشعار پڑھنے کی مریدوں کو وصیّت کی---

مقاماتِ مظہریہ ص ۱۵۷ میں ہے :می فرمودند کہ حضرت خواجہ بہاءالدین نقشبند رحمۃ اﷲ علیہ فرمودند کہ فاتحہ خواندن پیشِ جنازہ ماوکلمہ طیب و آیت شریفہ بے ادبی است ایں دو۲ بیت بخوایندہ : ؎فرماتے ہیں کہ حضرت خواجہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا: ہمارے جنازہ کےسامنے فاتحہ ،کلمہ طیب اورآیت شریفہ پڑھنا بے ادبی ہے یہ دو شعر پڑھنا: (۱) مفلسا نیم آمدہ در کوئےتو                        شیئاﷲ ازجمال روئے تو (۱) ہم مفلس آپ کی گلی میں آئے ہیں، خداکے لئے اپنے جمالِ رُخ کا کچھ صدقہ عطا ہو۔ (۲) دست بکشا جانبِ زنبیل ما     آفرین بردست و بر پہلوئے تو (۲) ہماری جھولی کی طرف ہاتھ بڑھائیں ، آپ کے ہاتھ اور آپ کے پہلو پر آفرین ہو۔من ہم میگویم پیش جنازہ من ہمیں اشعار بخدانند: ؎میں بھی کہتاہوں میرے جنازہ کے سامنے یہی اشعار پڑھنا: (۱) وقدت علی الکریم بغیر زاد

من حسنات والقلب السلیم

(۲)فحملی الزاداقبح کل شیئ

 اذاکان الوفود علی الکریم   ۱؎ (۱) کریم کے دربار میں قلبِ سلیم اور نیکیوں کا کوئی توشہ لئے بغیر جارہا ہوں۔

(۲) کہ جب کسی کریم کے دربار میں حاضری ہو تو توشہ لے کر جانا بہت بُری بات ہے۔(ت)

(۱؎ مقاماتِ مظہریہ)

حضرت شاہ غلام علی دہلوی قدس سرہ العزیز مولانا خالد کردی کے مرشد برحق ہیں ضمیمہ مقاماتِ مظہریہ کے ص۲۹ میں مولانا خالد کردی اپنے قصیدہ میں فرماتے ہیں:  ؎ (۱) وانالنی اعلی الماٰرب والمعنی

 اعنی لقاء المرشد المفضالٖ (۱) مجھے سب سے بلند مقصد وآزرو عطافرمائی۔ یعنی بڑے فضل وکرم والے مرشد کی صحبت نصیب کی۔ (۲) من نور الآفاق بعد ظلامھا

 وھدی جمیع الخلق بعدضلالٖ (۲) وہ جس نے تاریک آفاق روشن کردئے  اور ساری گمراہ مخلوق کو ہدایت فرمائی۔ (۳) اعنی غلام علی القرم الذی

 من لحظہ یحیی الرمیم البالی ۲؎ (۳) یعنی وُہ سردار عظیم غلام علی جس کی نظر سے بوسیدہ ہڈیوں میں جان پڑجاتی ہے۔

(۲؎ ضمیمہ مقاماتِ مظہریہ)

اور یہ مولانا خالد کروی علامہ شامی کے مرشد ہیں، اس کا ثبوت ردالمحتار جلد ۲صفحہ ۴۵۲ کی اس عبارت سے ہے:وقد بسطنا الکلام فی رسالتنا سل الحسام الہندی لنصرۃ سیدنا خالد النقشبدی۱  ؎۔اور ہم نے اپنے رسالہ''سل الحسام الہندی لنصرۃ سیدنا خالد النقشبندی ــ''میں تفصیل سے کلام کیا ہے۔(ت)

 (۱؎ ردالمحتار        کتاب النکاح قبیل فصل فی المحرمات        ادارۃ الطباعۃ المصریۃ مصر        ۲ /۲۷۶)

علامہ شامی کے دادا مرشد کے جنازہ میں عربی اشعار اور حضرت خواجہ بہاءالدین نقشبند رحمہ اﷲ تعالٰی  کے جنازہ میں فارسی اشعار پڑھے گئے، ان اشعار کا پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ جائز ہے تو دلائل کیا ہیں؟ جو مکروہ تحریمی کہتے ہیں وہ علامہ شامی کی ردالمحتار ج۱ ص ۹۳۲ کے اس قول کو پیش کرتے ہیں : (قولہ کماکرہ الخ) قیل تحریما وقیل تنزیھا کما فی البحرعن الغایۃ وفیہ عنہا و ینبغی لمن تبع الجنازۃ ان یطیل الصمت وفیہ عن الظہیریۃ فان ارادان یذکراﷲتعالٰی یذکرہ فی نفسہ لقولہ تعالٰی انہ لایحب المعتدین ای الجاھرین بالدعاء وعن ابراہیم انہ کان یکرہ اذیقول الرجل وھویمشی معھا استغفروالہ غفراﷲلکم اھ قلت واذاکان ھذافی الدعاء والذکر فماظنک بالغناء الحدث فی ھذا الزمان۲؎۔ (جیسا کہ مکروہ ہے) کہا گیا  تحریمی، اور کہا گیا تنزیہی ، جیسا کہ بحر میں غایہ کے حوالے سے ہے اوراسی میں اس کے حوالے سے یہ بھی ہے:جنازہ کے ساتھ چلنے والے کو طول سکوت اختیار کرنا چاہئے، اور اس میں ظہیریہ کے حوالے سے ہے۔ اگر اﷲ کا ذکر کرنا چاہے تو آہستہ کرے اس لئے کہ ارشادِ باری ہے : بے شک وُہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔یعنی وُہ جو بلند آواز سے دُعا کرتے ہیں--حضرت ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ جب وُہ جنازے کے ساتھ چلتے اور کوئی بولتا'' اس کےلئے استغفار کر و خداتمہاری مغفرت فرمائے'' توا نہیں ناگوار ہوتا اھ میں کہتاہوں جب دُعا وذکر کا یہ حکم ہے تو اس نغمہ زنی کے بارے میں تمہارا کیاخیال ہے جو اس زمانے میں پیدا ہوگئی ہے۔(ت)

 (۲؎ ردالمحتار   باب صلٰوۃ الجنائز     مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المصریہ مصر    ۱ /۵۹۸)

اس عبارت سے حضرت شاہ غلام علی وخواجہ بہاءالدین قدس سرہما نے جو فارسی و عربی کے اشعار اپنے جنازوں میں پڑھوائے اُن کی کراہت ثابت ہوتی ہے یا نہیں اور عدم کراہت و جواز اُن اشعارکی کیا وجہ ہے اور غناء حادثات کی کراہت کی کیا وجہ ہے، دونوں کا حکم بیان فرمائیں ، اور یہاں جنازہ کے ہمراہ یہ اشعار اردو کے بھی حضرات خوش الحانی سے پڑھتے ہیں اس اشعار کو پڑھیں یا نہیں

یا پنجتن بچانا جب جان تن سے نکلے            نکلے تو یامحمد کہہ کر بدن سے نکلے

آوے گا میرا  پیارا باجےگی دھن کی مُرلی        جب وُہ مِرا سنوریاجوبن کے بن سے نکلے

میرے مریضِ دل کی امید ہے تویہ ہے        زانو  پہ اُس کے سر ہو  اور جان تن سے نکلے

نکلے جنازہ میرا اُس یار کی گلی سے            تو کلمہ شہادت سب کے دہن سے نکلے

کیا لایا تھا سکندر دنیا سے لے گیا کیا             تھے دونوں ہاتھ خالی باہر کفن سے نکلے

الجواب:

اﷲ عزوجل کا ذکر اصل مقصود و اجل مقاصد و مغز جملہ عبادت ہےاقم الصلٰوۃ لذکری۱ ؎ (میرے ذکرکے لئے نماز قائم کرو۔

(۱؎ القرآن      ۲۰/۱۴)

وُہ ہر حال میں مطلوب،یذکرون اﷲ قیاما وقعوداو علی جنوبھم۲ ؎اھکان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یذکراﷲ فی کل احیانہ ۳؎۔  وہ کھڑے بیٹھے، کروٹوں پر لیٹے اﷲ تعالٰی  کا ذکر کرتے ہیں۔ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی  علیہ وسلم سبھی اوقات میں خدا کاذکر کیا کرتے۔(ت)

 (۲؎ القرآن   ۳/۱۹۱) (۳؎ المستدرک علی الصحیحین   کتاب الدعاء  مطبوعہ دارالفکر بیروت   ۱ /۴۹۹)

بلا تقیید اُس کی تکثیر کاحکم :واذکراﷲ کثیرالعلکم تفلحون۴؎۔اکثروا ذکراﷲ حتی یقولو انہ مجنون۵ ؎۔(الحدیث)اﷲ کا ذکر زیادہ کرو تاکہ فلاح پاؤ(ت) خدا کاذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ کہیں کہ یہ مجنون ہے۔(ت)

 (۴؎ القرآن   ۶۲/۱۰)  (۵؎ مسند احمد بن حنبل  مروی از ابو سعید  دارالفکر  بیروت   ۳/۶۸ و ۷۱

تہذیب تاریخ دمشق الکبیر  ترجمہ دراج بن سمعان المصری  داراحیاء التراث العرابی بیروت    ۵/ ۲۲۴)

ذکر کے لئے انحاء کثیرہ ہیں، قلبی ولسانی وخفی وجلی وتلاوت و ثناء ودرود  ودعا وعبادات وطاعات۔ باوصف اطلاق بعض مقامات کو بعض انحاء سے خصوصیت ہوتی ہے۔ محلِ جنازہ مقامِ تفکر ہے ذکر قلبی ہے۔تفکر ساعۃ خیر من عبادۃ الثقلین (گھڑی بھر کا تفکر انسانوں اور جِنوں کی عبادت سے بہتر ہے۔ت)

ولہذا فقہائے ذکر ذکر لسانی پر ترجیح دی گئی ورنہ ذکر پر تفصیل محال ہوتیو ذکر اﷲ اکبر (اور اﷲ تعالٰی  کاذکر سب سے بڑھا ہوا ہے۔ت) اس نحو ذکر کے لئے صمت یعنی خاموشی بہتر ہوتی ہے، ولہذا فقہاء نےینبغی ان یطیل الصمت (طویل سکوت اختیار کرنا چاہئے ۔ت) فرمایا، صدرِ اول میں غالباً یہی معمول تھا یہاں تک کہ جنازہ کے ساتھ چلنے میں یہ نہ معلوم ہوتا کہ ہمارے دہنے ہاتھ پر کون اور بائیں ہاتھ پر کون، ہر شخص اپنی فکر میں مشغول ہوتا اور اپنے لئے  یہ وقت آنا، اور  پھر ا س وقت کیا ہوگا؟ کیسے گزرے گی ؟ اپنے اعمال کی حالت کیا ہے؟ اس دھن میں مستغرق ہونا گویا ہرشخص اس جنازہ کو  اپنا ہی جنازہ جانتا، بلاشبہ اُس وقت کیا مناسب یہی حالت ہے اور اس حالت کے مناسب وہی صمتِ مطلق کہ سانس کے سوا اصلاً  آواز  نہ ہو۔ جب زمانہ بدلا اور صدرِ اوّل کا سا خوف عام مسلمانوں میں نہ رہا، صمت محض بہتوں کو باعث پریشانی خیالی ہوا، اطبائے قلوب نے ذکرلسانی خفی کا اضافہ فرمایا کہان اراد ان یذکراﷲ یذکر فی نفسہ(اگر اﷲ تعالٰی  کا ذکر کرنا چاہے تو آہستہ کرے ۔ت)

اقول اس میں حکمت یہ تھی فی نفسہٖ کوئی شہ مطلوب نہیں قولِ خیر عدم قول مطلق سے قطعاً افضل ہے ولہذا ارشاد ہوا:ان لا یزال لسانک رطبا من ذکر اﷲ ۱؎۔ہمیشہ تمھاری زبان خدا کے ذکر سے تر رہے ۔ (ت)

 (۱؎ جامع الترمذی    ابواب الدعوات    امین کمپنی کتب خانہ رشیدیہ دہلی    ۲ /۱۷۳

   مسند احمد بن حنبل    حدیث عبداﷲ بن بسر المازنی الخ    دارالفکربیروت        ۴/ ۱۸۸)

اگر شرائع نے اُسے صوم میں رکھا تھا۔ ہماری شریعت عزانے اُسے منسوخ فرمادیا۔ محبوس کے یہاں وقت اکل صمت ہے۔ ہماری شریعت میں وہ مکروہ و لازم احتزاز ہے۔ یہاں ایک ذریعہ بعد معین مقصود ہوکر مطلوب ہُوا تھا کہ عمل لسان وجہ انقسام توجہ نہ ہو۔ اب کہ دیکھنا زمانہ بدلا، اب وہ معین ہونے کے عوض بہتوں کے لئے مخل مقصود ہونے لگا، تحصیل اصل مقصود کے لئے ذکر لسانی بتایا اور خفی رکھا سب تو ایسے پریشان خیال نہیں جہر سے اہلِ تفکر کا ذہن نہ ہٹے۔جب زمانہ اور بدلا اور عامہ ناس غالباً اسی قسم کے رہ گئے اور فقہ میں اکثر  ہی کا اعتبار  ہے۔النا درمستثنٰی ولایفرد بحکم ۲ ۲؎کما فی فتح القدیر وردالمحتار وغیرھما۔نادر مستثنٰی  ہے اور اس کا الگ حکم بیان نہیں ہوتا، جیسا کہ فتح القدیر اورردالمحتار وغیرہما میں ہے(ت)

 (۲؎ ردالمحتار     کتاب النکاح باب النفقہ        مصطفی البابی مصر      ۲ /۷۳۰

   منتقی شرح ملتقی علٰی  ھامش مجمع الانہر    کتاب النکاح        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۵۰۰)

Page:
(1) 2 »

Navigate through the articles
Previous article آدمی مرنے کے قریب ہو تو کیا کرے جنازہ کے ساتھ نعتیہ غزلیں پڑھنے کا حکم Next article
Rating 2.86/5
Rating: 2.9/5 (228 votes)
The comments are owned by the poster. We aren't responsible for their content.
show bar
Quick Menu